The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام نوکر شاہی …تقدیرہ اجمل رضاخیل

بہت سے صحافی اور دانشور جو مختلف سیاسی جماعتوں کی ترجمانی کرتے ہیں اکثر سوال اُٹھاتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستان کے متعلق اچھا تاثر نہیں جا رہا۔ یہی سوال ان اہل علم و قلم سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ اچھا تاثر علم و قلم کے ذریعے ہی پھیلایا جاتا ہے۔ جبکہ ہماری صحافت اور دانش کا بڑا حصہ ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محض غلط تاثر دینے اور اپنے ہی ملک کی بدنامی کے لیے بڑی بڑی تنخوائیں لیتا ہے۔ بہت سے خود ساختہ دانشور رات آٹھ سے نو بجے کے دوران اپنے آقاؤں کے مفاد میں جو سخن وری کرتے ہیں بدلے میں پچاس سے ساٹھ لاکھ ماہانہ اور کروڑوں کی مراعات لیتے ہیں۔ پاکستان، اسلام، نظریہ پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ہر بولے اور لکھے جانے والے لفظ کی قیمت ہے۔ ہمارے اہل قلم و علم، خواتین و حضرات اپنے قلم اور علم کی قیمت جانتے ہیں اور کبھی سستے داموں نہیں بکتے۔


ہمارے شاعر اور ادیب بھی اس سلسلے میں کسی سے کم نہیں۔ جناب فیض احمد فیض اور جناب وارث میر کے بچوں نے پاکستان دشمن حسینہ واجد سے تمغے اور تحفے جن کی مالیت خفیہ رکھی گئی لے کر ثابت کردیا کہ پاکستان توڑنے والوں میں محض سیاستدانوں کا ہی نہیں بلکہ ہمارے نامور شاعروں اور ادیبوں کا بھی ہاتھ تھا۔یحییٰ خان محض بے اختیارصدارت کے چکر میں بھٹو اور مجیب کے ہاتھوں بلیک میل ہوا اور سیاستدانوں کے لگائے پھندے میں پھنس کر فوج کو بدنام کر گیا۔ جب تک اس ملک کا تعلیمی نظام بہتر نہیں ہوتا اور سیاست سے کرپشن کا ناسور ختم نہیں ہوتا اور افسر شاہی کی تعلیم، چناؤ اور تربیت کے ساتھ ان کے کام کی نگرانی نہیں ہوتی ریاست کا نظام درست سمت نہیں چل سکتا۔


سیاست میں بنیادی چیز نظریہ ہے۔ عوام کے عقیدے، نظریے، روایات، ثقافت اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہی سیاسی نظریہ پیش کیا جاتا ہے اور پھر سیاستدان ان نظریات کی بنیاد پر عوام کی مرضی کے مطابق حکومت سازی کرتے ہیں اور پیش کردہ نظریے پر ہر حال میں عمل کرکے عوامی ضروریات اور خواہشات کے مطابق ملکی نظام چلاتے ہیں۔


پاکستان خالصتاً نظریہ اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا ہے جس میں کسی غیر اسلامی نظریے کی حامل سیاسی جماعت، گروہ یا تنظیم کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں۔ وہ دینی وسیاسی جماعتیں جنہوں نے کانگرس کی ہمنوائی کی اور مفاداتی سیاست کا جھنڈا اٹھا کر انگریزوں، ہندوؤں اور اپنے مطلب اور مسلک کی خاطر پاکستان کے وجود کی مخالفت کی انہیں بھی پاکستان کے اندر بیٹھ کر مفاداتی سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ جماعتیں آج بھی اپنے مسلک، مطلب، ذاتی و گروہی مقاصد پر قائم ملکی سلامتی کا سودا کرنے کو تیار بیٹھی ہیں۔


عبدالصمد اچکزائی اور باچا خان کی پاکستان مخالف تحریکیں آج بھی زندہ ہیں اور جی ایم سیّد کی تحریک پر ایم کیو ایم نے اپنا نظریہ تخلیق کیا اور ملک کا امن تباہ کر دیا۔ جنرل ضیأ الحق نے ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی اور پھر جنرل مشرف کے طویل دور حکومت میں سیاست اور دہشت کا یہ پودا مضبوط اور گہری جڑوں والا خاردار درخت بن گیا۔ بھارت، برطانیہ، امریکہ اور افغانستان سمیت ساری دنیا کی پاکستان اور اسلام مخالف قوتوں نے اس درخت کی آبیاری کی تو جی ایم سیّد کے سندھو دیش فارمولے پر جناح پور کا نظریہ سامنے آگیا۔
پیپلز پارٹی پہلے سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریہ لے کر آئی اور بعد میں قوم کو چکما دینے کے لئے اسلامک سوشلزم کی اصطلاح اپنالی۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کا کوئی واضع نظریہ، اصول اور منشور ہو۔ ہر سیاسی جماعت لوٹ مار اور عوام دشمنی کے نظریے پر کاربند ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتیں مسلکی بنیادوں پر قائم ہیں اور ان کے مسلکی مراکز بھارت اور جزیرہ نما عرب کی ریاستوں میں ہیں۔ موجودہ دور میں دینی جماعتوں کے مسلکی اور نظریاتی مراکز امریکی بلاک کا اہم حصہ اور گریٹ گیم کا میدان ہیں۔ عرب بہار کے بعد یہ خطہ اُجڑا ہوا دیار ہے اور مستقبل قریب میں کسی بڑے اور ہلاکت خیز طوفان کا منتظر ہے۔


دیکھا جائے تو اس وقت مملکت خداداد نظریاتی، اخلاقی، سیاسی اور انتظامی بدحالی اور منتشرالخیالی کا شکا ہے۔ جس ملک کے ججوں، جرنیلوں، صحافیوں، دانشوروں، سیاستدانوں، حکمرانوں اور ہر سطح کے سرکاری اہلکاروں کے کرپشن، بددیانتی، عہدے اور طاقت کے غلط استعمال، رشوت اور غبن سے کمائے ہوئے اثاثے دوسرے ملکوں میں ہوں تو اس کا وجود قائم رہنا بھی ایک معجزہ ہے۔


اسلامی جموریہ پاکستان کا آئین اور قانون ان وطن دشمنوں کا محافظ اور مدد گار ہے اور عدلیہ کے سامنے کوئی ایسا قانون اور ثبوت نہیں جس کی بنیاد پر کسی ملزم کو مجرم ثابت کیا جائے۔ جس ملک میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں انسانوں کو سیاستدانوں اور سرکاری اہلکاروں کی ہدایت پر قتل کر دیا گیاہو اور قاتل اعتراف جرم کے باوجود رہائی کے منتظر یا پھر اعلیٰ سیاسی اور سرکاری عہدوں پر فائز افراد کے منظور نظر ہوں تو وہاں عدل، جمہوریت، انسانی مساوات اور دینی اقدار کی بات کرنا عدل اور انسانیت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔


عزیر بلوچ اور راؤ انوار میں کیا فرق ہے؟ شاید کسی قانون دان کو بھی پتہ نہیں۔ دونوں ایک ہی معنوی باپ کے بیٹے اور ایک جیسے کام کے ماہر ہیں۔ دونوں کا نظریاتی مرکز ایک ہی ہے مگر قانون اندھا اور عدلیہ خاموش ہے۔ بلدیہ فیکٹری، ماڈل ٹاؤن اور سائیوال ٹال پلازہ پر خون کی ہولی کھیلنے والے معزز اور معتبر ہیں۔ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے باہم اشتراک نے جتنے گھر اجھاڑے، لوگوں کی عزتیں پامال کیں، غریبوں کی زمینیں اور جائیدادیں چھینیں، سرکاری املاک پر قبضے کیئے، جنگلات تباہ کیئے، غنڈہ گردی اور دہشت گردی کے مراکز قائم کیئے، عوام کو خوفزدہ کرکے ان سے ووٹ لئے اس کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتی۔ دیکھا جائے تو یہ سب کرپٹ سیاسی نظام اور شتربے مہار نوکرشاہی کے باہمی اتحاد کا نتیجہ ہے اور عوام بے حسی اور بے یقینی کا شکار اب عقلی اور شعوری قوت سے عاری ہر ظلم و جبر برداشت کرنے کے عادی ہیں۔ چینیوں پر جنگ افیون مسلط کی گئی تو چینی قیادت نے عوام کو متحرک کیا اور طویل جدوجہد کے بعد یہ جنگ جیت لی۔ مگر مملکت خداداد قحط الرجال کا شکار ہے۔ یہاں مریم نواز، منظور پشتین، بلاول زرداری، اختر مینگل، شاہ زین بگٹی اور حمزہ شہباز تو پیدا ہوسکتے مگر سن یات سن، ماؤزے تنگ، چواین لائی اور ڈنگ ژیاؤپنگ جیسے لیڈروں کی کوئی گنجائش نہیں۔


ہمارے ملک کی بیوروکریسی اور سیاستدانوں کا باہم اتفاق ہے کہ کرپشن کو قانونی اور آئینی حیثیت دی جائے اور قومی احتساب بیوروکو ختم کردیا جائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قومی احتساب بیورو احتساب کے نام پر سہولت کاری کا ادارہ ہے جو آج تک کسی بڑے کرپٹ کو سزا نہ دے سکا۔ واجد شمس الحسن نے دنیا کے سامنے سوئٹرز لینڈ سے زرداری اور بینظیر کی کرپشن کا ریکارڈ اٹھایا اور غیب کر دیا۔ سرے محل زرداری کی ملکیت تسلیم ہوا اور فروخت ہوگیا۔ قومی احتساب بیورو سے بھٹو زرداری کرپشن کی فائلیں گم ہوگئیں اور فوٹو کاپیوں پر سزا کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے حکمران خاندان نہ صرف باعزت بری ہوا بلکہ مزید پانچ سال تک حکمران رہ کر بچا کھچا خزانہ بھی لوٹ لیا۔ شریف خاندان کی کہانی بھی مختلف نہیں۔ سرے محل کی جگہ ایون فیلڈز اپارٹمنٹ اور دنیا بھر کے بینکوں میں اربوں ڈالر جمع ہیں جن کا ریکارڈ جناب طاہر القادری کے سوا کسی کے پاس نہیں اور نہ کسی کو اس میں دلچسپی ہے۔ منی لانڈرنگ، کرپشن، قتل و غارت گری اور اندروں ملک شریف خاندان کی ملوں، فیکٹریوں، کاروبار اور اثاثوں کی کوئی حد نہیں۔ یہ سب کیسے بنا اور قانون اس پر کیوں خاموش رہا اس کا جواب نہ سیاستدانوں کے پاس ہے، نہ انتظامیہ کے پاس اور نہ ہی عدلیہ اس پر جواب طلبی کر سکتی ہے۔بہت سے معزز جج شریف خاندان کے وکیل رہ چکے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ میاں شریف کے لوہار خانے میں سونے کی کان کیسے نکل آئی۔


جناب ایس ایم ظفر اپنے کالم “کرپشن اور کریم آن دی سوسائٹی” میں لکھتے ہیں کہ بتائیے اس ملک میں کون کرپٹ نہیں؟ پٹواری کے سامنے ملک کا صدر بے بس ہے۔ پولیس ٹرانسپورٹ میں حصہ دار ہے، ہر سطح کا جرم تھانیدار سے پوچھ کر کیا جاتا ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ عدالتوں میں تاخیر تو پہلے سے تھی اب انصاف بکنے لگا ہے۔ انصاف کے سوداگر دن دیہاڑے اپنا مذموم کاروبار بے خوفی سے چلا رہے ہیں۔ صحافی اپنے قلم کا سودا بار بار کرتے ہیں اور وزیروں کی تو بات ہی انوکھی ہے۔ جس رقم کی انہیں گنتی نہیں آتی اس سے دگنی رقم انہوں نے کمیشن سے کما رکھی ہے۔ ملک کے قائدین کا سرمایہ بطور اندوختہ بیرون ملک رکھا ہے اور وہ مزید سرمایہ ملک سے باہر لے جارہے ہیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر کرپشن کا الزام لگاتی ہیں مگر اندرون خانہ دونوں کرپشن پر متفق اور اسے جائز سمجھتی ہیں۔ عام آدمی پریشان ہے کہ آخر ان اداروں کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جمہوریت غنڈہ گردی اور لاقانونیت کو فروغ دیتی ہے۔ سرمایہ دار نودولیتے، سمگلر، چور اچکے، کارخانہ دار مفاد پرست جمہوریت کی آڑ میں ملک کا سرمایہ لوٹتے اور قانون کی پرواہ کیئے بغیر عام آدمی کا استحصال کرتے ہیں۔ مقننہ اور انتظامیہ ان ہی لوگوں پر مشتمل ہے یا پھر ان کی مرضی کے مطابق کام کرتی ہے۔ عدلیہ کے ہاتھ بندھے ہیں۔ چوٹی کے وکیل جرائم پیشہ عناصر کے مستقل کونسل اور تنخواہ دار ہیں۔ ہر مقدمے کے سو ڈیڑھ سو گواہ ہوتے ہیں اور سالوں بحث چلتی ہے۔ اب پولیس اور پریس کے اختیارات کو بھی امور مملکت کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے اور عام شہریوں کی تکلیف سننا گناہ تصور ہوتا ہے۔


اپنے اسی کالم میں جناب ایس ایم ظفر لکھتے ہیں کہ جس طرح مچھلی پہلے سر سے گندہ ہونا شروع کرتی ہے ویسے ہی معاشرہ اوپر سے کرپٹ ہوتا ہے۔ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ برف پہاڑ کی چوٹی پر پڑتی ہے اور دودھ میں اگر زہر ہو تو اس کی زیادہ مقدار بلائی میں آجاتی ہے۔ سوال کرتے ہیں کہ کیا ہمارے ملک کے صدور، وزرائے اعظم، چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ اور اہم قومی اداروں کے سربراہ بیان کردہ اصولوں کو مسترد کرتے ہیں؟؟؟


کیا بلائی میں زہر جمع نہیں ہوتا۔ مچھلی سرسے گندی نہیں ہوتی اور پہاڑ کی چوٹی پر سب سے زیادہ برف ہیں پڑتی؟ کیا صدر مملکت، وزیراعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور اہم قومی اور ملکی سلامتی کے سربراہان کریم آف سوسائٹی نہیں۔


“قائداعظم ؒکیا سوچتے ہونگے” کے عنوان سے لکھے گئے کالم کی دسویں شق میں لکھتے ہیں کہ زرداری اچانک امیر ہوجائے تو چور کہلائے۔ چوہدری ظہور الٰہی کا خاندان ایک ہی نسل کے درمیان آدھے پنجاب پر تسلط کرلے تو اچھا جہاندیدہ تاجر کہلائے۔ یہ کون سا انصاف ہے۔ جناب ایس ایم ظفر نے بوجہ شریف خاندان کا ذکر نہیں کیا اور شاید ایوبی دور حکومت میں شہرت حاصل کرنے کی وجہ سے یہ لکھنے سے قاصر رہے کہ ایوب خان کے والد صوبیدار میجر تھے تو پوتے فلیڈ مارشل کی زندگی میں ہی ارب پتی کیسے بن گئے۔
اشرف شریف اپنی تصنیف”آؤ پاکستان لوٹیں “میں لکھتے ہیں کہ 1990؁ء ارب پتی گوہر ایوب جو اپنی رنگین مزاجی کی وجہ سے کئی کہانیوں کے تخلیق کار ہیں نے صرف تین سو چھ روپے ٹیکس ادا کیا۔ ایوب خان کی زندگی میں ہی وزیر خزانہ ایم شعیب خان نے گوہر ایوب کو امریکہ کی مشہور فرم جنرل موٹرز کی ایجنسی دلوادی جو جلد ہی گندھارا انڈسٹریز میں تبدیل ہوگئی۔ گوہر ایوب اور ان کے سسر جنرل حبیب اللہ اس کمپنی کے مالک اور ملک کے امیر ترین افراد میں شامل تھے۔ جولائی 1968؁ء میں گوہر ایوب ان اداروں کے چیئرمین تھے جس میں اروبہ انوسٹمنٹ، ہاشمی کین کمپنی، گندھارا انڈسٹری، گوہرحبیب لمٹیڈ اور جانانہ ڈی مالوچہ ٹیکسٹائل ملز شامل تھیں۔ ان اداروں کی مجموعی ملکیت چالیس لاکھ ڈالر تھی مگر کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ سب راتوں رات کیسے بن گیا۔ نہ ایوب خان کے والد کوئی جاگیردار، سرمایہ دار یا کارخانہ دار تھے اور نہ ہی ایوب خان کی ساری زندگی کی تنخواہ، جائز مراعات اور پنشن اتنی تھی کہ وہ کوئی معمولی کارخانہ لگا سکتے۔ فیلڈ مارشل کا گاؤں ریحانہ نواب آف امب اور راجگان خانپور کی جاگیروں کے درمیان واقع ہے۔ امب کی جاگیر تیموری دور اور خان پور کے راجگان سکندر اعظم کی آمد سے پہلے تخت کیان کی نشانیاں تھیں جو اب نہیں رہیں۔ باؤنڈری کمیشن کے ممبر کی حیثیت سے ایوب خان نے بلنڈر کئے جس کی وجہ سے کشمیر اور پنجاب کے اہم حصے بھارت میں شامل ہو گئے۔
سیکرٹری دفاع سکندر مرزا نے ایوب خان کو تو کورٹ مارشل سے بچا لیا مگر خود کو اور پاکستان کو نہ بچا سکے۔
“پاکستان بنام کرپشن عوام کی عدلات میں ” ایس ایم ظفر نے بڑے سنجیدہ سوال اٹھائے ہیں جس کا بنیادی نقطہ جاہل اور کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام بیوروکریسی ہے۔


وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل کی عدالت نے نازی جرمنی کے دور کے ایک اہم ملزم کو اس بنا پر چھوڑ دیا چونکہ عدالت اس نتیجہ پر نہ پہنچ سکی کہ جو شخص عدالت میں پیش ہوا کیا وہ واقعی “ایوان خوفناک” یعنی The terrible Ivan ہے یا نہیں۔ بعد میں ایک یہودی قانون دان نے اس بات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ملزم بے شک بری ہوجائے لیکن مقدمہ ضرور چلنا چاہیے۔ اگر ملزم کو بغیر مقدمہ کے چھوڑ دیا جائے تو یقین جانو جرم جڑ پکڑے گا اور قانون سے زیادہ مضبوط ہوجائے گا۔


نازی جرمنی کے خوفناک مجرم تو روپوش ہوگئے تھے جنہیں ڈھونڈنا مشکل تھا۔ ہمارے قومی مجرم تو کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔ 1947؁ء سے ہی حساب لگا لیا جائے تو ساری سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی کے چہرے سامنے آجائے گے۔ سو سو گواہوں کی ضرورت ہی نہیں۔ صرف ایک عدد جسٹس کھڑک سنگھ اور کرنل مہان سنگھ کی ضرورت ہے باقی کام جلاد کا ہے۔


مشہور براڈ کاسٹر، دانشور اور صحافی جناب صفدر ہمدانی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے ہر ادارے میں صرف پانچ لوگ کام کرتے ہیں اور پانچ ہزار صرف تنخواہ لیتے ہیں۔ وہ پانچ لوگ جو کام کرتے ہیں وہ نہ کرپٹ ہیں اور نہ بددیانت۔ صفدر ہمدانی کا تجزیہ بلکل درست ہے۔ سیاست اور نوکر شاہی میں پانچ فیصد کو چھوڑ کر باقی سب کچرا ہے جسے کچرا کنڈی میں ڈالے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔


سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے گا۔ سیاسی آلودگی کی صفائی الیکشن کمیشن اور بیوروکریسی کا صفایا پبلک سروس کمیشن کا کام ہے جبکہ دونوں ادارے مفلوج اور مفلوک الحال ہیں۔ سول سروس میں ایک چور دروازہ بھی ہے جس کی چابی سیاستدانوں کے پاس ہے۔ چھوٹے گریڈوں میں بھرتی ہونے والے لوگ ایدھر ادھر گھوم کر ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور پھر اعلیٰ اور ہم اداروں کے سربراہ بن جاتے ہیں۔ پبلک سروس کمیشن کا سلیکشن اور پروموشن کا نظام ناقص اور غیر معیاری ہے۔ کارکردگی کا معیار اے سی آر ہے جو اکثر جھوٹ پر مبنی اور رشوت دے کر لکھوائی جاتی ہے۔


مشہور مزاح نگار اور دانشور جناب کرنل اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ میں نے فوج میں رہتے ہوئے بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ اور چھوٹے عہدوں پر بڑے لوگ دیکھے۔ کاش کرنل صاحب مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آباد اور چاروں صوبائی سیکریٹریٹوں کا بھی دورہ کر لیتے تو ان کا مشاہدہ مختلف نہ ہوتا۔


شیخ سعدیؒ لکھتے ہیں کہ نوشیروان عادل شکار کے لیے گیا۔ شکار سے کباب بنانے کا وقت آیا تو نمک نہ تھا۔ کوئی شخص دوڑ کر قریبی بستی میں نمک لینے گیا تو نوشیروان نے کہا قیمت دے کر نمک لیا جائے۔ کسی نے کہا تھوڑے نمک کی قیمت نہ بھی دی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ نوشیروان نے کہا،برائی تھوڑے سے شروع ہوتی ہے اگر ابتدأ میں خاتمہ نہ کیا جائے تو سارے معاشرے کو لپیٹ میں لے لیتی ہے جس کا خاتمہ مشکل ہوجاتا ہے۔


فرمایا کہ اگربادشاہ ایک انڈے کی کرپشن جائز سمجھے تو سپاہ ہزاروں مرغ سیخوں پر چڑھالے گی۔ بادشاہ رعایا کے باغ سے ایک سیب توڑنا جائز سمجھے تو اہلکار سارا باغ تباہ کر دیں گے۔ شیخ سعدیؒ کے قول کی روشنی میں دیکھا جائے توپاکستان کے جمہوری اور آمر بادشاہوں نے سب کچھ جائز سمجھ رکھا اور اہلکار سارا ملک لوٹ کر کھا گئے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
38577

کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام نوکر شاہی….تقدیرہ اجمل رضاخیل

سلاطین دہلی کے دور میں سلطنت دس صوبوں پر مشتمل تھی۔ اشوک اعظم اور اورنگزیب کی سلطنت دریائے آموں سے لے کر بحیرہ عرب، خلیج فارس اور مشرق میں جزائیرغرب الہند اور شمال مشرق میں تبت اور کشمیر تک پھیلی ہوئی تھی۔ شمال میں دردستان، بلورستان اور کاشغر کا علاقہ اشوک کی قلمرو میں شامل تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ اتنی بڑی سلطنت بارہ صوبوں پر مشتمل تھی۔ بدھ اور اشوک کے اقوال اور قوانین چٹانوں پر کندہ تھے اور الواحوں کی صورت میں صوبیداروں اور ماتحت انتظامیہ کے دفتروں میں بھی موجود تھے۔پاٹ شالہ علم و ادب، قانون اور عدل کا مرکز تھا۔

شیر شاہ اور اکبر اعظم کے دور میں ملک میں پندرہ صوبے، جہانگیر کے دور میں سترہ، شاہجہان کے دور میں بائیس اور اورنگزیب کے آخری دنوں میں صوبوں کی تعداد اکیس تھی۔ اس دور میں ہرات پر ایران نے قبضہ کر لیا اور مملکت ایک صوبے سے محروم ہوگئی۔


سلاطین اور مغلیہ ادوار میں تیس لاکھ درسگائیں اور دس ہزار لائبریریاں ملک کے طویل و عرض میں قائم تھیں۔ ہر درسگاہ میں طلبأ اور اساتذہ کی خوراک، رہائش اور وظائف کی ذمہ داری حکومت کی تھی۔ 1641؁ء میں صرف آگرہ کی لائبریری میں پینسٹھ لاکھ کی بیس ہزار کتابیں موجود تھیں۔ شاہجہاں کے دور میں لاہور کے مولانا عبدالحمید نے بادشاہ نامہ لکھا۔ شہزادہ داراشکوہ نے سکنیۃ اولیأ، سفینۃاولیأ، مجمع البحرین، نادر النکات، یوگ وشست اور اُپنشدوں کا فارسی ترجمہ کیا۔ شاہجہان کے دور میں مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی کو ان کی علمی خدمات کے صلے میں دوبار سونے میں تلوایا گیا۔


مغل اور ترک شہزادیوں کی علمی و ادبی خدمات بھی کم نہ تھیں۔ گلبدن بیگم نے ہمایوں نامہ لکھا، زیب النسأ بیگم باکمال شاعرہ اور معلمہ تھیں۔ زیب التفسیر اور تفسیر کبیر کا ترجمہ اس شہزادی کے کارناموں میں شامل ہے۔ جہاں آرأ بیگم نے موس الارواح تحریر کی اور الکندی کی کتاب انسأ پر تبصرہ لکھا۔

مالیے اور معصولات پر نظر ڈالی جائے تو سلاطین کے ادوار میں نوسے گیارہ کروڑ سالانہ آمدنی تھی۔ اکبر کے دور میں ساڑے تیرہ کروڑ، شاہجہان کے دور میں بائیس کروڑ اور اورنگزیب کے دور میں پینتیس کروڑ طلائی اشرفیاں تھیں۔ ملک میں ایک ہزار کپڑے کے کارخانے، دو ہزار ریشم کے کارخانے اورپندرہ سو اونی کپڑے کے کارخانے موجود تھے۔ ہر شہر میں سرکاری منڈیاں تھیں جہاں غلہ اور دیگر اشیأ وافر مقدار میں موجود رہتیں۔ نرخ نامہ بادشاہ کی منظوری سے صوبیدار مقرر کرتے اور ہر صوبے کی پیداوار کے مطابق نرخ نامے منظور کئے جاتے۔ عوام کی ضروریات کا غلہ الگ گوداموں میں رکھا جاتا جبکہ فوج اور سرکاری ملازمین کی ضروریات کا غلہ تبقچی (چیف سیکرٹری) کی نگرانی میں محفوظ کیا جاتا۔ بابر، ہمایوں اور اورنگزیب کے دور میں خوشحالی کے باعث ہندوؤں اور دوسری غیر مسلم اقوام کا جزیہ معاف کر دیا گیا۔ یتیموں، بیواؤں، معذوروں، علمأ اور پجاریوں کی کفالت حکومت کی ذمہ داری تھی۔ تیموری قوانین کے مطابق پیشہ ور گداگروں اور ٹھگوں کے لئے سزائے موت کا قانون تھا۔ فوج اور پولیس کی تنخواہوں کے علاوہ مساجد و مدرسہ، درسگاہ، درگاہ اور مقبرہ و مندر کے اخراجات حکومت برداشت کرتی تھی۔ سڑکوں، فلاحی کاموں، شفاخانوں، حکیموں، سراؤں، اور لنگر خانوں پر حکومت خرچ کرتی تھی۔ مرکز اور صوبوں میں صدقات، خیرات، زکوٰۃ اور عشر کے محکمے قائم تھے جن سے مستحقین کی مدد کی جاتی تھی۔ جس دور میں غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا جاتا اس کی رقم غیر مسلموں پر ہی خرچ کی جاتی تھی۔ مغلوں کے بعد انگریز اقتدار پرقابض ہوئے مگر جاری نظام پر کوئی قدغن نہ لگائی گئی۔ ملک میں رفتہ رفتہ انگریزی قوانین کا اجرأ ہواجس میں مغلیہ اور اسلامی دور کے قوانین کو بھی شامل رکھا گیا۔


فارسی کی جگہ انگریزی زبان، اصلاحات و اصطلاحات نے لی تو بیوروکریسی میں بھی تبدیلی آگئی۔ صوبوں میں گورنر، چیف سیکرٹری، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار اور پٹواری تعینات ہوئے۔ پولیس کا محکمہ از سرے نو قائم کیا گیا۔ تھانیدار، ڈی ایس پی، ایس پی اور بعد میں ڈی آئی جی کے عہدے شامل کئے گئے۔ انگریز ڈپٹی کمشنر اور ایس پی عدل و امن کے پیامبر سمجھے جاتے تھے۔ ایس پی اور ڈی سی پورے ضلعے کا گھوڑے پر دورہ کرتے جن کے ہمراہ حلقے کا پٹواری اور تھانیدار پیدل چلتے۔ وہ لوگوں کی شکایات موقع پر سنتے اور مسائل حل کرتے۔ اگر تھانیدار اور پٹواری کے خلاف شکایت ہوتی تو انہیں موقع پر ہی نوکری سے برخاست کرکے جیل بھجوا دیا جاتا۔ ایسا ہی احوال عدلیہ کا تھا۔ رشوت، سفارش اور قانون کے دائرے سے باہر نکلنے کا کوئی تصور نہ تھا۔ فوجی افسروں، عہدیداروں اور جوانوں کو ان کی بہادری کی وجہ سے اعزازات، مراحات، خطبات اور انعامات ملتے تھے۔ موجودہ دور کی طرح افسروں کو ہر عہدے پر تعیناتی کی خوشی میں کمرشل اور رہائشی پلاٹوں کی صورت میں مبارک بادی اور مٹھائی نہ دی جاتی تھی۔ سول اداروں کا نظام آمرانہ، باغیانہ اور شاہانہ تو ہے ہی مگر فوج میں بھی بریگیڈیئر رینک سے اوپر مراعات، سہولیات اور انعامات کی بارش برستی ہے جیسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جب سیاسی نظام کرپٹ اور نوکر شاہی بے لگام ہو تو وہ اپنے ہم مرتبہ اور ہم نواؤں کا بھی خیال رکھتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اعلیٰ فوجی افسروں اور ان کے منظور نظر ماتحت افسروں کے کاروبار، کوٹھیاں، بنگلے، قیمتی گاڑیاں، پلاٹ، فارم ہاؤس، پلازے اور وسیع و عریض زرعی زمینیں ملک کے اندر ہی ہیں۔ بہت کم ایسے ہیں جو اپنا مال باہر لے کر گئے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو راندہ درگاہ ہوئے اور نشان عبرت بنا دیئے گئے۔


اس سے بھی بدتر احوال سول انتظامی اداروں اور سیاستدانوں کا ہے۔ اب تو صحافی، وکیل، ڈاکٹر،کارخانہ دار اور سرمایہ دار بھی مافیا کی صورت اختیار کر چکے ہیں جن پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ جنرل کیانی کے بھائیوں کے قصے مشہور ہوئے تو صوفی منش صحافی اور ایک عالمی روحانی شخصیت کا مرید ہارون الرشید، کیانی برادران کی عالمانہ، صوفیانہ اور دانشورانہ و کالت کا جھنڈا اٹھا کر میدان میں اتر آیا۔
ہر قصے اور کہانی کا ایک پلاٹ اور پس منظر ہوتا ہے۔ پس منظر اور پیش منظر کے علاوہ کرداروں کے بغیر کوئی کہانی آگے نہیں بڑھتی۔ کیانی کی کہانی تخت کیان سے شروع ہو کر گوجر خان اور پھر اقتدار کے ایوان تک آئی جہاں ایک دانشور جرنیل اور زیرک سیاستدان ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے لگے۔ کیانی برادران کے قصے کے کرداروں کی تصویریں دیکھ کر عدل کے ایوان لرز اٹھے اور قصے کو قصیدہ سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی۔


قصے کے کرداروں میں بڑے بڑے جنات، دیو اور پریاں شامل تھیں جن کے طلسماتی محل سرے محل سے بھی بڑے اور آسٹریلیا کے جزیروں سے زیادہ محفوظ اور بم پروف تھے۔ پاکستان میں ایسے جزیروں کو ہاؤسنگ سکیمیں اور سوسائٹیاں کہا جاتا ہے جن پر پاکستان کا آئین اور قانون لاگو نہیں ہوتا۔ وہاں پریس اور پولیس کاداخلہ منع اورمکینوں کی فریاد سننا جرم تصور ہوتا ہے۔ لوگ اشتہار دیکھ کر آتے ہیں اور پھر خود اشتہار بن جاتے ہیں۔ اس کھیل میں سیاستدان اور نوکر شاہی کے کردار اہم ہیں جنہیں آئین اور قانون کا تحفظ حاصل ہے۔


پاکستانی سیاسی طبقے کا پس منظر بھیانک اور گھناؤنا ہے۔ بانی پاکستان نے فرمایا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ جو لوگ دن کی روشنی میں میرے ساتھ ہوتے ہیں وہ رات کے اندھیرے میں انگریز افسروں کے ذریعے ساری معلومات وائسرے ہند کو بھجواتے ہیں۔ یہ معجزہ تھا کہ اس کے باوجود پاکستان تو بن گیا مگر کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام بیوروکریسی کے اتحاد نے اسے پہلے دو لخت کیا اور اب یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہر حکومت کی معاونت مافیا اور کار ٹل کرتے ہیں۔ حکمران ڈنگ پٹا کر چلے جاتے ہیں اور لوٹا ہوا مال ٹھکانے لگا کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ نوکر شاہی،مافیا اور کارٹل کو نئے گُر سکھلاتی ہے اور پینترا بدل کر عوام پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ پاکستان میں سول سروس کا امتحان پاس کرنے کا مطلب کرپشن، لاقانونیت اور جبرواستحصال کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کرنا ہے۔ حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان نے فرمایا کہ جناب وزیراعظم کاپرنسپل سیکرٹری بادشاہ ہے۔ عدالت کے طلب کرنے پر بھی نہیں آتا۔ پہلے عرض کیا ہے کہ گزرے زمانوں میں بادشاہ عدالتوں میں پیش ہوتے تھے۔ ترکی کا سلطان مراد عدالت میں آیا، غلطی تسلیم کی اور اپنے دونوں ہاتھ کٹوانے کے لئے جلاد کے سامنے رکھ دیئے۔ کنفیوشس نے چین کے بادشاہ کو اس غلطی پر معزول کیا کہ وہ رات بھر رقص دیکھتا رہا اور صبح تخت شاہی پر بغیر وجہ کے نمودار نہ ہوا۔ حضرت عمر فاروقؓ قاضی کی عدالت میں حاضر ہوئے اور حضرت علیؓ کے حق میں امام حسینؓ کی گواہی قرابت کی وجہ سے قاضی وقت نے قبول نہ کیا۔


قرآن کریم میں ربّ کائنات نے حکم دیا کہ گواہی دو چاہے تمہارا، تمہارے قبیلے اور اولاد کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیلیویژن چینلوں علمأ اور دانشور قصے کہانیاں سناتے ہیں مگر کسی بیوروکریٹ اور سیاستدان کی کرپشن اور لاقانونیت کی بات نہیں کرتے۔ ایسا ہی احوال مذہبی سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں کا ہے۔ اگر لوگ برائیوں پر گواہ بن کر پیش ہوں تو شاید یہ ملک اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے بچ جائے۔ مگر ایک بھی ممکن ہی نہیں رہا۔ سچا گواہ گواہی سے پہلے ہی مار دیا جاتا ہے یا پھر کسی ناکردہ جرم کی پاداش میں نشان عبرت بن جاتا ہے۔


ایک سروے کے مطابق ملک کی بیوروکریٹک مشینری مکمل طورپر زنگ آلود ہے۔ کرپشن، لوٹ مار اور خودسری کا خناس اس قدر پھیل چکا ہے کہ اب اس مشینری کی مرمت بھی ممکن نہیں رہی۔ یہاں چینی لیڈر ڈنگ ژیاؤپنگ کے فارمولے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ چند پرزے جو سست رفتاری سے چل رہے ہیں انہیں صاف کرنے اور باقی جھاڑ جھنگاڑ اور کباڑ اٹھا کر باہر پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ مگر سب سے پہلے اس کچرے کی پرورش کرنے والی سیاست اور سیاستدانوں کی مافیائی اور چانکیائی روش سے چھٹکارہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔


شیخ سعدیؒ کا قول ہے کہ یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ سانپ کو ماردیا جائے اور اس کے بچوں کو دودھ پلایا جائے۔ پھر فرمایا کہ قلعے کا دروازہ ہمیشہ اندر سے کھلتا ہے۔ فصیلوں پر فوج بٹھانے سے قلعے محفوظ نہیں رہتے جب تک دروازہ مضبوط اور محافظ قابل اعتماد نہ ہوں۔دور حاضر میں قلعے کا دروازہ پارلیمنٹ کا دروازہ اور محافظ پارلیمنٹیرین ہیں۔ قلعے کی فیصلوں پر تو فوج بیٹھی ہے مگر دروازہ کمزور اور محافظ تاجر اور ساہوکار ہیں جو ہرگز قابل اعتبار نہیں۔


حال ہی میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ نوکر شاہی کا بڑا طبقہ دوہری شہریت کا حامل ہے اور سیاستدانوں سے زیادہ اثاثے بیرون ملک منتقل کر رکھے ہیں۔ یہی حال پارلیمنٹیرین اور عدلیہ کے کچھ معزز ججوں کا بھی ہے جنہیں سیاستدانوں، نوکر شاہی، وکیلوں اور صحافیوں کے ایک ٹولے کی بھرپور مدد حاصل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
38434

کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام نوکر شاہی ….تقدیرہ اجمل

علم سیاسیات کا تعلق انسانی معاشرے سے ہے جس کی بنیاد انسانوں کے باہمی تعلقات، ضروریات اور نفسیات سے ہے۔ قرآن کریم میں فرمان ہے کہ اے لوگو! میں نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور پھر اسی سے تمہاری نسل آگے بڑھائی۔ تخلیق کائنات کے بعد تخلیق آدم کا ذکر کثرت سے ہوا اور انسان کی زندگی کے جتنے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی اس کا تعلق انسانی رویوں، ضروریات زندگی، باہمی تعلقات اور نفسیاتی مسائل سے ہے۔ سیاست کا مطلب انسانوں کا آپس میں میل جول اور زندگی کے مختلف حوالوں سے رابطہ ہے۔ ہر انسان ہرکام خود نہیں کر سکتا۔ اسے اپنی روزمرہ زندگی میں ایسے کام درپیش ہوتے ہیں جس میں اسے دوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ خدا کی عطا کردہ نعمتوں اور ماحول میں رہتے ہوئے ابتدأ میں اسے ماں باپ کی شفقت، محبت اور زندہ رہنے کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ آگے چل کر اسے تعلیم حاصل کرنے اور کوئی فن سیکھنے کے لئے معاشرے اور ریاست کے وجود کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ دوسرے انسانوں سے علم حاصل کرکے زندگی میں ترقی کر سکے۔


کسان غلہ پیدا کرتا ہے، پارچہ باف کپڑا بنتا ہے، مزدور اور ہنرمند مکان تیار کرتا ہے، بڑھی لکڑی کا کام کرتا ہے،لوہار اوزار بناتا ہے، استاد انسانوں کی تربیت کرتے اور انہیں علم سکھلاتے ہیں۔ اسی طرح معاشرے کے چند لوگ جنہیں معاشرے کے سبھی افراد مل کر ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں معاشرتی بھگاڑ اور لوگوں کے باہمی اختلافات دور کرنے اور معاشرے میں اعتدال برقرار رکھنے کے لئے روایات اور اخلاقیات کے اصولوں پر مبنی قوانین بنانے اور پھر ان قوانین کے اطلاق اور نفاذ کی اجازت دیتے ہیں تاکہ معاشرے اور ریاست کے عام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ر ہیں۔ انہیں معاشرے اور ریاست کے اندر رہتے ہوئے ہر طرح کی آزادی ہو اور وہ قانون کے تابع زندگی کی لذتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ وہ لوگ جنہیں عوام یہ حق دیتے ہیں ضروری ہے کہ معاشرے میں ان کا اخلاقی، علمی، ادبی اور عقلی معیار بلند ہو اور ان کا کردار ہر لحاظ سے مثالی ہو۔


یونانی فلاسفہ کے نزدیک کردار واخلاق کا کوئی معیار نہ تھا۔ وہ روایات اور علم و عقل کے قائل تھے اور آداب کا معیار بھی سطحی تھا۔ ان کے نزدیک عورت کے کوئی حقوق نہ تھے اور نہ ہی عوام کے بچوں کی تعلیم و تربیت ریاست کی ذمہ داری تھی۔ وہ خدا کے وجود کے بھی قائل نہ تھے اور دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے۔ یونانی حکمأ نے سیاسیات، زراعت، معاشیات، جنگلات، حیوانات، معدنیات، فلکیات، فلسفہ، حساب اور دیگر علوم پر صیغم کتابیں لکھیں مگر اخلاقیات اور روحانیت کے اصولوں کو اجاگر کرنے سے قاصر رہے۔ اس کی بڑی اور بنیادی وجہ یونانی ریاستوں کے شہروں کی کم آبادی اور قبہ تھا۔ فلپ کے بعد سکندر نے فتوحات کا سلسلہ شروع کیا مگر وہ مفتوعہ علاقوں پر اپنا اخلاقی اثر چھوڑنے سے قاصر رہے۔ ان کی تعلیمات اور طریق حکمرانی سے مفتوعہ ممالک کے عوام کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے اور نہ ہی وہ آریاؤں، دردوں، بدھ مت اور اسلام کی طرح کوئی سیاسی و اخلاقی نظام وضع کر سکے جس کے بل بوتے پر ایک مضبوط نظام حکومت اور فلاحی معاشرہ وجود پذیر ہوتا۔ کنفیوشس اور ہمورابی کے بعد کوئی مذہب و عقیدہ ایک معاشرتی، اخلاقی، سیاسی، معاشی و معاشرتی نظام وضع نہ کر سکا جو آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر انسانی فلاح و اصلاح کی روشن مثال ہو۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے چھ سو دس سال بعد آپؐ پر پہلی وحی کا نزول ہوا اور پھر بیس سالوں کے قلیل عرصہ میں سارا عالم انسانیت نور ہدایت سے چمک اٹھا۔ قیصر وکسریٰ کا ظالمانہ اور جابرانہ نظام ڈگمگانے لگا اور ہند کے ظلمت کدے میں علم و ہدایت کا سورج طلوع ہونے لگا۔ آپؐ کے وصال کے بعد خلیفہ دوئم حضرت عمر خطابؓ کے دور حکومت میں مسلمان مبلغین چین تک جا پہنچے اور ذہنوں کی تبدیلی اور دلوں کی تسخیر کا سلسلہ تیزی سے پھیلنے لگا۔ مسلمان علمأ اور فقہأ نے کسی بھی جگہ جاری نظام کو ترک نہ کیا بلکہ اس کی خامیاں دور کرکے اصلاح معاشرہ اور فلاح انسانی کا عالمگیر حکومتی نظام پیش کیا جو آج بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔


اسلام کی آمد سے پہلے برصغیر پاک و ہند میں چانکیائی نظام حکومت نافذ تھا جس کی بنیاد جبرواستحصال اور غلامی پر استوارتھی۔ ہندو ازم، بدھ ازم اور جین مت کے ادوار میں جو قوانین نافذ ہوئے اس کا مرکز بادشاہ کی ذات اور خواہشات تھیں۔ شاہی خاندانوں کے بعد مندروں، معبدوں اور خانقاہوں کے پجاری قوت اور قانون کے مراکز تھے اور ان کی خواہشات قانون کا درجہ رکھتی تھیں۔


گیارھویں اور بارھویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان میں قدم رکھا تو تب ہندوستان میں کوئی مرکزی حکومت نہ تھی۔ سارا برصغیر پندرہ سو راجواڑوں میں بٹا ہوتا تھا اور راجگان عیش و عشرت کے علاوہ باہمی جنگوں میں الجھے رہتے تھے۔
پرتھوی راج چوہان سلطان شہاب الدین غوری کے مقابلے پر آیا تو اس کی مدد کے لئے دو سو راجگان اپنی فوج کے ہمراہ ترائن کے میدان میں اترے۔


سلاطین دہلی کا طرز حکمرانی اسلامی اصولوں اور مقامی روایات سے ہم آہنگ تھا۔ ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے مذہبی معاملات، رسم ورواج اور اخلاقی روایات کا احترام کیا جاتا اور انہیں مذہبی اور معاشرتی معاملات میں مکمل آزادی حاصل تھی۔ صرف ستی کے قانون میں تبدیلی کی گئی اور ستی کی خواہش رکھنے والی عورت کے لئے ضروری تھا کہ وہ بادشاہ سے اجازت نامہ حاصل کرے۔ اس قانون کا مقصدایک زندہ عورت کو جل مرنے سے بچانا تھا۔


ترکوں کے بعد مغل جو تیموری ترک تھے ہندوستان میں آئے تو سلاطین دہلی کے بنائے ہوئے قانون کو نہ چھیڑا۔ سلاطین دہلی کے ادوار میں برصغیر دس صوبوں پر مشتمل تھا۔ ہر صوبے میں ایک گورنر تعینات کیا جاتا جسکے ماتحت صوبے میں ایک نائب گورنر تعینات کیا جاتا جو اعلیٰ سرکاری افسر ہوتا۔ گورنر کی موت، معزولی، تبدیلی اور صحت کی خرابی کی وجہ سے غیر حاضری کی صورت میں وہ گورنر کے اختیارات استعمال کرتا اور اس کا دفتر اور عملہ مستقل ہوتا۔ نائب گورنر یا دیوان کا چناؤ قاضی کونسل کرتی جو اس کی تعلیم، انتظامی صلاحیتوں اور کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے تعیناتی کی سفارش کرتی۔ نائب گورنر کے لئے مذہب کی کوئی قید نہ تھی۔ دیوانی اور فوجداری عدالتیں قاضی کونسل اور گورنر کے ماتحت شرعی احکامات کی روشنی میں فیصلے کرتیں۔ جبکہ غیر مسلموں کے مذہبی معاملات مندروں کے پجاری حل کرتے تھے۔
دیوان یعنی نائب گورنر کے بعد فوجدار اوّل اور دوئم کے عہدے تھے۔ فوجدار اوّل صوبائی فوج کا جرنیل ہوتا تھا جسے کورکمانڈر بھی کہہ سکتے ہیں۔ فوجدار اوّل گورنر اور بادشاہ کے ماتحت کام کرتا۔ اس کے ماتحت جاگیردار ہوتے جو بوقت ضرورت اسلحہ بردار سپاہ اور جنگی گھوڑے مہیا کرتے تھے۔ سپاہ کی تربیت، تنخواہ اور گھوڑوں کی پرورش کی ذمہ جاگیردار کی تھی جس کی وجہ سے وہ ٹیکس ادا نہ کرتے۔ تاریخ فرشتہ کے مطابق شیر شاہ سوری کا باپ سہسرام میں پندرہ گھوڑوں کی جاگیر کا مالک تھا جو سب سے چھوٹا اور کم آمدنی والا جاگیردار کہلاتا تھا۔


فوجدار دوئم صوبے کا آئی جی ہوتا جو چھوٹی موٹی بغاوتوں کے علاوہ چوروں، ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ لوگوں کا خاتمہ کرتا اور بوقت ضرورت فوج سے بھی مدد لیتا۔ یہ دونوں عہدے بھی مستقل تھے جنہیں خزانے سے تنخوائیں اور مراعات ملتی تھیں۔


ہر صوبے میں صدر کا مستقل عہدہ تھا جس کے اختیارات دیوان سے زیادہ تھے۔ اس کا کام سرکاری زمینوں کا خیال رکھنا اور ان لوگوں میں زمین تقسیم کرنا تھا جو زراعت میں دلچسپی لیتے اور باغبانی کا شوق رکھتے تھے۔ وہ کچھ عرصہ کے لئے کسانوں، باغبانوں، چرواہوں، گلہ بانوں اور بے زمین افراد کو مفت زمین آلاٹ کرتا۔ پیداوار شروع ہونے تک ان پر کوئی ٹیکس نہ ہوتا۔ پیداوار کے پہلے پانچ سال بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتے جبکہ گلہ بانوں، باغبانوں، چروائیوں اور چھابڑی والوں پر بھی کوئی ٹیکس عائد نہ تھا۔ صدر علم کا خزانہ اور کردار کا مجسمہ تصور کیا جاتا۔ وہ اپنی صوری اور معنوی خوبیوں کی وجہ سے باعث تعظیم و تکریم سمجھا جاتا۔ قاضی اور وزیر عدل اس کے ماتحت کام کرتے۔ عامل کا عہدہ بھی مستقل تھا جس کے ذمہ مالیہ اکٹھا کرنا تھا۔ اسے ایک حد تک انتظامی اور قانونی اختیارات حاصل تھے۔ کسانوں کے شورش اور بغاوت پر وہ کوتوال سے مدد لیتا اور زمین خالی کروا کر ایسے کسانوں کو دیتا جو محنتی اور جفاکش ہوتے۔ وہ ہر پانچ سال بعد زمین کی پیمائش کرواتا اور قابل کاشت زمین کے رقبے میں اضافہ کی سعی کرتا۔ اس کا عہدہ تحصیلدار یا افسر مال کے برابر ہوتا۔ پٹواریوں کے رجسٹروں کی جانچ پڑتال عامل کی ذمہ داری تھی۔ کسانوں کے حالات، پیداوار کے معیار اور پٹواریوں کے خلاف شکایات سننا اس کی ذمہ داری تھی۔ ہر دو ماہ بعد وہ علاقے کا دورہ کرتا اور جو پٹواری یا قانون گو خلاف ضابطہ کام کرتے، رشوت لیتے، کسانوں پر بوجھ بنتے اور ریکارڈ میں ردوبدل کرتے انہیں موقع پر گرفتار کرکے قاضی کی عدالت میں پیش کرتا۔ قحط سالی، آفات اور دیگر مشکلات کی صورت میں مالیے میں کمی کرتا۔ ایسی بیوائیں جو خود کھیتی باڑی کرتیں ان کا مالیہ بچوں کی بلوغت تک معاف کردیا جاتا اور ان کی حفاظت چوہدری، نمبردار یا علاقہ مجسٹریٹ کی ذمہ داری ہوتی۔ بخشی یا صوبائی سیکرٹری خزانہ کی ماتحتی میں کئی میر بخشی ہوتے۔ میر بخشی تحصیل، ضلعے اور صوبے کی سطح کے تمام سرکاری افسروں کی تنخواہ اور مراعات کا ریکارڈ رکھتا۔ خزانہ دار سرکاری رقوم کا حساب رکھتا۔ یہ صوبائی سطح کا بنک تھا جہاں خزانہ رکھا جاتا۔ خزانچی آمدن اور اخراجات کے دفتروں کا ذمہ دار ہوتا اور ہر ماہ وہ تبقچی یعنی چیف سیکرٹری کے ذریعے اپنی رپورٹ گورنر اور بادشاہ کے دفتر بجھواتا۔


تبقچی یعنی چیف سیکرٹری صوبے کا محتسب اعلیٰ اور انتظامی امور کا نگران ہوتا۔ ہر سطح کے قانون گو،وقائع نویس، حساب دان اور دیگر افسران پر نظر رکھنا اس کی ذمہ داری تھی۔ فوجدار دوئم انسپکٹر جنرل آف پولیس کے ماتحت آبادی کے لحاظ سے کوتوالیوں کا نظام تھا۔ بڑے شہروں کے کوتوال ڈی آئی جی کے عہدے اور چھوٹے شہروں اور ضلعوں کے کوتوال ایس پی اور ڈی ایس پی کے عہدے کے برابر ہوتے۔ ان کے ماتحت دروغے یعنی تھانیدار ہوتے۔ بعض کوتوالیوں میں بھی دروغے تعینات ہوتے جن کا عہدہ ایس پی کے برابر ہوتا۔ کوتوالی کا نظام اس قدرفعال تھا کہ کوئی مجرم ان کی دسترس سے بچ کر نہ نکلتا۔ کوتوال قاضی کے ماتحت کام کرتا تاکہ مجرموں کو جلد اور قرار واقعی سزائیں دے کر معاشرے میں امن بحال رکھا جاسکے۔


ہر سطح کے عہدیدار حتیٰ کہ گورنر اور قاضی بھی سزا سے بچنے کا تصور نہ کرتے تھے۔ غلطی تسلیم کر لی جاتی چونکہ وقائع نویس ہر واقعہ کی رپورٹ لکھتے اور معلومات عام لوگوں سے اکٹھی کرتے۔ کوئی شخص جھوٹی خبر نہ دیتا۔ بصورت دیگر اسے سخت اور کڑی سزا ملتی۔


وقائع نویس پوری جانچ پڑتال کے بعد متعلقہ افسر یا شخص چاہے وہ کسی مرتبے یا عہدے کا ہو سے رابطہ کرکے مطلع کرتا کہ تمہارے خلاف شکایت مبنی برحقیقت ہے۔ مباداکہ بادشاہ کو کسی اور ذریعے سے خبر ملے جو تمہاری عزت،جان و مال بلکہ اولاد کے لئے ذلت و رسوائی کا باعث ہو،اپنا جرم قبول کر لو۔ لوگ اس اطلاع پر اپنی غلطی کی تلافی کرتے، عہدہ چھوڑ دیتے اگر سرکاری مال چرایا ہوتا تو واپس کرکے معافی نامہ لکھ دیتے۔ وقائع نویس اس کی اطلاع تبقچی، صوبیدار (گورنر) قاضی اور بادشاہ کو دیتا اور معافی نامہ قبول کرنے کی سفارش کرتا۔ مرکزی حکومت معافی نامہ قبول کرنے کے بعد متعلقہ افسر کی جگہ نیا اور دیانتدار افسر تعینات کرنے کا حکم جاری کر دیتی۔ مغلیہ دور میں مرکز کے پاس نو محکمے تھے جن میں وزیروں کے علاوہ سیکرٹری اور ان کا عملہ تعینات ہوتا تھا۔ دیوان یعنی وزیراعظم اور وزیر قانون کا عہدہ بادشاہ کے بعد انتہائی اہم تھا۔ اخلاق عامہ کے احتساب کا محکمہ بھی اہم تھا جس کے سامنے بادشاہ اور حرم سرا بھی جوابدہ تھے۔ اسی طرح داروغہ ڈاک چوکی کا محکمہ تھا۔ یہ مرکزی سراغ رسائی کا محکمہ تھا جس کے نمائندے ہر جگہ موجود ہوتے تھے۔ جگہ جگہ تازہ دم گھوڑے نمائندوں کو لانے اورلے جانے کے لئے موجود ہوتے۔ یہ نمائندے ملک بھر سے خبریں جمع کرکے دروغہ ڈاک چوکی کے دفتر لاتے۔ دروغہ چوکی کے ماتحت خبر نویس اور خبررساں موجود رہتے جو ہر ہفتے اہم خبروں کی سمری بادشاہ کو بھجواتا۔ اہم نوعیت کی خبروں اور اطلاعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا۔ بادشاہ کو بستر سے جھگا کر، محفل اور تخت سے اٹھا کر حتیٰ کہ غسل خانے کا دروازہ کھٹکھٹا کی خبر دی جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
38271

کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام نوکر شاہی ….تقدیرہ خان رضاخیل

جس طرح تمدن اور تاریخ کا باہم رشتہ و تعلق ہے ویسے ہی ریاست، سیاست، حکومت اور حکومتی مشینری ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ تمدن کو وسیع تر معنوں میں لیا جائے تو سیاست و معاشرت کی ترقی و ترویج کے لئے ریاست کا وجود اور نظام حکومت چلانے والے اداروں کا قیام اولین ترجیح ہے۔ ریاست میں بسنے والے انسانوں کو ضروریات اور وسائل کی تقسیم کے علاوہ قوانین کا نفاذ اور شہریوں کی زندگی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ چونکہ ہر شہری اپنے الگ مزاج و میلان کی وجہ سے ریاست کا نظام چلانے کے قابل نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کے معاملات اور پیشہ ورانہ ضروریات کے ساتھ حکومتی معاملات بھی چلا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی نمائندے یا پھر عوام میں سے اعلیٰ علمی، عقلی اور سیاسی صلاحیتوں کے حامل افراد ایک وضع کردہ نظام کے تحت حکومتی نظام کا حصہ بن کر ریاست کا نظام چلاتے ہیں۔


نظام حکومت و ریاست چلانے والے افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ نیک نیت، عوام دوست، عادل، بے لوث اور انتہائی ذمہ دار ہوں۔ خود غرض، لالچی، ہوس پرست، بدچلن اور بدکار آدمی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مخلوق خدا کی نمائندگی کرے۔ معاشرے کے نیک اور انتظامی صلاحیتوں کے حامل افراد میں بھی کلی یگانگت و ہم آہنگی نہیں ہوتی چونکہ ان کے علم، تجربے، مشاہدے، تربیت، خاندانی و قبائلی روایات اور عادات و خصلیات میں فرق ہوتا ہے۔ انسانی رویوں اور ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری سمجھا گیا کہ وہ افراد جو ریاستی نظام چلانے کے اہل ہیں وہ باہم مل کر ایک لائے عمل تیار کریں جس کے تحت قوانین کا اجرأ ہو جس میں ہر شہری کے حقوق و فرائض کا تعین کیا جائے۔ ابتدائی انسانی معاشرے کی تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں قبائلی ریاست کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔ اس معاشرے اور ریاست کا حکمران سب سے طاقتور آدمی ہوتا تھا جو اپنے قبیلے کی حفاظت کے علاوہ ان کے باہمی جھگڑے اور اختلافات قبائلی رسم و رواج کے مطابق چلا یا کر تھا۔ قبائلی سردار یا حکمران بھی یہ کام اکیلے سر انجام نہ دیتا تھا بلکہ وہ قبیلے کے عقلمند، دلیر، طاقتور اور باصلاحیت مردوں اور عورتوں پر مشتمل ایک کابینہ کا چناؤ کرتا اور ان کے مشورے کے مطابق قبائلی ریاست کا نظام چلاتا۔ اگر کسی مجبوری یا مہم کے سلسلے میں مرد اپنے علاقے یا بستیوں سے باہر ہوتے تو عورتیں باہم مل کر کھیتی باڑی، گلہ بانی اور بوقت ضرورت دفاعی امور بھی سرانجام دیتیں۔
قدیم شہری ریاستوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یونانی، چینی، مصری اور بابلی شہری نظام سے صدیوں پہلے مکی شہری ریاست کا وجود قائم تھا۔ یہ ریاست ایک سو تیس مربع میل پر قائم تھی جس میں نو بڑے، طاقتور جنگجو اور تاجر پیشہ قبیلوں کے علاوہ درجنوں چھوٹے قبیلے آباد تھے جن کی حفاظت بڑے قبائلی سرداروں کی ذمہ داری تھی۔ مکہ دنیا کی پہلی ریاست تھی جہاں پالیمانی نظام حکومت رائج تھا۔ اس ریاست کا ہر عاقل و بالغ شہری چالیس سال کی عمر میں خودبخود پارلیمنٹ کا ممبر بن جاتا اور ریاستی امور چلانے والی حکومتی مشینری کا حصہ بن کر اپنی علمی، عقلی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مطابق فرائض سرانجام دیتا۔ تاریخ کے علم کا اجرأ یونان سے ہوا جس میں طوفان نوحؑ کے بعد حضرت ابراہیمؑ کے دور کے حالات اور اس دور میں قائم معاشروں، ریاستوں، تہذیب و ثقافت، حکومتوں اور حکمرانوں کے حالات قلمبند کئے گئے۔ اس سے قبل انسانی معاشرے کے خدوخال کیا تھے اور ریاستی نظام کس اصول و ضابطے پر چلتا تھا اس کی کوئی تاریخ نہیں۔ تاریخ دانوں نے اسے زمانہ قبل از تاریخ قرار دے کر اپنی جان چھڑالی مگر وہ ربّ جس نے یہ کائنات تخلیق کی اور قلم کے ذریعے انسان کو علم دیا اور وہ کچھ سکھلایا جو وہ جانتا نہ تھا، کتاب حکمت، قرآن کریم کے ذریعے ابتدائے آفرینش سے لے کر قیام قیامت اور بعد از قیامت کے حالات و واقعات پر مبنی اٹل اور ناقابل تروید و تسخیر دستاویز اپنے محبوب بندے اور آخرالزمان پیغمبر حضور سرور کائناتؐ کے ذریعے نازل کی اور خود اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ لیا۔


محققین اور دانشور جس علم کا کھوج لگانے سے قاصر تھے خالق کائنات نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے خود اس علم کا اجرأ کیا مگر باوجود اس کے انسان اپنی کمتر عقلی اور علمی صلاحیتوں کے باعث اس سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکا۔ تمدنی دور کے آغاز سے لے کر تا حال انسانی معاشرے اور ریاست کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی نظام میں ردوبدل ہوتا رہا جسے معاشرتی، سیاسی، ریاستی اور حکومتی ارتقائی عمل کہا جاتا ہے۔


محققین اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی ریاستی اور حکومتی نظام الٰہی کائناتی نظام کا ہی پر تو ہے۔ اللہ خالق کل کے ارادے اور حکم پر عشرہ العقول نے یہ کائنات تخلیق کی اور پھر اللہ، واحد، حاکم، بادشاہ، خالق و مالک نے اس پر اپنا حکم جاری کردیا۔


دنیا کے سب سے بڑے فاتح اور سب سے بڑی ریاست کے حکمران امیر تیمور کے نام خط میں اس کے پیرومردش میر سید شریف نے لکھا “اے ابومنصور تیمور یاد رکھ کہ کارخانہ سلطنت بھی خدائی سلطنت کا ہی نمونہ ہے۔ جس طرح خدائی سلطنت کے ارکان اپنے اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے مرتبے، اختیارات اور وضع کردہ قوانین سے تجاوز نہیں کرتے اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اسی طرح تمہاری سلطنت کے سپہ سالاروں، حاکموں، عمال، کارکنوں، وزرأ، شرفأ اور علمأ کو اپنی حدود سے قدم باہر رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہر کام تمہاری منشأ اور حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ یاد رکھ تواپنے حکم، ارادے اور منشأ میں آزاد و خود مختار نہیں۔ اللہ کا حکم اور رسولؐ کی سیرت اور شریعت تم پر لاگو ہے۔ تمہاری ریاست میں بسنے والے ہر ذی روح کی حفاظت، خدمت اور عزت تمہارے ذمے ہے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ ریاست میں ایسے قوانین کا اجرأ ہوتا کہ کوئی شخص بلحاظ عہدہ و مرتبہ اس سے تجاوز نہ کرے۔ ورنہ تیری سلطنت کے امور میں خلل و فساد پیدا ہوگا اور نظام درہم برہم ہوجائے گا جس کے ذمہ دار خود تم ہوگے۔ یہ احکامات ہر خاص و عام کے لئے ہی نہیں بلکہ تمہاری اولاد اور حرم پر بھی یکساں لاگو ہیں۔ ہر قوم، قبیلے اور گروہ کو اس کے مرتبے پر رکھ اور آنحضرتؐ کے مرتبے کو تمام مراتب سے برتر سمجھ۔ آپؐ کی سیرت کا مطالعہ قرآن کی روشنی میں کر اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی تعظیم وتکریم کو ہر حکم اور قانون پر محترم و مقدس سمجھ کر اپنا سر سجدے میں رکھ کر اپنی کوتاہیوں پر معانی کا طلبگار رہ۔


تاریخ کے علم سے پتہ چلتا ہے کہ مقتدر اعلیٰ کا دفتر ہر انسانی معاشرے اور ریاست میں قائم تھا جس کی معاونت قبیلے کے سردار، عالم، وزیر، مشیر اور عمال یعنی نوکر شاہی یا بیوروکریسی کرتی تھی۔ بابلی اور سومیری ادوار کے آثار میں بیوروکریٹک نظام کا پتہ چلتا ہے کہ گل گامش، نمرود اور فرعونوں کے نظام حکومت میں نوکر شاہی کا ادارہ پوری طرح فعال تھا اور معاشرے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے، عقلمند، منصوبہ ساز اور عوامی معاملات کا علم رکھنے والے افراد پر مشتمل ایک ایسا طبقہ موجود تھا جو بادشاہوں اور وزیروں کی عوامی معاملات کے علاوہ مختلف ریاستی امور چلانے میں نہ صرف مدد کرتا تھا بلکہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق مفید اور قابل عمل مشورے بھی دیتا تھا۔


اس ادارے سے منسلک افراد کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی اور قوانین کی خلاف ورزی پر انہیں سخت سزائیں دی جاتی تھی۔ سرکاری ملازمین کی کفالت کے لئے انہیں جاگیریں دی جاتی تاکہ منصب کے لحاظ سے ان کا معیار زندگی بلند رہے۔ چینی دانشور، محقق، قانون دان اور منصب اعلیٰ کنفیوشس موجودہ بیوروکریٹک نظام کا گاڈ فادر ہے۔ کنفیوشس جاگیر دارانہ دور میں پیدا ہوا جس کی کوششوں سے کسانوں اور عوام کے حقوق کسی حد تک تسلیم کرلئے گئے۔ کسانوں اور مزدوروں کی محنت کا کچھ حصہ انہیں ملنے لگا اور عدل و انصاف کا باقاعدہ نظام وضع کیا گیا۔ بادشاہوں اور جاگیرداروں کی موت یا معزولی کے بعد ملک میں افراتفری پھیل جاتی یا پھر اقتدار کے حصول کے لئے شاہی خاندان ایک دوسرے کے خلاف صف آرأ ہوجاتے۔ جنگوں کی صورت میں بادشاہ، جاگیردار، صوبیدار، جرنیل اور دیگر اعلیٰ عہدے دار سرحدوں پر چلے جاتے جن کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر چور، ڈاکو اور غنڈہ عناصر لوٹ مار کرتے۔ شہر، بستیاں اور کھیت کھلیان اجڑ جاتے جس کی وجہ سے معاشرہ بد حال اور ریاست غیر فعال ہوجاتی۔


کنفیوشس نے نوکرشاہی کا نظام متعارف کروایا اور معاشرے کے پڑھے لکھے، عقلمند اور سنجیدہ نوجوانوں کے درمیان مقابلے کے امتحان کا قانون بنا کر بادشاہ اور کابینہ سے منظوری لی۔ کامیاب امیدواروں کی تربیت کے لئے ادارے قائم کئے جہاں انہیں پیشہ ورانہ تعلیم کے علاوہ اخلاق، آداب اور قانون کی تعلیم دی جاتی۔ دوران تربیت ان کے رجحان ومیلان کو پرکھنے کا الگ ادارہ تھا جو ان کی نشست و برخاست اور عام بات چیت سے ان کی خصلیات، جبلت اورخساست کا اندازہ لگا کر انہیں کسی ادارے میں تعیناتی کی سفارش کرتا۔ جو لوگ علم و عقل کے باوجود خساست کی وجہ سے غیر معیاری اور پست ذہنیت کے حامل ہوتے انہیں تربیت کے دوران ہی فارغ کر دیا جاتا۔


چین کے اس متبادل حکومتی نظام نے ساری دنیا کی حکومتوں اور حکمرانوں کو اسے اپنانے پر مجبور کردیا مگر بعض ممالک میں شاہی خاندانوں کے افراد کو ترجیح دی گئی یا پھر سلیکشن اور تربیت کا طریقہ بدل دیا گیا۔ اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ عدل و انتظام کے ادارے مضبوط ہوئے اور سیاسی مداخلت کسی حد تک ختم ہوگئی۔ افسر قانون کی پابندی کرتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینے لگے۔ ان کی تنخواہوں اور مراعات کا قانون اور نوکری کا تحفظ وضع کر دیا گیا جس کی وجہ سے وہ بے فکری اور دیانت داری سے کام کرنے لگے۔ حکومتیں اور حکمران بدلنے کی وجہ سے ریاست کے نظام پر کوئی اثر نہ پڑتا اور نظام حکومت اپنی قانونی قوت سے چلتا رہتا۔


مغل ہندوستان میں آئے تو ان کے ساتھ تیموری طریق حکمرانی کا نظام بھی تھا۔ مغلوں نے شاہان دہلی کے نظام کو نہ چھیڑا بلکہ تیموری نظام کی بعض شقوں کو شا مل کر کے جاری نظام میں بہتری کا رجحان پیدا کیا۔ شیرشاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر حکومت پر قبضہ کیا مگر حکومتی اداروں اور نظام حکومت پر کوئی قدغن نہ لگائی۔


شیرشاہ نے ہمایوں کے وزیر مال و خزانہ راجہ ٹوڈر مل کے علاوہ دیگر عمال اور عہدے داروں کو ان کے عہدوں اور رتبوں پر بحال رکھا۔ قانون گو لکھتا ہے کہ افغان صرف جنگیں لڑنا اور لوٹ مار کرنا جانتے تھے۔ ان میں انتظامی صلاحیتوں اور عدل و انصاف کرنے کی خوبیوں کا فقدان تھا۔ ان کی ہمدردیاں، دوستیاں اور دشمنیاں بدلتے دیر نہ لگتی تھی اور نہ ہی امن و امان برقرار رکھنے کی صلاحیت تھی۔


شیرشاہ سوری کا مثالی انتظامی، عدالتی اور ٹیکس کا نظام آج بھی ضرب المثل ہے۔ تحصیلداری اور پولیسنگ کا نظام ماؤرانہر، ہندوستان اور ترکستان میں پہلے سے جاری تھا۔ خراسان موجودہ ایران عراق کا حصہ تھا جہاں تیموری نظام حکومت کارفرما تھا۔ تیمور اپنی تزک میں لکھتا ہے کہ اس نے حضرت عمر خطابؓ کے طریق حکمرانی کو اپنایا جس کی وجہ سے ملک میں عدل و امن کے ساتھ خوشحالی کا دور رہا۔ عمال یعنی سول سرونٹ کو اس کے مرتبے کے مطابق مراعات دی گئیں اور بداعمالی پر مثالی سزائیں بھی دی گئیں۔
وہ لکھتا ہے کہ اعمال کی باز پرسی کا نظام ڈھیلا ہو تو ملک میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے۔ تاریخ رشیدی کا مصنف مرزا حیدر دوغلات لکھتا ہے کہ بادشاہ کا حکم عدل سے مبّرا اور خواہش کا ترجمان ہو تو ظلم کہلاتا ہے۔ اعمال اپنی حدود اور قانون کے سائے سے نکل کر کوئی کام کریں تو ریاست اور حکومت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
38039