The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 31 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مشرقی آفق ۔ ۵ اگست یوم استحصال کشمیر ۔ میر افسر امان

بسم اللہ الرحیم الرحمان
مشرقی آفق ۔ ۵ اگست یوم استحصال کشمیر ۔ میر افسر امان

ہٹلر صفت اور دہشت گرد تنظیم راشرٹیہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا بنیادی ممبر، وزیر اعظم بھارت نریندر مودی نے ۵/اگست ۹۱۰۲ء کو غیر قانونی، غیر آئینی،غیر اخلاقی طور پر بھارتی آئین میں درج دفعہ ۰۷۳ کو بغیر کشمیرکی پارلیمنٹ کے مشورے کے یکسر سر ختم کر کے کشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ راجہ کے زمانے کا کشمیر میں پاس شدہ قانون، جس کو ہندوستان کے آئین میں درج کیا گیا ہے جس کی دفعہ ۷۳،اے ہے اسے بھی ختم کر دیا۔۰۷۳ دفعہ میں درج ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ہے۔ وہ اپنا آئین، اپنی پارلیمنٹ، اپنا جھنڈا، اپنی زبان کے تحت قائم ودائم رہ سکتی ہے۔ دفعہ ۷۳۔ اے میں طے گیا گیا تھا کہ کشمیری شہری وہ ہی کہلایا جائے گا جو کشمیر میں پیدا ہوا ہو۔

اسی کو شہریوں کے حقوق حاصل ہونگے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی بھارتی کشمیر کا شہری نہیں کہلایاجا سکتا۔ کوئی شخص کشمیر میں رہائش پذیر نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی شخص زمین نہیں خریدسکتا۔۵/ اگست کے بعد ۶ / اگست کو کشمیر پر ایک اور ظلم کیا۔ ری آرگنائزیشن کے نام پرایک ایکٹ منطور کر لیا۔ اس کے تحت جموں کشمیرکو دوحصوں (جموں کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کر لیا۔اس کے ساتھ کشمیر کے سارے امور پر بھارت نے قبضہ کر لیا۔کالے قانون کے اطلاق کے بعد بھارتی حکومت نے کشمیر میں بلیک لسٹ بھی متعارف کرائی۔ اس لسٹ میں صرف منتخب نیوز سائٹ شامل ہوتی ہیں۔ جس کا انتخاب وہی کرتے ہیں۔ جہاں کشمیریوں کا اس کے علاوہ باقی نیوز سائٹ تک رسائی نا ممکن بنا دی گئی۔یہ صرف کشمیر تک محدود نہیں بلکہ بھارت کے اپنے شہری اور اقلیت اور خا ص کر مسلمان بھی ان کے شکنجے میں بری طرح پس رہے ہیں۔ قومی رجسٹر برائے شہریت نے ایک طرح انہیں اپنا شہری ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ جو مسلمان صدیوں سے ہندوستان میں رہ رہے تھے۔

ان مودی ان سے رہائشی کاغذات مانگتا ہے۔ مسلمان کہتے ہیں لال قلعہ اورتاج محل ہمارے ثبوت ہیں۔ مسلمانوں سے زیادتی کرتے ہوئے متعصب مودی حکومت نے اس۰۷۳ اور ۵۳۔اے قانون کو ختم کرنے کا مقصد جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر کو دبانا ہے۔ کشمیر ہی کیا بھارت میں مودی کا بھارت کوہندتوابنانا اور مسلماوں کو بھارت سے نکالنا یاپھر ان کو اپنا مذہب تبدیل کر کے ہند بنانے پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکمران کہتے ہیں کہ فلاں سال تک تمام مسلمان ہندو ہو جائیں یا بھارت چھوڑ کر پاکستان چلے جائیں۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۴۱۰۲ ء میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتیوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت رجحان بہت برھ گیا ہے۔ مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز تقاریر کے ریکارڈ شدہ ۵۵۲ واقعات میں سے تقریباً ۰۸ فی صد بھارتیہ جنتا ارٹی(بی جے پی) کی زیر حکومت ریاستوں میں پیش آئے۔

اگرکشمیر کی بات کی جائے تو ہٹلر صفت مودی نے کشمیر میں جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر، مسلم لیگ، تحریک حریت، ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، دختران ملت اورمسلم کانفرنس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔اقوام متحدہ نے اپنے چارٹر کے آر ٹیکل(۱) میں حقِ خود اداریت سے لوگوں کو اپنا مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دے رکھا ہے۔مگر صرف قانون سے بات نہیں بنتی۔ عالمی برادری جو اس وقت پاور میں ہے وہ مسلمانوں کے خلاف تعصب برت رہی ہے۔ تیمور میں اور سوڈان میں عیسائیوں نے آزادی مانگی تو فورناً انہیں آزادی دے کر آزاد مملکتیں تسلیم کر کے اقوام متحدہ کا ممبر بنا لیا۔ مگر مسلمانوں کے دو مسئلے کشمیر اور فلسطین برسوں سے حل نہیں کر رہے۔ پاکستان اور بھارت دو ملک ایک تقسیم کے فارمولے کہ جہاں مسلمان زیادہ ہیں پاکستان اور جہاں ہندو زیادہیں وہاں بھارت بنے گا۔ریاستوں کواجازت دی گئی اپنی آزاد رائے سے جس کے ساتھ شریک ہونا چاہتی ہیں شریک ہو جائیں۔

کشمیر مسلم کانفرنس نے پاکستان بننے سے پہلے پاکستان میں شریک ہونے کی قرارداد اپنے اجلاس میں پاس کی۔مگر بھارت نے کشمیر میں فوجیں اُتار کر قبضہ کر لیا۔ پاکستان نے موجود جموں و کشمیر کو تین سومیل لمبا اور تیس میل چوڑا علاقہ بزرو قوت آزاد کرایا۔گلگت و بلتستان کوبھی مقامی مجاہدین نے آزاد کرایا۔پاکستان کی فوجیں سری نگر فتح کرنے والی تھیں کی بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم پنڈنت جواہر لال نہرو اقوام متحدہ گئے۔ جنگ بندی کی درخواست دی۔ اور وعدہ کیا کہ جموں کشمیر کے عوام کو امن قائم ہونے کے بعد آزادی رائے سے پاکستان یا بھارت کے ساتھ شامل ہونے کا موقعہ دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ نے کشمیر کے دونوں طرف اپنی فوج تعینات کی۔ کئی قرارادیں پاس کیں کہ کشمیریوں کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کریں۔ مگر بھارت کے حکمران اپنے وعدے سے مکر گئے۔ یہ دن اور وہ دن کشمیر ظلم و ستم کی چکی میں پس رہا ہے۔۹ لاکھ بھارتی فوج اب بھی کشمیریوں کو زبردستی غلام بنانے کے لیے تعینات ہے۔

پاکستان بھارت کی کئی جنگیں کشمیر کے مسئلہ پر ہو چکیں ہیں۔مئی۵۲۰۲ء کی تازہ جنگ بھی کشمیر ہی کی وجہ سے ہوئی جس میں بھارت نے منہ کی کھائی۔ اتنی فوج دنیا کے کسی بھی معاذ کبھی بھی نہیں لگائی گئی۔ ہاں کشمیریوں کو غلام بنانے کے لیے اب بھی ۹ لاکھ فوج کشمیر میں تعینات ہے۔ جب بھارت کشمیریوں کو فوجی قوت سے بھی رام نہیں کر سکا۔تو اب قانونی حربے استعمال کیے ہیں۔بھارت کے لوگوں کو کشمیر میں آباد ہونے کی کھلی چھٹی دے دے ہے۔ بھارتی کہتے ہیں اب ہم کشمیر کی گوری لڑکیو ں کوبیاہ کر لائیں گے۔ کشمیر میں زمین خریدیں گے۔ یہ سلسلہ چھ سالوں سے شروع ہے۔ اس طرح بھارت کا ہٹلر صفت مودی کشمیر میں مسلمانوں کی آباد کم کر کے ہندوؤں کی آبادی زیادہ کر کہے گا اب رائے شماری کر لو۔مگر ایک تدبیر یہ دنیا کی شیطان کرتے ہیں اور ایک تدبیر اللہ کے ہاں ہو ر ی ہوتی ہے۔ اللہ کے ہاں دیرہے اندھیر نہیں۔

کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کی قربانی دی۔ہزاروں نوجوانوں نے اپنی جوانیاں کشمیر پر قربان کیں۔ ہزاروں کشمیرنوجونوں کے قید کے دوران زریلی خوراک دے کرہڈیوں کا پنجرا بنا کر معاشرے میں چھوڑا، کہ باقی نوجوان عبرت پکڑیں اور بھارت سے آزادی نہ مانگیں۔ہزاروں عزت ما آب کشمیری خواتین کی بھارتی درندہ صفت فوجیوں نے اجتماعی آبروزی کی۔مسلمان کے مسجدوں کومسمارکر دیا گیا۔مزاروں پر بلڈوزر چلا دیے۔ ان کے کھیت کھلیان کو تباہ وبرباد کر دیاگیا۔ ان کی کالج کی بچوں کے چوٹیاں کاٹی گئیں۔ آزادی مانگنے والے کشمیریوں نوجوانوں کو بھارتی درندہ صفت فوجیوں نے اپنی فوجی جیپ کے بونٹ پرباندھتے ہیں کہ جو کشمیری نفرت سے فوجیوں پرپتھر ماریں وہ اس کشمیری نوجوا ن کو لگیں۔چھرے والی بندوقوں سے ہزاروں کشمیریوں کی بینائی چھین لی گئی۔کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کیا۔

ہرروز کے محاصروں سے کشمیریوں پر زیادتیاں کی گئیں۔لیکن کشمیری اپنے لیڈر مرحوم سید علی گیلانی ؒکا دیا ہوا مشہور نعرہ ”ہم پاکستانی ہیں۔ پاکستان ہمارا ہے۔ لگاتے رہتے ہیں۔ درندہ صفت بھارتی فوج کشمیریوں نوجوانوں کو قید سے نکال کر جھوٹے ان کاؤنٹرر میں شہید کر کے ویرانے میں پھینک دیتے ہیں۔ کشمیری اپنی شہیدوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفناتے ہیں۔کشمیری نعرے لگاتے ہیں بھارتی کتوں کشمیر سے نکل جاؤ کشمیر ہمارا ہے۔ پاکستان کے یوم آزادی کیساتھ کشمیری بھی یوم آزادی مناتے ہیں بھارت کے یوم آزادی کے دن یوم سیاہ مناتے ہیں۔

اتنی قربانیوں کے بعدبھی کیا اللہ کشمیریوں کی مدد نہیں کرے گا؟ کیوں نہیں ضرور کرے گا۔ان شاء اللہ کشمیر آزاد ہو گا۔ تکمیل پاکستان ہو گا۔مگر یہ اس وقت ہو گا۔ جب مسلمان اللہ کے بندے بنیں گے۔ جہاد کا فرض ادا کریں گے۔ پہلے بھی کشمیر جہاد سے ہی آزاد ہوا تھا۔ اب بھی جہاد سے ہی آزاد ہو گا۔ کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے پاکستانی اور ساری دنیا کے مسلمان ۵ /اگست کو یوم استحصال منا کر بھارت پر دباؤ بھی برقرار رکھیں گے۔ ان شاء اللہ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
112515

 کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طوراپر اور لویر چترال میں یوم استحصال کشمیر منایا گیا

 کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طوراپر اور لویر چترال میں یوم استحصال کشمیر منایا گیا

چترال ( چترال ٹایمزرپورٹ ) ملک کے دوسرے حصوں کی طرح اپر اور لویر چترال میں بھی یوم  استحصال کشمیر کے حوالے سے ریلی اور پروگرام کا انعقاد کیا گیا،  اس سلسلے میں  گورنمنٹ ہائی سکول بونی اپر چترال میں ضلعی انتظامیہ اپر چترال اور محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر یوم استحصال کشمیر منایا گیا۔

اس  پروگرام کے مہمان خصوصی شاہ عدنان اسسٹنٹ کمشنر مستوج تھے جبکہ صدارت کا منصب مقدس خان ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر میل اپر چترال نے سنبھالا تھا۔

ان کے علاوہ محکمہ ایجوکیشن کے افیسران، سکول ہذا کے پرنسپل، ٹیچرز اور سٹوڈنٹس نے پروگرام میں بھرپور شرکت کی۔تلاوت قرآن پاک کےساتھ حمد باری تعالیٰ اور نعت شریف پیش کئے گئے۔مقریرین نے اج کے دن کی مناسبت سے تقاریر پیش کئے۔
مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر نے اپنے خطاب میں کشمیر میں ہندو سامراج کے نہتے کشمیریوں کے ساتھ جبرو سختی اور تعصبانہ رویے کی بھرپور مخالفت کی اور اقوام متحدہ سے بھارتی جارحیت کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کشمیریوں مسلمانوں کی سفارتی ، اخلاقی اور سیاسی حمایت کا بھرپور اعادہ کیا ۔
اخر میں کشمیروں کی آزادی اور ہندو سامراج کے مظالم سے نجات کے لئے دعا کی گئی۔پروگرام کے بعد شراکاء نے گورنمنٹ ہائی سکول بونی سے بونی چوک تک ریلی نکالی اور بھارتی جارحیت اور مظالم کے خلاف نعرے لگائے۔

اسی طرح لویر چترال میں بھی ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ہندوستانی حکومت کے غاصبانہ قبضے اور ظالمانہ اقدامات کے خلاف مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یوم استحصال ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں اے سی یو ٹی خلیل اللہ,انتظامی افسران ,طلباء اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی
شرکاء نے بھارتی سرکار کے پانچ اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر آئینی اقدامات کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے، کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ولولہ انگیز نعرے لگائے ۔ شرکاء نے پاکستانی و کشمیری پرچم لہرا کر مقبوضہ کشمیر کے لوگوں سے یکجہتی اظہار کیا۔ شرکاء نے اپنے خطاب میں کشمیری مسلمانون پر جاری بھارتی ظلم اور بربریت کی شدیت الفاظ میں مزمت کی۔ ریلی کے اختتام پر کشمیر کی ازادی اور پاکستان کی بقا و سلامتی کے لیۓ خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔

دریں اثنا جامعہ چترال میں   وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ کی خصوصی ہدایت پر یوم استحصال کشمیر منایا گیا ۔ اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور 5 اگست 2019 کو بھارتی فورسز کے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا

جامعہ چترال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے تقریب کے شرکاء کے ہمراہ ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد واک کی قیادت کی اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ تقریب کے دوران اپنے خطاب میں، انہوں نے بھارتی افواج کے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضے اور بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کی شدید مذمت کی، جو خطے کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک اہم آئینی شق تھی۔

واک کا مقصد بھارتی افواج کے مظالم کو اجاگر کرنا اور حق خود ارادیت کے لیے جاری جدوجہد کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔ شرکاء نے کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا اور عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔

chitraltimes kashmir slidarity day upper 2 chitraltimes kashmir slidarity day upper 3 chitraltimes kashmir slidarity day upper 4 chitraltimes yome istehsal kashmir chitral2 chitraltimes yome istehsal kashmir chitral

chitraltimes yome istehsal kashmir chitral university of chitral2 chitraltimes yome istehsal kashmir chitral university of chitral

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
77577

یوم استحصال کشمیر پر گورنر حاجی غلام علی کی قیادت میں وزیر اعلٰی ہاؤس سے گورنر ہاؤس تک واک کا انعقاد

Posted on

یوم استحصال کشمیر پر گورنر حاجی غلام علی کی قیادت میں وزیر اعلٰی ہاؤس سے گورنر ہاؤس تک واک کا انعقاد

نگران صوبائی وزراء حاجی منظورآفریدی، حامد شاہ،مقامی حریت رہنما، ڈی سی پشاور شاہ فہد،سرکاری حکام، طلبہ، سول و سماجی شخصیات کی شرکت

 عالمی مسئلہ کشمیر کے حل کئے بغیر خطہ میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں، حاجی غلام علی

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کی قیادت میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے ہفتہ کے روز وزیراعلٰی ہاؤس سے گورنر ہاؤس تک واک کا انعقاد کیا گیا. واک میں نگران صوبائی وزراء حاجی منظورآفریدی، حامد شاہ،مقامی حریت رہنما، ڈی سی پشاور شاہ فہد،سرکاری حکام، طلبہ، سول و سماجی شخصیات نے شرکت کی. واک کے شرکاء نے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور مودی حکومت کے کشمیری عوام پر مظالم کیخلاف نعرے بازی کی. شرکاء کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے لاک ڈاﺅن، غاصبانہ قبضہ کی شدید مذمت بھی کی گئ.

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مطلوم عوام کئی دہائیوں سے بھارتی جبر و مظالم کا شکار ہیں. دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سفارتی حمایت جاری رکھیں گے. انہوں نے کہ 5 اگست کو مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے ظلم کی ایک نئی داستان رقم کی. گورنر نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام پر جاری مظالم کا نوٹس لیں. انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے. انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں جاری ہیں جو انسانی حقوق کے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں گورنر نے واضح کیا کہ عالمی مسئلہ کشمیر کے حل کئے بغیر پاک بھارت تعلقات میں بہتری نہیں آ سکتی اور نہ ہی خطہ میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہے. انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق عالمی مسئلہ کشمیر فوری حل ہونا چاہئے اور کشمیری عوام کو حق خودارادیت ملنا چاہئے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
77572