The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 25 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صدا بصحرا………… چینی قیادت کی چابک دستی………….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

چینی قیا دت نے ایک خطہ ایک روڈ BRI یا OBOR پر چابک دستی کے ساتھ پیش رفت کرتے ہوئے مشرق سے مغرب تک پھیلے ہوئے کاروباری معاملات میں ابھرتے ہوئے تنازعات کو حل کرنے کا قانون تیا ر کرلیا ہے۔یہ قانون چینی کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی کے آنے والے اجلاس میں منظور کی جائے گی۔درین اثناء چینی قیادت نے زیورخ کے قریب ڈیوس سوئٹزر لینڈ میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم ون بیلٹ ون روڈ پر ایک اہم سیشن رکھا ا س سیشن میں چین کے قائدانہ کردار کو مزید اجاگر کیا گیا اور دنیا کے اہم کاروباری اداروں اور ملکوں کی توجہ چین کی طاقت کی طرف مبذول کیا گیا۔چین کے مقابلے میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی 100رکنی وفد ساتھ ڈیوس میں موجود ہیں۔انہوں نے بھارتی مصنوعا ت اور بھارتی ثقافت کو متعارف کرایا ہے۔ان کے وفد میں صحافیوں ، دانشوروں اور کاروباری شخصیا ت کے علاوہ فلمی دنیا کی مشہور شخصیا ت شاہ رخ خان بھی ہیں مگرچینی قیادت کا جواب نہیں ۔ چینی قیادت نے گزشتہ 68سالوں میں ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔1949ء سے 1959ء تک کا عشرہ آگے کی طرف چھلانگ لگانے کا عشرہ کہلاتا ہے۔
1959ء سے 1969ء تک کا عشرہ پائیدار حکمت عملی کا عشرہ کہلاتا ہے۔1969ء سے1979تک کا عشرہ اڑان بھرنے کا عشرہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ عشرہ ابھی ختم نہیں ہو ا تھا کہ چین نے 1978ء نئی اڑان بھرتے ہوئے فری ٹریڈ اور مارکیٹ اکانومی کی طرف قدم بڑھایا۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چیئرمین ماؤ زے تنگ کے نظریا ت سے انحراف کیا گیامگر حقیقت میں چیئرمین ماؤ نے لینن اور سٹالن کے برعکس چینی کمیونسٹ پارٹی کے منشور میں اس کی گنجائش رکھی تھی کہ وقت گذرنے کے ساتھ اپنی معیشت کو سرمایہ درانہ نظام کا مقابلہ کرنے کی سطح پر لاکر ایسا پیکج لایا جاسکے جو سرمایہ درانہ نظام کا مقابلہ کرسکے۔انگریزی مقولہ ہے کہ ہیرا ہیرے کو کاٹتا ہے۔بھوک ، غربت اور بیروزگاری کے ذریعے سرمایہ درانہ نظام کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔نظریا ت جامد ہوں تو موت کا کنواں ان کا مقدر ہوتا ہے۔سویت یونین کی قیادت اور لینن کے جانشینوں کو جامد کمیونزم کی نا کامی کے بعد 1988ء میں اس کا خیال آیامیخائل گوربا چوف نے گلاسناسٹ اور پیر سٹرائکاکے ذریعے معیشت کو آزاد کرنے کا اعلان کیا مگر وقت گذر چکا تھااس اعلان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آج کل چینی قیادت اُس پالیسی پر عمل پیرا ہے جو پالیسی 1840ء کے بعد برطانیہ نے اپنائی تھی۔ایسٹ انڈیا کمپنی اس پالیسی کا حصہ تھی۔’’چینی قیادت کا وژن ون بیلٹ ون روڈ ‘‘ (OBOR) اس پالیسی کی طرح دنیا میں اپنی تجارت کو پھیلانے کی جامع چینی حکمت عملی ہے۔گذشتہ سال چینی کارخانوں کا مال ریل کے ذریعے مشرقی یورپ کے راستے برطانیہ پہنچایامال کی دوسری کھیپ سی پیک کے ذریعے گوادر بندرگا ہ سے مشرق وسطیٰ اور یورپ پہنچائی گئی۔ چینی قیادت کو بخوبی احساس ہے کہ موجودہ دور معیشت کے ذریعے دنیا کی حکمرانی حاصل کرنے کا دور ہے۔معاشی میدان میں ترقی کے لئے جغرافیائی سرحدوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔یہ میدان جغرافیائی سرحدوں سے ماوریٰ ہے اور چین اس راستے پر گامزن ہے۔آج جاپانی اور امریکی صارفین بھی چینی مصنوعات پر انحصار کرتے ہیں۔میڈل ایسٹ میں بھی چینی مصنوعات کی بڑی مارکیٹ ہے۔پاکستانی حجاج مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ سے چینی جائے نماز، تسبیح اور ٹوپیاں بطور سوغات لاتے ہیں اور یہ چینی قیادت کا کمال ہے۔چینی قیادت نے گذشتہ 68برسوں میں کمیونزم اور سوشلزم کے رہنما اصولوں کو جامد نہیں ہونے دیا۔وقت کے تقاضوں کو دیکھ کر ان کی برینڈنگ (Branding) کی ۔ری پیکیجنگ (Re-Packaging) کا کام جاری رکھا اور ان کو وقت کے تقاضو ں سے ہم آہنگ کیا۔یہ کسی بھی ملک ،قوم ، مذہب اور نظریے کو ماننے والوں کی بڑی خوبی ہوتی ہے۔ جس نظریے کے علمبردار اپنے نظریے کو جامد کرلیتے ہیں سرد خانے میں ڈال دیتے ہیں وہ ملک ، وہ قوم ، وہ مذہب ، وہ نظریہ وقت گذرنے کے ساتھ دم توڑ دیتا ہے۔اس وجہ سے زندہ قومیں اپنے نظریے کو جامد نہیں ہونے دیتے۔اس کو ’’ اپ ڈیٹ ‘‘کرتے ہیں۔وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے رہتے ہیں۔چیئرمین ماؤ سے جیانگ زی من اور جیانگ زی من سے شی جن پنگ تک جتنے بھی لیڈر آئے انہوں نے چین کے اساسی نظریے کو آگے بڑھایا۔اور دنیا میں ’’سپر پاور ‘‘ ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو للکارا کہ ہم تمہارا پیچھا کررہے ہیں ۔ اب عوامی جمہوریہ چین پیچھا کرتے کرتے آگے نکل چکا ہے۔یہ چینی قیادت کی چابک دستی کا ثبوت ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
5790

صدا بصحرا ……… عجیب ناموں کی جنگ………….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

اچھی خبر یہ ہے کہ پاک فوج نے افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ بھارت ، امریکہ اور افغان فورسز کی طرف سے بار بارمزاحمت کے باوجود افغان سرحد کا بڑا حصہ بند کردیا گیا ہے۔ اگلے چند مہینوں میں بھارتی سرحد کی طرح افغان سرحد کو بھی مکمل سر بمہر (seal) کردیا جائے گا۔ اس اچھی خبر کے ساتھ ایک تشویشناک خبر آگئی ہے۔ تشویشناک خبر یہ ہے کہ دشمن نے عجیب ناموں سے ایسی جنگ کا منصوبہ بنایا ہے جو سرحدی خلاف ورزی کے ذریعے نہیں لڑی جائیگی۔ بلکہ ہمارے گھر کے اندر ہماری مسجدوں میں ، بازاروں میں اور دفتروں میں لڑی جائیگی۔ اس جنگ کے دو انگریزی نام ہیں ۔ ایک نام ہے سائبر وار (Cyber War) دوسرا نام ہے ففتھ جنریشن
( 5th Generation War)دونوں ایسے نام ہیں جن کا اردو ترجمہ اب تک نہیں ہوا۔ دونوں جنگوں کے لئے کمپیوٹر ، موبائل فون ، انٹر نیٹ ، ریڈیو اور ٹیلی وژن چینلوں کو استعمال کیا جائے گا ۔ بھارت نے 1960ء کے عشرے میں فیصلہ کیا تھا کہ 65ء کی جنگ کے تجربے کو سامنے رکھ کر پاکستان پر باہر سے حملہ کرنے کے بجائے اسکو اندر سے کمزورکیا جائے۔ 1967ء اور 1971ء کے درمیاں 4سالوں میں مشرقی پاکستان کو ٹارگٹ بنایا گیا اور اس ٹارگٹ کے لئے صرف ایک نعرہ دیدیا گیا۔نعرہ یہ تھا کہ ہر پاکستانی ہمارا دشمن ہے اس طرح پاک فوج کو بھی مختلف نعروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ۔ یہ نعرہ سکولوں میں بھی پہنچا۔ ریڈیو سٹیشنوں کے ذریعے گھروں تک بھی پہنچایا گیا۔ اساتذہ اور صحافیوں کو ہراول دستہ بنایا گیا مکتی باہنی کے نام سے ایک گروہ کو مسلح کیا گیا۔اس گروہ کو مغربی بنگال میں فوجی تربیت دیدی گئی۔ اور گوریلا جنگ کے لئے تیا ر کیا گیا۔1967 ء سے 1970ء تک کسی کو اس کا اندازہ نہیں تھا ۔ 1970 ء کی انتخابی مہم میں اس بات کا اندازہ ہوا مگر پانی سر سے گذر چکا تھا۔ مارچ 1971ء سے دسمبر1971ء تک مکتی باہنی نے گھر گھر، دفتر دفتر، مسجد مسجد ، ہر جگہ ،ہر گاؤ ں ، ہر بازار اور ہر محلے میں پاکستان کے خلاف محاذ قائم کرلیا ۔ پاکستان کا نام لینا اور پاک فوج کا نام لینا جرم بن گیا۔ 4 سالوں میں دشمن نے اندر آکر وہ کام کیا جو باہر رہ کر 24سالوں میں وہ نہیں کرسکا تھا۔ دشمن کا اندازہ درست نکلا۔ اس نے 1967ء میں طے کیا تھا کہ پاکستانیوں کو اندر سے توڑنا آسان ہے۔ 1971ء سے اب تک 47سالوں کے اندر دشمن نے پاکستان کے اندر 18مکتی باہنیاں تشکیل دینے کا کام مکمل کیا ہوا ہے۔ اخبارات میں آپ نے یہ خبر پڑھی ہوگی کہ لندن کی بسوں اور ٹرینوں میں پاکستان کے خلاف بلوچ لبریشن آرمی کے پوسٹر آنے کے چند ہفتے بعد امریکہ کے شہر نیو یارک میں بھی پاکستان کے خلاف بی ایل اے کے پوسٹر د یکھے گئے۔ بلوچستان کو ہمارے لئے آتش فشان بنایا گیا ہے۔ دوسرا آتش فشان کراچی ہے۔ تیسرا آتش فشان فاٹا ہے۔ چوتھا آتش فشان جنوبی پنجاب ہے۔ پانچواں آتش فشان گلگت بلتستان ہے۔ جہاں حال ہی میں بدامنی کی بہت بڑی سازش پکڑی گئی۔ میرے دوست سید شمس النظر فاطمی اسلام آباد کو بھی آتش فشان قراردیتے ہیں۔ جہاں کوئی بھی شخص صرف ایک لاؤڈ سپیکر کے ذریعے 10ہزار کا مجمع اکٹھا کرسکتا ہے۔ دشمن کے ساتھ اس شخص کے تعلق اور اس تعلق کی بنیاد کا پتہ لگانے سے پہلے اسلام آباد کا پورا شہر لا قانونیت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ ’’ مکتی باہنیوں ‘‘ کے پاس نعروں کی کمی نہیں۔ بلوچستان میں قومیت کا نعرہ ہے۔ کراچی میں مہاجر کا نعرہ ہے۔ فاٹا میں ایف سی آر قبائلی دستوراور رسم و رواج سے ملاکر نعرہ بنایا گیا ہے۔کہ ایف سی آر ختم ہوا تو قبائل کی شناخت ختم ہوجائیگی۔ گلگت بلتستان اور جنوبی پنجاب کے لئے الگ الگ نعرے لائے گئے ہیں۔ مذہب ، مسلک ، فرقہ ایسا نعرہ ہے جو لاہور، فیصل آباد اورملتان میں بھی دشمن کا کام آسان کردیتا ہے۔ راولپنڈی ، سیالکوٹ ، گوجر خان ، پاڑہ چنار، ہنگو اور پشاور میں بھی کام آجاتا ہے۔ دشمن نے ہماری کمزوریوں پر ہم سے زیا دہ ریسرچ کیا ہوا ہے۔ بھارت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پشاور میں کونسا زہر زیادہ کاریگر ہوگا، لاہور کے لئے کس زہر کو آزمایا جائے۔ ہنگو،پاڑہ چنار اور گلگت بلتستان میں کس زہر سے کام لیا جائے۔یہ باتیں بھارتی ایجنسی کے علم میں ہیں۔ اور بھارتی ایجنسی نے ہر علاقے میں آگ لگانے کے لئے الگ مصالحہ تیار کیا ہوا ہے۔ دشمن کو یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں پرکام ہوچکا ہے۔ سماجی تنظیموں پرکا م ہوچکا ہے۔ افسر شاہی پر بھی کام ہوچکا ہے۔ میڈیا کے لوگوں پر بھی کام ہوچکا ہے۔ صرف پاک فوج ایسا ادارہ ہے جو دشمن کی رسائی سے باہر ہے۔ اس لئے انسانی حقوق ، جمہوریت اور روشن خیالی کے نام پر بھارتیوں نے پاک فوج کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ عجیب ناموں سے انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا اور دیگر محاذوں پر نئی جنگ جاری ہے۔ ہمیں خود کو آگاہ کرنا ہوگا اور اس جنگ میں پاک فوج کا ساتھ دینا ہوگا ورنہ کچھ بھی نہیں رہے گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
4001