The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گہکیر اپر چترال میں قتل کے واردات کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کو مقامی لوگوں نے گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کردیا

گہکیر اپر چترال میں قتل کے واردات کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کو مقامی لوگوں نے گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کردیا

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) گوہکیر اپر چترال میں گذشتہ روز ساتھیوں کے ساتھ مل کر رحمت آمین کو قتل کرکے فرار ہونے والے کوہستانی ملزمان کو مقامی لوگوں نے بروم اوسان اویر اور پھستی میں پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا گیا۔ جب وہ مسافروں کے روپ میں رات کو مسجد میں رات گزارنے کیلئے آئے تھے۔ جس پر مقامی شخص ممتاز علی شاہ  ریٹائرڈ آرمی حوالدار  نے شک کی بنیاد پر اس سے پوچھ گچھ کی۔ اور تسلی بخش جواب نہ دینے پر انہیں خود گرفتار کر لیا۔ اور بعد آزان پولیس کو اطلاع دی۔ ملزمان کا دوسرا گروپ جو دو افراد پر مشتمل تھا۔اویر ریری میں چائے پی کر پھستی کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ کہ محمد قاسم نامی شخص نے پھستی گاؤن فون کرکے پھستی کے لوگوں کے ذریعے انہیں پکڑوا دیا۔ اور انہیں بھی پولیس کے حوالے کی۔ چترال بھر کے عوامی حلقوں نے ملزمان کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اور پولیس و ضلعی انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کیا ہے۔ کہ مفرورملزمان کی گرفتار ی میں کردار ادا کرنے والے چترال کے ان ہیروز کو انعام و اکرام سے نوازا جائے۔ تاکہ آیندہ بھی مقامی لوگ اس قسم کا کردار ادا کرنے میں مزید جذبے کا مظاہرہ کریں۔

واضح رہے۔ کہ بندوگول گہیر کے رحمت اللہ کی بیٹی کی شادی کوہستان دیر اپر کے محمد زاہد کے ساتھ ہوئی تھی۔ لیکن وہ کچھ عرصے سے سسرال جانے سے انکاری تھی۔   گذشتہ روز محمد زاہد اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ بندو گول گہکیر آیا۔ اور مبینہ طور پر اپنے سسر کو فائر کرکے قتل کر دیا۔ اور فرار ہو گئے۔ اپر چترال پولیس مختلف مقامات میں ناکے لگا کر ملزمان کی گرفتاری کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم اتوار کے روز مسافروں کے بھیس میں گھومنے والے ان ملزمان کو پھستی اور اویر کے مقامات میں مختلف افراد نے شک گزرنے پر گرفتار کر لیا۔ اور پولیس کے حوالے کی۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ کہ ملزمان کو ان کے کئے کی کڑی سزا دی جائے۔

زرائع کے مطابق مقتول کے تین بچے مکمل یتیم ہو گۓ ہیں۔کچھ عرصہ پہلے والدہ کی انتقال ہوٸی تھی اب والد کو بھی ظالمانہ قتل کرکے بچوں کو بے سہارہ کر دیا گیا ہے۔بچے چھوٹے ہیں باب مذدوری کرکے بچوں کےلۓ کماتا تھا۔عام مذدور تھا۔کبھی مذدوری ملتی تھی کبھی نہیں۔بچے پڑھتے ہیں۔حکومت وقت سے گذارش کی گئی ہے کہ ان بچوں کے اوپر اپنا ہاتھ رکھیں۔یہ اپیل تمام اُن لوگوں سے بھی ہے جو انسانیت کا احترام کرتے ہیں۔۔

chitraltimes murder accused arrested by locals of chitral2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
83668