The Voice of Chitral since 2004
Monday, 25 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کھلا خط – بنام ڈپٹی کمشنر اپر چترال

کھلا خط – بنام ڈپٹی کمشنر اپر چترال

جناب ڈپٹی کمشنر صاحب
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
اميد ہے کہ آپ بخير و عافیت ہوں گے۔ اللہ آپ کو خوش و خرم رکھے!

میں اس تحریر کی وساطت سے آنجناب کی توجہ ایک عوامی مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ وادی تریچ کو اپر چترال اور ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی واحد سڑک تریچ روڈ کافی عرصے سے آں محترم کی نگاہ عنایت کی منتظر ہے۔ ہماری معلومات کی حد تک محکمہ سی این ڈبلیو اور ٹھیکدار کی ملی بھگت سے اس روڈ پر توسیع اور مرمت کا کام تاخیر کا شکار ہو گیا تھا۔ اور مختص شدہ خطیر رقم کرپشن کی نظر ہوگی تھی.

اس نا انصافی پر علاقے کی نمائندہ تنظیم “تریچ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن” نے آپ کو داد رسی کی درخواست دی تھی۔ جس پر آپ نے اے ڈی صاحب کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر ایک اچھا اقدام کیا تھا، جس پر اے ڈی فنانس اینڈ پلاننگ نے موقع ملاحظہ کیا، اس موقع پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے نمائندے، علاقے کے منتخب نمائندگان اور عمائدین علاقہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انتظامیہ نے عمائدین علاقہ کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا جس کی رو سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو ایک ہفتے کے اندر تریچ روڈ پر کام کا آغاز کر کے کئی حساس مقامات پر روڈ کی توسیع کے ساتھ ساتھ جہاں ملبہ گر کر راستہ تنگ ہو چکے ہیں ان کی صفائی کو بھی یقینی بنائے گا۔ مذکورہ تحریری معاہدے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ متعلقہ ٹھیکدار کام کا آغاز آخری سرے سے کر ے گا۔

کافی تاخیر کے بعد جب کام شروع کیا گیا تو ٹھیکدار نے کام کے آغاز ہی میں معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آخری سرے سے کام شروع کرنے کی بجائے زوندرانگرام سے کام کا آغاز کیا۔ اس کے بعد مسلسل مذکورہ تحریری معاہدے کی دہھجیاں اڑاتے ہوئے نشان دہی کردہ جگہوں میں توسیع سے انکار کر کے عوامی جذبات سے کھیلنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

محترم ڈی سی صاحب! ہمیں اس بات پر حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے کہ انتظامیہ خود عوام کے ساتھ تحریری معاہدہ کرنے کے بعد ٹھیکدار کی طرف سے مسلسل اس معاہدے کی خلاف ورزی پر صرف تماشائی کا کردار اد کر رہی ہے۔ اسی صورت حال کا سامنا ہمیں تورکھو روڈ کے حوالے سے بھی کرنا پڑا تھا۔ جس کی وجہ سے کوئی اور نہیں بلکہ آپ کے اپنے اہل تریچ و دیگر عوام شدید اذیت اور ذہنی کوفت سے دو چار ہیں۔ سڑک کے اس مخدوش صورتحال کی وجہ سے سخت مصیبت جھیلنی پڑتی ہے۔

مکرمی! مرمت اور توسیع کے اس کام میں تاخیر، اور انتظامیہ کی طرف سے کی گئی تحریری معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی ٹھیکدار کی غفلت اور مسلسل لا پرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اس پر مستزاد یہ کہ عوام کے ساتھ یہ مزاق ضلعی انتظامیہ کی طرف سے تحریری معاہدے کی موجودگی میں ہو رہا ہے۔ ہم اس بے حسی پر آپ ہی بتائیے کس سے شکوہ کناں ہوں؟ اور کس سے منصفی چاہیں؟

اس سڑک کی مرمت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کرائی گئی اس تحریری معاہدے کو دیکھ کر جو خوش کن امید بندھی تھی، اب وہ سراب ہوتی جا رہی ہے۔ آج تریچ بالا کی عوام نے سطح سمندر سے 3330 میٹر بلندی سے انتہائی شدید سردی میں احتجاج کر کے تریچ پائن تک آکر ٹھیکدار سے وعدہ فردا لے کر واپس گئی ہے۔
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

جناب عالی! آپ جیسے قابل افسران سے ہی اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ آپ اس سلسلے میں اپنے ہر قسم کے اختیارات کو بروئے کار لا کر اس دیرینہ خواہش کی تکمیل اور اس انتہائی اہم فریضے کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ آپ میری اس عرضداشت کو قابل اعتناء سمجھ کر عوامی نوعیت کے اس حساس مسئلے کو مکمل طور پر اور پوری ذمہ داری سے جلد از جلد حل کروانے کیلئے مؤثر اقدامات کریں گے، اور متعلقہ ذمہ داران کو اس سڑک پر ادھورا کام عوامی ڈیمانڈ کے مطابق مکمل کرنے کا پابند بنائیں گے۔
اللہ پاک ہر کار خیر میں آپ کا حامی و ناصر ہو اور ہر شر سے آپ کو محفوظ رکھے۔ آمین!

والسلام

فقط آپ کا خیر اندیش
عبدالحی چترالی

chitraltimes terich road

Posted in تازہ ترین, خطوطTagged
96254