The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 26 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کچھ تو ادھر بھی …………محمد شریف شکیب

خبر آئی ہے کہ بہاول نگر کا ایک غریب مزدور راتوں رات چار ٹیکسٹائل ملوں کا مالک بن گیا۔ نجی اسٹیٹ کمپنی میں ماہانہ پندرہ ہزار روپے کی تنخواہ پر کام کرکے کرائے کے دو کمروں پر مشتمل گھر میں رہنے والے سلیم فیروز بھٹی کو اس وقت اپنے کروڑ پتی ہونے کا علم ہوا۔ جب ایف بی آر والوں نے انہیں ٹیکس جمع کرانے کا نوٹس بھیج دیا۔ قبل ازیں کراچی کا فالودہ فروش، جھنگ کے سرکاری سکول کا طالب علم، ٹنڈو محمد خان کا دھوبی اور لاہور کا رکشہ ڈرائیور کروڑ پتیوں کی صف میں آچکے ہیں۔ پشاور کے ایک اسپتال کی خاتون ٹیلی فون آپریٹر بھی راتوں رات کروڑ پتی بننے والوں میں شامل ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ اس کے خلاف فائلوں کی پوری گٹھڑی کھول دی گئی ہے۔ کروڑ پتیوں کی اس فہرست میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ بعض لوگ روزانہ کی بنیاد پر اپنے بینک اکاونٹ چیک کرنے لگے ہیں کہ ان کے اکاونٹ میں کسی مخیر نے لاکھوں کروڑوں روپے جمع تو نہیں کروائے۔ کچھ لوگ شیخ چلی کی طرح راتوں رات کروڑ پتی بن کر اس غیبی امداد سے پراپرٹی، گاڑیاں خریدنے اور غیر ملکی کرنسی کا کاروبار شروع کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا۔ کہ جن لوگوں کے اکاونٹ میں کروڑوں روپے منتقل کئے گئے ہیں۔ اس میں سے انہیں کچھ ملے گا یا نہیں۔ اور چار ٹیکسٹائل ملوں کا مالک بننے والا سلیم اسٹیٹ ایجنسی میں ہی مزدوری کرتا رہے گا یا ایک آدھ فیکٹری اسے انعام کے طور پر دی جائے گی۔ایجنسیاں اور سرکاری ادارے ہنوز عوام کو نہیں بتارہے کہ غریبوں کے اکاونٹس میں کروڑوں روپے جمع کرانے والے حاتم طائی کون ہیں۔ اس دولت کو غریبوں سے چھین کر کہاں لے جایاجائے گا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہ غیبی امداد وہ دولت ہے جو متمول لوگ ملک سے باہر لے جانا چاہتے تھے۔ لیکن پابندیاں سخت ہونے کی وجہ سے انہیں گمنام لوگوں کے نام پر چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اگر کسی نے نیک نیتی اور خوف خدا کے جذبے کے تحت اپنی دولت غریبوں پر لٹانے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو ایسے غریب پرور لوگوں کے بارے میں سب کو پتہ چلنا چاہئے تاکہ دوسرے دولت مند وں میں بھی غریب پروری کا جذبہ پیدا ہوسکے۔جو بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ کچھ لوگ خاموشی سے نیکی کرنے کے عادی ہوتے ہیں تاکہ ایک ہاتھ سے دیدیں تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ ایسے مخیر اور خداترس لوگوں کی معاشرے میں کمی نہیں۔ شاید معاشرے کا نظام بھی ایسی ہی شخصیات کی بدولت چل رہا ہے۔ وگرنہ یہاں ہر چوک پر سفید پوش لٹیرے کھڑے ہیں جو ہماری ہی جیب کاٹ کر اس میں سے چند ٹکے ہمیں انعام کے طور پر دیتے ہیں تو ہم ان کے گن گاتے نہیں تھکتے۔ اب اگر انہوں نے پکڑے جانے کے ڈر سے لوٹی گئی دولت غریبوں کے اکاونٹس میں ڈالنا شروع کیا ہے تو اس رجحان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ ایف بی آر اور ایف آئی اے والے یوں پے در پے ان پر یلغار کریں گے تو نیکی کا یہ کام ختم ہونے کا خدشہ ہے۔اس ملک میں ہزاروں لاکھوں ڈاکو موجود ہیں اور ہزاروں گذر چکے ہیں لیکن سلطانہ ڈاکوکا نام آج بھی غریب لوگ بڑی عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امیروں کو لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتی تھی ۔جن لوگوں کو سلطانہ نے لوٹا تھا۔ وہ لوگ سلطانہ کے اس عمل کو سراسر زیادتی ، ظلم اور ڈاکہ قرار دیتے ہیں لیکن لوٹے گئے مال سے جن کے چولہے جلتے تھے وہ اسے نیکی اور عین عبادت قرار دیتے تھے۔ بہتر ہے کہ نیکی بدی، گناہ ثواب،سزا و جزا، جنت و دوزخ اور حساب کتاب کا کام اللہ تعالیٰ پر چھوڑدیا جائے۔ اور اپنے دامن کے داغ صاف کرنے پر ساری توجہ مرکوز رکھی جائے تو ہمارے بہت سے معاشرتی اور معاشی مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں۔ فتووں کی دکانیں بند کرکے اگر ہم اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانا اپنا مشن بنالیں تو ہماری دنیا اور عاقبت سنور سکتی ہے۔ شاعر کی یہ نصیحت کا تذکرہ تو ہم اپنی تقریروں کو جذباتی بنانے کے لئے اکثر کرتے ہیں کہ ’’ کرو مہربانی تم اہل زمین پر۔ خدا مہرباں ہوگا،عرش برین پر‘‘ لیکن اہل زمین پر زمین تنگ کرنے کے سوا ہمیں کوئی کام نہیں آتا۔ نیتوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ اگر قومی وسائل لوٹنے والوں نے گڑگڑا کر اللہ نے معافی مانگ لی ہے اور گناہوں کے کفارے کے طور پر کسی غریب کے اکاونٹ میں کچھ پیسے ڈالتے ہیں تو کسی کے پیٹ میں مروڑ نہیں اٹھنی چاہئے۔ مخیر خواتین و حضرات کی نظر التفاف کے ہم جیسے ہزاروں بھی منتظر ہیں۔ ’’ اوروں کی طرف پھینکتے ہیں گل بلکہ ثمر بھی۔ اے خامہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی۔۔۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
15055

کچھ تو ادھر بھی……………. محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا حکومت نے خپل کور ہاوسنگ سکیم کے نام سے سرکاری ملازمین کے لئے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منصوبے کی تفصیلات کا اعلان کرتے ہوئے ہاوسنگ سے متعلق وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد علی نے بتایا کہ جلوزئی ہاوسنگ اسکیم نوشہرہ، ملازئی سکیم پشاور، حویلیاں ٹاون شپ ایبٹ آباد اور جرما ہاوسنگ سکیم کوہاٹ میں پانچ، سات اور دس مرلے کے پلاٹوں پر مکانات کی تعمیر کے لئے سرکاری ملازمین کو آسان شرائط پر قرضے بھی فراہم کئے جائیں گے جو بیس سال تک واجب الادا ہوں گے۔ آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے لئے دو نجی بینکوں سے معاہدہ طے پاگیا ہے جبکہ نیشنل بینک اور ہاوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن سے بھی اس سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔پانچ مرلے کا مکان بنانے کے لئے اٹھارہ لاکھ، سات مرلے کے لئے پچیس اور دس مرلے کے لئے تیس لاکھ روپے کا قرضہ دیا جائے گا۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ خپل کور ہاوسنگ سکیم کی بدولت سرکاری مکانات کے حصول کے لئے دباو میں کمی آئے گی، مارکیٹ میں مکانات کے کرایوں اور قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ ملازمین اپنے مکانات بناکر کرائے پر چڑھادیں تو انہیں اضافی آمدنی حاصل ہوگی اور ان کی جائیداد کی قیمت میں بھی روز افزوں اضافہ ہوگا۔سرکاری ملازمین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور مکانات بنانے کے لئے قرضوں کی فراہمی حکومت کا قابل ستائش اقدام ہے۔ صوبے کی تین کروڑ پانچ لاکھ 23ہزار کی آبادی میں سرکاری ملازمین کی تعداد چار لاکھ ہے۔قومی وسائل سے صرف سرکاری ملازمین کو فائدہ پہنچانے کے بجائے اگر حکومت یہ سہولت معاشرے کے پسماندہ طبقات کو بھی فراہم کرے گا۔ تو غربت کی شرح کم کرنے اور لوگوں کو معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس معاشرے میں ایسے طبقات بھی ہیں جو اب تک حکومت کی توجہ حاصل نہیں کرسکے۔ جن میں معذور افراد بھی شامل ہیں۔ذہنی اور جسمانی طور پر معذور ان شہریوں کے لئے تعلیم ، صحت اور روزگار کی فراہمی کے لئے حکومت نے کوٹہ تو مقرر کیا ہے لیکن اس کوٹے کو عموما چہیتوں کو نوازنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ معذور افراد میں ہزاروں ایسے بھی ہیں جو اپنے خاندانوں کے کفیل ہیں۔ ان کو ہاوسنگ سکیموں میں پلاٹ اور مکان بنانے کے لئے آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے سے ہزاروں مستحق خاندانوں کا بھلا ہوگا۔ اس صوبے میں زلزلوں ، سیلاب، جنگوں، قدرتی اور انسانی آفات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ ان کی آبادکاری اور بحالی بھی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ نجی اداروں میں معمولی تنخواہوں پر کام کرنے والے اور دیہاڑی دار مزدور بھی اس معاشرے کے پسماندہ طبقات میں شامل ہیں لیکن حکومت کی کسی فلاحی اسکیم میں ان بدقسمت طبقات کو حصہ نہیں دیا جاتا۔ ایک فلاحی ادارے نے کچھ عرصہ قبل سیلاب سے بے گھر ہونے والے درجنوں خاندانوں کے لئے پشاور میں ارزاں نرخوں پر پلاٹ لے کردیا۔مگر گذشتہ تین سالوں سے یہ مفلوک الحال متاثرین آسان شرائط پر قرضوں کے لئے مارے مارے پھیر رہے ہیں۔ اورقرضہ نہ ملنے کی وجہ سے چھت کی سہولت سے محروم ہیں۔ حکومت ان متاثرین کو بھی آسان شرائط پر قرضہ فراہم کرنے کے لئے اقدامات کرے تو بہت سے بے کسوں کا بھلا ہوگا۔سرکاری ملازمین بھی اسی صوبے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ انہیں مراعات مل جائیں تو لاکھوں خاندانوں کی مالی حالت بہتر ہوگی۔ لیکن قومی وسائل صرف سرکاری ملازمین پر لٹانا کہاں کا انصاف ہے۔جبکہ وہ اچھی خاصی تنخواہیں اور دیگر بے شمار مراعات کے پہلے سے حق دار ہیں۔قومی وسائل پر پوری قوم کا حق ہے۔ اس صوبے کے غریب اور پسماندہ طبقات تحریک انصاف کی حکومت سے انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سب کے ساتھ یکساں انصاف کیا جائے۔ یہ غریب مزدور، محنت کش، معذور افراداور خواجہ سراء بھی اسی صوبے کے باسی ہیں۔ وہ بھی قومی وسائل میں حصہ ملنے کے اتنے ہی حق دار ہیں۔ جتنا حق گورنر، وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، معاونین، مشیروں، اراکین اسمبلی، منتخب نمائندوں، اعلیٰ و ادنیٰ افسراں اور سرکاری ملازمین جتاتے ہیں۔ ان پسماندہ طبقات کی بس یہی آرزو ہے کہ حکومت بیشک اپنے چہیتوں پرپھول نچھاور کرے اور پھلوں کے ٹوکرے بھی انہیں تحفے میں دیدے ۔لیکن کچھ بچا کھچا ان کے لئے بھی بچا کر رکھے تاکہ ان کے جسم و جان کا تعلق برقرار رہ سکے۔۔بقول شاعر

اوروں کی طرف پھینکتے ہیں گل بلکہ ثمر بھی
اے خامہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
7633