ڈیجیٹل مردم شماری مارچ تک جاری رہے گی جس کے بعد الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کیلئے 4 ماہ درکار ہوں گے،وفاقی وزیر سید امین الحق
ڈیجیٹل مردم شماری مارچ تک جاری رہے گی جس کے بعد الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کیلئے 4 ماہ درکار ہوں گے،وفاقی وزیر سید امین الحق
اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری مارچ تک جاری رہے گی جس کے بعد الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کیلئے 4 ماہ درکار ہوں گے لہٰذا عام انتخابات کا انتخابات اکتوبر 2023 سے پہلے ممکن نہیں، سابق وزیراعظم عمران خان سیاسی جد وجہد آئین و قانون کے دائرے میں کریں ریڈ لائن کراس کریں گے تو نقصان ملک و قوم کا ہوگا۔ کوئی کمپنی آئے یا جائے، صارفین اور ملازمین کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انھوں نے یہ بات بدھ کو یہاں مقامی ہوٹل میں نمبر ریسورس سوسائٹی کے زیراہتمام انٹرنیٹ گورننس کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔تقریب سے لاروس لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو لو ہینگ، میلون چینگ، کاشف نواز اور محمد اسماعیل سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ممبر ٹیلی کام محمد عمر ملک، ڈائریکٹر وائرلیس جہانزیب سمیت دیگر افسران و آئی ٹی انڈسٹری کی نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔سید امین الحق کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی بے چینی بڑھ رہی ہے اور یہی سیاسی بے چینی ملک کومعاشی بد حالی کی طرف لے کر جا رہی ہے، ایک سیاسی جماعت کے طور پر ہماری خواہش ہے کہ ملک میں استحکام ہواور ملک میں ہر صورت میں جمہوریت قائم و دائم رہنی چاہئے۔
لاء اینڈ آرڈر پر گہری نظر رکھی جائے۔طالبانائزیشن کے نام پر پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاور بلیک آؤٹ پر سائبر حملہ سے متعلق وزارت توانائی نے وزارت ائی ٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا وزارت نے وضاحت کردی تھی کہ ٹیکنیکل فالٹ تھا.ٹیلی نار کے حوالے سے نان بائنڈنگ آفر موجود ہے،وزارت آئی ٹی ان تمام معاملات کو دیکھ رہی ہے،صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے ساتھ ہی کمپنی کے ملازمین کے روزگار اور کوالٹی آف سروس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔وفاقی وزیر آئی ٹی نے انٹرنیٹ گورننس کے حوالے سے کہا کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشتوں کے لیے انٹرنیٹ کے وسائل کے بارے میں آگاہی تقریب پاکستان، وزارت آئی ٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر پالیسی کے کام کے حوالے سے ہمارے مستقبل کے منصوبوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ نمبر ریسورس سوسائٹی (NRS) کا ایک غیر منافع بخش تنظیم (NPO) کے طور پر کام کرنا عوامی مفاد میں قابل ستائش ہے۔
اس سے ڈیجیٹل دنیا پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے آواز اٹھانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ الحمدللہ آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسرز کیلئے خوشخبری ہے کہ اب اسٹیٹ بینک نے باقاعدہ سرکلر جاری کردیا ہے جس کے تحت آئی ٹی ہنرمند وں کے بینکنگ سے متعلق مسائل کا خاتمہ ہوجائے گا۔امید ہے کہ تمام کمرشل بینکس اسٹیٹ بینک کے سرکلر کی پابندی کرتے ہوئے آئی ٹی انڈسٹری سے وابستہ افراد کو سہولیات کی فراہمی میں مزید کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ ٹیلی کام سیکٹر کو اس وقت سب سے زیادہ مسائل لیٹر آف کریڈٹ کے حوالے سے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ضروری آلات کی امپورٹ میں مشکلات ہیں، نتیجے میں سسٹم کی اپ گریڈیشن اور نئے ٹاورز کی تنصیب کے منصوبوں کے تعطل کا خدشہ ہے۔ اس ضمن میں ہم نے وزیر خزانہ سے بات کی ہے 50 فیصد ایل سیز کی اجازت تو ہے امید ہے جلد ہی باقی مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔
ریکوڈک معاہدے کے تحت بلوچستان کو 3 ملین ڈالر کی پہلی ادائیگی کردی گئی
کوئٹہ(سی ایم لنکس)بیرک گولڈ نے ریکوڈک معاہدے کے تحت بلوچستان کو تین ملین ڈالر کی پہلی ادائیگی کردی۔تفصیلات کے مطابق ریکوڈک منصوبے کے معاہدے کے تحت بلوچستان کو پہلی ادائیگی کردی گئی، بیرک گولڈ کی جانب سے تین ملین ڈالر کا چیک بلوچستان حکومت کے حوالے کردیا گیا۔ریکوڈک پاکستان کے حکام نے بتایا کہ بیرک گولڈ کارپوریشن نے ریکوڈک منصوبے کی نئی شراکت داری کے فریم ورک کے تحت بلوچستان کی صوبائی حکومت کو پہلی ادائیگی کردی ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ حتمی معاہدوں پردستخط اورقانونی تقاضیپورے ہوئے، جس کے بعد بیرک اور حکومتِ بلوچستان نے صوبے کیلئے مختص فنڈزکی ادائیگی کے ٹائم ٹیبل پررضامندی ظاہرکی۔ریکوڈک پاکستان کے کنٹری مینیجرعلی رند نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز ڈیویلپمنٹ ڈپیارٹمنٹ بلوچستان سیدل خان لونی کوچیک پیش کیا۔سال 2028 میں ریکوڈک میں باقاعدہ کان کْنی کا آغاز متوقع ہے۔