The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ڈرگ فری پشاور‘‘ پروگرام کے تیسرے مرحلے کی تکمیل پر پشاور میں تقریب کا انعقاد’’

Posted on

ڈرگ فری پشاور‘‘ پروگرام کے تیسرے مرحلے کی تکمیل پر پشاور میں تقریب کا انعقاد’’

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) ” ڈرگ فری پشاور” پروگرام کے تیسرے مرحلے کی تکمیل پر بدھ کے روز پشاور میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ صوبائی کابینہ اراکین ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، سرکاری حکام اور سول سوسائٹی اراکین نے تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر ڈرگ فری پشاور پروگرام کے تیسرے مرحلے کے پاس آؤٹ افراد کو ان کے خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈرگ فری پشاور پروگرام کا یہ تیسرا مرحلہ نومبر 2024 میں شروع کیا گیا تھا جس میں نشے کے عادی 1239افراد کی بحالی عمل میں لائی گئی ہے ۔ نشے سے بحال 1239 افراد میں 13 خواتین اور 28 کم عمر لڑکے  بھی شامل ہیں ۔ ان افراد میں پشاور کے 611 افرادجبکہ صوبے کے دیگر اضلاع سے 536 افراد شامل ہیں۔ اسی طرح 48 افراد پنجاب، 10 سندھ اور 26 افغان شہری بھی پروگرام سے مستفید ہوئے۔ یہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا سب سے بڑا پروگرام ہے جس کےلئے 32 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سب کےلئے خوشی کا موقع ہے کہ ہم ان افراد کی بحالی و تربیت کے بعد ان کے خاندانوں سے ملانے جارہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پروگرام کا مقصد صوبے  کو منشیات سے پاک کرنا اور نشے کے عادی افراد کو دوبارہ نارمل زندگی کی طرف لوٹانا ہے تاکہ وہ ایک مفید اور کار آمد شہری کے طور پر زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ پروگرام صرف صوبے کے لئے نہیں بلکہ پورے پاکستان اور عالمی سطح کا پروگرام ہے، ڈرگ فری پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا کے علاؤہ دیگر صوبوں اور پڑوسی ملک افغانستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی بحال کیا گیا، ہم کسی کو اس بنیاد پر مسترد نہیں کرتے کہ وہ صوبے یا ملک کا نہیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا یہ منصوبہ 2022 میں شروع کیا گیا تھا۔ منصوبے کے پہلے دو مراحل کے تحت مجموعی طور پر نشے کے عادی 2400 افراد کا کامیابی سے علاج کیا گیا۔ ان افراد میں پشاور کے 1154 افراد، صوبے کے دیگر اضلاع کے 1039 افراد، پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، کشمیر اور گلگت بلتستان کے 170 افراد اور 34 غیر ملکی افراد شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ

ان کے لیڈر کا وژن ایک فلاحی ریاست کا قیام ہے، جس میں ریاست اپنے لوگوں کو ایک ماں کی طرح ٹریٹ کرے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ہم نشے کے عادی افراد کی بحالی کے پروگرام کو صحت کارڈ میں شامل کرنے جا رہے ہیں، نشے کے عادی افراد کو متعلقہ ڈپٹی کمشنر صرف دفتر پہنچائیں ، علاج حکومت کروائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بھی اس لت میں مبتلا ہیں، ہمارے حوالے کریں ہم انکا علاج کرائیں گے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہر وہ کام جو آپ جلوت میں نہیں کر سکتے وہ غلط ہے، غلط اور صحیح کی یہ مختصر تعریف ہے، منشیات نہ خوشی دے سکتی ہیں اور نہ سکون یہ صرف تباہی کا باعث ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سکون اور ترقی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پاسداری میں ہے۔ وزیر اعلیٰ کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف لڑیں انہیں اپنے علاقوں سے باہر نکالیں، پولیس آپکا ساتھ دے گی، پولیس کو بتائیں پولیس فوری کارروائی کرے گی، منشیات فروشوں کو نہیں چھوڑنا ، یہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے دشمن ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم نے مل کر  منشیات اور منشیات فروشوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ تاجر برادری کے شکر گزار ہیں کہ وہ بحال شدہ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔

وزیر اعلی نے محمد ریاض کو 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا اور اسے محکمہ اسپورٹس کے تحت فٹبال کوچ بھی مقرر کیا

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے فٹبال پلئیر محمد ریاض نے گزشتہ روز پشاور میں ملاقات کی۔
محمد ریاض نے فٹبال کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ان دنوں گزر بسر کے لئے جلیبی کی دوکان پر کام کرتاتھا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے نوٹس لے کر محمد ریاض کو ملاقات کے لئے سی ایم ہاوس بلا لیا۔ وزیر اعلی نے محمد ریاض کو 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا اور اسے محکمہ اسپورٹس کے تحت فٹبال کوچ بھی مقرر کیا۔

صوبائی وزیر کھیل فخر جہاں بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ محمد ریاض جیسے کھلاڑی ہمارا اثاثہ ہیں، انہیں سرپرستی کی ضرورت ہے، موجودہ صوبائی حکومت ایسے باصلاحیت نوجوانوں کی بھر پور حوصلہ افزائی کرے گی۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بعض مخصوص کھیلوں کی بجائے ہر قسم کے کھیلوں کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کر رہی ہے، ہم دیگر کھیلوں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور روایتی کھیلوں کے فروغ کے لئے سرگرمیاں منعقد کر رہے ہیں، ان سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت باصلاحیت کھلاڑیوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرے گی بلکہ انہیں ہر ممکن سپورٹ بھی فراہم کرے گی۔ محمد ریاض نے ملاقات کے لئے مدعو کرنے اور بھر پور معاونت کرنے پر وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کا شکریہ ادا کیا۔

cm kp giving away a cheque to footballer m riaz

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
100064

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے”ڈرگ فری پشاور” پروگرام کے تیسرے مرحلے کااجراءکردیا

Posted on

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے”ڈرگ فری پشاور” پروگرام کے تیسرے مرحلے کااجراءکردیا

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ )وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے”ڈرگ فری پشاور” پروگرام کے تیسرے مرحلے کااجراءکردیا ہے ۔ پروگرام کے اس مرحلے میں نشے کے عادی دوہزار افراد کی بحالی عمل میں لائی جائے گی جس کےلئے صوبائی حکومت نے 32 کروڑ روپے کی خطیر رقم جاری کر دی ہے ۔ پروگرام کے تحت منشیات کے عادی افراد کو تحویل میں لے کر بحالی مراکز منتقل کیا جائے گاجہاں انہیں علاج اور بحالی کی معیاری سہولیات مہیا کی جائےں گی۔اس کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومت پشاور کو منشیات سے پاک کرنے کےلئے تعلیمی اداروں میں ایک جامع آگاہی مہم کا اجراءبھی کیا گیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی تباہ کاریوں کے خلاف شعور کو اُجاگر کرنا ہے ۔ منشیات کے خلاف آگاہی مہم کے تحت بدھ کے روز جامعہ پشاور میں ایک سیمینار اور آگہی واک کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈ اپورنے کی ۔ صوبائی کابینہ اراکین سید قاسم علی شاہ اور مزمل اسلم کے علاوہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، سرکاری حکام ، صوبے کی جامعات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران ، علماءاور طلبہ کی کثیر تعداد نے سیمینار میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے ، متعلقہ محکموں اور اداروں کو منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی واضح ہدایات جاری کی جاچکی ہےں، متعلقہ محکمے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالیں اور انہیں عبرت کا نشان بنائیں ، چاہے کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ منشیات فروشی ایک ایسا گھناو ¿نا جرم ہے جس کی جتنی بھی سزا دی جائے کم ہے۔ ڈرگ فری پشاور پروگرام کا مقصد صوبائی دارالحکومت پشاور کو منشیات سے پاک کرنا اور نشے کے عادی افراد کا علاج کرکے انہیں دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف واپس لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کی مو ¿ثر مانیٹرنگ اور اس کو نتیجہ خیز بنانے کےلئے ڈپٹی کمشنر آفس اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پروگرام کے پہلے دو مرحلوں میں 2400 منشیات کے عادی افراد کا علاج کیا گیا ہے جن میں پنجاب ، سندھ، بلوچستان، کشمیر، گلگت بلتستان اور پڑوسی ملک افغانستان کے باشندے بھی شامل ہےں۔ آگے بھی یہ پروگرام ایساہی چلے گا اور بلاتفریق سب کا علاج کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے دیگر ڈویژنل کمشنرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے ڈویژنز میں منشیات کے عادی افراد کا ڈیٹا مرتب کرےں ، صوبائی حکومت ان کی بحالی کیلئے بھی اقدامات کرے گی ۔ صوبے کو منشیات سے پاک اور نشے کے عادی افراد کی بحالی کرکے دم لیں گے اور حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ انہیں بوجھ کی بجائے اثاثہ بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں کرپشن کے خاتمے کیلئے وسل بلور قانون پر کام جاری ہے ، بے نامی جائیدادوں سے متعلق اطلاعات دینے والے شخص کو مخصوص حصہ دیا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام حکومت کی ٹیم ہے، جب تک عوام حکومت کاساتھ نہیں دیتے ، حکومت آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ عوامی شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کےلئے خصوصی پورٹل بنایا گیا ہے ، شہری پورٹل پر اپنی شکایات درج کریں ، ان کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ کسی ایسی چیز کو سپورٹ نہیں کرتے جو عوام کےلئے نقصان دہ ہو ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ سوشل ویلفیئر ،کمشنر پشاور اور ان کی پوری ٹیم کو ڈرگ فری پشاور پروگرام کے تیسرے مرحلے کے اجراءکو یقینی بنانے پر سراہا اور کہا کہ امید ہے کہ منشیات کے عادی افراد بحالی کے بعد ایک کارآمد شہری کے طور پر سامنے آئیں گے۔ وزیراعلیٰ نے علمائے کرام ، اساتذہ ، سول سوسائٹی ، میڈیااور عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ صوبے کو منشیات سے پاک کرنے کے حکومتی مشن کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

chitraltimes cm kpk ali amin gandapur addressing drug free awarness program

نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاءکا پشاور میں وزیراعلیٰ سے ملاقات

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاءنے بدھ کے روز پشاور میں ملاقات کی۔ متعلقہ حکام کی جانب سے شرکاءکو صوبے میں امن و امان، انتظامی معاملات، ترقیاتی منصوبوں، مالیاتی معاملات، اصلاحاتی اقدامات اور دیگر اہم امور سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ورکشاپ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کا قیام سب سے بڑا چیلنج اور موجودہ صوبائی حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ہے۔ صوبے کے جنوبی اضلاع میں امن و امان کے مسائل درپیش ہیں جن سے نمٹنے کےلئے پولیس کو ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کر رہے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم امن کےلئے سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا خصوصا ضم اضلاع فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں، ضم اضلاع کے عوام نے بہت زیادہ قربانیاں دیں اور تکالیف برداشت کی ہیں۔ ہم ضم اضلاع میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور بے گھر ہونے والے افراد کی دوبارہ بحالی پر کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ انضمام کے وقت ضم اضلاع کے لوگوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے،این ایف سی میں ضم اضلاع کے شیئرز اور دس سالہ ترقیاتی پروگرام کے فنڈز کم مل رہے ہیں۔ حالانکہ ضم اضلاع کے لوگوں کی تکالیف کم کرنے اور ان کے احساس محرومی کو دور کرنے کےلئے وہاں پر معمول سے ہٹ کر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں وفاق اور تمام وفاقی اکائیوں کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ پن بجلی کے خالص منافع جات کی مد میں وفاق کے ذمے صوبے کے 1610 ارب روپے بقایا ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ ان تمام تر مشکلات کے باوجود صوبے کو مالی طور پرخود کفیل بنانے کےلئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں، اس مقصد کےلئے معدنیات، سیاحت اور ہائیڈل پاور سمیت استعداد کے حامل دیگر شعبوں میں خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اسی طرح صوبے میں مالی نظم ونسق کو بہتر بنانے کےلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، بیرونی قرضوں کا بوجھ کم کرنے کےلئے ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ آٹھ مہینوں کے دوران صوبائی حکومت کے ریونیو میں 44 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ خیبر پختونخوا آئی ایم ایف کی طرف سے سرپلس بجٹ کا ہدف پورا کرنے والا واحد صوبہ ہے،اس وقت صوبے کا سرپلس بجٹ 100 ارب روپے سے بھی زیادہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت قومی ائیر لائن کو خریدنے میں سنجیدہ ہے۔ دیگر شعبوں میں جاری اقدامات اور ترجیحات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں 800 میگاواٹ پن بجلی کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے اور یہ منصوبے 2028 تک مکمل کئے جائیں گے۔

صوبائی حکومت نے اپنی ٹرانسمشن لائن بچھانے پر کام شروع کردیا ہے، ہم اپنی بجلی سستے نرخوں پر مقامی صنعتوں کو دیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو صوبے کی طرف راغب کیا جاسکے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو باروزگار بنانے اور انہیں اپنے پاو ¿ں پر کھڑا کرنے کےلئے 12 ارب روپے کی خطیر لاگت سے تین مختلف اسکیموں کا جلداجراءکریں گے، ان اسکیموں میں خواتین اور ضم اضلاع کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔ ماحولیات کے شعبے میں خیبر پختونخواہ حکومت بہترین کام کررہی ہے، ملکی جنگلات کے رقبے کا 46 فیصد حصہ خیبر پختونخوا میں ہے، صوبے میں جنگلات کا رقبہ 18 فیصد سے بڑھا کر 26 فیصد کیا گیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے میں پانی کے وسائل کے تحفظ کےلئے بھی کئی اہم منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
95199