کالاش قبیلے کی معروف قدیم رسم ” سوری جاجیک ” کو محفوظ بنانے اورآیندہ نسل تک اس کو منتقل کرنے کے حوالے سے پراجیکٹ لوک ورثہ اسلام آباد کے تعاون سے انجام دینےکی منظوری دیدی گئی
کالاش قبیلے کی معروف قدیم رسم ” سوری جاجیک ” کو محفوظ بنانے اورآیندہ نسل تک اس کو منتقل کرنے کے حوالے سے پراجیکٹ لوک ورثہ اسلام آباد کے تعاون سے انجام دینےکی منظوری دیدی گئی
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) یونیسکو کی طرف سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے والے کالاش قبیلے کے معروف قدیم رسم ” سوری جاجیک ” یعنی سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے عمل کا جائزہ لینے کی روایت کو محفوظ بنانے اورآیندہ نسل تک اس کو منتقل کرنے کے حوالے سے پراجیکٹ لوک ورثہ اسلام آباد کے تعاون سے انجام دینےکی باقاعدہ منظوری ایون اینڈ ویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (اے وی ڈی پی ) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سہ ماہی اجلاس میں دی گئی۔ جو اے وی ڈی پی آفس میں چیرمین شریف احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں بورڈ کے اکثریتی ممبران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ایجنڈے کےمطابق اے وی ڈی پی کے آفس کی منتقلی ، مستقل بلڈنگ کیلئے زمین کی خریداری ،کالاشہ اسٹیبلٹی انیشیٹیو پراجیکٹ (سوری جاجیک) اے کے آر ایس پی کی طرف تعمیر ہونے والے مختلف واٹر چینلز زرعی آلات ،کھاد ،بیج اور تربیت کی فراہمی ،1اور فیز ٹو میں دیگرمقامات کو شامل کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔جس پر بورڈ ممبران نے فردا فردا اپنی آرا کا اظہارکیا ۔ اور کہا کہ کالاش کلچر پراجیکٹ سمیت تمام دیگر منصوبے عوام کے بہتر مفاد میں باہمی اتفاق و اتحاد سے ترجیحی بنیادوں پر انجام دیے جائیں گے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ۔ کہ اے وی ڈی پی کی مستقل بلڈنگ ہونا ضروری ہے ۔ تاکہ بار بار کی آفس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی سے نجات حاصل کی جا سکے۔ اجلاس میں یو سی ایون میں 35 سے زیادہ واٹر چینلز کی تعمیر و مرمت کیلئے فنڈ کی فراہمی اور زرعی آوزار ،کھاد و بیج فراہم کرنے پر اے کے آر ایس پی اور آکاہ کا شکریہ آداکیا گیا ۔ اور فیز ٹو میں ترجیحی بنیادوں پر علاقہ ایون کو شامل کرنے کا مطا لبہ کیا گیا ۔
