The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کھو قومیت و ثقافت اور کھوار زبان کو لاحق خطرات – تحریر صوفی محمد اسلم

کھو قومیت و ثقافت اور کھوار زبان کو لاحق خطرات – تحریر صوفی محمد اسلم

قوموں کی پہچان ثقافت سے ہے۔ ہر قوم کی الگ ثقافت ہوتی ہے۔ کسی قوم کی ثقافت کبھی ہو بہو دوسری قوم کی ثقافت نہیں ہوتی ہے البتہ ثقافت پر دوسری قوموں کی اقدار کا اثر ضرور ہو سکتا ہے۔ ثقافت انسان کا اظہار ہے۔

چترال میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سوشل اور پرنٹ میڈیا پر تسلسل کے ساتھ کھو قومیت کی شناخت، کھو ثقافت اور کھوار زبان کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں چند عناصر مہم چلاتے ہوئے نظر اتے ہیں جوکہ ہم چترالیوں کیلئے باعث پریشانی ہے۔ صدیوں سے جو چیز ہمیں اتحاد اور اتفاق سے جوڑے رکھا ہے آج ہمارے بیج اسی بندھن کو توڑنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ آج ہمیں چترال سے باہر کوئی پہچانتے ہیں تو ہمارے قومیت، ثقافت اور اسی کھوار زبان کی وجہ سے ۔ آج ہم قلم پکڑنے کے قابل ہو کر اپنے شناخت خود مٹتے دیکھ کر خاموش رہنا انتہائی افسوس ناک ہے۔

ریاستی دور میں چترال کو چھترار ، چترالیوں کو کھو ،ریاستی و قومی زبان کھوار اور کھو ثقافت رائج تھا۔ انگریزوں کے آمد کے بعد بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی۔ البتہ تحریر فارسی اور انگریزی میں کی جاتی تھی۔چترال 1947 کو ہندوستان کی برطانوی کالونی کی تقسیم کے بعد، شاہی ریاستوں کو پیشکش کے بعد چترال کے مہتر نے پاکستان میں الحاق کیا اور اس طرح چترال پاکستان کی شاہی ریاستوں میں سے ایک بن گیا۔اسی دور میں بھی کھوار اور کھو ثقافت کو ترقی ملی۔ 1969 میں اسے چترال کے انتظامی ضلع کے طور پر پاکستان میں مکمل طور پر ضم کر دیا گیا۔

chitraltimes chitral town zargrandeh

ثقافت اور زبان کے اعتبار سے چترال میں تین بڑے برادری قدیم ایام سے آباد ہیں کلاش ، گجر اور کھو۔ ان کے اپنے زبان اور ثقافت ہیں۔ کلاش بمبوریت ، بریر اور رمبور میں آباد ہیں۔ کلاشہ انکے قومیت،مذہب، ثقافت اور کلاشوار کو اپنی میراثی زبان مانتے ہیں۔ اسی طرح گجر قومیت بھی اپنا کلچر و الگ زبان رکھتے ہیں اور پریکٹس کرتے ہیں۔ ارندو میں پٹھان ہیں اور مداک لشٹ اور بروغل میں چند فارسی بند لوگ اباد ہیں جو اپنا الگ کلچر اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ قومیت کھو ثقافت اور کھوار زبان کو اپنا زبان اور ثقافت نہیں مانتے ہیں کیونکہ انکا اپنا الگ زبان اور ثقافت ہے جو کہ ہمارے لئے قابل عزت اور انکے وجود کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ان کے علاوہ بقایا کو کھو یا چترالی کہتے ہیں ۔ کھو کے بارے میں روایت ہے کہ یہ تورکہو موڑکہو کا قدیم قومیت، زبان و ثقافت ہے۔ کھو قوم پھیلتے پھیلتے چترال کے دربار سے ہو کر لٹکوہ ،دروش اور غذر تک پھیل گئے۔ اب چترال کے 60 فیصد قومیت میں کھو جبکہ 100فیصد لوگ کھوار بولتے ہیں۔ انکے اپنے ایک خوبصورت ثقافت ہے جسے کھو ثقافت کہتے ہیں ۔ جسے پاکستان کے ثقافتوں میں منفرد مقام رکھتا ہے۔

کھو ثقافت میں اگر پہناوا کی بات کی جائے تو سر پر کپھوڑ(جو چترالی ٹوپی کے نام سے بھی مشہور ہے) ،عورتوں کے سروں دوپٹہ ، شلوار قمیص، شوقہ بعض چوغہ کو بھی شامل کرتے ہیں، اونی کوٹ ، واسکٹ، کاوش اور اون کے بنے بنیان اور جرابیں۔ “کون” اور” جانوروں کے کھال بھی پہنا کرتے تھے اسے پہنے کی خاص وجہ غریب اور کپڑوں کے عدم دستیابی تھا ۔ جن کے پاس پہنے کیلئے کچھ نہ تھے وہ” کون” کھال کے بنے کپڑے” پہنا کرتے تھے مگر اکثریت خاص کرکے جو مہتر کے درباری اور گائوں میں امیر لوگ تھے “کاوش، شلوار قمیض اور شوقہ” پہنتے تھے۔

chitral town with fort scaled

کھو ثقافتی خوراک اور مشروبات کے اعتبار سے بھی ریچ ثقافت میں شمار ہوتا ہے۔ دودہ، گوشت،گندم سے سینکڑوں قسم کے خوراک تیار کیا جاتا ہے جیسا کہ خیستہ شاپک،برٹ، چئے ٹیکی، سناباچی، شوپینک،پہینک، لاژک، شولہ، غلمندی، چھیرا شاپک، ایوکن ریشوک،، شوشپ، کاڑی، ڑیگانو جبکہ مشروبات میں تروپ چائے، لسی، چمبوروغ،یخنی شامل ہیں ۔

ایک سنگل خوراک کو اور بھی نام اور اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جیسے شوشپ کے کئی اقسام ہیں ژوڑ شوشپ، ٹاربٹ شوشپ، شوشپڑاکی، چوچو شوشپ وغیرہ۔

اس کے علاوہ غربت کے زمانے میں پیٹ بھرنے کیلئے جو بھی چیز ملتا تھا کھالیتے تھے جیساکہ ڈوڈو۔ جوکہ اکثر گھرانوں میں کھانے کا روج نہیں تھا۔اسی طرح اور بھی بہت سے ایسے خوارک ہیں جو افلاس اور غربت کی وجہ پیٹ بھرنے کیلئے تیار کیا جا تا تھا جو کسی صورت ثقافتی خوراک میں شامل نہیں ۔

موسیقی میں ستار، ڈف،دول، دمامہ،جیرکن ،بیڑو،سورنئے۔ کھو ثقافت میں گانے اور عزل میں بہت امیر سمجھی جاتی ہے ، گانوں میں اشورجن، دنی،سوز، وغیرہ اور ناچ ناچتے کے بھی بہت سے اقسام ہیں جیسا کہ بروزی,کہنگورا پونیک، ششتووار، نوختیک، پہستوک،شبدراز، اور تاتاڑی وواڑی وغیرہ۔

کھیلوں میں استور غاڑ، بوڈی دیک، پٹیک دیک، نیزہ بازی ،کہنگور بازی، شت دیک، کھشیر غاڑ، کالورانو،اڑیانو، توتیرانو، تونیشانو اور غوڑیانو شامل ہیں۔اسی طرح گھوڑ، شاہیں ، پھیڑ بکریاں، گائے پالنا بھی شامل ہیں۔ عورتوں کی کھیلوں میں شپیر کیڑی، پئے دریک، کھوشنابیلی اور ہوبگئے شامل ہیں۔

chitrali bazar peshawar1 scaled

رہن سہن میں پیار محبت، تابعداری، وفاداری، بھروسے مندی، مہمان نوازی، شرافت، جائینڈ فیملی سسٹم ، بڑوں کی عزت و احترام شامل ہیں ۔اس طرح اپنا ثقافتی و رسمی ایام ہیں شادی بیاہ بھی دوسروں سے بہت مختلف اور خوبصورت ہیں۔ جو کسی اور ثقافت کا محتاج نہیں ۔گھروں میں راتھنی اور بیپش شامل ہیں ۔ گھر سردی کو مد نظر رکھتے ہوئے منفرد انداز میں تعمیر کیا جاتاہے۔ ہمارے ثقافت میں اتنے سب کچھ ہونے کے باجود انتہائی افوس سے کہنا پڑھتا ہے کھو ثقافت کی بربادی میں ہمارے ہی لوگوں کا ہاتھ ہے۔

ایک مضمون دیکھ رہا تھا صاحب کہہ رہا تھا کہ ثقافت کوئی منجمد چیز نہیں اس میں وقت کے ساتھ تبدیلی لائی جاسکتی۔ یہ بات درست ہے ثقافت منجمد نہیں مگر اس میں تبدیلی کی کیا ضرورت آن پڑی ، کیا ہماری ثقافت کسی اور کلچر کا محتاج ہے اگر ہے تو واضح کرے۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ عورتوں کی ناچ ناچنا ہمارے ثقافت میں نہیں اگر یہ آپ کو اور وقت کی ضرورت ہے کہ ہمارے بچیوں کو ثقافت کی ترقی کیلئے ناچنا ضروری ہے تو ہمیں ایسے ترقی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے بچیوں میں ابھی تک شرم حیا باقی ہیں اور نہ ہی اپنی مقام سے اتنے گرینگے ہیں ۔

chitraltimes shandur festival polo chitral 2

ایک اور صاحب اپنے لمبے چوڑے مضمون میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ نہ کھو قوم ہے نہ کھوار نام کا کوئی زبان ہے۔ بھائی ہم کھو قوم ہیں اور ہمیں اس پر ناز ہے۔ ہمارے باپ دادا ہمیں یہی بتاتے ائے ہیں کہ ہم چترالی کھو ہیں۔ ہم صدیوں سے کھو اور کھوار کی باتیں کرتے ارہے ہیں اور عدد رئیس سے یہی کھوار چلی ارہی ہے۔اگر آپ اس بات سے پریشان اور بعض ہے کہ یہ توکھو اور موڑکھو سے منسوب نام ہے تو تم کوں ہوتے ہیں ہمارے معاملات میں مداخلت کرنے والا۔ اگر تو کھو نہیں تو کوں ہیں آپ اور تمہارا زبان و قومیت کیا ہے ۔ اپنے ساتھ اپنا زبان اور ثقافت کیوں نہیں لایا ۔ جب تک چترال ہے کھو قومیت و ثقافت اور کھوار زبان رہے گا۔

یہ نام چترار بھی کھو قومیت اور کھوار زبان کا لفظ ہے۔ ہمیں اس کو تبدیلی کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے یہ وہ قومیت، ثقافت اور زبان ہے جو سارے چترالیوں کو پہچان بخشا ، عزت بخشی آج ہمیں جو پہچانتے ہیں ہمارے قومیت، زبان اور ثقافت کی وجہ سے۔ یہ بات درست ہے چترال میں کھو کے علاوہ اور قومیت بھی اکر اباد ہوئے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انہیں یہ حق دینگے کہ ہمارے زبان اور ہمارے ثقافت کو نقصان پہنچائے۔ جو لوگ یہ کوشش کرتے ہیں وہ سراسر زیادتی اور حسد کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

chitraltimes youth polo festival chitral1

یہ یاد رکھیں کہ کسی سماجی گروہ میں صرف ایک مونو کلچر کو قبول کرنے سے خطرات کو برداشت کیا سکتا ہے، ایک واحد نوع تبدیلی کے لیے عملی ردعمل کی کمی کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی کے سامنے مرجھا جاتا ہے۔ سماجی گروہ کے لیے فرض ہے کہ اپنی عزت کیلئے ثقافتی تصادم میں وفاداری کے تسلسل کو عملی و ردعمل کے طور پر پیش کرے۔

میں بحیثیت ایک شہری عوام، اہل قلم، انتظامیہ ، سیاسی و قومی رہنماؤں اور شاہی خاندان سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ کھو ثقافت اور کھوار زبان کی تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی اور ان پر پابندی لگانے کی اشد ضرورت ہے جو کھو قومیت،ثقافت اور کھوار زبان کے نام لیکر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں آخر میں جناب ڈاکٹر عنایت اللہ فیاضی صاحب اور سوشل میڈیا میں ان جوانوں کا انتہائی مشکور جو کھوار زبان کی دفاع میں مضمون ،کمنٹس کی صورت میں ان لوگوں کی مذموم کوششوں کو خاک میں ملا رہے ہیں۔

وماعلینا الاالبلاغ

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
69652