The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گداگری ایک معاشرتی لعنت – تحریر: رضوان اللہ شاہ جی

گداگری ایک معاشرتی لعنت – تحریر: رضوان اللہ شاہ جی

گداگری غربت اور محرومی سے پیدا ہونے والی ایک سرگرمی کا نام ہے۔ یہ دوسروں کے سامنے پیش کی جانے والی ایسی درخواست کا نام ہے جسے پیش کرنے کا مقصد حصولِ رقم یا صدقات ہوتا ہے، جسے پیش کرنے والا خود یہ رقم کمانے سے قاصر ہوتا ہے۔
گداگری ایک ایسا سماجی رویہ ہے جس کے تحت معاشرے کا محروم طبقہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ طبقہ امیر افراد سے براہ راست اشیاء خوردونوش ، لباس اور دیگر ضروریات کیلئے رقم طلب کرتا ہے۔

ہمارے ملک میں گداگری آج کل باقاعدہ ایک پیشہ بن گیا ہے ، اور اس پیشے میں لوگ جوق در جوق شامل ہورہے ہیں ۔ ملک کے بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے شہر اور قصبے بھی اسکا شکار ہو رہے ہیں۔ ماہ رمضان اور کچھ خصوصی تہواروں اور موقعوں پر ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔گداگروں کے بھیک مانگنے کے طریقے بھی کچھ عجیب سے ہوتے ہیں، کوئ اپنے آپ کو معذور دیکھا کر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرتا ہے تو کوئ اپنے آپ کو مجبور ثابت کرکے پیسہ کماتا ہے۔ یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ یہ مانگنے والے معذور و محتاج کیسے ہوتے ہیں؟ کیا یہ پیدایشی معذور ہوتے ہیں یا حادثات نے انہیں ایسا بنا دیا ہے؟

ان بھکاریوں میں کچھ پیدایشی معذور بھی ہوتے ہیں جو اپنے پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا آسان سمجھتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ لوگ حادثات کی وجہ سے بھی اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں کوئ راہ سجھائی نہیں دیتا اور وہ بھی گداگری کا جامہ زیب تن کر لیتے ہیں، ان میں سے کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جنہیں لوگ اغوا کرکے اس گھناونے کام میں ڈالتے ہیں۔

بھکاری اپنے سوال میں خدا کے نام کا واسطہ بھی دیتے ہیں اس حرکت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائ ہے کیونکہ مانگنے والے کے دل خدا اور رسول کی عظمت و عزت نہیں ہوتی، وہ تو یہ پاک نام کو صرف بھیک مانگنے کا زریعہ سمجھتے ہیں ۔

گداگری ایک لعنت ہے جو معاشرے کو پستی اور ذلت کا شکار کرتی ہے جس سے عزت نفس اور محنت کی عظمت کے تمام خیالات و نظریات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ گداگر چونکہ اپنے ظاہری حالات خراب رکھتے ہیں اور صفائ ستھرائی کا اکثر خیال نہیں رکھتے جسکی وجہ سے وہ خطرناک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے آس پاس دوسرے لوگوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

گداگری کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر مستحق لوگوں کو بھیک دینا بلکل بند کیا جاۓ۔ یہ قوم کے اوپر سب سے بڑا احسان ہوگا۔ خود مسلمانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت بعد تک مسلمان ملکوں میں سوال کرنے کو برا سمجھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مسلمان ہی سب سے ذیادہ بھکاری ہیں۔ مسلمانوں ، خصوصاً علماۓ کرام کا فرض بنتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے اس لعنت کا سدباب کرے۔ خاص طور پر عورتیں نرم دل ہونے کی وجہ سے چھوٹی عمر کے بھکاریوں کی بہت امداد کرتی ہیں، حالانکہ یہ نیکی کے بجائے گناہ ہے۔ اس سے حقیقی مستحق لوگ نقصان اٹھاتے ہیں ، اور ہٹے کٹے بھکاری بڑھتے جارہے ہیں، جس کے بدولت کام کے آدمی ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

عام آدمی کو چاہیے کہ وہ اس پیشے سے وابستہ لوگوں کی حوصلہ شکنی کرے، اور اپنے خیرات وغیرہ دینے کیلئے اپنے اردگرد مستحق لوگوں کو ڈھونڈیں کیونکہ ایسا حکم اسلام اور شریعت میں بھی دیا گیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
94844