گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان میں منشیات، آئندہ نسلوں کا سب سے بڑا دشمن ۔ اقبال عیسیٰ خان
گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان میں منشیات، آئندہ نسلوں کا سب سے بڑا دشمن ۔ اقبال عیسیٰ خان
اس تحریر کو پڑھ کر یقیناً بہت سے اثرورسوخ رکھنے والے افراد ناخوش ہوں گے، کیونکہ اس میں کچھ کڑوے حقائق بے پردہ بیان کیے گئے ہیں۔ منشیات اور نشہ اب گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال میں محض ایک سماجی خرابی نہیں رہے بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل پر چھایا ہوا سب سے بڑا وجودی خطرہ بن چکے ہیں۔ اس سانحے کو مزید سنگین بنانے والی حقیقت یہ ہے کہ اس زہر کو پھیلانے اور اسے معمول کا حصہ بنانے میں وہی لوگ شریک دکھائی دیتے ہیں جنہیں ہم نے رہنمائی، وقار اور مثال کے لیے آگے بڑھایا تھا۔ اثرورسوخ اور اختیار رکھنے والے بے شمار افراد محض سگریٹ یا شراب تک محدود نہیں رہے بلکہ چرس، عرق اور دیگر نشہ آور اشیاء کی لت میں بھی مبتلا ہیں۔ یہ انفرادی کمزوری کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ ایک اجتماعی ناکامی ہے، اور ایک ایسی خطرے کی گھنٹی جو پوری قوم کی بقا کے لیے بج رہی ہے۔
دنیا بھر میں منشیات کا بحران ایک خاموش مگر تباہ کن طوفان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً 29 کروڑ 20 لاکھ افراد غیر قانونی منشیات استعمال کر رہے تھے، جو گزشتہ دہائی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ کینابِس، افیونی منشیات، امفیٹامنز، کوکین اور ایکسٹسی جیسے نشہ آور مادے سب سے زیادہ استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ المیہ یہ ہے کہ متاثرہ افراد میں سے صرف ایک قلیل تعداد ہی علاج تک رسائی حاصل کر پاتی ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مسئلہ کتنا گہرا اور کتنا بے رحم ہو چکا ہے۔
یہ عالمی بحران پاکستان کو بھی پوری شدت کے ساتھ اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ دستیاب قومی اور بین الاقوامی جائزوں کے مطابق ملک میں لاکھوں افراد، بالخصوص 15 سے 64 سال کے درمیان کی عمر کے لوگ، غیر طبی منشیات استعمال کر رہے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہیروئن، افیون اور دیگر نشہ آور مادوں کا استعمال خاص طور پر نوجوان طبقے میں تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ یہ صرف نمبرز نہیں یہ ٹوٹتے ہوئے گھر، بکھرتے ہوئے رشتے اور دفن ہوتے ہوئے خواب ہیں۔
نوجوان نسل، جو کسی بھی قوم کی اصل طاقت اور سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، آج اس وبا کا سب سے آسان شکار بن چکی ہے۔ وہ نوجوان جن کے ہاتھ میں کل کا پاکستان ہونا چاہیے تھا، آج اپنے ہی خوابوں کو نشے کی زنجیروں میں جکڑتے جا رہے ہیں۔ دل کانپ اٹھتا ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ گلیوں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور حتیٰ کہ پیشہ ورانہ حلقوں میں چرس، شراب اور عرق کو ایک معمول سمجھا جانے لگا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اذیت ناک سچ یہ ہے کہ معاشرے کے وہ ستون، جن کا کام دوسروں کو راستہ دکھانا تھا، خود اسی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ یہ چند افراد کی تباہی نہیں بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کی شکست ہے۔
گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال جیسے قدرتی حسن سے مالا مال مگر سہولیات سے محروم خطوں میں یہ بحران اور بھی زیادہ گہرا ہو چکا ہے۔ غربت، بے روزگاری، معیاری تعلیم کی کمی اور منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں کے قریب ہونا نوجوانوں کو تیزی سے اس اندھیرے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ محدود وسائل والے ان علاقوں میں نشہ صرف جسمانی صحت کو نہیں کھاتا بلکہ خاندانوں کو توڑتا، معاشی صلاحیت کو مفلوج کرتا اور صدیوں پر محیط سماجی و ثقافتی اقدار کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
ایک سنجیدہ، فکری اور پیشہ ورانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مسئلہ نہ صرف اخلاقی ہے اور نہ ہی محض قانونی یہ ایک قومی سلامتی کا سوال بن چکا ہے۔ جب معاشرے کے بااثر اور مقتدر طبقات خود نشے کو معمول بنا لیں تو نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ پیغام خاموشی سے بیٹھ جاتا ہے کہ یہ سب قابلِ قبول ہے۔ یہی خاموش پیغام ہماری آنے والی نسلوں کو فکری، اخلاقی اور عملی زوال کی طرف دھکیل رہا ہے۔
اگر ہم واقعی اس تباہی کے سامنے بند باندھنا چاہتے ہیں تو ہمیں محض جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر ایک جامع، قابلِ عمل اور دیرپا حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے نقصانات پر سنجیدہ، سائنسی اور مسلسل آگاہی دینا ہوگی تاکہ نوجوان باخبر اور ذمہ دار فیصلے کر سکیں۔ ہر ضلع میں معیاری علاج اور بحالی کے مراکز قائم کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ نشہ ایک بیماری ہے اور بیماری کا علاج سزا سے نہیں بلکہ ہمدردی، مہارت اور تسلسل سے ہوتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید وسائل، مؤثر ہم آہنگی اور غیر متزلزل سیاسی حمایت فراہم کرنا ہوگی تاکہ اسمگلنگ اور تقسیم کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔
سب سے بڑھ کر، قیادت اور اثرورسوخ رکھنے والوں کو خود احتسابی اور عملی مثال قائم کرنا ہوگی۔ جو لوگ عوامی اعتماد کے منصب پر فائز ہیں، اگر وہ اپنی زندگیوں میں اصلاح نہیں لائیں گے تو ان کے الفاظ محض کھوکھلے نعرے بن کر رہ جائیں گے۔ اسی طرح خاندانوں، تعلیمی اداروں، مذہبی اور سماجی تنظیموں کو مل کر ایسے مضبوط کمیونٹی نیٹ ورکس تشکیل دینے ہوں گے جو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، صحت مند طرزِ زندگی اور باوقار مستقبل کی طرف لے جا سکیں۔
یہ مسئلہ کسی ایک خطے، طبقے یا ادارے تک محدود نہیں۔ یہ وطن عزیز کے وجود، اس کی روح اور اس کے کل کا سوال ہے۔ اگر ہم نے آج آنکھیں بند رکھیں تو کل ہم ایک ایسی قوم کو جنم دیں گے جو نشے میں ڈوبی ہوئی، بے حس اور بے سمت ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دل، دماغ اور ضمیر تینوں کو یکجا کر کے اس خاموش دشمن کے خلاف کھڑے ہوں، تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک روشن، صحت مند اور قابلِ فخر پاکستان دے سکیں۔
