The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

امن کی وادی، غیرت کی سرزمین، ہنزہ اور غذر – اقبال عیسیٰ خان 

امن کی وادی، غیرت کی سرزمین، ہنزہ اور غذر – اقبال عیسیٰ خان

گلگت بلتستان کی سرزمین بہادری، قربانی اور غیرت کی سرزمین ہے۔ اس دھرتی کے ہر ضلع نے اپنی اپنی جگہ تاریخ رقم کی ہے، مگر اگر حب الوطنی کی شدت، قومی شعور کی پختگی اور ریاست سے وفاداری کی عملی مثال تلاش کی جائے تو ہنزہ اور غذر کے عوام کا کردار نمایاں اور قابلِ فخر دکھائی دیتا ہے۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ تاریخ کے اوراق، شہداء کے لہو اور اجتماعی کردار کی گواہی ہے۔
آزادیٔ گلگت بلتستان کی جدوجہد سے لے کر آج تک، جن جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان میں ہنزہ اور غذر کے بیٹوں کی تعداد اور تسلسل غیر معمولی رہا ہے۔ سرحدوں کی حفاظت ہو، افواج میں خدمات ہوں یا اندرونی امن کے لیے قربانیاں ان علاقوں کے نوجوان ہمیشہ صفِ اوّل میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ شُہداء کے گھروں میں آنسو ضرور بہتے ہیں، مگر ان آنسوؤں میں فخر کی چمک بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ وہ فخر ہے جو کسی اشتہار یا تقریر سے نہیں، بلکہ قربانی سے حاصل ہوتا ہے۔
ہنزہ آج امن، خوشحالی اور اعلیٰ شرحِ خواندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تعلیم کو صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب اور کردار کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ شرحِ خواندگی کی بلندی، خواتین کی تعلیم میں نمایاں کردار، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی پاسداری یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے ہنزہ کو ایک مہذب اور بااخلاق معاشرے کی مثال بنایا ہے۔ غذر بھی اسی روایت کا امین ہے؛ وہاں کے لوگوں میں سادگی، غیرت اور قومی وابستگی ایک فطری صفت کے طور پر موجود ہے۔
کسی بھی خطے کی اصل طاقت اس کے لوگوں کا شعور ہوتا ہے۔ ہنزہ اور غذر کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں آتی، بلکہ سوچ اور کردار سے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان کا نرم اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا مقصود ہو تو ہنزہ کی وادیوں، اس کے پُرامن ماحول اور مہمان نواز لوگوں کی مثال دی جاتی ہے۔ سیاحت ہو، سفارتی وفود ہوں یا ترقیاتی اداروں کی رپورٹس “ہنزہ برانڈ” کو بطور ماڈل پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں کی اجتماعی محنت، نظم و ضبط اور برداشت کا ثمر ہے۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ حلقوں کی طرف سے ہنزہ اور غذر کے خلاف حسد اور جلن پر مبنی بیانات نے وہاں کے عوام کو شدید دکھ پہنچایا ہے۔ جب کسی علاقے کی ترقی اور امن کو سراہنے کے بجائے اسے طنز اور تعصب کا نشانہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف اس علاقے بلکہ پورے خطے کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حق ہے، مگر حسد کی آگ میں سچ کو جلانا دانشمندی نہیں۔
یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی ضلع کی تعریف دوسرے کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔ گلگت بلتستان کا ہر ضلع محترم ہے، ہر علاقے کے لوگ قابلِ عزت ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کوئی خطہ تعلیم، امن اور اخلاقی معیار میں نمایاں ہو تو اسے تسلیم کرنا چاہیے، نہ کہ اس سے جلنا چاہیے۔ ترقی کو مقابلہ نہیں بلکہ ماڈل سمجھنا چاہیے۔ اگر ہنزہ دہشت گردی سے پاک، نفرت سے پاک اور امتیازی سلوک سے بالاتر معاشرے کی مثال ہے تو اس ماڈل کو اپنانا ہم سب کے مفاد میں ہے۔
ہنزہ اور غذر کے خلاف منفی بیانیہ دراصل اس مثبت شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے جو بڑی محنت سے بنی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اندرونی تقسیم دشمن کو مضبوط کرتی ہے اور اتحاد ہمیں ناقابلِ تسخیر بناتا ہے۔ اگر ہنزہ ایک برانڈ ہے تو وہ پورے گلگت بلتستان کا برانڈ ہے، پورے پاکستان کا چہرہ ہے۔ اس برانڈ کو کمزور کرنا دراصل اپنی ہی اجتماعی شناخت کو نقصان پہنچانا ہے۔
ہنزہ اور غذر کے عوام کو چاہیے کہ وہ ان بیانات سے دل برداشتہ ہونے کے بجائے اپنے کردار، اپنی تعلیم، اپنی شائستگی اور اپنی حب الوطنی سے جواب دیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کردار کا جواب کردار سے دیا جاتا ہے، نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ برداشت اور وقار سے دیا جاتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہنزہ اور غذر صرف جغرافیائی اکائیاں نہیں بلکہ ایک فکر، ایک روایت اور ایک ذمہ داری کا نام ہیں۔ شُہداء کے لہو کی لاج رکھنا، امن کو برقرار رکھنا، تعلیم کو فروغ دینا اور اخلاقیات کو زندہ رکھنا ہی ان علاقوں کی اصل پہچان ہے۔ اگر یہ اقدار قائم رہیں تو کوئی حسد، کوئی الزام اور کوئی منفی بیان اس روشن شناخت کو مدھم نہیں کر سکتا۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
118197