The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 16 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ضروری اعلان، کٹے ہوئے ہونٹ اور تلوکے مفت اپریشن کیا جائیگا۔۔ڈاکٹر عبد المجید

Posted on

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) پشاور کے معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر عبد المجید(ایف سی پی ایس) نے ان تمام لوگوں کیلئے مفت اپریشن کا اعلان کیا ہے جن کے ہونٹ یا تلو پیدائشی طور پر کٹے ہوئے ہو۔ چترال ٹائمز سے گفتگوکرتے ہوئےانھوں نے بتایا کہ خصوصی طور پر باجوڑ ، دیر، تمرگرہ اور چترال کے لوگوں کو ان کے دہلیز پر مفت اپریشن اور علاج کیا جائیگا۔ تاکہ ان کو دوردراز کے علاقوں کا سفر کرنا نہ پڑے۔ خواہشمند حضرات درجہ ذیل ایڈریس پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
free surgery

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , , ,
9027

ایم پی اےبی بی فوزیہ پر الزام بے بنیاد اور من گھڑت ہے….. ترجمان پی پی پی

Posted on

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز)پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چترال کے ترجمان سیکرٹری اطلاعات قاضی فیصل نے ایک اخباری بیان میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چترالی قوم اپنی ایمانداری اور وفاداری کی وجہ سے پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں مانے جاتے ہیں، جو الزام ایم پی اے فوزیہ بی بی لگائی گئی ہے وہ بے بنیاد اور منگھڑت ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ فوزیہ بی بی کے قرآن پاک پر ہاتھ رکھکر قسم کھانے کے بعد اس میں کوئی گنجائش نہیں رہی کہ اُس پر شک کرسکیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم ایم پی اے فوزیہ بی بی کے ساتھ ہر فورم پرکھڑے ہیں اور اس گہری سازش کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور فوزیہ بی بی کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی چترال اپنی بہن کے عزت کے لیے ہر حد تک جائینگے۔اُنہوں نے کہا کہ چترالی قوم کی دل آزاری پر عمران خان اور پرویز خٹک کا مذمت کرتے ہیں اور فوزیہ بی بی کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پی پی پی میں شمولیت اختیار کریں،چترالی خواتین،ماؤں اوربہنوں کی عزت اور ابرؤ کی پاسبان رہی ہے اور رہے گی۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9025

ادیب اور جشن قاق لشٹ……………شمس الرحمن تاجک

ہماری ایک مقامی ادیب سے دوستی ہے کچھ دن پہلے ان کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کے چھ سال کے بیٹے سے پوچھا۔ بیٹا ادیب کیسے ہوتے ہیں۔ فوراً جواب آیا کہ ’’جن کے جوتوں کے تلوے پھٹے ہوئے ہوں وہ ادیب ہوتے ہیں‘‘۔ جواب حیرت انگیز تھاگومگو کی کیفیت میں دوسرا سوال کرنے سے پہلے ہی بچے نے تفصیل بھی بتادی کہ ’’ میرے ابو ادیب ہیں ان کے جتنے دوست آتے ہیں سب کے جوتوں کے تلوے پھٹے ہوتے ہیں۔ آج آپ آئے ہیں آپ کے جوتوں کے تلوے بھی پھٹے ہوئے ہیں، یقیناًآپ بھی ادیب ہوں گے‘‘۔ ہم نے عرض کیا کہ بیٹا اللہ نہ کرے یہ بیماری ہمیں بھی لگ جائے۔ بس جوتوں پر کبھی غور نہیں کیا۔یہ بچگانہ تجزیہ ہمارے لئے بالکل نیا تھا ہم ’’چاک گریبان ‘‘ ادیبوں سے آگاہ تھے۔ ’’پھٹے تلوے‘‘ والے ادیب ہمارے لئے بھی نئے ہی تھے۔ بچے کے اس تجزیے سے ہم اتنے زیادہ متاثر ہوئے کہ واپسی پر سیدھے بازار گئے، ادھار پر نئے جوتے لئے تاکہ کوئی ہمیں ادیب نہ سمجھے۔کیونکہ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں عام افراد اور عوام کے حقوق کے لئے بات کرنے والا ادیب اور دانشور طبقہ ’’بھونکتا‘‘ ہے جبکہ ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جھوٹ بولنے والا شخص ’’فرماتا‘‘ ہے۔ہم کم از کم ہوش و حواس میں رہتے ہوئے بھونکنے والوں میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

غالباًاس معاشرتی رویے کا اثر تھا کہ امسال ہونے والے ’’جشن قاق لشٹ‘‘ کے موقع پر ادیبوں کو اس خالصتاً عام لوگوں کی محفل سے دور رکھا گیاتاکہ ان کے غیر انسانی فعل سے عام عوام کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ حالانکہ اس جشن کو شروع کرنے کا سہرا ان ہی پاگل لوگوں کے سر جاتا ہے۔انتہائیبے سروسامانی کے عالم میں یہ جشن شروع کیا گیا تھا ۔ ذاتی خرچے پر قاق لشٹ کے ہر کونے میں جشن برپا کرنا ایسے ہی پاگل لوگوں کا جنون ہوسکتا ہے۔ ہوش مند لوگ ایسے جشن برپا کرنے لگیں تو دنیا گلزار نہ بن جائے۔ یہ پاگل لوگ کتنے سالوں کی محنت اور ذاتی وسائل سے آخر کار چترال کے لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ ہر علاقے کی ایک ثقافت ہوتی ہے اور ثقافت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ ایک وقفے کے بعد ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے۔ تاکہ معدوم ہوتی ثقافت کو بحال رکھا جاسکے۔ بچوں کو بتایا جاسکے کہ ان کے اباؤ اجداد کس طرح زندگی گزارتے تھے۔ ان کا سفر کہاں سے شروع ہوا تھااب وہ کہاں پر ہیں ۔یہ پاگل لوگ اس جشن کے وارث ہیں آپ وارثوں کو زبردستی ان کے گھر سے باہر کیوں نکال رہے ہیں۔ ان پاگلوں کو ’’بی بی شیرین‘‘ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے یہ ’’خوش بیگم‘‘ کے ساتھ خوش ہیں۔ یہ لوگ جو قاق لشٹ کے لق دق بیابان میں جمع ہوتے ہیں ۔ ان کو ذاکر زخمیؔ اچھے لگتے ہیں، افضل اللہ افضلؔ کی دھن سے ان کو دلچسپی ہے۔ امین الرحمن چغتائی ان کا غالبؔ ہے، مولا نگاہ نگاہؔ کو سن کر مہینوں ہنسنا چاہتے ہیں،سعادت حسین مخفی ان کو سعادت حسن منٹو سے زیادہ پیارے ہیں،ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ان کے لئے کیا ہیں اس کا آپ کو اندازہ نہیں۔ ان کے علاوہ چترال کے ہزاروں ایسے فرزند وہ بھی صلاحیتوں سے مالامال فرزندموجود ہیں جوچترال کے لوگوں کے لئے قاق لشٹ کو گل و گلزار بنادیتے ہیں۔ پھر بھی آپ بضد ہیں کہ آپ ہمیں ’’بی بی شیرین‘‘ ہی سنائیں گے اور ہم آ پ کے دھن پر ناچ سکتے ہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے وزیرستان میں امن تو قائم ہوگیا ہے کیونکہ نہ وہاں ’’بی بی شیرین‘‘ والی کسی ثقافتی شو کا انعقاد کریں اور کسی چترالی کو میزبان بنائیں۔ کتنی عزت افزائی ہوگی۔

کہتے ہیں کہ ادیب لوگ معاشرے کے نبض شناس ہوا کرتے ہیں۔ اتنے تلخ تجربات کے بعد بھی ایسا کہنا جہالت کی نشانی ہے یہاں گردن سے ذبح کرنے کا رواج ہے نبض کون دیکھتا ہے۔ ویسے ہمیں اس پر سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔چترالی ثقافت کے نام پر منعقد ہونے والے جشن قاق لشٹ میں گیت اردو، پنجابی ،پشتو اور سرائیکی ساتھ میں خٹک ڈانس ہوتو ہمیں دو چار سال بعدکسی خٹک، کسی چوہدری یا پھر کسی مالک یا میاں کے اس دعوے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ اصل میں قاق لشٹ کی زمین ان کے اباؤ اجداد کی میراث ہے۔ یہ جو میں بھونک رہا ہوں میں قسم کھانے کو تیار ہوں کہ نہ تو میں ادیب ہوں اور نہ ہی دانشور۔ نہ ہی مجھے قاق لشٹ یا گرین لشٹ سے کوئی دلچسپی ہے۔ وہ ایک زمانے میں شندور میں بھی چترالی ثقافت کا بول بالا تھا جب وہاں پر چترال کی ثقافت کو سائیڈ لائن لگانے کا کام شروع ہوا۔ تو ادیب لوگ اس وقت بھی بھونکتے رہے کسی نے نہیں سنی ۔اب شندور میں چترال کا صرف ڈھول رہ گیا ہے ۔ امسال قوی امکان ہے کہ وہاں پر نرگس کی اسٹیج پرفارمنس دکھائی جائے گی۔چونکہ چترالی ادیب نرگس کو نچانے کے قابل گانے تخلیق کرنے کی صلاحیت سے یکسر عاری ہیں اس لئے بروقت ان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ جشن شندور سے اپنے آپ کو دور ہی رکھیں۔
Qaqlasht festival 2nd day 6

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9016

چترال ٹاسک فورس کے زیر اہتمام ارسون میں‌فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد ،

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) چترال ٹاسک فورس کے زیر اہتمام چترال کے دورآفتادہ علاقہ ارسون میں‌فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا . جس میں چترال سکاوٹس کے ڈاکٹروں اور سول ڈاکٹروں‌نے مریضوں کا معائنہ کیا اور انھیں چترال ٹاسک فورس کی طرف سے فری میڈیسن دیا. کمانڈنٹ چترال ٹاسک فورس کرنل معین الدین نے فری میڈ یکل کمیمپ کا دورہ کیا اور ارسون کے ستر سے زیادہ مستحق گھرانوں میں‌ مفت راشن اور بچوں میں مٹھائی تقسیم کی .
اس موقع پر 44فرنٹیئیرفورس رجمنٹ کی طرف سے لگائے گئے پھلوں‌کے باغ کا بھی افتتاح کیا . کمانڈنٹ علاقے کے عمائدین سے بھی ملے . ان کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلیے ہر ممکن کوشسش اور تعاون کی یقین دہانی کی . علاقے کے عوام نے کمانڈنٹ چترال ٹاسک فورس کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا .
chitral task force Ursoon free medical camp 27

chitral task force Ursoon free medical camp 25

chitral task force Ursoon free medical camp 23

chitral task force Ursoon free medical camp 22
chitral task force Ursoon free medical camp 8

chitral task force Ursoon free medical camp 10

chitral task force Ursoon free medical camp 19

chitral task force Ursoon free medical camp 20
chitral task force Ursoon free medical camp 18

chitral task force Ursoon free medical camp 15

chitral task force Ursoon free medical camp 14

chitral task force Ursoon free medical camp 12

chitral task force Ursoon free medical camp 2

chitral task force Ursoon free medical camp 3

chitral task force Ursoon free medical camp 4

chitral task force Ursoon free medical camp 6

chitral task force Ursoon free medical camp 7

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
8994

فوزیہ بے قصور ہے ……………..محکم الدین ایونی

تحریک انصاف نے پانچ سال پہلے چترال کی ایک چھوٹی سی این جی او میں کام کرنے والی بی بی فوزیہ کو جب خواتین کی مخصوص نشست کیلئے نامزد کرکے صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر بیٹھایا ۔ تو ہر ایک چترالی نہ صرف تحریک انصاف کی اس فراخدلانہ عنایت پر حیرت زدہ تھا ۔ بلکہ اس کی تعریف کرنے پر مجبور تھا ۔ لیکن پانچ سال گزرنے کے بعد جس غیر شائستہ ، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی طریقے سے اُسی خاتون کے سیاسی کرئیر کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ وہ نہ صرف قابل مذمت ہے ۔ بلکہ ناقابل قبول بھی ہے ۔ میڈیا پر تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے اعلان کے حوالے سے دیگر متاثر ممبران اسمبلی کے حلقوں کے لوگ جس رائے کا اظہار کریں ۔ وہ یقیناًاُن کی صوابدید پر ہے ،لیکن چترال کے اہل دانش کا کہنا ہے کہ بی بی فوزیہ جیسی ایک پاکدامن خاتون پر ووٹ بیچنے کا الزام لگا کر پورے چترال کی شرافت ، دیانتداری اور ایمانداری پر جو کالی ضرب لگائی گئی ہے ۔ وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ اور چترال کے لوگوں کیلئے یہ عمل سبکی اور شرمندگی کے ساتھ ساتھ ناقابل برداشت ہے ۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو پارٹی سربراہ کی حیثیت سے فیصلے کرنے کا اختیار ہے ۔ لیکن جس طریقے سے ممبران اسمبلی پر الزامات لگا کر بغیر صفائی کا موقع فراہم کرنے کے اُن کا میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے ۔ کہ انتہائی مہارت کے ساتھ سازش تیار کی گئی اور تحقیقات کی آڑ میں اُن افراد کو پارٹی سے باہر نکالنے کی راہ ہموار کی گئی ۔ جو موجودہ وزیر اعلی کی راہ میں رکاوٹ تھے ، جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا ۔ کہ تحقیقات کے بعد اُن کو شو کاز نوٹس دیے جاتے اور تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں پارٹی اصولوں کے مطابق کاروائی کی جاتی ، اُس کے بعد اُن کے نام میڈیا کے سامنے پیش کئے جاتے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ کہ ہمارے ملک میں ہارس ٹریڈنگ کا لفظ نیا نہیں ہے ۔ سینٹ کے انتخابات جب بھی ہوئے ، پیسے کا بے دریغ استعمال ہوا ۔ اور ہر ممبر نے اس پر ہاتھ صاف کیا ۔ اب کے بار پاکستان تحریک انصاف کے ممبران جس طرح بکے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ کہ اس پارٹی میں بھی نظریہ کم اور پیسہ زیادہ چلتا ہے ۔ اس کے باوجود عمران خان کی طرف سے اپنے ممبران کا احتساب ایک اچھا قدم ہے ۔ لیکن جو طریقہ اپنایا گیا ۔ اُسے ہرگز صحیح نہیں کہا جا سکتا ۔ جس میں ملزموں کو سزا پہلے سنائی گئی اور شو کاز نوٹس بعد میں دی جارہی ہے ۔ اگر کوئی بندہ قصور وار نہیں ہے ۔ تو میڈیا میں اُن پر الزام لگانے کے بعد وہ اپنی بے گناہی کے بارے میں کس کس کو قائل کر سکتا ہے ۔ جبکہ اُس کی تذلیل پوری قوم کے سامنے پہلے کی گئی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف چترال کی ایم پی اے بی بی فوزیہ جو اس الزام کی زد میں آچکی ہیں ۔ کی طرف سے پشاور پریس کلب میں میڈیا کے سامنے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کے بعد اُن کی بے گناہی ثابت ہوتی ہے ۔ اور اس بات کو تقویت ملتی ہے ۔ کہ اُنہیں ایک سازش کے تحت شامل کیا گیا ہے ، کیونکہ خان صاحب اُن کی بطور ممبر صوبائی اسمبلی نمایندگی سے مطمئن تھے ۔ اور چترال سمیت کئی مقامات پر عمران خان نے بی بی فوزیہ کے بطور ممبر صو بائی اسمبلی کردار کی بہت تعریف کی ۔ اور دوسری خواتین ممبران کو بھی اُس کی تقلید کی ہدایت کی ۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے ۔ جو صوبائی سطح پر پارٹی کے بعض ہائی اتھارٹیز کو پسند نہیں تھی ۔ اور اُن کو ووٹ بیچنے والوں میں شامل کرکے اُس کے مستقبل کا راستہ روکا گیا ۔ اورخان صاحب کی طرف سے فوزیہ بی بی کیلئے اعلان کردہ جنرل سیٹ کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی ۔ فوزیہ بی بی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے ۔ وہ عدالت جانے کیلئے تیار ہے ۔ الیکشن کمیشن میں بھی اس حوالے سے اپنی درخواست دے چکی ہے ۔ اور سب سے بڑی عدالت جس پر تمام مسلمانوں کا ایمان ہے ۔ قرآن پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے اپنی بے گناہی کا ثبوت دیا ہے ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , ,
8989

پی ٹی آئی کی سولو فلائیٹ……………….محمد شریف شکیب

موجودہ صوبائی حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے میں ایک مہینہ رہ گیا ہے۔ 29مئی کو عبوری حکومت قائم ہوگی جو آئندہ نوے روز کے اندر انتخابات کروا کے اقتدار اگلی منتخب حکومت کے سپرد کرے گی۔تمام پارٹیاں انتخابات کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہیں۔ جلسہ عام برپا کئے جارہے ہیں شمولیتی تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔تاکہ اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرکے ووٹرز کو مرغوب کیا جاسکے۔دوسری جانب حکمران جماعت تحریک انصاف نے اپنے ہی بیس ارکان اسمبلی کو سینٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے کے الزام میں پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ بنی گالا میں پارٹی قیادت کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے ووٹ بیچنے والے ارکان کے نام گنوائے ۔انہیں اظہاروجوہ کے نوٹس بھجوانے اور نوٹس کا جواب نہ دینے پر ان کے اثاثوں کی چھان بین کے لئے قومی احتساب بیورو سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس تاریخ کو کس کس ممبر نے کتنے کتنے پیسے لئے۔ان کا کہنا تھا کہ بیس ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالنے کا نقصان برداشت کرسکتے ہیں لیکن ضمیر فروشی برداشت نہیں کرسکتے۔کرپشن کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی بلاشبہ قابل تحسین بھی ہے اور دوسری جماعتوں کے لئے قابل تقلید بھی۔ سیاسی مفادات اور مصلحت پر شفافیت کو ترجیح دینے کی ہماری سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم کپتان نے اتنا بڑا فیصلہ کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسلمہ طریقہ کار یہ ہے کہ جن لوگوں پر ووٹ بیچنے کا الزام ہے۔ ان سے انفرادی طور پر پوچھ گچھ ہونی چاہئے اور تسلی نہ ہونے پر ان کوشوکاز نوٹس جاری کرنا چاہئے اگر وہ پھر بھی قیادت کو مطمئن نہ کرسکیں تو ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔ ایک ملزم کو بھی پہلے تفتیش کے مرحلے سے گذارا جاتا ہے۔ اس کا ریمانڈ لیا جاتا ہے۔ عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ وہاں سے الزام ثابت ہوجائے تو وہ مجرم اور سزاوار ٹھہرتا ہے۔ سزا پہلے دے کر تفتیش بعد میں کرنے والی بات کچھ ہضم نہیں ہورہی۔ سینٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے کے حوالے سے پہلے تیس ارکان کے نام لئے جارہے تھے۔ تاہم ان میں سے دس کو کلین چٹ دیدی گئی۔ جن بیس ارکان کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے ان میں پانچ خواتین،گیارہ پارٹی کے مرد ارکان کے علاوہ دوسری جماعتوں سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے چار ارکان بھی شامل ہیں۔چترال سے خصوصی نشست پر رکن اسمبلی بننے والی فوزیہ بی بی نے پریس کانفرنس میں قرآن پاک پر ہاتھ رکھ اپنی بے گناہی پیش کی۔ جس کی تقلید میں نرگس علی، نگینہ خان اور نسیم حیات نے بھی قرآن پر حلف اٹھا کر بتایا کہ انہوں نے پارٹی سے بے وفائی نہیں کی۔ انہوں نے کہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے پینل سے پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوا ہے جس پینل کا امیدوار شکست کھا گیا اس پینل والوں سے باز پرس کیوں نہیں کی جاتی۔ ان خواتین نے عندیہ دیا کہ پارٹی کی صوبائی قیادت نے اپنے چہیتوں کو بچانے کے لئے ان کی قربانی دی ہے۔ انہوں نے اپنے دامن پر لگنے والا بدنامی کا داغ مٹانے کے لئے عدالتوں میں جانے کا اعلان کیا۔ضمیر فروشی اور کرپشن کا الزام لگنے کے بعد ان ارکان کا سیاسی کیرئر داو پر لگ چکا ہے۔ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانا ان کا حق ہے۔پارٹی کی مرکزی قیادت کو حالات مزید بگڑنے سے پہلے الزامات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانی چاہئے بصورت دیگر پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کرپشن سے اٹے ہمارے سیاسی نظام کی تطہیر کے لئے پی ٹی آئی کی پالیسی اور اقدامات خوش آئند ہیں۔ لیکن اس سولو فلائیٹ سے پورے نظام کو شفاف بنانے میں کئی عشرے لگ سکتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس کام میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ سینٹ الیکشن میں جن لوگوں نے اپنے ووٹ بیچے۔ وہ بلاشبہ قوم کے مجرم ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے ووٹ خریدے وہ بھی توقوم کے مجرم ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، اے این پی، جے یو آئی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پی ایس پی، مسلم لیگ ق اور دیگر پارلیمانی پارٹیوں کو بھی ووٹ بیچنے اور خریدنے والوں کا محاسبہ کرنا چاہئے۔تیس چالیس پہلے کے مقابلے میں آج حالات مختلف ہیں۔ لوگوں میں سیاسی شعور آچکا ہے۔ میڈیا نے عوام کے سامنے ہر چیز کھول کر رکھ دی ہے۔ دقیانوسی ، مفادات اور مصلحت کی سیاست کو خیرباد کہہ کر اب شفاف جمہوری نظام کے قیام کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , ,
8987

چترال کی خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔۔سلیم خان

چترال(رپورٹ شاہ مراد بیگ)ممبرصوبائی اسمبلی وچیئرمین ڈیڈک چترال سلیم خان گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جغورچترال کاافتتاحی تختی کی نقاب کشائی اور فیتہ کاٹ کرباقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ایم پی اے سلیم خان نے کہاکہ تعلیم کے شعبہ میں انقلابی اقدامات عمل میں لایا جارہا ہے۔گورنمنٹ گرلزہائی سکول جغور اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔مڈل سکول کو ہائی درجہ دینے کا مقصد یہاں کے طالبات اپنے گھرکے دہلیزمیں تعلیم حاصل کر سکیں گیں۔ انہوں نے کہاکہ خواتین اب اپنی روایتی ذمہ داریاں پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کا بڑھتا رجحان ہے۔ عورتوں کی تعلیم کی اہمیت کا شعور اب دنیا کے کسی بھی معاشروں میں بھی اجاگر ہونے لگا ہے۔انہوں نے کہاکہ عورت معاشرے کا اہم جز ہے جسے ہر روپ میں اسلام نے اعلیٰ مقام و مرتبہ دیا ہے۔اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے عورتوں کو حقوق دئیے۔اور ان حقوق میں ایک حق تعلیم کا بھی ہے۔تعلیم کے حصول کے لئے خواتین کو یکساں مواقع کی فراہم ہونے چاہئیں۔ تعلیم یافتہ خواتین قومی ترقی کے فروغ میں اہم کردار کی حامل ہیں۔ یہ امر ضروری ہے کہ خواتین تعلیم حاصل کریں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ قومی ترقی کی رفتار تیز ہو کیونکہ تیز رفتار ترقی کیلئے خواتین کو اپنا مو ثر کردار اداکر سکتی ہیں ہے۔سلیم خان نے کہاکہ حالیہ پانچ سال کے اندر2ہائیرسیکنڈری،8ہائی کئی مڈل اورپرائمری سکول بنائیں عوامی مطالبے،علاقے کی پسماندگی اورایک سکول سے درسرے سکول کی فاصلے کومدنظررکھتے ہوئے رکھاہوں۔اپنے دس سالہ دورمیں ترقیاتی کاموں کاجال بچھانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی ۔چترال کے عوام کامشکورہوں کہ انہوں نے کارکردگی کی بنیادپردوسری دفعہ مجھے پرعتمادکرکے ممبرصوبائی اسمبلی منتخب کیا۔اس موقع پرپاکستان پیپلزپارٹی کے ضلعی انفارمیشن سیکرٹری قاضی فیصل ،پی پی پی خواتین ونگ کے ضلعی صدرناہیدہ سیف ایڈوکیٹ،ٹاون کے نائب صدرسفیراللہ ایڈوکیٹ ،سابق چیئرمین پی پی پی جغورمحمدظاہرشاہ،وی سی نائب ناظم جغورشہبازخان،کسان کونسلرمحمدشاقی ،مولانامختاراحمد،نوجوان سوشل ورکروسماجی کارکن گل آغا،کونسلرعبدالعزیزاوردیگرنے ایم پی اے سلیم خان کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم اہلیان جغور،بکرآباد،چمرکن وادیگرملحقہ دیہات مڈل سکول کوترقی دے کرہائی کادرجہ دینے پرجس محنت اورخلوص سے آپ نے کام کیاانتہائی لائق تحسین ہے ۔انہوں نے کہاکہ سکول کے اب گریڈیشن کی منظوری پرفنڈزکی فراہمی اورپھرتعمیرکے کام کے آغازسے لیکرتکمیل تک واجملہ اسٹاف کی تعیناتی تک ہرمرحلے پرانتہائی اہم کرداراداکیاہے اس پرعلاقے کے عوام آپ کابھرپورشکریہ اداکرتے ہیں۔ تقریب میں جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی کے درجنون افرادپی پی پی میں شمولیت اختیارکی۔
ppp chitral saleem khan mpa 1

ppp chitral saleem khan mpa 4

ppp chitral saleem khan mpa 5

ppp chitral saleem khan mpa 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8978

چترال کی بیٹی پر ووٹ بیجنے کا الزام افسوسنا ک ہے،ہم غریب ضرور ہیں مگر ضمیر فروش نہیں..حاجی ظفر

Posted on

دوبئی ( نمائندہ چترال ٹائمز ) دوبئی میں مقیم چترال کے معروف سماجی شخصیت، اورسیز چترالیز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد ظفر نے گزشتہ دن پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے چترال سے ایم پی اے بی بی فوزیہ پربلا تحقیق ووٹ بیجنے کے الزام پر رد عمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان صاحب نے صرف فوزیہ پر نہیں بلکہ پورے چترال کو مورد الزام ٹھرایا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ چترا ل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے حاجی ظفر نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بلا تحقیق چترال کے پاک دامن بیٹی پر جھوٹے الزام لگا کر چترال کے پانچ لاکھ آبادی کو دکھ پہنچا یا ہے ۔ انھوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوزیہ کو جس امیدوار کو ووٹ دینا تھا وہ کامیاب ہوگیا ہے ۔ اور چودہ ایم پی ایز کی پینل میں سے دس ممبران نے ووٹ پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار کو ووٹ دے چکے ہیں جبکہ صرف چار ممبران نے ووٹ کسی دوسرے امیدوار کو دئیے ہیں مگر پی ٹی آئی کے ہائی کمان نے چودہ ممبران کے پینل میں سے آٹھ ممبران کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیاہے ۔ جو کہ تعجب خیز ہے ۔
حاجی ظفر نے بتایا کہ دوبئی میں مقیم چترال کے باسیوں نے پی ٹی آئی کے ہائی کمان کی طرف سے چترال کی بیٹی پر الزام تراشی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے باضابطہ تحقیقات کرنے اور اصل حقائق عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیاہے ۔ انھوں نے کہا کہ چترال کے لوگ غریب ضرور ہیں مگر ضمیر فروش اور احسان فراموش نہیں ۔ پی ٹی آئی کے احسان مند ہیں کہ انھوں نے چترال کی ایک بیٹی کو صوبائی اسمبلی کی نشست نہیں دی ،بلکہ پورے چترال کو عزت دی ہے ۔ مگر اس کے جواب میں چترال کی بیٹی کبھی بھی اپنی ضمیر کو فروخت نہیں کرسکتی ۔ اور نہ وہ پارٹی کے ساتھ اتنی بے وفائی کرسکتی ہے ۔ حاجی ظفر نے چترال کے عوام سے اس گھناونے الزام کے خلاف آواز اُٹھانے اور چترال کے بے گناہ بیٹی پر الزمات لگانے والوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی غیر جانبدار ادارے سے تحقیقات کرائے جائیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے اسکیں ۔انھوں نے مذید کہا کہ چترال کے عوام بھٹو سے لیکر مشرف تک سب کے احسان جتائے ہیں اور کبھی بھی احسان فراموشی نہیں کی ہے۔ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھنا ہر ایک کا آئینی اور جمہوری حق ہے مگر چترال کے خلاف کوئی بلاجواز آواز اُٹھائے تو ان کے خلاف سب کو متحد ہونا پڑے گا۔ تاکہ چترال کے دامن پر بلاتحقیق داغ نہ لگ جائے۔ حاجی ظفر نے چترال کے پی ٹی آئی ذمہ داروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں پارٹی کے اندر اور باہر کے اختلافات اپنی جگہ مگر چترال کے حوالے سے کوئی مسئلہ سامنے آئے تو اس پر سب کو اتحاو اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8952

آل پاکستان مسلم لیگ شیشی کوہ ویلی کیلئے کابینہ تشکیل، مقبول احمد صدر مقرر

Posted on

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ) آل پاکستان مسلم لیگ ضلع چترال کے صدر سابق کمشنر سلطان وزیر کے دفتر سے جاری ایک اعلامیہ کے مطابق شیشی کوہ ویلی کیلئے کابینہ اور ممبران کی نوٹفیکشن کی گئی ہے ۔ نوٹیفکشن کے مطابق مقبول احمد کو صدر مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی کابینہ و دیگر ممبران کی تفصیل ذیل ہے ۔

apml chitral notification1
apml chitral notification

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8947

ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی طرف سے نئے کرائے نامے جاری

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں کمی کے بعد 96.45 روپے فی لیٹر مقرر کرنے پر صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا نے ڈیزل سے چلنے والی مسافر بردار گاڑیوں کے لئے نئے کرائے نامے تیار کئے ہیں، جو فوری طورپر لاگو ہوں گے۔ نئے کرانے ناموں کے مطابق فلائنگ کوچز/منی بسز، 1.11 روپے، اے سی بسز 1.31 روپے، عام بسیں 0.96 پیسے اورلگژری بسز 1.06 روپے فی کلو میٹر فی مسافر کرائے وصول کریں گی۔ تفصیلات کے مطابق پشاور سے کوہاٹ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 72 ۔روپے ،اے سی بسز 85 ۔روپے ،عام بسیں 62 ۔روپے اور لگژری بسیں 69 ۔روپے کرائے چارج کریں گی۔ اسی طرح پشاور سے بنوں کے لئے فلائنگ کوچز 216 ۔روپے اے سی بسیں 255 ۔روپے ،عام بسیں 187 ۔روپے اورلگژری بسیں207 ۔روپے ،پشاور سے ڈی آئی خان کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز373 ۔روپے ،اے سی بسز440 ۔روپے ،عام بسیں 323 ۔روپے اور لگژری بسیں 356 ۔روپے , پشاور سے ہری پور کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز173 ۔روپے ،اے سی بسز204 ۔روپے ،عام بسیں 150 ۔روپے اور لگژری بسیں 165 ۔روپے،پشاور سے ایبٹ آباد کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز214 ۔روپے ،اے سی بسز 253 ۔روپے ،عام بسیں 185 ۔روپے اور لگژری بسیں 205 ۔روپے،پشاور سے مانسہرہ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 241 ۔روپے ،اے سی بسز 284 ۔روپے ،عام بسیں 208 ۔روپے اور لگژری بسیں 230 ۔روپے،پشاور سے مردان کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 64 ۔روپے ،اے سی بسز 76 ۔روپے ،عام بسیں 56 ۔روپے اور لگژری بسیں 61 ۔روپے،پشاور سے ملاکنڈ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 131 ۔روپے ،اے سی بسز 155 ۔روپے ،عام بسیں 113 ۔روپے اور لگژری بسیں 125 ۔روپے،پشاور سے تیمرگرہ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 196 ۔روپے ،اے سی بسز 232 ۔روپے ،عام بسیں 170 ۔روپے اور لگژری بسیں 188 ۔روپے،پشاور سے منگورہ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 191 ۔روپے ،اے سی بسز 225 ۔روپے ،عام بسیں 165۔روپے اور لگژری بسیں 182 ۔روپے،پشاور سے دیر کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 278 ۔روپے ،اے سی بسز328 ۔روپے ،عام بسیں 240۔روپے اور لگژری بسیں 265 ۔روپے،پشاور سے چترال کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 555 ۔روپے ،اے سی بسز 655 ۔روپے ،عام بسیں 480 ۔روپے اور لگژری بسیں 530 ۔روپے اورپشاور سے چارسدہ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 30 ۔روپے ،اے سی بسز 35 ۔روپے ،عام بسیں 26 ۔روپے اور لگژری بسیں 29روپے وصول کریں گی۔ دینی مدارس کے طلباء ،تعلیمی اداروں ،نابینا/ معذورافراد اور60 سال سے زائد العمرافراد کے لئے موجودہ 50 فیصد رعایت۔اگر ایئر کنڈیشن بسوں میں ایئرکنڈشن کام نہیں کررہاہوں توڈیلیکس سٹیج کیرج بس کے کرائے وصول کئے جائیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , ,
8850

خیبرپختونخوا کے تمام بورڈز کے ملازمین کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )خیبرپختونخوا کے تمام بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ملازمین نے آج سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کے بعد اپنی ہڑتال ختم کرنے کااعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان مذکورہ ملازمین نے سپیکرصوبائی اسمبلی اسد قیصر سے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر تمام بی آئی ایس ایز کے صدور اورملازمین کے نمائندوں نے تنظیم نو (ری سٹرکچرنگ) کے لئے مجوزہ بل کے بارے میں اپنے تحفظات سے متعلق سپیکر کو تفصیلی طورپر آگاہ کیا جس پر سپیکر نے انہیں یقین دلایا کہ جب تک تمام متعلقہ افراد اورسٹیک ہولڈر ز خاص طورپر بورڈ زکے ملازمین کو اعتماد میں نہ لیا جائے اور ان کی مشکلات کا ازالہ نہ کیا جائے اس بل کو کسی صورت بھی اسمبلی میں پیش نہیں کیاجائے گا۔ان بورڈز کے ملازمین کے نمائندوں نے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو مطلع کیا کہ مجوزہ بل جلدی میں بنایا گیا ہے اور اساتذہ ،والدین، طلباء اور نہ ہی ملازمین کو اعتماد میں لیاگیا۔یہی وجہ ہے کہ مجوزہ ری سٹرکچرنگ سے ان بورڈوں کی خودمختاری بری طرح متاثر ہوگی۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے انہیں غور سے سنا اور یقین دلایا کہ اس وقت تک کوئی بل پیش نہیں کیا جائیگاجب تک کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشکلات مناسب طورپر حل نہیں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عام حالات میں ایسے بل جائزہ کے لئے سلیکٹیڈ کمیٹی کو بھیج دیئے جاتے ہیں اورپھر اسمبلی میں پیش کیے جاتے ہیں۔ایسا اس لیے کیاجاتا ہے کہ لیجسلیشن کامناسب معائنہ کیاجائے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشکلات کو حل کیا جاسکے ۔تاہم اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ کیس میں امتحانات کی تاریخ کا اعلان ہوچکاہے اسلئے انہوں نے یقین دلایا کہ ملازمین کی شکایات کاحل پہلے نکالاجائے گااور پھر اُن کی قسمت کا فیصلہ کیاجائے گا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ چونکہ موجودہ اسمبلی کادور تقریباًختم ہونے والا ہے تاہم مستقبل کی اسمبلی میں بھی ان کی شکایات کا بھر پور خیال رکھا جائے گا۔ تمام بورڈوں کے ملازمین نے سپیکر اسد قیصرکے جذبے کی تعریف کی اور اپنی ہڑتال کے خاتمہ کااعلان کیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , ,
8845