The Voice of Chitral since 2004
Friday, 5 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ ہیرو ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ ہیرو ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

شدید موسم گرما کے بعد جب سورج نے خوب اہل زمین پر قہر توڑ لیا انسانوں کے ساتھ چرند پرند ہر ذی روح نے مدد مدد پکارتے ہوئے خدا سے بارش کی مانگ کی تو خدا ئے رحیم کریم کو دھرتی کے باسیوں پر ترس آہی گیا صبح چھٹی کا دن تھا ساری رات بارش خوب چھم چھم برسی موسلا دھار بارش کا سلسلہ دن چڑھے بھی زورو شور سے جاری تھا باقی لوگوں کی طرح میں بھی گرمی کا ستایا ہوا تھا آسمان پانی کے بادلوں سے بھرا ہوا تھا سیاہ سرمئی بادلوں نے آسمان کو ڈھک دیا تھا رات بھر کی تیز بارش کی وجہ سے درجہ حرارت گرمی سے خوشگوار زو ن میں داخل ہو چکا تھا بارش تھوڑی سست لیکن تیز ہوا ئیں اپنے جوبن پر تھیں کیونکہ ساری رات بارش ہوئی تھی اِس لیے گردوغبار کانام و نشان تک نہ تھا آندھی نما ہوا کے جھونکے مشام جان کو خو شگوار ٹھنڈک سے بھر پور زیست آفرین سرور آمیز کیفیت سے دوچار کر رہے تھے آسمان پر آوارہ بادلوں کی دھمال آوارہ بادلوں کے غول در غول فضا میں تیرتے نظر آرہے تھے کیونکہ ہوا خوشگوار ٹھنڈی ہو چکی تھی

میں نے آنکھیں بند کر کے آسمان کی طرف منہ کر کے لمبے لمبے کیف انگیز سانس اپنے پھیپھڑوں میں بھرنے شروع کر دئیے تسنیم صبح کے تازہ خوشگوار ہوا کے جھونکوں نے پھیپھڑوں کے ساتھ جسم و جان کو نئی تازگی سے ہم آہنگ کر ناشروع کر دیا میں زیادہ سے زیادہ تازہ صاف ہوا کو اپنے قلب و جان کا حصہ بنانا چاہتا تھا میں گھر کے برآمدے میں کھڑا لمبے لمبے سانس لے رہا تھا میرے سامنے جامن مالٹے کے درخت تیز ہواں کے دوش پر مست ہاتھیوں کی طرح دھمال ڈال رہے تھے رات بھر کی بارش کے بعد درختوں کے پتے سر سبز شاداب ہو کر تالیاں بجا کر مون سون کی ہواں کا استقبال کر رہے تھے بلند و بالا درختوں کے پتے گلاب اور موتیوں کے پودے بھی تازگی اور شادابی کا پیر ہن بن کر اپنی خوشی کا بھرپور اظہار کر رہے تھے بارش کے مزاج میں نشیب و فراز تھے اچانک تیز ہوتی تو لگتا آسمان نے کوئی پانی کے لاکھوں ڈول بھر بھر کر زمین کی طرف پھینک رہا ہے پھر بارش سست ہو تی تو بارش کے ننھے منے قطرے سفید موتیوں کی طرح تیز ہوا کے دوش پر زمین کی طرف رقص کرتے نظر آتے ہیں

میں طویل سانسوں کے عمل میں مصروف تھا اِسی دوران شریک حیات خاموشی سے شیشے کے جگ میں املی آلو بخارہ اور فالسے کا شربت بنا کر رکھ گئی شیشے کے جگ میں گلابی سرخ جوس دیکھ کر کیف و سرور کا نیا احساس جاگا میں آرام دہ کرسی پر بیٹھ گیا شیشے کے گلاس کو جوس سے بھرا اور رات بھر کے پیاسے لبوں کو شیریں جوس سے تر کر کے املی آلو بخارے کے ساتھ فالسے نے حشر سا برپا کر دیا تھا میں خوب سرور سے اپنے گلے کو منفرد ذائقے سے تر کرنے لگا ایک گلاس کے بعد دوسرا گلاس شروع کیا تو گرمی کے مارے جسم نے شکریئے کے احساس کے ساتھ نئی دنیا سے روشناس کرانا شروع کر دیا میں مشروب فرحت قطرہ قطرہ نوش کر رہا تھا اِس طرح خوشگوار موسم اور مون سون کی برسات سے بھی لطف اندوز ہو رہا تھا کہ دروازے پر آکر کسی نے دستک دی میں اِس ٹارچر کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھا بادل نخواستہ دروازے کی طرف جا کر دروازہ کھولا باہر ہلکی ہلکی بوندا باندی میں ایک چھوٹے قد کے بوڑھے کے ساتھ ایک طویل قامت خوبصورت بیٹا کھڑے تھے مجھے دیکھتے ہی داڑھی والے بزرگ نے بے تکلفی سے میرا نام اور کہا آپ نے یقینا مجھے نہیں پہچانا کیونکہ میں بہت سالوں کے بعد آپ سے ملنے آیا ہوں

بولا تو آشنائی کا احساس میرے دماغ کو روشن کر گیا میں بے ساختی بولا او چھوٹو یہ تم ہو اِسی دوران پیچھے ہٹ کر بولا آ یار تم بہت دنوں بعد آئے ہو ہم آکر برآمدے میں بیٹھ گئے تو ہمیشہ کی طرح چھوٹو سینہ تان کر بولا جناب آخر کار میں چھوٹو سے بڑا ہو گیا ہوں پروفیسر صاحب آپ مجھے کہا کر تے تھے ہیرو بننے لیے قد کی نہیں جذبے جنون کی ضرورت ہوتی ہے بڑے کام کی ضرورت جہاں پر قد شکل و صورت بے معنی ہو جاتی ہے میں نے دونوں کو شربت پیش کیا جب دونوں شربت سے لطف اندوز ہو رہے تھے تو مجھے پچیس سال پہلے کے دن یاد آگئے جب میں سردیوں کی چھٹیوں میں اپنے گھر جایا کر تا تھا وہاں مجھے بہت سارے لوگ ملنے آتے جن میں جمیل چھوٹو بھی ہو تا تھا اِس کا قد بڑی مشکل سے پانچ فٹ تھا میڑک پاس سمجھ دار چھوٹا سا زمیندار تھا بات کر نا جانتا تھا جب میرے پاس آیا تو جوان تھا لوگوں کے طعنوں پر پوچھتا پروفیسر صاحب لوگ مجھے بے کار اور چھوٹو سمجھ کر لفٹ نہیں کرا تے میرے چھوٹے قد کی وجہ سے کوئی رشتہ بھی نہیں دیتا دوستی بھی نہیں کر تے مجھے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں دھتکارتے ہیں

اپنے حلقے میں بھی شامل نہیں کرتے میں زمانے کو کچھ کر کے دکھانا چاہتا ہوں میں اپنے چھوٹے قد کی تہمت سے آزاد ہو نا چاہتا ہوں بیچارہ اپنی کسمپر سی کا رونا خوب روتا ایک دن بہت رویا کہ میں کیا کروں تو میں نے مشورہ دیا یار تم کوئی عظیم کام کرو جو بڑے قد والے نہیں کرتے عظمت تمہارے قدموں کی لونڈی بن جائے گی میری بات چھوٹو نے پلے باندھ لی اب وہ اِس تلاش میں تھا کہ کوئی ایسا موقع ملے کہ میں لوگوں کے سامنے سر اٹھا کر جی سکوں پھر قدرت نے اسے موقع دے دیا اس کے چچا کی بیٹی جنوبی پنجاب میں جس کی شادی ہوئی تھی اس کا خاوند کسی حادثے کا شکار ہو کر دو بچوں کو بھی چھوڑ گیا سارا خاندان پریشان تھا کہ جوان بیوہ کس طرح زندگی کا طویل راستہ طے کر ے گی یہاں پر چھوٹو نے خود کو پیش کر دیا چچا نے اپنا خون سمجھ کر رشتہ قبول کیا اور چھوٹو کا نکاح اپنی بیٹی سے کردیا اور جا کر جنوبی پنجاب میں شفٹ ہو گیا

اِ س طرح میرا چھوٹو سے رابطہ منقطع ہو گیا آج کتنے سالوں بعد چھوٹو جوان بیٹے کے ساتھ میرے سامنے تھا بتانے لگا میری بیوی کے پاس پہلے سے ایک بیٹا اور بیٹی تھی اللہ نے دو بیٹے مجھے مزید دے دئیے اب میں نے خوب دل لگا کر محنت کی اور ساری توانائی بچوں کی تعلیم و تربیت پر لگا دی اللہ نے مجھے اور میری بیوی کو نیت کا پھل خوب دیا بڑا بیٹا فوج میں آفیسر جبکہ چھوٹا بیٹا ڈاکٹر بن رہا ہے جب بیٹے کی پاسنگ آٹ ہوئی اور بیٹے نے مجھے وردی میں سلیوٹ مارا تو مجھے لگا میں چھوٹو نہیں بڑا ہو گیا ہوں اب میری سارے خاندان اور شہر میں عزت ہے لوگ مجھے چھوٹو نہیں کپتان کا باپ ڈاکٹر کا باپ کہہ کر بلاتے ہیں چھوٹو دیرتک اپنی کامیابیوں کی داستان سناتا رہا پھر بولا میرابیٹا چند دن پہلے آپ کی کتاب گھر لے کر آیا اِس کو روحانی کتابوں کا بہت شوق ہے میں نے جب بتایا کہ آپ میرے دوست ہیں تو ہم ملنے آپ کے پاس آگئے دیر تک بیٹھنے کے بعد جب چھوٹو جانے لگا تو میں گرم جوشی سے بغل گیر ہو کر بولا یار تم چھوٹو نہیں معاشرے کے وہ ہیرو ہو جن کے دم سے بانجھ معاشرے قائم ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
112153

بزمِ درویش ۔ ہیرو ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ ہیرو ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

یہ میری زندگی کی سب سے مشکل گھڑی تھی پل صراط سے گزرنے والی بات تھی ایک یتیم بے آسرا لڑکی مدد مدد پکارتی میرے سامنے بیٹھی تھی لیکن میرے پاس اس کے سوال اور مدد کا کوئی جواب یا حل نہیں تھا کہ میں کیسے اِس کی مدد کروں تاکہ یہ خود کشی نہ کر لے میں نے مولویوں والا کام نہیں کیا کہ تم نے گناہ کبیرہ کیا اب اِس کی سزا بھگتو تم زانی ہو سزا تمہارا مقدر ہے بلکہ میں تو رحم اور شفیق نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا کہ کس طرح اِس معصوم بن بیاہی ماں کی مدد کروں کیونکہ میں ہر حال میں اُس کی مدد کر نا چاہتا تھا اِس لیے اب اُس کی داستان شروع سے آخر تک سننا بہت ضرور تھی تاکہ کوئی دھاگا ہاتھ آئے اور میں اُس کی مدد کرسکوں بیٹی بتاؤ تم کس طرح اُس جنسی درندے کے ہاتھ آئی تو وہ بولی سر میں لاہور سے تین سو کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہوں بچپن میں والدین حادثے میں مر گئے تو دور کے رشتے دار نے خوف خدا کے تحت میری پرورش کی میں نے بڑی کوششوں اور مشکلوں سے میڑک کا امتحان پاس کیا ساتھ میں میک اپ کے کورسز بھی کر لیے اِس طرح مین نے اپنی زندگی کو چلانے کی کو شش کی کیونکہ میں اکیلی تھی لیکن خواب بہت بڑے تھے اللہ نے شکل بھی اچھی دے رکھی تھی

اِس لیے کسی بڑے شہر میں جا کر قسمت آزمائی کا خواب دیکھا پھر ایک دور کی رشتہ دار جب گاؤں آئی تو میں نے اُس کہا مجھے لاہور میں کسی بیوٹی پارلر پر جاب دلا دے تو اُس نے وعدہ کیا میں نے اُسے یہ بھی کہا کہ میں اُس پر بلکل بھی بوجھ نہیں بنوں گی کسی ہاسٹل یا یتیم خانے میں رہ کر آگے بڑھنے کی کو شش کروں گی لہذا اُس عورت نے جا کر چند ہفتوں بعد ہی مجھے لاہور بلا لیا میں نے لاہور آکر چند پارلروں پر ٹیسٹ دیا تو ایک پارلر میں مجھے بہت تھوڑی تنخواہ پر جاب مل گئی ساتھ ہی میں نے قریبی گرل ہاسٹل میں رہائش اختیار کرلی اب میں نوکر ی کر رہی تھی اور رات کو ہاسٹل چلی جاتی کیونکہ لاہور میں میرا کوئی دوست سہیلی رشتہ دار نہیں تھا اِس لیے میں اکژ بوریت کا شکار ہو جاتی مجھے شدت سے احساس ہوتا کہ کہ کاش میرا بھی کوئی اپنا ہو تا جس سے میں بات کر سکتی حال دل سنا سکتی اپنی اِس بوریت کو دور کر نے کے لیے میں چھٹی کے دن قریبی پارک میں جا کر وقت گزارتی تاکہ لوگوں کے درمیان وقت گزار سکوں اُس پارک میں میری ملاقات اِس لڑکے کے ساتھ ہوئی جو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ لاہور کے اوباش لڑکے لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اِیسے پارکوں کا رخ کر تے ہیں

میں توجہ پیار کی بھوکی تھی جیسے ہی اِس نے توجہ دینی شروع کی میں سمجھی مجھے دنیا میں ہی جنت مل گئی ہے وہ جو کہتا گیا میں کرتی چلی گئی جب اِس نے میرے جسم سے کھیلنے کی کو شش کی تو میں تو ناسمجھ گاؤں سے آئی لڑکی بہت کہا تو بولا میں تم سے صبح ہی شادی کر لوں گا لہذا میں اُس کی باتوں میں آگئی وہ اپنا مقصد حاصل کر چکا تھا میں اُس کے جال میں بری طرح پھنس چکی تھی نہ ہی میرے پاس کوئی راستہ تھا وہ میری عزت سے کھیلتا رہا میں اُس کی ناراضگی کے خوف سے اُس کی بات مانتی رہی کیونکہ اب وہ بات بات پر ناراض ہو تا تھا کہ تم میری بات نہیں مانتی میں ہمیشہ کے لیے تم کو چھوڑ دوں گا لہذا میں بے آسرا اُس کی باتوں میں گناہوں میں ڈوبتی رہی دو ماہ گزر گئے اُس نے شادی نکاح نہیں کیا تو میں بہت پریشان ہو ئی اُس کی منتیں ہاتھ جوڑے بہت روئی پاؤں پکڑے لیکن وہ لارے لگاتا رہا پھر تنگ آکر میں نے کہا اگر تم شادی نہیں کی تو میں پولیس میں جا کر پرچہ کٹواں دوں گی تو اُس نے مجھے بہت مارا اور کہا میں شہر کا ڈان ہوں تمہاری یہ جرات کیسے ہوئی مجھے دھمکی دو‘ تم جاؤ جس کے پاس جا کر میرے خلاف کیس کرنا ہے کرو کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا میں نے تمہارے ساتھ بلکل بھی شادی نہیں کرنی میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا کہاں تم نالی میں پلنے والی گندی جونک کہاں میں‘میرا تمہارا کوئی مقابلہ جو ڑنہیں آج سے میرا تمہارا تعلق ہمیشہ کے لیے ختم تم جاؤ میرا جو بگاڑنا ہے بگاڑ لو اُس نے مجھے ہر جگہ سے بلاک کر دیا

میں مختلف نمبروں سے اُس کو کال کرتی تو وہ گالیاں دیتا پھر اُس نے اپنے سارے نمبرز بدل لیے اب میرا اُس سے کوئی رابطہ نہیں جب اُس نے مجھے چھوڑا تو میں اُس کو پانے کے لیے مختلف بابوں ملنگوں کے پاس چکر لگانے شروع کر دئیے جو کماتی بابوں کو نذر کر دیتی چار ماہ ہو گئے یہ بابوں کے لاروں پر کہ صبح آجائے گا کل آجائے گا لیکن وہ درندہ واپس نہ آیا تو کسی نے میرا بتایا تو مرنے سے پہلے یہ دکھوں کی گٹھڑی میرے سامنے بیٹھی تھی جس کی دکھ بھری کہانی سن کر میری سانسیں بھاری ہو گئی تھیں کچھ سمجھ نہیں آریا تھا میں نے دو دن کا وقت لیاکہ مجھے سوچھنے کا وقت دو تاکہ میں اِس مسئلے کا کوئی حل نکال سکوں میں نے دو دنوں میں اُس کے نمبروں کو ٹریک کرنے کی پوری کو شش کی دوستوں سے مدد بھی لی لیکن وہ کہیں نہیں ملا پتہ نہیں کوئی شہر چھوڑ گیا تھا یا اللہ کی حکمت میں اب وہ تھا ہی نہیں لہذا مجبور ہو کر میں نے ایک فیصلہ لیا اور اُس بیٹی کا انتظار کر نے لگا تو وہ پھر میرے سامنے آئی تو میں بولا دیکھو بیٹی تمہارے بچے میں جان آچکی ہے

اِس کا ابارشن کرانا قتل ہے اور تمہاری جان بھی جا سکتی ہے وہ بد کردار تو بھاگ گیا اب ایک ہی راستہ ہے تم کسی سے شادی کر لو تاکہ تمہاری زندگی بچ جائے تو وہ بولی مجھ گناہ گار سے کون شادی کر ے گا کون میرا گناہ اپنے کھاتے میں ڈالے گا تو میں نے کہا تم ہاں کرو تو میں تلاش کرتا ہوں تو وہ بولی سر میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے یہ میرا نمبر ہے آپ کو جب بھی کوئی رحم دم بندہ مل جائے تو مجھے کال کرئیے گا میں آجاؤں گی اب میری نظر میں ایک لڑکا تھا اظہر ہیرو جو کسی حجام کی دوکان پر کام کر تا تھا مردان شہر سے لاہور آیا بیگم ساتھ تھی اُس نے بے وفائی کی اِس کو چھوڑ کر آشنا کے ساتھ بھاگ گئی یہ اُس کی تلاش میں میرے پاس آتا رہا بعد میں پتہ چلا کہ وہ آشنا کے بچے کی ماں بن چکی ہے تو کچھ دنوں سے باغی ہو گیا کہ اب کبھی بھی شادی نہیں کروں گامیں نے اُس کو بلایا اور کہا یار تم نام کے ہیرو ہو یا باتیں ہی ہیں تو وہ بولا سر کوئی نیکی کاکام ہے تو بتاؤ میں نے بن بیاہی ماں کا سارا قصہ سنا دیا وہ فوری شادی کے لیے تیار ہو گیا تو اِن دونوں کی شادی کرا دی اِس واقع کو پانچ سال گزر گئے کبھی کبھی ہیرو کا فون آتا تو بتاتا اُس بچے کے علاوہ دو اور بچے بھی آگئے میں اُس بچے کو بھی اپنا ہی بچہ مانتا ہوں چند دن پہلے اُسی بیٹی اور ہیروکا فون آیا تو بیٹی نے بتایا میں اُس محلے گئی تھی تو پتہ چلا اُس نے کسی اور لڑکی کی زندگی خراب کی تو اُس کے بھائیوں نے اُس کو بے دردی سے قتل کر دیا اب میں بہت خوش ہوں میں نے ہیرو سے پوچھا تم بھی خوش ہو تو بولا جناب بہت خوش تو میں بولا یار تم نام کے نہیں واقعی بڑے ہیرو ہو۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88583