گردش آب یا پانی کا چکر ( ہائیڈروسائیکل) – تحریر: پروفیسر اسرارالدین
گردش آب یا پانی کا چکر ( ہائیڈروسائیکل) – تحریر: پروفیسر اسرارالدین
گردش اب یا پانی کا چکرزمین پر پانی کی مسلسل اورقدرتی گردش کو کھا جاتا ہے۔
یہ نظام زمین،سمندر،فضا اور زندہ اجسام میں پانی کی آمدورفت کا داہمی عمل ہے۔ جونہ صرف زندگی کوقائم رکھنے کا باعث ہوتا ہے۔بلکہ کرہ ارض کے ماحولیاتی توازن میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اس نظام کے سائنسی مراحل مندرجہ ذیل ہیں۔
i)..تبخیر (Evaporation)
زمین پر موجود پانی جب سورج کی گرمی سے متاثر ہوتا ہے تو وہ بخارات میں تبدیل ہوکر فضا میں اُٹھ جاتا ہے۔سمندر،دریا،جھیلیں اوریہاں تک کہ زمین کی نمی سے پانی اٹھ کر فضا میں شامل ہوجاتا ہے۔
ii.)نباتاتی اخراج(Transpiration)
پودے اپنے پتوں کی سطح سے پانی کا اخراج کرتے ہیں جو بخارات کی۔شکل میں فضا میں شامل ہوجاتا ہے۔ان دونوں عملوں کو evapotranspirationیعنی بخاراتی نباتاتی اخراج آب کہا جاتا ہے
(iii) تکاثف(Condensation) جب پانی کے بخارات فضا میں اوپر جاکر ٹھنڈی ہوجاتی ہیں تو وہ بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔یہ بادل بارش کا ذریعہ بنتے ہیں۔
(iv) نزال باران) Precipitation،جب بادلوں میں پانی کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے اور وہ مزید بھاری ہوجاتے ہیں تو پانی بارش،اولے یابرف کی شکل میں زمین پرگرتا ہے۔یہی نزول باران ہے۔
(v) رسا ووجذب(Infiltration in Percolation)،زمین پربرسنے والا پانی مٹی میں جذب ہوکر نیچے کی طرف جاتا ہے۔کچھ حصہ زیرزمین پانی کی صورت اختیار کرتا ہے جو بعد ازان چشموں،کنوؤں یاندیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔
(vi) بہاؤ(Surface Runoff)۔جوپانی زمین میں جذب نہیں ہوتا وہ سطح زمین پرندی نالوں اور دریاؤں کی صورت میں بہہ کر دوبارہ چکر کا حصہ بن جاتا ہے۔
ابی چکر کی خصوصیات
قرآن مجید اس عظیم قدرتی نظام کی طرف باربار اشارہ کرتا ہے (جس کا بعد میں تذکرہ کیا جائے گا(۔یہ نہ صرف سائنس کی عظیم دریافت ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت،رحمت اور ربوبیت کا روشن ثبوت ہے۔آبی چکر کی چند نمایاں خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔
(i) تسلسل(Continuity)۔آبی چکر ایک اسیا عمل ہے جوکبھی رکھتا نہیں۔دن رات موسم جغرافیہ سب اس نظام میں شامل رہتے ہیں۔(یعنی رات دن کی گردش کی ترتیب کا مظہر ہے۔
(ii)توازن(Balanced)۔یہ نظام زمین کے مختلف حصوں میں پانی کی تقسیم کو توازن بخشتا ہے،اگر بارش صرف ایک علاقے میں ہی ہو توباقی زمین بنجر ہوجائے۔
(iii) رتباط(Interconnectivity)۔آبی چکر فضا،سمندر،پودوں اور انسانوں کو باہم مربوط رکھتا ہے۔پانی کا ہرقطرہ کسی نہ کسی مرحلے میں ایک بڑی زنجیر کی کڑی کا حصہ ہوتا ہے۔
(iv) ُپاکیزگی وصاف(Self-Purifying) ۔تبخیر کے دوران پانی کی نجاستیں پیچھے رہ جاتی ہیں اور صاف بخارات اٹھ کربادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں یوں بارش ایک قدرتی طہارت کا عمل ہے۔اس لئے بارش کے پانی کو نہایت پاک تصور کیا جاتا ہے۔
(v) قدرتی ذخیرہ (Natural Storage) ۔اللہ تعالیٰ نے پانی کو گلیشیر یابرفانی تودوں،جھیلوں اور زیرزمین ذخائر میں محفوظ کررکھا ہے۔جو وقتاًفوقتاً انسان کی ضرورت کے لئے مہیا ہوتے ہیں۔
پانی کے واپسی کے عوامل اور ان کا تخمینی فیصد تناسب:
آبی چکر میں پانی کے فضا میں واپسی کے عوامل مندرجہ ذیل ہیں۔
(i) تبخیر:سمندر،جھیلیں اوردریا۔ 86فیصد
(ii) نباتاتی اخراج (پودے،جنگلات۔ 10 فیصد
(iii) زمینی نمی سے بخارات۔ایک فیصد
(iv)برف کے بخارات سے یعنی گلیشیر یابرف پوش پہاڑوں سے ایک فیصد
(v) السانی وصوانی اور مختلف اخراج2فیصد۔
کل 100فیصد۔
آبی چکر میں پانی کے واپس زمین آنے کی تقسیم
(i) سمندر پربارش کانزول 78فیصد
(ii)خشکی پر بارش کا نزال 22فیصد
کل 100فیصد۔
یہ تناسب ظاہر کرت ہے کہ زمین پر ہرآنے والا صرف 22فیصد بارش زمین کی حیات کے لئے مہیا ہوتا ہے۔باقی بارش سمندر پر برستی ہے اور وہیں سے دوبارہ بخارات بنتے ہیں۔سبحان اللہ غور کیجئے کیا یہ سب کچھ خود بہ خود ہورہا ہے یاکوئی علم وحکیم ذات ہے جو اس کو منظم کررہی ہے۔اللہ تعالیٰ (الواقعہ آیت نمبر69.68) میں اس امر کی طرف یوں اشارہ فرمارہے ہیں۔”اچھا یہ بتاؤ یہ پانی جو تم پیتے ہو کیا اسے بادلوں سے تم اتارتے ہو یا اتارنے والے ہم ہیں“؟(آسان قرآن)
آبی فردش کے بارے قرآن کریم کے اشارے
(i) عمل تبخیر:
(الروم 48)
ترجمہ: اللہ تعالی ہی وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے چنانچہ وہ بادل کو اٹھاتی ہیں۔پھر وہ اس (بادل) کو جس طرف چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔اور اسے کئی تہوں (والی گھٹا) میں تبدیل کرتا ہے۔تب تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش برس رہی ہے۔چنانچہ وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے وہ بارش پہنچاتا ہے تو وہ اچانک خوشی منانے لگتے ہیں (قرآن)
(ii)عمل ثکاثف)
(النور43)ترجمہ:کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کا ہنکاتا ہے۔پھر ان کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔پھر انہیں تہہ برتہہ گھٹامیں تبدیل کردیتاہے۔پھرتم دیکھتے ہوکہ بارش اس کے درمیان سے برس رہی ہے اور آسمان میں (بادلوں کی شکل میں جو پہاڑ کے پہاڑ ہوتے ہیں۔اللہ ان سے اولے برساتا ہے۔پھر جس کے لئے چاہتاہے۔ان کو مصیبت بنارہتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ان کارخ پھر دیتا ہے ایسا لگتا ہے کہ اسکی بھی کی چمک آنکھوں کی بینائی اچک لے جائیگی۔
(iii) بارش:
(ق۹)
ترجمہ: اور ہم نے آسمان سے برکتوں والا پانی اتارا پھر اس کے ذریعے باغات اور آناج کے دانے اگائے۔جن کی کٹائی ہوتی ہے(آسان قرآن)
(iv)
(ازمر21)
ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اسے زمین کے سوتوں میں پرودیا(آسان قرآن)۔
(v) مقدار کے مطابق بارش کا نزول۔
(المومنون18)
ترجمہ: اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی اتارا پھر اسے زمین ٹھرا دیا اور یقین رکھو ہم اسے غائب کرنے پر بھی قادر ہیں۔
(زحرف11)
ترجمہ: اور جس نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعے ایک مردہ علاقے کو نئی زندگی دے دی۔اسی طرح تمہیں (قبروں سے نکال کرنئی زندگی دی جائے گی۔
تدبر اور تفکر(Reflection)
جن انسانی آبی چکر پرغورکرتا ہے تو حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔کیونکہ انسان کو روزانہ استعمال کے لئے جو چند لیٹر پانی میسر آتاہے۔اس کے پیچھے قدرت کے عظیم الشان کارخانے دن رات متحرک ہیں۔
ذرا غور کیجئے!بارش کا ایک قطرہ جوہماری ہتھیلی،مٹی یا پتے پرآکر ٹھرجاتا ہے۔وہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ہزاروں میلوں کے فاصلے پرجاری قدرتی ترتیب کا حصہ اور قیمتی تحفہ ہے۔یہ قطرہ پہلے سورج سے نکلی حرارت کا اسیر تھا۔پھر سمندر کی رستوں سے بخارات کی شکل فضا کی طرف اٹھا،بادلوں میں ٹھنڈک کی سفر سے گذارا،فضائی دباؤ،ہوا کی وسعت اور درجہ حرارت کے زیر اثر مخصوص مقام پربرسا اوراب یہ قطرہ تیرے ہاتھ میں ہے یہ ایک قطرہ تجھے صاف پانی دیتا ہے مگر ایک پیغام بھی کہ اے انسان تو اکیلا نہیں تو اس عظیم کانیات کا ایک پرزہ ہے۔مان جا،عاجز ہوجا شکرگذار ہوجا۔
آگے یہ بھی غور وفکر کی جاہے کہ جب بارش کے قطرے زمین پر گرتے ہیں توکوئی قطرہ پہاڑوں کی بلندیوں پر جم کر گلیشیر بنتا ہے کوئی چشمے میں بہہ کر ندی بن جاتاہے۔کوئی زراعت کی جڑوں میں جاکر پھل اور غذا کی بنیاد رکھتا ہے ہر قطرے کا اپنا نصیب ہے۔اپنی راہ ہے اپنا مقصد ہے مگر ہر ایک ایک خالق کے آذن سے برستاہے اور اپنا فرض ادا کرتا ہے۔کیا یہ آبی قطرہ بے منزل ہے۔انسان خود جو ایک قطرہ آب سے بنا ہے کیا بے مقصد ہوسکتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:افحیستم انما خلقنکم عبثا۔۔۔ لاترجعون(المومنون آیت۔115)
ترجمہ: بھلا کیا تم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہیں یونہی بے مقصد پیداکردیا۔اور تمہیں واپس ہمارے پاس نہیں لایاجائے گا؟(آسان قرآن)۔ان سب باتوں کے بعد دل کے نہا ں خانوں سے یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کی قدر نہیں کرنی چاہیئے؟کیا اس نعمت کی حفاظت ہمارے لئے ضروری نہیں؟وہ پانی جو زندگی کی بنیاد ہے جوہمیں باسانی میسر ہے۔اس کے پیچھے کائیناتی سطح پرجاری تدبیرالہیٰ کاہم کتناشعور رکھتے ہیں؟؟
(نوٹ) یہ مضمون ایک طویل مضمون کرہ آبی کا مختصر حصہ ہے۔قارئین کی دلچسپی اور آراء کے لئے پیش ہے۔
