کم عمری کی شادی: ایک قومی المیہ یا شرعی ضرورت – تحریر: ایڈووکیٹ ذیشان زرین
کم عمری کی شادی: ایک قومی المیہ یا شرعی ضرورت – تحریر: ایڈووکیٹ ذیشان زرین
پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے جو قانونی، مذہبی، سماجی اور معاشی اثرات کا حامل ہے۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2025 کی منظوری نے اس موضوع پر بحث کو نئی شدت دی ہے۔ اس قانون نے وفاقی دارالحکومت میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی ہے اور اس سے کم عمر کی شادیوں کو قابل سزا جرم قرار دیا ہے۔ اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کے نکاح کا اندراج غیر قانونی ہوگا۔ نکاح خواں کو ایک سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ والدین یا سرپرست کو تین سال قید بامشقت اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی بالغ مرد کم عمر لڑکی سے شادی کرتا ہے تو اسے دو سے تین سال قید کی سزا ہوگی۔ کم عمر شادی کو “چائلڈ ابیوز” تصور کرتے ہوئے پانچ سے سات سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔ شادی کی غرض سے بچوں کو ملازمت پر رکھنا یا سمگلنگ کرنا بھی جرم ہوگا جس کی سزا تین سے سات سال قید ہے۔ عدالتوں کو ایسی شادیوں کو روکنے کے لیے حکم امتناع جاری کرنے اور مقدمات 90 دن میں نمٹانے کا اختیار دیا گیا ہے۔
تاریخی طور پر چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کے تحت لڑکوں کی شادی کی عمر 18 سال اور لڑکیوں کی 16 سال تھی۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ صوبائی اختیار/سبجیکٹ بن گیا۔ سندھ نے 2014 میں شادی کی عمر 18 سال کر دی جبکہ پنجاب نے 2015 میں سزاؤں کو سخت کیا لیکن عمر کی حد نہ بدلی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے ابھی تک چائلڈ میرج ایکٹ پاس نہیں کیا لیکن حکومتی حلقوں میں اس پر غور ہو رہا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے 1929 کے قانون میں لڑکوں اور لڑکیوں کی عمر کے فرق کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے قانون ترمیم کا حکم دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2022 میں فیصلوں میں واضح کیا کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی غیر قانونی ہے اور ذہنی پختگی ضروری ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ بچوں اور بالغوں کے فیصلوں میں فرق ہوتا ہے کیونکہ بچے اپنے اعمال کے نتائج نہیں سمجھ سکتے۔ انہوں نے مسلم پرسنل لا پر مبنی تشریحات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شادی سے متعلق قوانین قانون ساز اداروں کے اختیار میں ہیں۔ نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ ایکٹ، جیووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ، اور زینب الرٹ اینڈ ریسپانس ایکٹ میں بچے کی تعریف 18 سال سے کم عمر کے شخص کے طور پر کی گئی ہے۔
تاہم مذہبی حلقوں نے اس قانون کی شدید مخالفت کی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور مولانا فضل الرحمان نے اسے غیر شرعی قرار دیا اور اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا موقف ہے کہ شریعت میں شادی کے لیے بلوغت کافی ہے اور عمر کی حد مقرر کرنا غیر شرعی عمل ہے۔ کونسل نے بل کو جائزے کے لیے نہ بھیجے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ 12 سال سے کم عمر کی شادی کو چائلڈ ابیوز قرار دینا اسلامی احکام سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس وفاقی شرعی عدالت نے 2021 میں علی اظہر کیس میں کہا تھا کہ ریاست کا شادی کے لیے عمر کی حد مقرر کرنا شریعت کے احکامات کے منافی نہیں ہے اور بلوغت کے ساتھ ذہنی پختگی بھی ضروری ہے۔ فقہا بھی عقل، رضامندی اور مصلحت کو نکاح کی شرائط میں شامل کرتے ہیں۔ اسلامی اصول “لا ضرر ولا ضرار” اور مقاصد شریعت (حفظ نفس، حفظ عقل، حفظ نسل) کم عمری کی شادیوں کی ممانعت کی حمایت کرتے ہیں۔ عمر بن خطاب کے اجتہادی فیصلوں سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ سماجی مفادات کے لیے قوانین شریعت کے مطابق بنائے جا سکتے ہیں۔
آئینی و قانونی طور پر اگر وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کی آراء میں تضاد ہو تو وفاقی شرعی عدالت کی رائے کو فوقیت دی جائے گی، کیونکہ عدالت کے فیصلے کو ماننا دیگر اداروں پر لازم ہوتا ہے۔ اگر عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی تو توہینِ عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے، جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو نہ ماننے پر آئین یا قانون میں کوئی سزا مقرر نہیں۔
سماجی اور طبی نقطہ نظر سے کم عمری کی شادیاں لڑکیوں کی تعلیم، صحت اور معاشی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ ورلڈ بینک کے ماہرین کے مطابق، یہ شادیاں لڑکیوں کی بنیادی صحت، تعلیم اور فیصلہ سازی کے حق کو سلب کرتی ہیں جبکہ غربت اور اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر روز 27 مائیں اور 675 نوزائید بچے مرتے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ کم عمری کی شادیاں ہیں۔ پاکستان عالمی سطح پر چھٹے نمبر پر ہے جہاں یہ رجحان سب سے زیادہ ہے۔ ایک سروے کے مطابق، پاکستان میں 29% لڑکیوں کی شادی 18 سال سے پہلے ہو جاتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ ثانوی تعلیم کا ہر سال کم عمری کی شادیوں میں 5 فیصد کمی لاتا ہے۔
تاہم، کچھ دلائل یہ بھی ہیں کہ کم عمری کی شادیاں بعض خاندانوں کے لیے ضروری ہیں جیسے ضعیف العمر والدین جو اپنی بیٹیوں کی شادی جلد کرنا چاہتے ہیں یا مالی مشکلات کی وجہ سے شادی کو ترجیح دیتے ہیں۔ بھارت کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ حلقے کا موقف یہ بھی ہے کہ رضامندی کی عمر 16 سال اور شادی کی عمر 18 سال ہونی چاہیے۔ سعودی عرب، مصر اور ترکی نے بھی شادی کی عمر 18 سال مقرر کی، لیکن خصوصی کمیٹی کے ذریعے استثناء کی اجازت ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ یہ قانون زبردستی شادیوں، ونی، اور وٹہ سٹہ جیسی رسومات کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسے شریعت کے خلاف نہیں بنایا گیا اور اگر طریقہ کار میں کمی ہے تو رہنمائی لی جائے گی۔ تاہم قانون کا نفاذ دیہی علاقوں میں چیلنج ہے۔ عوام میں آگہی، علماء کی تربیت، اور سماجی اقدار کے ساتھ جدید تقاضوں کا امتزاج ضروری ہے۔ عدالتی فیصلے اور شریعت کے مقاصد اس قانون کی حمایت کرتے ہیں لیکن مذہبی حساسیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آخر میں ہمارا معاشرہ تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں قانون، مذہب اور سماجی اقدار کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔ کم عمری کی شادیوں کے خاتمے سے نہ صرف ہماری بچیوں کا مستقبل محفوظ ہوگا، بلکہ ایک ترقی یافتہ اور باوقار معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جائے گی۔ آئیے، اپنی بیٹیوں کو رخصتی سے پہلے علم، ہنر اور خوداعتمادی کا تحفہ دیں، تاکہ وہ نہ صرف اپنے گھروں کی زینت بنیں، بلکہ قوم کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔
