The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 25 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

عالمی یومِ معذوری – 3 دسمبر 2025  – تحریر: محمد عبدالباری

Posted on

عالمی یومِ معذوری – 3 دسمبر 2025  – تحریر: محمد عبدالباری

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1992 میں یہ قرارداد منظور کی کہ ہر سال 3 دسمبر کو عالمی یومِ معذوری کے طور پر منایا جائے گا۔ اس دن کا بنیادی مقصد معذور افراد کے حقوق اور بہبود کے لیے عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا اور معاشرے کے ثقافتی، سماجی اور سیاسی ڈھانچے میں ان کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنا ہے۔

آج بھی دنیا بھر میں پچھلے برسوں کی طرح سیمینارز منعقد ہوں گے، ریلیاں نکالی جائیں گی، بینرز اور پوسٹر اٹھائے جائیں گے، اور بڑے بڑے دعوے کیے جائیں گے کہ معذور افراد کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا پر ہمدردی، محبت اور فلاح کے نعرے گونجیں گے۔

لیکن حقیقت یہی ہے کہ جس طرح ماں، باپ یا استاد کا کوئی ایک دن نہیں ہوتا—اسی طرح معذور افراد کا بھی صرف ایک دن مخصوص کر کے ذمہ داری پوری نہیں ہو جاتی۔ ان کے حقوق کے لیے ہر دن، ہر فورم اور ہر ادارے کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ان کی زندگی کو بہتر اور سہل بنایا جا سکے۔

1992 سے آج تک پاکستان میں ہر سال عالمی یومِ معذوری منایا جاتا ہے۔ ہر سال حکومتی ادارے اور بڑے عہدیداران نئی نئی باتیں اور وعدے کرتے ہیں، مگر 4 دسمبر آتے ہی سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ میرا مقصد تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ ایک حقیقت واضح کرنا ہے کہ یہ معذور افراد بھی اسی وطنِ عزیز کے زندہ، حقیقی اور آئینی شہری ہیں۔ ان کے حقوق پورے کرنا ریاستِ پاکستان کے ہر ادارے کی ذمہ داری ہے—اور یہی لوگ اپنے حقوق کے لیے برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ آئے دن کسی نہ کسی جگہ کسی معذور شخص کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ کوئی ظلم کا شکار ہوتا ہے، کوئی کسی ادارے کے دروازوں پر ٹھوکریں کھا کر بھی اپنے حق سے محروم رہ جاتا ہے۔ میں ایک بار پھر وہی بات دہراتا ہوں جو ہمیشہ کہتا آیا ہوں:

“معذور افراد کو آپ کی ہمدردی نہیں چاہیے۔ وہ باوقار زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہیں صرف اُن کے جائز حقوق چاہئیں—جو ہر مہذب معاشرے میں ملتے ہیں۔”

غلط مردم شماری، غلط منصوبہ بندی

پاکستان میں اصل بدقسمتی یہ ہے کہ سرکاری سطح پر کام تسلی بخش نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر:

1998 کی مردم شماری میں معذور افراد کی تعداد 3,286,630 دکھائی گئی جو اس وقت کی آبادی کا 2.59% تھی۔

مگر 2017 میں یہ تعداد حیرت انگیز طور پر کم ہو کر 913,667 رہ گئی، یعنی صرف 0.48%۔

پھر 2023 میں یہی تعداد بڑھ کر 7,448,574 ہوگئی جو پاکستان کی آبادی کا 3.10% ہے۔

اتنے بڑے فرق کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر 2017 میں معذور افراد “کم” کیسے ہوگئے؟ کون سا ڈیٹا قابلِ قبول ہے—1998، 2017 یا 2023؟
جب مردم شماری ہی ناقابلِ اعتماد ہو تو پھر پالیسی سازی، سہولیات، بجٹ اور کوٹہ سسٹم سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔

سرٹیفکیٹ کے حصول تک رسائی انتہائی مشکل

سب سے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں معذوری کے اندراج کا کوئی آسان اور معتبر طریقہ موجود نہیں۔
جو شخص سرٹیفکیٹ بنوانا چاہے اسے ایسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہو۔ یہ سراسر ظلم ہے اور حکام بالا کو اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مارچ 2020 تک خیبر پختونخوا میں معذور افراد کی رجسٹرڈ تعداد 116,491 (3.49%) تھی۔
مگر سہولیات کا حال انتہائی مایوس کن ہے۔
اسپیشل ایجوکیشن کے ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں، جو ہیں وہاں نہ پروفیشنل اساتذہ موجود ہیں، نہ عمارتیں قابلِ رسائی ہیں۔

چترال میں ایم آر اینڈ پی ایچ نام کا واحد ادارہ موجود ہے لیکن وہ بھی ایک عمارت سے زیادہ کچھ نہیں۔ نہ تربیت یافتہ اسٹاف، نہ ایکسس ایبلٹی، نہ کوئی نظم و ضبط۔ نتیجہ یہ کہ ہمارے علاقے کے خصوصی افراد کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچ پا رہا۔

وزیر اعلیٰ سے درخواست

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب سہیل آفریدی نے حال ہی میں اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس پشاور کا دورہ کیا، اعلانات کیے، وہیل چیئرز اور گاڑیاں تقسیم کیں—یہ ایک مثبت قدم ہے۔
لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے صوبے میں معذور افراد کی تعلیم، روزگار، صحت، رسائی، تحفظ اور بنیادی سہولیات پر عملی، دیرپا اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

عوام سے گزارش

بطور انسان اور مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ معذور افراد کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔
ان پر طنز، مذاق، ظلم اور تشدد نہ کریں اور نہ کسی کو اس کی اجازت دیں۔
وہ دوسروں کی طرح برابر کے انسان ہیں—ان کا احترام کیجئے اور ان کی مدد کیجئے۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
116203