The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

یومِ امامت اور عزمِ صمیم – تحریر: سردار علی سردارؔ

Posted on

یومِ امامت اور عزمِ صمیم – تحریر: سردار علی سردارؔ

4 فروری 2025ء کا دن عالمِ اسماعیلیت کے لیے مسرت، امن و آشتی، رحمت اور محبت کی نوید لے کر طلوع ہوا، کیونکہ اسی روز شہزادہ رحیم الحسینی اپنے والدِ بزرگوار پرنس کریم آغا خان کے وصال کے بعد، اُن کی وصیت کے مطابق، آغا خان پنجم کی حیثیت سے مسندِ امامت پر فائز ہوئے۔ یہ دن نہ صرف تاریخِ امامت کا ایک اہم سنگِ میل ہے بلکہ اہلِ ایمان کے لیے اتحاد، امید اور روشن مستقبل کی علامت بھی ہے۔ 5 فروری 2025ء کو دیوانِ امامت، لزبن میں شام و عشاء کی دعا کے بعد دنیا بھر سے تشریف لانے والی جماعتی قیادت کے سامنے شہزادہ کریم آغاخان کا وصیت نامہ پڑھ کر سنایا گیا۔ اس وصیت نامے میں آپ نے تحریر فرمایا تھا:

“میں اس وصیت نامہ کے ذریعے اپنے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ رحیم آغاخان کو اپنی وفات پر تمام شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کا امام اور پیر مقرر کرتا ہوں، اس طرح وہ میرے بعد پچاسویں امام کی حیثیت سے اور آغاخان کے لقب سے میرا جانشین ہوگا ۔۔۔”

شہزادہ رحیم آغا خان نے اپنے والدِ گرامی کی آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد 11 فروری 2025ء کو دیوانِ امامت، لزبن میں جماعتی قیادت کی موجودگی میں باقاعدہ طور پر تختِ امامت سنبھالا اور اپنی جماعت سے بیعت لی، جبکہ جماعت کی جانب سے روایتی تحائف پیش کیے گئے۔ اس موقع پر آپ نے بحیثیتِ امام اپنی جماعت سے پہلا اور طویل فرمان ارشاد فرمایا۔ اس تاریخی فرمان میں آپ نے بالخصوص اسماعیلی طریقۂ دین کے بنیادی عقائد، یعنی توحید، نبوت اور تسلسلِ امامت کا ذکر فرمایا، نیز اسلامی اخلاقیات سمیت متعدد اہم موضوعات پر اپنے افکار کا اظہار کیا اور اپنے والدِ گرامی کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا۔ آج دنیا بھر کی اسماعیلی جماعت پہلی مرتبہ اپنے محبوب امام، شہزادہ رحیم الحسینی کی یومِ امامت کو دینی و دنیوی دونوں پہلوؤں سے عقیدت، مسرت اور جوش و خروش کے ساتھ منا رہی ہے۔

چنانچہ پورے وثوق کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہزادہ رحیم الحسینی آغاخان اپنے والدِ گرامی کی وصیت اور منشا کے عین مطابق ملتِ اسلامیہ اور اسماعیلی جماعت کی فلاح و بہبود، دینی فکر کی ترویج و اشاعت، اور اس کے کاموں کے تسلسل و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے منصبِ امامت پر فائز ہونے کے بعد تا حال پوری دیانت، بصیرت اور اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا فرما رہے ہیں۔

اس حقیقت کا واضح ثبوت عالمِ اسلام کے لیے شہزادہ رحیم آغاخان کا ہمہ گیر نظریۂ حیات، حسین اور بامقصد وژن، اور بدلتے ہوئے عالمی حالات اور سائنسی انقلابات کے تقاضوں کے مطابق فراہم کی جانے والی رہنمائی ہے۔ یہ رہنمائی نہ صرف اپنی جماعت اور امتِ مسلمہ تک محدود ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ آپ کے والدِ گرامی شہزادہ کریم آغا خان ایک خاموش انقلاب کے روحانی قائد تھے۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی پوری حیات وقف کر دی۔ ان کا فکر و عمل نسل، ذات پات اور قومیت کی تمام حد بندیوں سے ماورا تھا۔ معاشرے سے غربت، جہالت، افلاس اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے انہوں نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کی صورت میں ایک وسیع اور مؤثر نظام قائم کیا، جس کے ذریعے پاکستان کے دیہی علاقوں، خصوصاً شمالی علاقہ جات اور چترال میں متعدد ترقیاتی منصوبے متعارف کرائے گئے۔ ان منصوبوں کے مثبت اور دیرپا نتائج آج ان علاقوں کی مجموعی ترقی کی صورت میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

پرنس کریم آغا خان چہارم کا یہ پختہ ارادہ اور عزمِ صمیم تھا کہ ان کا جانشین بھی انہی اعلیٰ صفات کا حامل ہو اور اپنے پیش رو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عالمِ انسانیت، بالخصوص عالمِ اسلام کی بہتر خدمت انجام دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور ارشادات پر عملی طور پر عمل کر کے دکھایا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ:
اَمِرْتُ لِصَلَاحِ دُنْیَاکُمْ وَنَجَاتِ آخِرَتِکُمْ۔
ترجمہ: مجھے تمہارے دنیاوی معاملات کی اصلاح کرنے اور آخرت میں نجات کا حکم دیا گیا ہے۔”
اسی تعلیم کی روشنی میں آپ نے ایک کامیاب اور بامقصد زندگی بسر کی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین وژن، اعلیٰ سوچ، گہری فکر اور ایک عظیم وراثت چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ شہزادہ رحیم الحسینی اپنے پدرِ بزرگوار کی وصیت اور وژن کے عین مطابق جب سے منصبِ امامت پر فائز ہوئے ہیں، اپنی بصیرت افروز قیادت کے ذریعے اپنے پیش رو کے مشن کو آگے بڑھانے میں مصروفِ عمل ہیں۔

شہزادہ رحیم آغا خان اپنے والدِ گرامی کی چھوڑی ہوئی میراث کو فروغ دینے میں شب و روز کوشاں ہیں، جس میں تعلیم، صحت، معیشت، ثقافت، ماحولیات اور قیامِ امن جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ جب آپ نے امامت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو سب سے پہلے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ “دنیا مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ نئی زبانیں اور نئے ہنر سیکھیں تاکہ مستقبل کے لیے بہتر فیصلے کر سکیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ معذور افراد اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھیں اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنائیں۔ دین اور دنیا کے درمیان توازن قائم کریں اور ایک کی خاطر دوسرے کو ترک نہ کریں”۔ یہی وہ زرّیں اصول ہیں جنہیں پرنس رحیم آغا خان اپنے والدِ بزرگوار شاہ کریم کے وژن کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں۔
یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ دوراندیشی، فیاضی، رواداری، امن، محبت، عاجزی اور احترامِ انسانیت جیسی اعلیٰ اقدار آپ کو ورثے میں ملی ہیں۔ اسی بنا پر آپ کے پیروکار بھی آپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے ہنر، قابلیت اور صلاحیت کو بروئے کار لا کر بلا تفریقِ مذہب، رنگ و نسل، زبان اور علاقے، انسانیت کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں تاکہ انہیں اپنے امامِ وقت کی دعائیں اور خوشنودی حاصل ہو۔ خواجہ پیر مشفقِ یارقندی نے کیا خوب فرمایا ہے:
ہر کرا حبِّ تو باشد در وجودِ آدمی
کئی بود پروائے سیم و طالبِ زر یا امام

ترجمہ: یا امام! جس انسان کے دل میں آپ کی محبت راسخ ہو جائے، اسے سونے چاندی اور دولت کی طلب کی کوئی فکر باقی نہیں رہتی۔”
اسماعیلی مسلک کی ایک منفرد خوبی یہ ہے کہ ایک امام کے بعد دوسرا امام ہمیشہ حاضر و موجود ہوتا ہے اور اپنے مریدوں کو دینی اور دنیوی دونوں معاملات میں ہدایات اور رہنمائی فراہم کرتا رہتا ہے۔ اسماعیلی جماعت کا امامِ زمان صرف زبانی ہدایات ہی نہیں دیتا بلکہ عملی طور پر بھی جماعتی اور امامت کے وسیع اداروں کے ذریعے اپنی جماعت کی معاونت کرتا ہے۔

آج جب اسماعیلی جماعت اپنے پچاسویں امام، شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کی یومِ امامت پہلی مرتبہ منا رہی ہے تو وہ اپنے سابق امام شاہ کریم کی امامت اور عالمِ انسانیت کے لیے ان کی بے لوث خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، اور ساتھ ہی اپنے حاضر و موجود امام کے ساتھ عہدِ وفاداری کی تجدید بھی کرتی ہے۔ کیا خوب فرمایا کسی شاعر نے:
گفتار میں کردار میں ہوجائے یگانہ
تا درسِ عمل تم سے ہی لے اہلِ زمانہ

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
117812