گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان کا کڑا امتحان، فیصلہ مستقبل کا – اقبال عیسیٰ خان
گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان کا کڑا امتحان، فیصلہ مستقبل کا – اقبال عیسیٰ خان
گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان کی بلند وادیوں میں کبھی ہوا اتنی صاف، اقدار اتنی مضبوط اور نوجوان اتنے باوقار نہیں دیکھے گئے جتنے یہاں کی زمین نے پیدا کیے ہیں۔ یہ وہ خطے ہیں جہاں سادگی، عزت اور اجتماعی ذمہ داری نسلوں سے نسلوں تک ایک روشن روایت بنی رہی۔ مگر آج وہی نوجوان جو کبھی اپنے گھروں، گلیوں اور پہاڑوں میں امید کی صورت تھے، ان پر ایک خاموش مگر اندر سے تباہ کن حملہ ہو چکا ہے۔ منشیات کا بڑھتا استعمال محض ایک فرد کا زہارہی نہیں، یہ پورے خاندانوں، برادریوں اور اس ملک کے مستقبل کو جسم اور روح دونوں طرح سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
دنیا بھر میں منشیات کے استعمال کی شدت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹس کے مطابق 2021 تک دنیا بھر میں تقریباً 296 ملین افراد منشیات استعمال کر چکے تھے، جس میں ہر 17 میں سے ایک شخص 15 سے 64 سال کی عمر میں کم از کم ایک بار منشیات استعمال کر چکا تھا۔ سب سے عام منشیات میں چرس، افیون، ہیروئن، کوکین اور ایکسٹسی جیسی چیزیں شامل ہیں، جب کہ امفیٹامین اور آئس جیسی مصنوعی منشیات کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اپنے قومی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو پاکستان کے نوجوانوں کے اندر منشیات کا استعمال ایک خطرناک کیفیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تعلیمی اداروں میں 43 فیصد نوجوان شراب اور دیگر نشہ آور اشیا استعمال کر رہے ہیں، جو نہ صرف ان کی ذہنی و جسمانی صحت بلکہ ان کی تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 6.7 ملین لوگ منشیات کے استعمال کے عادی ہیں جن میں دو ملین نوجوان شامل ہیں، اور یہ تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ اعداد و شمار صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ ہماری زمین کی چیخیں ہیں جب نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہربی، آئس، چرس، ہیروئن، سولیوشن، سگریٹ، شراب، شراب کے علاوہ نشہ آور گولیاں، انجکشن کے ذریعے استعمال ہونے والی دوائیں اور دیگر زہریلے کیمیکلز جیسی اشیاء آتی ہیں۔ ان میں سے اکثر زہر نوجوانوں کے ذہن، دل اور جسم کو آہستہ آہستہ تباہ کر دیتے ہیں، اور ان کے پیچھے رشتے، عزت اور امیدیں بھی دفن ہو جاتی ہیں۔
ہم جب اس لعنت کی جڑوں کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف غلط صحبت یا کمزور اخلاقیات نہیں ہیں، بلکہ ایک لمبی مہینوں کی نفسیاتی ناکامی، بے روزگاری، معاشی مایوسی، تعلیمی نظام کی خامیاں، من گھرے مکالمے اور خاندانوں میں احساسِ تھکاوٹ کا مجموعہ ہیں۔ جب نوجوان اپنے مستقبل کی امیدیں کسی تاریک سرحد پر لگائے ہوئے ہوتا ہے، وہاں اس کے قدم بھیک مانگنے، غلط راستوں اور آخرکار منشیات کی ظاہری خوشی کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
اس کا حل کسی ایک شخص یا ادارے کے ذریعے ممکن نہیں۔ ہمیں سوچ کو بدلنا ہوگا۔ منشیات استعمال کرنے والے نوجوان کو سزا دینے یا تہمت لگانے کی بجائے اس کی مدد کرنی ہوگی، اسے بحالی کے مراکز، مشاورت اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔ ہر ضلع میں ایسے مراکز قائم ہونے چاہئیں جہاں وہ خوف یا بدنامی کے بغیر علاج کر سکیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت، تناﺅ کا مقابلہ کرنے کے طریقے اور زندگی کی رہنمائی کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ ہمارے نوجوان اپنے ذہنی اور جذباتی سفر کو مضبوط بنا سکیں۔
گھروں میں والدین کو اپنے بچوں سے وقت نکالنا ہوگا، ان کی باتیں سن کر سمجھنا ہوگا، ان کے جذبات کو تسلیم کرنا ہوگا اور انہیں اعتماد کا ماحول دینا ہوگا جہاں وہ اپنے دکھ، مایوسی اور مسائل کا اظہار بلا خوف کر سکیں۔ صرف ڈانٹ، ملامت یا سختی نوجوان کو واپس نہیں لاتی، انہیں دلیل، رہنمائی اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مساجد، معاشرتی تنظیمیں اور کمیونٹی سینٹرز بھی منشیات کے خلاف مشترکہ ثقافتی پیغام دینے میں اپنا کردار ادا کریں، تاکہ نوجوان جان سکیں کہ ان کا ہر مسافر قیمتی ہے اور ان کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔
پیشگی اقدامات کے طور پر کھیل، ثقافتی اور رضاکارانہ سرگرمیاں، ہنرمندی کے پروگرامز اور روزگار کے مواقع اس طرح ترتیب دیے جائیں کہ نوجوان ایک با مقصد، باعزت اور روشن مستقبل کی جانب راغب ہوں۔ کیونکہ باعزت روزگار ہی سب سے مضبوط تحفظ ہے جو کسی بھی نوجوان کے اندر خود اعتمادی اور مقصدیت کو بڑھاتا ہے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ منشیات کے خلاف یہ جنگ صرف حکومت، پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ والدین، اساتذہ، علما، صحافی، سماجی رہنما اور سب سے بڑھ کر خود نوجوانوں کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ اگر ہم آج خاموش رہیں گے تو کل وہ خاموشی ہماری آنے والی نسلوں سے ان کا حق چھین لے گی۔ وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنے دلوں اور ذہنوں کی آنکھیں کھولیں، سچ بولیں اور عمل کریں، کیونکہ منشیات کے خلاف یہ جنگ دراصل اپنے مستقبل کو بچانے اور اپنی نسلوں کو تقدیر دینے کی جنگ ہے۔
