The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ایون  کی وفد کا کالاش ویلی روڈ کےحوالے سے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے ملاقات

Posted on

ایون  کی وفد کا کالاش ویلی روڈ کےحوالے سے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے ملاقات

چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز ) ایون کالاش ویلیز روڈ یکی تعمیر میں مسلسل تاخیر اور اس سڑک ک زد آنے والے زمینات کے معاوضوں کی آدائیگی میں تعطل کی وجہ سے لوگوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے عمائدین علاقہ کے ایک وفد ڈپٹی کمشنرچترال سے ان کے آفس میں ملاقات کی ۔ نو تعینات شدہ ڈپٹی کمشنر کا چترال لوئر کا عہدہ سنبھالنےکے بعد یہ ایک تعارفی ملاقات تھی۔ جس میں سابق ڈپٹی کمشنر انوار الحق اور سابق اسسٹنٹ کمشنر وقاص مسعود چوہدری کی طرف سے عوام ایون کے ساتھ کئےگئےوعدوں کے باوجود تاحال ان پر عملدر آمد نہ ہونے سےپائی جانی والی تشویش سےموجودہ ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا ۔ اور کہا ۔ کہ عوام نے اس وقت کے ڈی سی اور اے سی کے کہنے پر اپنی زمینات کاشت نہیں کیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ ابھی تک ان زمینات کے معاوضے آدا کئے گئے۔ اورنہ ہی کام شروع کیا گیا ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چترال نے بتایا ۔ کہ ایون کالاش ویلیز روڈ سیکشن ون کے زمین معاوضے کے چوالیس کروڑ روپے اکاونٹ میں موجود ہیں ۔ لیکن بعض دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث تاحال آدائیگیاں نہیں ہو سکی ہیں ۔ جس وقت بھی یہ مکمل ہوں گے۔ لوگوں کے زمینات کے معاوضوں کی آدائیگی کا عمل شروع کیا جائے گا ۔ وفد نے ڈپٹی کمشنر چترال سے اس حوالے سے اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ کیا ۔ وفد میں چترال کے معروف قانون دان عبدالولی خان ایڈوکیٹ ، چیرمین ویلج کونسل ایون ون وجیہ الدین ، چیرمین وی سی ٹو محمد رحمن ، سابق ممبر جندولہ خان ، عنایت اللہ اسیر ، کونسلر ابوذرغفاری ، سراوت خان کالاش رمبور ، وغیرہ موجود تھے وفدنے بعد آزان ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر چترال لوئر سے ملاقات کی ۔ اور ایون و ملحقہ وادیوں میں گرین گوداموں سے گندم کی تقسیم روکنے کی وجہ سے اٹھنے والے سنگین مسئلے کے بارےمیں آگاہ کیا ۔ جس پر ڈی ایف سی نے کہا ۔ کہ چونکہ صوبائی حکومت کی طرف سے گرین گوداموں سے گندم کی تقسیم روک دی گئی ہے ۔ اس لئے یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ وفد نے ایون کے اندر روڈ کی ناقص صورت حال کے بارے ایکسین سی اینڈ ڈبلیو چترال سےملاقات کی ۔ اور روڈ کی وجہ سے آمدورفت کے مسائل سے ایکسین کو آگاہ کیا ۔ جس پر انہوں نے یقین دلایا ۔ کہ روڈ پر بجری بچھا کر اس کی حالت بہتر بنائی جائے گی ۔ وفد نے ڈرائیور برادری کی طرف سے کرایوں میں من مانی اضافے کے حوالے سےبھی اے سی منظور سے ملاقات کی اور انہیں لوگوں پر کرایے کے نام پرکئے گئےظلم و زیادتی سے آگاہ کیا ۔ جس پر اے سی نے کاروائی کرنے کی یقین دھانی کی ۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
71112

کالاش ویلی روڈ پر عوامی پراپرٹی کے مقامات پر زمین مالکان کی طرف سے اجازت اوررضامندی کے بعد ہفتے کے روز کام شروع کیا جائے گا۔ ایون اجلاس میں فیصلہ

Posted on

کالاش ویلی روڈ پر عوامی پراپرٹی کے مقامات پر زمین مالکان کی طرف سے اجازت اوررضامندی کے بعد ہفتے کے روز کام شروع کیا جائے گا۔ ایون اجلاس میں فیصلہ

چترال ( محکم الدین ) زیر تعمیرایون کالاش ویلیز ا ین ایچ اے روڈ کیلئے قائم شدہ کمیٹی کے زیر اہتمام ایک غیر معمولی اجلاس جمعہ کے روز اے وی ڈی پی آفس ایون میں منعقد ہوا ۔ جس میں ایون سے بریر ویلی کی طرف جانے والی سڑک کی تعمیر سے متاثر ہونے والے زمین مالکان کو خصوصی طور پر بلایا گیا تھا ۔ اجلاس میں اکثر زمین مالکان نے شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمیٹی ممبران نے کہا ۔ کہ ایون کالاش ویلیز روڈ حکومت کی طرف سے علاقے کی تعمیرو ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ روڈ جتنی جلدی تعمیر ہو ۔ سیاحتی، کاروباری اور معاشی طور پر علاقےپر بہت مثبت اثرات پڑیں گے ۔ اور علاقہ و خود زمین مالکان کو بہت فوائد حاصل ہوں گے ۔ اس لئے زمین مالکان سے گذارش ہے ۔ کہ وہ زمین کے معاوضے کا انتظار کئے بغیر علاقے کے بہتر مفاد میں سڑک کے تعمیری کام جاری رکھنے میں تعاون کریں ۔ کیونکہ خان آف مسکور کی اجازت سے ان کی زمینات میں سڑک کا کام پہلےہی سے جاری ہے ۔ اور مشینری موقع پر موجود ہیں ۔

اجلاس میں کہا گیا ۔ کہ جن لوگوں کی زمینات سڑک میں استعمال ہوں گے ۔ اس کا باقاعدہ ریکارڈ ضلعی انتظامیہ اور لینڈ سٹلمنٹ کے پاس محفوظ ہیں ۔ اسی کے مطابق ہرمالک زمین کو اس کی زمین کا معاوضہ ادا کیا جائےگا ۔ اس پر اجلاس میں موجود زمین مالکان نے متفقہ طور پر سڑک کی تعمیر کا کام اس جگہ پر شروع کرنےپر اتفاق کیا ۔ تاہم انہوں نے یہ مطالبہ کیا ۔ کہ سڑک کی زد میں آنے والی زمین کی پیمائش جو انتظامیہ کے پاس بطور ریکارڈ موجود ہے ۔ ہر مالک زمین کو معلوم ہونا چاہئیے ۔ تاکہ بعد میں اسی کے مطابق انہیں معاوضہ ادا ہو سکے۔

اس موقع پرکمیٹی کے جملہ ارکان چیرمین وی سی ایون ون وجیہ الدین ، چیرمین وی سی ایون ٹو محمد رحمان ، سابق ممبر جندولہ خان ، حاجی خیرااعظم ، سیدالدین (ڈپٹی) منیجر اے وی ڈی پی جاوید احمد انجینئیر این ایچ اے ، سابق چیرمین یو سی ایون محکم الدین وغیرہ موجود تھے ۔ زمین مالکان کی طرف سے اجازت اوررضامندی کے بعد ہفتے کے روز کام شروع کیا جائے گا ۔ ڈپٹی کمشنر چترال انوارالحق اس روڈ کا افتتاح کریں گے ۔

chitraltimes ayun kalash valley road nha proposed chitraltimes ayun nha road committee ayun 2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
66221

کالاش ویلی روڈ سے متاثرہ ایون کی زرخیز زرعی زمینات کا معاوضہ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق آدائیگی کی جائے۔۔عمایدین علاقہ 

کالاش ویلی روڈ سے متاثرہ ایون کی زرخیز زرعی زمینات کا معاوضہ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق آدائیگی کی جائے۔۔عمایدین علاقہ

چترال ( محکم الدین ) ویلج کونسل ایون ون کے چیرمین وجیہ الدین کی زیر صدرت وی سی آفس میں ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں وی سی کے جملہ کونسلرز اور عمائدین نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ایون عید گاہ کی تعمیر ، زیر تعمیر کالاش ویلیز روڈ کی زمین کے معاوضے اور گرلز ڈگری کالج ایون کی تعمیر میں طویل ترین تاخیر زیر بحث آئے۔ جس میں ایون عیدگاہ کے حوالے سے حاضرین نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ۔ کہ عید گاہ کا منصوبہ تاحال نامکمل ہے۔ دیواروں کی تعمیر ناقص اورنامکمل ہیں ۔ عید گاہ کے شمالا اور جنوبا گیٹ نصب نہیں کئے گئے ہیں ۔ تعمیر شدہ دیوار پر پلستر چڑھایا گیا ہے ۔ اورنہ محراب کی طرف دیوار تعمیرکی گئی ہے جبکہ عید الاضحی کیلئے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ اس لئے عید سے پہلے متعلقہ ادارہ اور اصل ٹھیکیدار غلام اللہ سے رابطہ کیا جائے ۔ تاکہ باقیماندہ کام کی تکمیل بروقت ہو سکے ۔

اجلاس میں کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر پر خوشی کا اظہارکیا گیا ۔ تاہم روڈ کی زد میں آنے والے زمین مالکان کی طرف سے مارکیٹ ریٹ کےمطابق زرعی زمینات کے معاوضےکے مطالبے کو جائز قرار دیتےہوئے حکومت اور این ایچ اے سے اپیل کی گئی ۔ کہ ایون کی زرخیز زرعی زمینات کے عوض موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق آدائیگی کی جائے۔ تاکہ متاثرین کی تسلی و تشفی ہو سکے ۔ اس سلسلے میں ایک متفقہ قراداد بھی منظور کی گئی ۔ اجلاس کے آخر میں ایون گرلز ڈگری کالج کی تعمیر میں مسلسل تاخیرپر انتہائی افسوس کا اظہارکیا گیا ۔ اور حاضرین نے کہا ۔ کہ یہ بات تعجب خیز ہے ۔ کہ کالج کی تعمیر کا آغاز 2014 میں کیا گیا ۔ اور چار دیواری کی نامکمل تعمیر کے بعد کام روک دیا گیا ہے ۔ جبکہ اب تک کالج کی تعمیر ہو جانی چاہئیے تھی ۔ اور تدریس کا عمل شروع ہونا چاہیئے تھا ۔ لیکن صد افسوس تدریس کجا ۔ کالج کی عمارت کیلئے ایک اینٹ بھی نہیں رکھا گیا ہے ۔

اب یہ بات سننے میں آرہا ہے۔ کہ زمین ڈبل سٹوری بلڈنگ کیلئےموزون نہیں ہے ۔ اگر دوہری منزل نہیں بن سکتی ۔ تو سنگل منزل تعمیر کرکے بچیوں کو تعلیمی محرومی سے بچایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ دس ویلج کونسلوں کی سینکڑوں بچیان ایچ ای سی ، محکم ایجوکیشن اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی ناقص اور تعلیم کش اقدام کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ۔ کہ متعلقہ ادارے اب بھی کالج کی تعمیر کے حوالےسے سنجیدہ قدم اٹھا کر بچیوں کوزیور تعلیم سے بہراورکرنےمیں کردار ادا کریں۔اجلاس میں ویلج چیرمین وجیہ الدین کے علاوہ کونسلر ابو ذرغفاری ، کونسلر مولانامحمد امین، کونسلرمجاہد، کسان کونسلر قاری اسرار احمد، یوتھ کونسلرصہیب عمر عمائدین علاقہ حاجی انورولی خان ، حاجی عبدالرحمن ، حاجی محمد ظفر ، حضرت علی ، ریٹائرڈ حولدار رحمت اکرام ، محب اللہ، قاضی رشید الاعظم ، ہدایت اللہ اور سیکرٹری ویلج کونسل آصف وغیرہ موجود تھے ۔

chitraltimes ayun vc meeting kalash valley road3 chitraltimes ayun vc meeting kalash valley road 2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
62772

کالاش ویلی روڈ پر کام شروع کرنے میں غیر معمولی تاخیر پر ایون میں احتجاجی مظاہرہ

کالاش ویلی روڈ پر کام شروع کرنے میں غیر معمولی تاخیر پر ایون میں احتجاجی مظاہرہ

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ایون اور تینوں کالاش وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر کے باشندوں نے کالاش ویلیز روڈ پر کام شروع کرنے میں غیر معمولی تاخیر پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو ستمبر کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سڑک پر کام شروع نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا راستہ اپنا یا جائے گا جس میں کالاش وادیوں کی طرف جانے والی سڑک کو بلاک کرنا شامل ہوگااور یہ کہ عوام کواب مزید لولی پاپ دے کر ٹرخایا نہیں جاسکے گا۔

اتوار کے روز ایون کے مقام پر احتجاجی ریلی سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایون اور کالاش وادیوں کے عمائیدین جندولہ خان، خیر الاعظم، عنایت اللہ اسیر، آصف رضا، میر افضل لال، وجیہہ الدین، سیف اللہ جان، رحمت الٰہی، کالاش خاتون ملت گل، حافظ خوش ولی خان، آغہ کالاش، عرفان، شفیق الرحمن اور دوسروں نے کہاکہ کالاش کلچر پوری دنیا میں مشہور ہونے کی وجہ سے یہاں بیرونی سیاحوں کے علاوہ ملک کے تمام سیاستدان اور سینئر بیوروکریٹ اور بااثر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں لیکن کسی نے بھی ان وادیوں کو جانے والی سڑکوں پر توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی اور اس ترقی یافتہ دورمیں بھی ان سڑکوں کو دیکھ کر کسی کو شرم نہیں آئی۔ انہوں نے کہاکہ کالاش ویلیز کی سڑک کی تعمیر کے بارے میں موجودہ اور ماضی کے حکمرانوں نے ہمیشہ عوام کو لولی کو سبز باغ دیکھاکر ٹرخانے سے ذیادہ کچھ نہیں کیا لیکن یہ سلسلہ مزید نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے مطابق کالاش ویلیز روڈ کے لئے ساڑھے 4ارب روپے ریلیز بھی ہوئے ہیں اور کام کا ٹینڈر بھی ہوچکا ہے لیکن عملی طور پر یہ سب کچھ غلط ثابت ہوا کیونکہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود اب بھی کام شروع کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کالاش وادیوں کی طرف جانے والی موجودہ سڑک 1920ء کے عشرے میں انگریزوں نے خچروں پر بار برداری کے لئے بنایا تھا جس میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے یہ موجودہ سمیت تمام حکمرانوں کے لئے باعث شرم ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کالاش وادی سے تعلق ہونے کے باوجود انہوں نے بھی اس سڑک سے متعلق اعلانات پر ہی اکتفاکیا جبکہ اب اپر چترال جاکر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر کسی وجہ سے حکومت مجبور ہے تو بھی وزیر زادہ کو چاہئے کہ وہ عوام کو صاف صاف بتادے جبکہ ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی کی کارکردگی بھی اس سلسلے میں تسلی بخش نہیں ہے اور انہیں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفی دینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ سڑکوں کے لئے تحریک کے پہلے مرحلے میں تینوں کالاش وادیوں اور ایون کے مقام پر عوامی جلسے منعقد کئے جائیں گے جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلوں میں شدید احتجاج کا راستہ اپنا یا جائے گاجس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ایون اور کالاش وادیوں کے عمائیدین نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ ایون کے نو تعمیر شدہ آر سی سی پل کو فوری طور پر موٹر گاڑیوں کی ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے کیونکہ پرانی چوبی پل خستہ حالی کا شکار ہے اور کسی بھی وقت پل ٹوٹ جانے کی وجہ سے حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کالاش ویلیز روڈ کو پرانی ڈیزائن کے مطابق موڑدہ گاؤں سے شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ ایون کی ذیادہ سے ذیادہ آبادی اس سے مستفید ہوسکے جبکہ اس کے بغیر دوسری روٹ کو وہ تسلیم نہیں کریں گے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے مقامی رہنما شفیق الرحمن نے وزیر زادہ کی طرف سے عوام کویقین دلایا کہ ستمبر میں کام کا آغاز کیا جائے گا جبکہ سڑک کے لئے زمین کی خریداری کی مدمیں 2ارب روپے صوبائی حکومت نے دے دی ہے اور ضلعی انتظامیہ زمین کی خریداری کے لئے بہت جلد ہی کاروائی کا آغاز کرے گی۔

chitraltimes kalash valley road protest rally4
chitraltimes kalash valley road protest rally2
chitraltimes kalash valley road protest rally
chitraltimes kalash valley road protest rally3
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
51015

عید کی چھٹیوں پر کالاش ویلی جانے والے سیاح کئی گھنٹے تنگ سڑکوں پر پھنس کر رہ گئے

عید کی چھٹیوں پر کالاش ویلی جانے والے سیاح کئی گھنٹے تنگ سڑکوں پر پھنس رہ گئے

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز) عید الاضحیٰ کے پہلے روز سے ہی ملک بھر سے سیاحوں کی چترال آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ اور ہزاروں کی تعداد میں سیاح کالاش ویلی کی سیاحت کا ارمان لئے وادیوں کی طرف جانے کی کوشش کر رہےہیں ۔ لیکن کھنڈر کچی اور تنگ سڑکوں کی وجہ سے نہ صرف سیاح پھنس کر رہ گئے ہیں ۔ بلکہ مقامی لوگ بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔

مین روڈ سے کالاش ویلی بمبوریت عام حالات میں ڈیڑھ گھنٹے کاراستہ ہے ۔ لیکن اب یہ راستہ چھ سے آٹھ گھنٹوں میں بھی طے کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ یوں سیاح وادی کو جانے والی سڑکوں میں بغیر ہوٹلوں اور کھانوں کے رات گزارنے پر مجبور ہیں ۔ خوش قسمتی سے جو سیاح جہد مسلسل کے بعد کالاش ویلی پہنچ جاتے ہیں ۔ ان کا وہاں سے نکلنا بھی کوئی کم مشکل نہیں ہے ۔

سیاحوں کی بڑی تعداد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جہاں حکومت کے بلند بانگ دعووں پر اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ وہاں انہوں نے کہا ۔ کہ یہ مقامی لوگوں کی بے حسی کی واضح مثال ہے ۔ کہ وہ یہ سفری مصائب چپ چاپ سہہ رہے ہیں ۔ اور اپنی مشکلات حکومت تک پہنچانے کیلئے آواز تک نہیں نکالتے ۔ جس کی وجہ سے حکومت کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی ۔ کالاش ویلیز کی سڑکوں پر ٹریفک جاری رکھنے کیلئے بڑی تعداد میں ٹریفک وارڈنز اور پولیس کے جوان خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اور یہ جوان راتوں کی نیند حرام کرکے ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔ بصورت دیگر حالات مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں ۔

chitraltimes tourist stuck at kalash valley road 1

کالاش ویلیز روڈ پر سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیوں میں موجود سیاحوں نے ٹریفک بلاک ہونے کی وجہ سے روڈ پر ہی رات گزاری ۔ کئ منچلوں نے اسے پک نک کا حصہ قرار دے کر انجوائے کیا ۔ تو کئی نے اسے اپنے اعمال بد کا نتیجہ قرار دیا ۔ لاہور کے ایک نوجوان طالب علم نے کہا ۔ کہ ہم نے ہنزا جانے کا پروگرام بنایا تھا ۔ لیکن شاہراہ ریشم میں کئی مقامات پر سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے ہم نے چترال کی طرف رخ کیا ۔ اور چترال پہنچ گئے ۔

لیکن بد قسمتی یہ ہے ۔ کہ مین چترال پشاور روڈ سے کالاش ویلی کو چلے چھ گھنٹے ہو چکے ہیں ۔ وادی تک نہیں پہنچے ہیں۔ ہم ایک قدم آگے چلتے ہیں تو دس قدم واپس آنا پڑتا ہے ۔ کیونکہ ایک طرف سڑک خطر ناک ہے اور دوسری طرف انتہائی تنگ ہے ۔ جس پر سے ایک وقت میں صرف ایک گاڑی گزر سکتی ہے ۔ سامنے والی گاڑی کو راستہ دینے کی جگہ ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ان کے پاس کچھ سفری خوراک موجود تھے ۔ جو کہ ختم ہو چکے ہیں ۔ اب نہ جانے ویلی کی ہوٹلوں تک پہنچنے میں انہیں کتنے گھنٹے اور لگیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جگہ خوبصورت لوگ اچھے ہیں ۔ لیکن حکومت کی کارکردگی صفر ہے ۔

ایک اور سیاح لاہور سے فیملی کے ساتھ آرہے تھے ۔ ان کو جگہ جگہ گھنٹوں کھڑے رہنے کے عمل نے انتہائی اکتا دیا تھا ۔ وہ کالاش جائے بغیر واپس لوٹنے کی خواہش کر رہے تھے ۔ لیکن ان کو واپس موڑنے کیلئے جگہ نہیں مل رہی تھی ۔

یہ حالت زیادہ تر سیاحوں کی تھی ۔ کالاش ویلیز کی سڑکیں جہاں بہت تنگ ہیں ۔ وہاں ویلیز روڈ کو این ایچ اے کی تحویل میں دینے کے بعد مرمت کی جاتی ہے اور نہ روڈ قلی موجود ہیں ۔ کالاش ویلی روڈ پر ایک غریب شخص اپنی طرف سے کام کرتا ہے ۔ جن کی ڈرائیور برادری اور سیاح اپنی طرف سے ان کی مدد کرتے ہیں ۔ جو روڈ قلیز اس سڑک پر کام کرتے تھے ۔ وہ ریٹائرڈ ہو گئے ہیں ۔ جبکہ نئے قلی بھرتی نہیں کئے جاتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے سڑکوں کی حالت انتہائی طور پر خراب ہو چکی ہے ۔

chitraltimes tourist stuck at kalash valley road

سیاحوں کے اس رش سے مقامی لوگوں کو ایک طرف آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ تو دوسری طرف مقامی ٹیکسی سیاحوں سے منہ مانگے کرایہ وصول کرتے ہیں ،اور بکنگ پر گاڑیاں فراہم کرتے ہیں ۔

ایک مقامی شخص نے بتایا ۔ کہ اس کو ایمر جنسی میں ٹیکسی گاڑی کی ضرورت پڑی ۔ تو جاننے والے ڈرائیور نے پہلے تو روڈ پر گاڑیوں کے رش کا بہانا بنایا۔ اور بعد آزان دس ہزار روپے کرایہ طلب کیا ۔ جبکہ عام حالات میں وہ اس کے دو ہزار طلب کرتے ہیں ۔

خراب راستوں کی وجہ سے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو کن مسائل کا سامنا ہے ۔ حکومت اس بارے میں بالکل لا علم ہے ۔ حکومت سیاحتی ترقی کی بات تو کرتی ہے ۔ لیکن یہ فی الحال زبانی دعووں تک محدود ہے ۔ گو کہ اس سے بھی سیاحت کی بہتری میں مدد ملی ہے ۔ لیکن جب تک کالا ش ویلیز روڈ تعمیر نہیں کئے جاتے ۔ تب تک سیاحتی ترقی دیوانے کا خواب ہی قرار دیا جائے گا ۔ ایون وملحقہ وادیوں کے لوگ گذشتہ ساڑھےتین سالوں سے یہ انتظار کر رہے ہیں ۔ کہ کالاش وادی سے تعلق رکھنے والا معاون خصو صی وزیر اعلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ جو اس روڈ کی تعمیر کے حوالے سے مسلسل جدوجہد کر رہاہے ۔ کی محنت کب رنگ لائے گا ۔ جب کہ وادیوں کے لوگ سفری مشکلات سے تنگ آچکے ہیں ۔

عوامی حلقوں نے کہا ۔کہ سڑک کی تعمیر میں مسلسل تا خیر اب عوام کیلئے وبال جان بن چکی ہے ۔خصوصا ایون چتر پل تا صحن کا ائریا آمدورفت کیلئے مشکل ترین مقام بن گیا ہے ۔ اس لئے اپنی مشکلات حکومت تک پہنچانے کیلئے ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ ایون میں منعقد کیا جائے گا ۔ جس میں روڈ کی تعمیر کےسلسلے میں حکومت پر دباو ڈالا جائے گا ۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged ,
50689