خیبرپختونخوا میں کینسر کے علاج میں انقلابی پیش رفت، مہنگے ترین علاج اب صوبے میں دستیاب ہوں گے: مشیر صحت احتشام علی
خیبرپختونخوا میں کینسر کے علاج میں انقلابی پیش رفت، مہنگے ترین علاج اب صوبے میں دستیاب ہوں گے: مشیر صحت احتشام علی
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی نے کہا ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں سائبر نائف روبوٹک ریڈیو سرجری اور پی ای ٹی/سی ٹی اسکین سہولت قائم کرنے پر عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کو وزیراعلیٰ کی جانب سے عوام کے لیے ایک قیمتی تحفہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اس ویژن کی عملی تعبیر ہے جس کے تحت مہنگے ترین علاج بھی عوام کی دسترس میں لائے جارہے ہیں۔مشیر صحت نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے تجاویز طلب کی جاچکی ہیں۔ یہ تاریخی اقدام صوبے میں کینسر کے علاج کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے اور برسوں سے موجود بڑے خلا کو پُر کرے گا۔ اب خیبرپختونخوا کے کینسر کے مریضوں کو تشخیص اور علاج کے لیے کراچی یا دیگر شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں ہر سال گیارہ ہزار سات سو سے زائد نئے کینسر کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، ایسے میں یہ سہولت نہایت بروقت اور زندگی بچانے والا قدم ہے۔ سائبر نائف سسٹم پیچیدہ اور ناقابلِ آپریشن ٹیومرز کے لیے غیر جراحی اور انتہائی درستگی کے ساتھ ریڈیو سرجری فراہم کرے گا، جبکہ پی ای ٹی/سی ٹی اسکین کینسر کی بروقت تشخیص، درست اسٹیجنگ اور موزوں علاج کی منصوبہ بندی کو ممکن بنائے گا۔احتشام علی نے کہا کہ ان جدید سہولیات کی بدولت علاج کے نتائج بہتر ہوں گے، شرح اموات میں کمی آئے گی اور مریضوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری ہوگی۔ یہ سہولت نہ صرف مریضوں کو جدید علاج فراہم کرے گی بلکہ میڈیکل ریسرچ، تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے بھی ایک مرکز کے طور پر کام کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام مریضوں اور ان کے خاندانوں پر پڑنے والے معاشی و نفسیاتی بوجھ کو کم کرے گا اور صوبائی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔مشیر صحت نے کہاکہ یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جو نہ صرف بے شمار زندگیاں بچائے گی بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے صحت مند مستقبل کی ضمانت بھی فراہم کرے گی۔
………………………….
.
خیبرپختونخوا اسمبلی اور یونیسف کے مابین ایک اہم یادداشتِ مفاہمت (MoU) پر دستخط
پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبرپختونخوا اسمبلی اور یونیسف کے مابین ایک اہم یادداشتِ مفاہمت (MoU) پر دستخط کی تقریب صوبائی اسمبلی پشاور میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔اس موقع پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے یونیسف کے وفد کو اسمبلی کا تفصیلی دورہ کرایا اور انہیں ایوان کی تاریخی حیثیت، پارلیمانی روایات اور قانون سازی کے عمل سے روشناس کرایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صوبے میں بچوں کے حقوق کے تحفظ، تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں تعاون کے نئے راستے کھولے گا۔یادداشتِ مفاہمت پر خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے اسپیشل سیکریٹری سید وقار شاہ نے دستخط کیے جبکہ یونیسف کی جانب سے رادو سلاک رزاک، چیف فیلڈ آفیسر یونیسف پشاور نے دستخط کیے۔
اس تقریب کے گواہ کے طور پر اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے ساتھ ساتھ یونیسف کے کنٹری ریپریزنٹیٹیو پاکستان بھی موجود تھے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت احتشام خان، رکن صوبائی اسمبلی تاج ترند اور ایکٹنگ سیکریٹری خیبرپختونخوا اسمبلی سید محمد ماہر بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس معاہدے کے تحت یونیسف اور خیبرپختونخوا اسمبلی مشترکہ طور پر بچوں کی تعلیم، صحت، صنفی مساوات، نوجوانوں کی شمولیت اور پالیسی سازی میں تکنیکی معاونت فراہم کریں گے تاکہ صوبے میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔تقریب کے اختتام پر خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے معزز مہمانوں کو روایتی تحائف پیش کیے گئے اور اس تاریخی شراکت داری کو یادگار بنانے کے لیے ایک گروپ فوٹو بھی لیا گیا۔

