The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کیا چھتراری اتنے غیر مہذب ہوگئے ہیں ؟- محکم الدین ایونی

کیا چھتراری اتنے غیر مہذب ہوگئے ہیں ؟- محکم الدین ایونی

ہر انسان اپنے گھر خاندان علاقہ اور ملک کا سفیر ہوتا ہے۔ کسی گھر یا خاندان کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے یہی کافی ہے ۔ کہ اس خاندان کے ایک فرد سے ملا جائے ۔ ان کے ساتھ میل میلاپ گفت وشنید سے ہی پورے خاندان کے بارے میں اگر سو فیصد نہیں تو بڑی حد تک اندازہ لگانے میں مشکل پیش نہیں آ تی ۔ اسی طرح کسی علاقے کے ایک فرد سے مل کر اس علاقے کے ماحول اور لوگوں کے بارے میں بھی بہت کچھ جانا جاسکتا ہے ۔

چترال کے لوگ اپنی الگ تہذیب و ثقافت جس میں شرافت اور احترام کے اجزاء بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ ملک کے دوسرے لوگوں کیلئے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہیں ، یہاں کا امن ، مہمان نوازی ، ایک دوسرے کا احترام ، دشنام طرازی اور تشدد پسندانہ طرز عمل سے پرہیز انہیں تمام شہریوں سے ممتاز بناتی ہے ۔ اور یہی وہ تاج ہے ۔ جو چترالیوں کے سر پر برسوں سے سجا ہوا ہے ۔ جوکہ اعلی ملکی حکومتی سطح پر اور بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔ گو کہ بہت سارے نوجوان چترالی خود یہاں کے لوگوں کی نرم مزاجی اور شرافت کو ان کی کمزوری قرار دیتے ہیں ۔ مگر یہ بات حقیقت ہے ۔ کہ چترال کے لوگ نہ صرف دوسروں کو عزت دینے والے لوگ ہیں ، بلکہ دوسروں سے بھی عزت افزائی و قدردانی کی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں ۔

چترال کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے ۔کہ آ ج چترال کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے نوجوان ضلع سے باہر مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔اور اسی طرح بڑی تعداد میں چترالی کاروبار ملازمت اور محنت مزدوری کیلئے گھروں سے باہر ہیں ۔ جو چترال کے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان کا مثبت کردار چترال کی عزت افزائی اور ترقی کا سبب بن سکتا ہے ۔ اور منفی طرز عمل خود ان کیلئےاور چترال کیلئے بدنامی کا باعث ہو سکتی ہے ۔

گذشتہ چند سالوں کے دوران اگر چترال کے لوگوں کے طرز عمل کاجائزہ لیا جائے ۔ تو چترالیوں کی خوبیوں سے بھر پور تہذیب و ثقافت کے بارے میں غیر چترالیوں کے رائے مسلسل بدلتی نظر آ رہی ہے ۔ اور بہت سارے غیر چترالی لوگ چترال کی موجودہ نسل کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ یہ چترال کے لوگوں خصوصا نوجوان نسل کا مختلف کلچر کے لوگوں کے ساتھ نشست و برخاست کا اثر ہو سکتا ہے ۔ تاہم بڑی تعداد میں لوگوں کا خیال ہے ۔ کہ سیاست اور سیاسی نعرے اس حد تک کلچر کو متاثر کر چکے ہیں ۔ کہ اب چترال کا نوجوان نسل اس رو میں بہہ کر احترام و ادب کا دامن چھوٹ جانے پر ندامت کی بجائے نہ صرف فخر محسوس کرتا ہے ۔ بلکہ اپنے مسائل کے حل کیلئے اسے تریاق سمجھ بیٹھا ہے ۔

گزشتہ روز لاھور میں چترالیوں کے کلچر نائٹ میں مبینہ طور پر ایک ایسا غیر شائستہ گانا گایا گیا ۔ جو” ڑاغ پٹاکوش اور ڑاغ ڑاغ ” کی آ وازوں سے گونج رہا تھا ۔ یہ میرے خیال میں دانستہ طور پر ایک پارٹی کے لیڈر کو جس نے اپنے گز شتہ ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں 32 ارب روپے خرچ کرکے لواری ٹنل کو مکمل کیا اور 22 ارب روپے گولین ہائیڈل پاور اسٹیشن پر خرچ کرکے اسے تکمیل تک پہنچایا ۔ اور مجموعی طور پر چترال پر 60 ارب روپے خرچ کئے ۔ کے خلاف انتقامی رویہ تھا ۔ بصورت دیگر چترال کے قدیم و جدید گا نوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے ۔ ڑاغ پٹاکوش گانے کی کیا ضرورت تھی۔

قطع نظر اس کے کہ کون اچھا ہے ۔ کون برا ، ہمیں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے ۔ اور چترال کے لوگ تو پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہیں ۔ اور یہی شائستگی ، اخلاق ہمارا سب کچھ ہے ۔ جسے اگر ہم اندھی تقلید یا دوسروں کے بہکاوے میں آ کر گنوادیں گے ۔ تو اپنے آ باؤ اجداد کی صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت کی تباہی کے ہم ذمہ دار ہوں گے ۔ اور اس کا خمیازہ ہمیں بدترین طور پر بھگتنا ہوگا

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
97663