The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

داد بیداد ۔10 بجے کا مطلب ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔10 بجے کا مطلب ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ریل کی سفر میں اچھے دوست ملتے ہیں کبھی بات چیت کا موقع ملے تو یا دوں کی پوٹلی سے مشترکہ دلچسپی کے وا قعات کا ذکر بھی کر تے ہیں میرے پہلو میں بیٹھے ہوئے اجنبی نے کتاب سے نظر یں ہٹا کر پہلے اپنے سنہرے سفید بالوں کو سہلا یا پھر میری طرف متوجہ ہو کر پو چھا معا فی چا ہتا ہوں آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے فخریہ انداز میں پا کستان کا نا م لیا تو اُس نے پو چھا کیا اب بھی پا کستان میں 10بجے کا مطلب 12بجے ہو تا ہے؟ ان کا طنزیہ سوال مجھے برا لگا کچھ کہہ نہ سکا، میرے ہمنشین نے بھا نپ لیا کہ میرا یا ر شرمندہ ہو گیا ہے اُس نے اپنا تعارف کرا تے ہوئے کہا میں سوئیز ہوں مختلف موا قع پر ٹریننگ، ورکشاپ وغیرہ کے لئے پا کستان کا دورہ کر تا ہوں پڑھے لکھے لو گ، سیا سی نما ئیندے، سما جی کا رکن اور ڈیولپمنٹ پر وفیشنلز کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو تا ہے شام 2بجے ان کو بلا یا جا ئے تو 9بجے سے پہلے کوئی نہیں آتا صبح 10بجے کا وقت دیا جا ئے تو 12بجے آجا تے ہیں اس وجہ سے پورا پرو گرام بر باد ہو تا ہے

اجنبی اب میرے لئے اجنبی نہیں رہا اُس نے میرے ملک کے بہترین لو گوں کا کچا چٹھا کھول کر میرے سامنے رکھ دیا تھا اور میں سمجھ گیا تھا کہ میرا ہم نشین بین الاقوامی کنسلٹنٹ ہے، میں نے ہمت کر کے پوچھا آپ نے روانڈا کا دورہ بھی کیا ہو گا؟ اُس نے میرے سوال کے بین السطور کو جا ن لیا اور بولا روانڈا سے بھی پسماندہ اور جا ہل قوموں کو دیکھا ہے وہ سب 10بجے کو 10بجہ ہی سمجھتے ہیں 10بجہ پا کستان کے سوا کسی بھی ملک میں 12بجہ نہیں ہوتا سٹیشن آتے ہی میرا ہم نشین ٹرین سے اتر گیا میں نے سوچا تو یا د آیا چند دن پہلے پشاور کے پنچ ستاری ہو ٹل میں محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور چند دیگر شعبوں کے لئے پر وگرام وضع کیا گیا ہے اس پر کروڑوں روپے خر چ کئے گئے تھے صبح 10بجے کا وقت مقرر تھا مگر 12بجے تک غیر ملکیوں کے سوا کوئی بھی نہیں آتاتھا، میں بھی حا ضر تھا وہاں،جن پا کستانیوں کو روزانہ 60ہزار روپے کے خر چ پر پنچ ستاری ہوٹل کے اندر ٹھہرا یا گیا تھا وہ ستم ظریف بھی 12بجے تک اپنے کمروں سے نکل کر ہال میں نہیں آتے تھے

پرو گرام کے غیر ملکی کنسلٹنٹ ان کی ایسی حر کتوں سے تنگ آگئے تھے پرو گرام کے آخری روز ما حو لیات کے وزیر کو بلا یا گیا تھا، کنسلٹنٹ کے ساتھ وزیر صاحب کی ذاتی جان پہچان تھی دونوں امریکی کمپنی میں مل کر کام کر تے تھے ان کا خیال تھا کہ وقت کی پا بندی کا مسلہ وزیر صاحب کے سامنے رکھو ں گا تا کہ آئیندہ ہمارا وقت ضا ئع نہ ہو جب آخری نشست کا وقت آیا تو وزیر صاحب نے 3گھنٹے کی تاخیر کی ہم پا کستانی سٹائل میں نعت شریف، قومی نغمے یا غزلوں کے ریکارڈ سنا کر حا ضرین کو مہمان خصو صی کے آنے تک مشغول رکھتے ہیں بین الاقوامی کنسلٹنٹ ایسا نہیں کر سکتا تھا اس نے حا ضرین کو ”گروپ ورک“ دے دیا، خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا اور وزیر صاحب 3گھنٹے بعد آگئے مجھے ایک اور اہم پرو گرام کا تلخ تجربہ بھی یا د ہے،

یہ ایک سکول میں تقسیم انعامات کی تقریب تھی اہم شخصیت کو صدارت کے لئے بلا یا گیا تھا اہم شخصیت نے فون کیا کہ تم لو گ پرو گرام کا آغاز کرو میں چند منٹوں میں پہنچ جا ؤ نگا پر وگرام کا آغاز ہوا، چند منٹوں کی جگہ ڈیڑھ گھنٹہ گذر گیا کلیدی خطبہ پڑھا گیا، سپاسنا مہ ملتوی رکھا گیا تا کہ اہم شخصیت کے آنے کے بعد گونا گوں مصرو فیات کے وقت نکا لنے کی گھسی پٹی گفتگو سنا کر ان کا شکریہ ادا کر کے اہم شخصیت کا شا یا ن شان خیر مقدم کیا جا سکے، تقسیم انعامات کا پرو گرام ختم ہوا، دعائے خیر کا مر حلہ باقی تھا کہ اہم شخصیت کی تشریف آوری ہوئی سپا سنا مہ پیش کیا گیا اس کے بعد کلیدی خطبہ دوبارہ سنا نے کے لئے مقرر کو دعوت دی گئی تو اس نے معذرت کی، پا کستانیوں کی یہ بری عادت اتنی پکی ہو چکی ہے کہ با بائے قوم محمد علی جنا ح کی اس نا ہنجار قوم کو ”وقت کی پا بندی“ بہت بری لگتی ہے دوسرے ملکوں کے لو گ جہاں ملتے ہیں ہمارا مذاق اڑاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ 10بجے کا مطلب 10بجے ہے یا 12بجے؟ چلو بھر پانی میں ڈوب مر نے کا مقام ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
95737

داد بیداد ۔ اُمید اور آس ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ اُمید اور آس ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

وہ لو گ خو ش نصیب تھے جن کے دور میں ذرائع ابلا غ نہیں تھے اس طرح گاوں اور محلے سے با ہر کی کوئی خبر ان کے کا نوں تک نہیں پہنچتی تھی ان کو خواہ مخواہ کا دکھ اور غم نہیں ہوتا تھا ان کو کبھی یہ غم نہیں ہوا کہ امریکہ کی ایک بڑی ریا ست میں سفید فام دہشت گرد نے 3شہریوں کو قتل کر کے خود کو بھی گو لی مار دی ان لو گوں نے کبھی یہ خبر نہیں سنی کہ ایک ہزار کلو میٹر دور کسی شہر میں شو ہر نے بیوی اور بچوں کو مو ت کے گھا ٹ اتار نے کے بعد خو د کشی کی ایسی خبریں دن رات سن کر خواہ مخواہ اور بلا وجہ آدمی رنجیدہ ہوتا ہے بقول امیر مینا ئی بر چھی چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے آج سے 200سال پہلے دنیا کے کسی بھی حصے میں ذرائع ابلا غ کی مو جودہ سہو لیات نہیں تھیں، آج سے 100سال پہلے بر صغیر پا ک و ہند میں ایسی کوئی سہو لت نہیں تھی آج سے 50سال پہلے پا کستان میں ذرائع ابلا غ بہت محدود تھے

اس لئے لو گ خو ش حال تھے بلڈ پریشر، سردرد اور فالج کی بیماریاں نہیں تھیں آج بھی ایسے لو گ مو جو د ہیں جو سکون اور راحت کی تلا ش میں چند دنوں کے لئے گر مائی چراگاہوں پر جا تے ہیں جہاں 14000فٹ کی بلندی پر کوئی سگنل نہیں ہو تا باہر کی کوئی آواز نہیں آتی چنا نچہ سکون کے چند دن گذار کر خو شی اور مسرت حا صل ہو تی ہے، ذرائع ابلا غ کو پوری دنیا میں نعمت کا در جہ دیا جا تا ہے ہم ذرائع ابلا غ سے بیزار کیوں ہیں؟ اس سوال کے 101جوا ب ہو سکتے ہیں پشتو محا ورہ ”سل خبری سر یو“ کے مصداق مختصر اور جا مع جواب یہ ہے کہ دنیا بھر کے ذرائع ابلا غ نا امیدی اور خوف پھیلا نے کا دھندہ نہیں کر تے دنیا میں ذرائع ابلاغ کو اچھی خبروں کی تلا ش ہو تی ہے ہمارے ذرائع ابلا غ کو بری خبروں کی جستجورہتی ہے دنیا کے ذرائع ابلا غ اور ہمارے ذرائع ابلا غ میں یہ بنیا دی فرق ہے جو ہمیں خبروں سے بیزار کر تا ہے آپ سنگا پور اور جا پا ن کے ذرائع ابلا غ کو دو ہفتوں کے لئے دیکھتے اور سنتے رہیں دو ہفتوں میں ایک بار بھی باد شاہ، وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کی تقریر یا خبر نہیں آئیگی کسی سیا سی پارٹی کے جلسے کی خبر یا سیاسی لیڈر کی پریس کا نفرنس کی فو ٹیچ نہیں آئیگی،ہمارے ذرائع ابلا غ میں ان کے سوا کوئی دوسری خبر ہوتی ہی نہیں سو شل میڈیا بھی ان خبروں کو آگے پھیلا تا ہے

اس لئے نا امیدی اور ما یو سی پھیلتی ہے، حا لا نکہ ملک کے اندر اُمید اور آس کی بے شمار خبریں مو جو د ہو تی ہے تعلیمی اداروں کی اچھی خبریں، صحت عامہ کے شعبے میں نئے تجربات، صنعت و حر فت کے شعبے میں نئی کا میا بیاں، کھیلوں کے شعبے میں نئی پیش رفت سے متعلق خبروں کی کوئی کمی نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ذرائع ابلا غ نے آپس میں بُری خبروں کا مقا بلہ رکھا ہوا ہے ایک معصوم بچی کے قتل کا واقعہ دس دنوں تک تسلسل کے ساتھ دکھائی جا تی ہے کسی قابل اور لائق بچی کی کوئی بری کا میا بی کبھی نہیں دکھائی جا تی ہم کوئی اچھی خبر کبھی نہیں دیکھی ایسی کوئی خبر ہم نے مثبت سر گر میوں کی کوئی خبر ہم نے نہیں پڑھی پا کستان ملٹری اکیڈ یمی کا کول ہے، پی اے ایف اکیڈیمی رسالپور ہے پا کستان نیول اکیڈیمی ہے ان کی قابل فخر سر گر میوں کو خبر کا در جہ نہیں دیا جا تا، سیا لکوٹ میں کھیلوں کا بہترین سامان بنتا ہے سر جیکل آلا ت بنتے ہیں سیالکوٹ کے تا جروں نے نجی شعبے میں اپنا ائیر پورٹ تعمیر کیا ہے

ایسی مثبت سر گر می وں کی کوئی خبر نہیں بنتی، حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ہری پور، گدون انڈسٹریل اسٹیٹ صوابی سے لیکر نوری اباد کراچی تک ہزاروں کا ر خا نوں میں بہترین مال تیار ہوتا ہے فیصل اباد اور گوجرانوالہ کو دنیا میں مانچسٹر سے تشبیہہ دی جا تی ہے مگر ہم ان کا میاب مثا لوں سے بے خبر ہیں تقریر کرنے والوں نے قوم کو 23مذہبی گروہوں اور 18قومیتوں میں تقسیم کر دیا ہے اس کے باوجود پا ک فو ج اور افسر شاہی کی انتظا می صلا حیتوں نے ملک کو مضبوط اور متحد رکھا ہے یہ اُمید اور آس کی بڑی وجہ ہے مگر ہم 200سال پہلے گزرے ہوئے لو گوں کی طرح خو ش نصیب نہیں ہمیں روزانہ نا امیدی کی طرف دھکیلا جا تا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
78500

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خواب غفلت کا شکوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

بجٹ کی مثال بُز کشی کے قدیم کھیل کی طرح ہے جس میں گھڑ سوار ایک دنبے پر جھپٹتے ہیں جو طا قتور ہوتا ہے وہ دنبے کو اچک لیتا ہے اور سر پٹ گھوڑا دوڑا کر اپنی فتح کا اعلا ن کرتا ہے یہ بُز کشی مو جودہ سال اپنے عروج کو پہنچ گئی جب قو می اسمبلی میں بجٹ کی کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیئے گئے بلو چستان اسمبلی کو تا لہ لگا یا گیا جن کو حصہ نہیں ملا وہ لو گ اپنے غصے پر قا بو نہ رکھ سکے اور جن کو حصہ ملا وہ مست ہا تھی کی طرح آپے سے با ہر ہوئے جو حلقے اور علا قے تر قیا تی فنڈ اور منصو بوں سے محروم رہے ان کا گنا ہ یہ تھا کہ خواب غفلت میں پڑے تھے اور خواب غفلت کا کوئی شکوہ بھی نہیں تھا اس کی شکا یت بھی نہیں تھی مثلا حلقہ نمبرایک کے گیس پلا نٹ منسوخ ہوگئے

پختہ سڑک کی جا ری سکیم کو بند کر دیا گیا، بجلی کی تر سیل کے کام ادھورا چھوڑ دیئے گئے کیونکہ لو گوں نے خدا کے نا م پر علما ء کو ووٹ دیا علما ء حزب اختلا ف میں بیٹھ گئے سزا کس کو ملی اُس حلقے کے 7لا کھ عوام کو ملی یہ خواب غفلت کی سزا ہے اور خواب غفلت کی ایسی ہی سزا ملتی ہے افغا نستا ن کے ایک باد شاہ کا قصہ کہا نیوں کی کتا بوں میں آتا ہے باد شاہ رعا یا سے بیگار لیتا تھا قلعے کی موٹی اور اونچی دیواریں بن رہی تھی جو شخص کام کے دوران بیماری کی شکا یت کر کے سستی دکھا تا اس کو دیوار میں لگا کر ہمیشہ کے لئے دفن کیا جاتا یعنی زندہ دیوار میں چُن دیا جا تا اس طرح 600بندے زندہ دیوار وں میں چُن دیئے گئے ایک دن ایک شخص کو بخار چڑھا تو اُس کو گھر پر لٹا کر اس کی بیوی بر قعہ اوڑھ کر کدال بغل میں دبا کر بیگار پر چلی گئی کام پر جا کر اُس نے بر قعہ ایک طرف رکھ دیا اور کام میں مصروف ہوئی صحت مند اور تنو مند خا تون تھی مردوں کے شا نہ بشا نہ کام کر رہی تھی اتنے میں باد شاہ خو د کام کا معائینہ کر نے کے لئے آگیا

باد شاہ کو آتے دیکھ کر خا تون نے بر قعہ اوڑھ لیا اور کام میں مگن ہوئی باد شاہ نے خا تون سے پو چھا تم دو ہزار مردوں کے مجمع میں بر قعہ کے بغیر کام کر رہی تھی مجھے آتے ہوئے دیکھ کر تم نے بر قعہ اوڑھ کر کس لئے پرد ہ کیا؟ خا تون نے جواب دیا کہ یہ جو 2000بیگاری ہیں ان میں مرد کوئی نہیں سب میری طرح عورتیں ہیں تم آگئے تو مجھے احساس ہوا کہ اب ایک مر د آگیا ہے اس لئے میں نے بر قعہ اوڑھ کر پر دہ کیا آج کے دور کی بڑی حقیقت یہ ہے کہ مردوں میں مر دا نہ پن نہیں رہا لو گ ظلم سہتے ہیں، نا انصا فی کو بر داشت کر تے ہیں اور خا موش رہتے ہیں ظلم کے خلا ف آواز بلند کرنے سے اجتما عی مفاد حا صل ہوتا ہے خا موش رہنے والا اپنا انفرادی مفاد حا صل کر تا ہے گو یا انفرادی مفا دات کے چکر میں قوم بکھر جا تی ہے

ملک لٹ جا تا ہے حکومت کی عملداری نا بود ہو جا تی ہے ہر شخص اپنا اُلّو سیدھا کر کے اپنے آپ کو مطمئن کر تا ہے جس طرح چیونٹی دانہ لیکر اپنے بل میں گھس جا تی ہے بجٹ کے مو سم میں ہم دیکھتے ہیں ہر شخص اپنا مفاد دیکھتا ہے کوئی ایسا شہری نہیں ملتا جو اجتما عی مفاد کے لئے آواز اٹھا تا ہو جو ن ایلیا نے گذشتہ صدی میں ایک شہرہ آفاق نظم لکھی تھی نظم کا عنوان ہے ”ولا یت خا ئبان“ دو مسافر بریر ابن سلا مہ اور یاسر ابن جُندُب ایک نئے ملک میں دا خل ہو کر سرائے سین میں ٹھہر تے ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ اس ملک کے سارے لو گ گہری نیند کی کیفیت سے دو چار ہیں خرا ٹے ہی خراٹے سنا ئی دیتے ہیں

ایک تیسرا مسا فر ملتا ہے وہ ان کو بتا تا ہے کہ اس ملک کی ہوا میں بھی نیند لا نے والی تا ثیر ہے پا نی بھی خواب آورہے اس ملک کے باد شاہ نے ایسا پختہ انتظام کیا ہے کہ کوئی شہری خواب سے بیدار نہ ہو کوئی شہری نیند سے نہ جا گے اگر لو گ جا گ گئے اور شہر ی حقوق ما نگنے لگے تو پھر باد شاہ کی باد شاہ ہت کا کوئی مزہ نہیں رہے گا اس گفتگو کے دوران دونوں مسافر وں پر نیند کا غلبہ ہوا تیسرا مسا فر بھی خرا ٹے لینے لگا ہم بھی ولایت خا ئبان کے با سی ہیں ہماری آواز کوئی نہیں صر ف خرا ٹے ہیں یہ خواب غفلت کا شکوہ ہے جو حکومت کے ایوا نوں سے ٹکرا کر پا ش پا ش ہو جا تا ہے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
49447