The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 4 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

یہ معاشرہ نہیں، قتل گاہ ہے – تحریر: نجیم شاہ

Posted on

یہ معاشرہ نہیں، قتل گاہ ہے – تحریر: نجیم شاہ

یہ قوم اب صرف زندہ ہے، باشعور نہیں۔ سانسیں چل رہی ہیں، لیکن سوچ مر چکی ہے۔ جذبات ہیں، مگر قابو نہیں۔ اور جب جذبات بے قابو ہو جائیں تو اِنسان درندہ بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں دو واقعات نے اس درندگی کو بے لباس کر کے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ ایک نوجوان کو کرکٹ کے میدان میں صرف اوور نہ دینے پر قتل کر دیا گیا، اور دُوسرے واقعے میں 30 روپے کے تنازعے پر دو بھائیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں، یہ وہ حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے کی رگوں میں زہر بن کر دوڑ رہی ہے۔ یہ وہ لمحۂ ہے جب انسانیت شرمندہ ہو جاتی ہے، اور ہم سب صرف تماشائی بنے رہتے ہیں۔

یہ قتل صرف جسموں کا نہیں، یہ قتل ہے عقل کا، شعور کا، برداشت کا۔ ایک اوور یا چند روپے کی خاطر جان لینا اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہم جذباتی نہیں، جذبات کے غلام بن چکے ہیں۔ ہم نے مکالمہ چھوڑ دیا، دلیل کو دفن کر دیا، اور برداشت کو گالی بنا دیا۔ اب بات نہیں ہوتی، گولی چلتی ہے۔ اب اختلاف نہیں ہوتا، انتقام ہوتا ہے۔ اور اِس انتقام کا نشانہ وہ بنتا ہے جو شاید صرف خاموشی اختیار کرتا ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں انا، ضد اور غصہ انسانیت سے بڑا ہو چکا ہے۔ جہاں دلیل کی جگہ دھمکی نے لے لی ہے، اور رحم کی جگہ نفرت لے چکی ہے۔

اِن واقعات کا ایک اور پہلو جو دِل کو چیر کر رکھ دیتا ہے، وہ ہے اِردگرد موجود لوگوں کا رویہ۔ کوئی آگے نہیں بڑھا، کوئی بیچ بچاؤ کرنے نہیں آیا، کوئی مظلوم کو بچانے کی ہمت نہیں کر سکا۔ سب نے موبائل نکالا، ویڈیو بنائی، اور پھر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی۔ یہ وہ لمحۂ ہے جب ہم سب قاتل بن جاتے ہیں، چاہے ہاتھ میں بندوق نہ ہو۔ خاموشی بھی جرم ہے، اور یہ جرم اب ہمارے خون میں شامل ہو چکا ہے۔ ہم صرف تماشائی ہیں، اور تماشائی ہمیشہ تاریخ کے کوڑے کھاتے ہیں۔

یہ عدم برداشت صرف سڑکوں پر نہیں، گھروں میں بھی ہے۔ والدین بچوں کو صبر نہیں سکھاتے، اُستاد طلبہ کو برداشت کا سبق نہیں دیتے، اور میڈیا صرف نفرت بیچتا ہے۔ ہر طرف غصہ، ہر طرف تناؤ، ہر طرف تصادم۔ ہم نے تربیت کو چھوڑ دیا، اور تربیت کے بغیر اِنسان صرف ایک خطرناک مخلوق بن جاتا ہے۔ قانون کمزور ہے، عدلیہ سست ہے، اور پولیس بے بس۔ جب نظام انصاف مر جائے تو لوگ خود ہی جج بن جاتے ہیں، اور پھر ہر اختلاف ایک جنازے میں بدل جاتا ہے۔

یہ سب کچھ صرف اِن دو واقعات تک محدود نہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ایسے سانحے ہو رہے ہیں، جنہیں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کبھی سڑک پر، کبھی بازار میں، کبھی اسکول میں، کبھی دفتر میں۔ ہر جگہ غصہ، ہر جگہ نفرت، ہر جگہ بے حسی۔ ہم نے اِنسانیت کو دفن کر دیا ہے، اور اب اس کی قبر پر تماشہ لگا رکھا ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو ظلم دیکھ کر خاموش رہتی ہے، اور پھر مظلوم کے مرنے پر افسوس کرتی ہے۔ یہ افسوس بے معنی ہے، کیونکہ یہ اصلاح نہیں، صرف دکھاوا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا کوئی اُمید باقی ہے؟ شاید ہے، لیکن بہت کم۔ اُمید تب پیدا ہوگی جب ہم اپنے اندر جھانکیں گے، جب ہم اپنے بچوں کو برداشت سکھائیں گے، جب ہم قانون کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کریں گے، جب ہم ویڈیو بنانے کے بجائے مظلوم کا ہاتھ تھامیں گے۔ یہ وہ لمحۂ ہوگا جب ہم انسان بنیں گے، صرف پاکستانی نہیں۔ ورنہ یہ عدم برداشت کا خونی انجام صرف خبروں تک محدود نہیں رہے گا، یہ ہمارے گھروں، گلیوں، اور دِلوں تک پہنچ جائے گا۔ اور پھر ہم بھی کسی کالم کا موضوع بن جائیں گے —مگر تب شاید کوئی پڑھنے والا بھی نہ ہو۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
113412