یارخون کے عوام کا غلط احتجاج ۔ تحریر: اسد الرحمن بیگ
یارخون کے عوام کا غلط احتجاج ۔ تحریر: اسد الرحمن بیگ
چترال یارخون کے عوام کا مستوج بروغل روڈ بنانے کا مطالبہ، سیاسی وعدوں پر اعتبار، اور اس حوالے سے جلسہ جلوس کے ارادوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں لگتا ہے کہ چترال شندور روڈ، تورکہو روڈ، پہلے والا بونی مستوج روڈ پر کام اپنے اعلیٰ معیار کے مطابق بلا تاخیر تکمیل ہو چکا ہے۔ اور اب یارخون بروغل روڈ کی باری ہے۔ حالانکہ پورے اپر چترال کا بنیادی سڑک یہی شندور روڈ ہے۔ اگر ہڑتالیں اور احتجاج کرنا ہے تو پہلے اسکا حق بنتا ہے۔ اور اسکی سب کو اشد ضرورت ہے۔ یقیناً کچھ شاطر کچھ نا اہل سیاسی شخصیات اور نئے لیڈر بن جانے کے شوقین حضرات نے عوام کو ان کا صحیح راستہ دیکھانے کے بجائے غیر ضروری یا غیر ترجیحی احتجاج و جلوس پر اکسا رہے ہیں۔ اگرچہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اس کے لیے فنڈز مختص کرنے کے لیے کاروائی و کوشش کی ہے لیکن تحریک انصاف کو چاہیے کہ پہلے اپنے ادھورے چھوڑے ہوے بنیادی سڑک کی طرف توجہ دے۔ جس پر چلنے والے عوام کے گلے شکوں اور دوھائیوں سے وہ قطعی بے خبر نہیں۔

چترال میں ابھی ایک اور نئے منفی رجحان سامنے ایا ہیکہ کسی شخص نے ابھی مائیک پر چند جملے کہے نہیں ہوتے کہ اُدھر سوشل میڈیا پر اسے ’’اعظم لیڈر‘‘ کہہ کر آسمان پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ اور تعریفوں کے تانتے باندھ دیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں یہ سب رشتہ داری، قوم پرستی اور اقربہ پروری کو تقویت دینے کے لفظی حربے ہوتے ہیں۔ ایسے فقرے مشکلات اور بھی بڑھا دیتے ہیں۔
چند مہینے پہلے تورکہو روڈ کے حوالے سے یہی تماشا موجودہ منظرنامے پر دیکھنے کو ملا۔ کئی سالوں کی بدترین طوالت، ناقص حکمت عملی اور کرپشن کے خلاف عوام کو سخت محنت کے بعد احتجاج پر نکالا گیا۔ سڑکوں پر لایا گیا، نعرے لگائے گئے، جذبات ابھارے گئے، اور شام ڈھلتے ہی انہی لیڈروں کی تعریفوں کے ڈھول بجنے لگے۔ پھر چند دن بعد ڈمپر اور ٹرکٹر کی تصاویر ڈال کر یہ شور مچایا گیا کہ ’’تورکہو روڈ کی بلیک ٹاپنگ زور و شور سے شروع ہوگئی ہے۔‘‘
مگر جب مجھے حالیہ دنوں تورکہو جانے کا موقع ملا تو حقیقت بلکل اس کے برعکس تھا۔ وہی پرانی عذاب بھری سڑک دور گاؤں تک جوں کی توں موجود تھی۔ جس حصے پر نیا متبادل راستہ استارو کے مقام تک بنایا گیا تھا، وہ پرانی سڑک سے بھی زیادہ دشوار گزار نکلا۔ سردیوں کے دنوں میں گاڑی چلانے کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ اندرونِ تورکہو میں ترکول کے بدترین باریک پیوند ڈال کر عوام کو دھوکا دیا گیا، اور کئی جگہوں پر ادھورے پتھر بچھا کر راستہ مزید کٹھن بنا دیا گیا تھا۔
یہ سب دیکھ کر سوال یہ اٹھتا ہیکہ کیا ایسے لوگ لیڈر شپ کے قابل ہو سکتے ہیں؟ اتنی بڑی تعداد میں عوام کو احتجاج پر لانے کے بعد انہوں نے عوام کو کیا دینے میں کامیاب ہوئے؟ اگر چند دن کا دھرنا مزید جاری رہتا تو کوئی بھی مشکل مطالبہ منوایا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسے مطالبات کوئی با شعور لیڈر ہی منوا سکتا ہے۔ جو چترال میں کہیں بھی موجود نہیں۔ پاکستانی عوام ہمیشہ قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں، لیکن دھوکہ ہمیشہ کرپٹ اور نااہل لیڈر ہی دیتے ہیں۔
ایسے نااہل لیڈر قومی مفاد کے لیے زہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس کا ثبوت ان لیڈروں کے ہوتے ہوے جگہ جگہ ادھورے اور نا مکمل چھوڑے ہوے سڑکوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں، کیونکہ ایسے لوگ عین نازک وقت میں عوام کا سودا کر دیتے ہیں۔ اور اگر یہ آزاد تھے تو پھر ان کی حکمت عملی کھوکلا ثابت ہوئی۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ چترال کا کوئی بھی سیاسی لیڈر عوام کو کامیاب منصوبہ نہیں دے سکتا۔ وہ اپنی ذاتی مفادات اور پارٹی سے نکالے جانے کے خوف کے ہاتھوں مجبور ہے۔ جو شخص سیاست میں صرف سستی شہرت، پارٹی ٹکٹ اور انتخابی لڑائی میں ایک بار کامیابی کے خواب کے لیے آتا ہے، وہ کبھی عوام کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔
کامیاب قوموں کے سیاست دان شہرت یا دولت کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد اور ظلم کے خلاف لڑنے کے جذبے سے سیاست میں آتے ہیں۔ شہرت انہیں بعد میں ملتی ہے۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔ یہاں کوئی ابھی تقریر کے لیے مائیک پر آتا بھی نہیں کہ اس کے رشتہ دار اور رفقاء سوشل میڈیا پر اسے ’’مہان، مخلص اور قابل‘‘ لیڈر بنا کر پیش کرنے لگتے ہیں۔ یہی تعریفیں دراصل منافقت کی جڑ ہیں۔
چترال ٹو شندور روڈ کئی سالوں سے ادھورا پڑا ہے اور بدترین کرپشن کا شکار ہے۔ ابھی بھی اسفال بچھانے کے نام پر عوام کو بیقوف بنانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے۔ یہ وہ روڈ ہے جو پورے چترال، خصوصاً اپر چترال کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اس کی تکمیل کے لیے اواز بلند کرنے، معیار کی دھجیاں اڑانے پر انگلی دیکھانے، بے جا تاخیر پر اعتراض کرنے کے بجائے آج عوام یرخون روڈ کا مطالبہ کر رہے ہیں سیاست دان اعلانات کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہی روڈ یرخون روڈ ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ سیاست دان چترال ٹو شندور روڈ جیسا بنیادی منصوبہ مکمل نہیں کر سکے، تو یرخون روڈ خاک بنا پائیں گے؟ یہ ان کے جھوٹے اعلانات اور کھوکھلے وعدوں کی اصل حقیقت ہے۔ لیکن افسوس اس عوام پر جو ان کے نا اہل ہاتھوں بڑی اسانی سے کٹھ پُتلی بنی بیٹھی ہے۔
چترال میں عوام کو بار بار ادھورے منصوبوں کے عذاب میں دھکیلا گیا ہے تورکہو روڈ، بونی ٹو مستوج روڈ، اور اب چترال ٹو شندور روڈ سب اس کی مثالیں ہیں۔ اب یرخون کے لوگ ایک اور ادھورے منصوبے کی بنیاد ان کے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہمیں ایک انسان ہونے کی حیثیت سے اتنا شعور تو رکھنا چاہیے کہ آئندہ چترال میں پھر کوئی ایسا ادھورا منصوبہ شروع نہ ہو۔ اگر واقعی کوئی لیڈر ایسا دعویٰ کرتا ہے تو اسے پابند بنا دیا جاے کہ
منصوبے کی مکمل تکمیل تک بلا تعطل کام کی ضمانت دے۔ معیار پر سمجھوتہ نہ کرے۔ دن رات کام جاری رکھے۔
ورنہ یہ سب سیاست چمکانے کے حربے ہیں۔ اگر آئندہ کسی منصوبے کا اعلان کیا بھی جائے تو وہ صرف اس صورت میں ہو کہ اسے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کیا جائے، تاکہ کرپٹ ٹھیکیدار عوام کی زندگیوں کو مزید عذاب نہ بنائیں۔
چترال کے عوام کو ہر تقریر اور ہر اعلان پر خوشی کے نعرے نہیں لگانے چائیے، بلکہ عملی نتائج کے تقاضے پر زور دینا چائیے؟ ہمیں جھوٹے لیڈروں کے بیانات کے بجائے ان سے جواب طلب کرنا چائیے۔ ورنہ یہ ادھورے منصوبے ہمیشہ ہماری زندگیوں کو اذیت ناک بناتے رہیں گے۔
نوٹ : ادارے کا مراسلہ کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں!
