The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 23 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

محمد قطب مرحوم (عالم اسلام کاایک روشن ستارہ) – ڈاکٹر ساجد خاکوانی (اسلام آباد،پاکستان)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محمد قطب مرحوم (عالم اسلام کاایک روشن ستارہ)

(4 اپریل،یوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی(اسلام آباد،پاکستان)

محمدقطب مرحوم عالم اسلام کے مایہ ناز دانشور تھے،جمعۃ المبارک 4اپریل 2014کومکہ مکرمہ،سعودی عرب میں انتقال فرماگئے اور عالم اسلام ایک فکری خلا چھوڑ گئے۔مرحوم کی ایک وجہ شہرت ان کاعلمی خانوادہ مصر بھی تھا،وہ بیسویں صدی کے مشہور سائنسدان اور مفسر قرآن سید قطب شہید کے چھوٹے بھائی بھی تھے۔اللہ تعالی اب دونوں بزرگوں کو غریق رحمت کرے،ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ان کے بعد امت مسلمہ کی فکری تنہائی کو دور کرے،آمین۔مرحوم محمد قطب کاسن پیدائش1919ہے،انہوں نے مصر کے ایک گاؤں ”موشا“جو ایک بڑے شہر”اسیوط“کے ساتھ واقع ہے میں آنکھ کھولی۔وہ پانچ بہن بھائیوں میں سے چوتھے تھے۔1940میں قاہرہ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں اعلی تعلیم کی سند حاصل کی اور اس کے بعد تعلیمیات اور نفسیات میں بھی تعلیمی اسناد حاصل کیں۔وہ آغاز عمری ہی سے اپنے بڑے بھائی سیدقطب شہید کی زیرسرپرستی رہے،وہی نہیں ان کی دو چھوٹی بہنیں بھی اپنے بڑے بھائی سے بہت متاثر رہیں اور اپنے انقلابی افکار دینی کے باعث یہ سب بہن بھائی کئی بار سنت یوسفی میں پابندسلاسل بھی رہے اور مصر کے روایتی طاغوت نے ان بطلان حریت کوآہنی زیور پہنائے رکھا۔خاص طورپر محمد قطب نے دو بار تو طویل دورانیے کی مصائب آزاروبند جھیلے،ایک بار 1954میں جب جمال عبدالناصرکے کوڑے اہل ایمان پر برس رہے تھے اور دوسری بار 1965سے1972تک بھی محمدقطب مرحوم پس دیوار زنداں رہے اوراسی دوران 1966میں ان کے بڑے بھائی سید قطب شہید کو تختہ دار پر لٹکادیاگیا، یوں اخوان المسلمون کے اہل ایمان نے صبرواستقامت اورعزم و ہمت کی داستانیں رقم کیں۔

محمد قطب مرحوم کو1972میں قیدوبند سے آزادی کے بعد مصر کے تاریخی استعمار نے اپنے ملک میں برداشت کرنے سے انکار کردیااور یوں آپ کل انبیاء علیھم السلام کی سنت ہجرت کو تازہ کرتے ہوئے سعودی عرب میں تاحیات مقیم ہو گئے اور اپنی باقی ماندہ مہلت عمل دعوہ و ارشاد اور تعلیم و تعلم کے لیے وقف کر دی۔اپنے تعلیمی وپیشہ ورانہ زندگی میں پہلے آپ شاہ عبدالعزیزیونیورسٹی اور پھر بعد میں جامعہ ام القری مکۃ المکرمہ میں بطور پروفیسر شعبہ علوم اسلامیہ کے تعینات رہے۔اس دوران آپ نے بے شمار تحقیقی مقالات کی نگرانی کی اور کئی نسلوں نے یکے بعد دیگرے آپ سے کسب فیض کیا۔ایم اے،ایم فل اور پی ایچ ڈیزکے کتنے ہی بڑے بڑے مایہ ناز طالب علم جنہوں نے بعد میں ایک زمانے کے اندر اپنا لوہا منوایااور نام کمایا اپنے عہد طالب علمی میں محمدقطب مرحوم کے سامنے زانوئے تلذتہ کرکے بیٹھے رہے اورپھر ان کے نام سے منسوب ہونا فخر سمجھتے رہے۔مرحوم نے اپنے کل افکار کواس نقطہ پر مرکوز رکھاکہ کس طرح سے اسلامی تعلیمات کو دورغلامی کے اثرات بدسے پاک صاف کیاجا سکتاہے اور کس طرح دینی فکروعقیدہ ایک شخص کی انفرادی زندگی سے ہوتاہوا کس طرح کل معاشرے کے رگ و پے میں سما سکتاہے۔1924ء میں سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد سے مسلمانوں میں امت کی شوکت گزشتہ کی تجدید کے لیے کئی افکاروخیالات پیش کیے جاتے رہے جن میں سے اکثریت کاجھکاؤمغربی تہذیبی سیکولرازم کی طرف تھایا پھر کسی نے بڑا زور مارا تو عرب نیشنل ازم کا نعرہ لگادیااور کوئی اٹھا تو اس نے سرنگوں ترقی و کمال کے نظریات پیش کر دیے لیکن جو انقلابی نظریات سید قطب شہید اور ان کے بعد محمد قطب مرحوم نے دیے انہیں کل امت میں قبول عام نصیب ہوااور آج اکیسویں صدی کی دہلیز پر شرق و غرب سے بیداری امت کی ٹھنڈی ہوائیں انہیں نظریات کا ثمرہ ہیں۔

محمدقطب مرحوم نے سعودی عرب میں دعوہ و ارشاد اور تبلیغ و ارشاد کامیدان ہاتھ سے نہ جانے دیا اور اپنے شہید بھائی کی کئی کتب کی اشاعت کی اور خودبھی مغرب کے مقابلے میں نظریاتی محاذپر عالم اسلام کے مدافعاتی نہیں بلکہ پیش دستی سپاہی بن کر ابھرے۔آپ مرحوم نے یورپ کے سیکولرنظریات کوآڑے ہاتھوں لیا،یورپی فکر کے بخیے ادھیڑے اور سیکولرخیالات کے خلاف ایسے ایسے دلائل دیے کہ جن کا جواب آج تک یورپی مفکرین سے نہیں بن پارہا،مرحوم محمدقطب نے سیکولرازم کا سخت ترین علمی محاصرہ کیا۔وہ خود مصر کے پروردہ تھے اور سیکولرازم کے نام پر انصاف کا اورانسانیت کا قتل عام نہ صرف اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے تھے بلکہ خود اس کا شکار ہو چکے تھے اور اپنی بہنوں سمیت جہاں دارورسن بری طرح اپنی جانوں پر سہ چکے تھے وہاں اپنے عزیزترین بھائی کی قربانی بھی پیش کر چکے تھے،تب ان سے بہتر سیکولزازم کے کذب و نفاق اوردوہرے معیارکواور کون جان سکتاتھا۔آفرین ہے اس مرحوم بزرگ پر کہ سعودی عرب جیسے ملک میں جبرواستبدادکے نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی ان کا قلم حق بیانی سے باز نہ آیااور انہوں نے مسلمان نوجوانوں کی کئی نسلوں کو مغربی تہذیب کی ذہنی غلامی سے آزاد کرکے تو اعتمادنفسی عطا کیا۔وہ میدان قرطاس کے سپاہی تھے اور قلم ان کا ہتھیارتھااورمتعدد کتب ان کے مفتوحات ہیں جن کا دنیابھرکی کئی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور ابھی بھی جاری ہے،اب تو عرب دنیاسے باہر بھی ان کے معتقدین کثرت سے موجود ہیں۔ان کی جن کتب کو عرب وعجم میں قبول عام  حاصل ہواان میں کچھ کے نام یہ ہیں:

۱۔بیسویں صدی کی جہالت۔

۲۔ہماری اصل،حقیقت کے آئینے میں۔

۳۔اسلامی تاریخ نویسی کے اصول ومبادی۔

۴۔توحید،ایک عقیدہ ایک قانون اور ایک طرزحیات۔

۵۔سیکولرافراداور ا سلام۔

۶۔اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کاازالہ۔

۷۔معاشرتی علوم کے گرد دائرہ اسلام۔

۸۔انسانی نفسیات کا مطالعہ۔

۹۔انسان،مادیت اور اسلام کے درمیان۔

۰۱۔اسلامی نشاۃ ثانیہ۔

مرحوم محمد قطب کی بھرپور کوشش رہی کہ فکرکااسلام اور عقیدے کااسلام عمل میں بھی ڈھل جائے اور مسلمان ریاستوں کے قوانین اور مسلمان معاشروں کی روایات مغربی طرزغلامی سے آزاد ہوجائیں۔وہ ایک آفاقی فکر کے حامل تھے اور انہوں نے کبھی اپنے آپ کو بین الاقوامی سرحدوں یا قومی و لسانی تعصبات کے دائروں میں محدود نہیں کیاتھا۔دعوہ وارشاداور سیکولرازم کے خلاف ان کی علمی و برہانی جدوجہد کی کامیابی کے باعث سیکولرازم کو شکست فاش دینے والے ترکی کے حکمران طیب اردغان نے کچھ سال قبل اپنے دورہ مکہ مکرمہ کے دوران شیخ مرحوم سے ملاقات کی اور انہیں مستقل طور پر ترکی میں سکونت اختیار کرنے کی دعوت دی،لیکن انہوں نے وہی جواب دیا جو امام مالک ؒنے اندلسی حکمران امیر ہشام ثانی کو دیا تھا،شیخ مرحوم نے فرمایا کہ وہ اس عمر میں جوار حرم سے بعد کے متحمل نہیں ہو سکتے اور شکریہ کے ساتھ طیب اردگان کی پیشکش واپس کر دی۔جبکہ اس سے قبل مرحوم شیخ کئی مرتبہ ترکی کا دورہ کر چکے تھے اور انہیں ترکی سے ایک الفت سی تھی جس کا وہ بار بار اظہار بھی کرتے تھے اور جب کبھی ترکی جاتے تو ہفتوں تک قیام کرتے تھے۔اب کی بار ترکی کاقصد نہ کرنے کی وجہ شاید خدائی فیصلہ تھا کہ حرم مکہ سے آپ کی محترم روح نے عالم بالا کی طرف پرواز کرنا تھا۔

دورغلامی ہویا دورجبرواستبدادیاپھر جمہوری تماشا،امت مسلمہ کی کوکھ ہمیشہ سرسبزوشاداب رہی ہے۔یہ فیض قرآن اور تربیت محمدیﷺہے کہ امت کا دامن علمی کبھی بھی اور کسی دور میں بھی تنگ دست نہیں رہا۔وہ صحرائے عرب ہو یا ریگزار عجم یا پھر افریقہ و ایشیائے کوچک کے میدان و سلسلہ ہائے کو ہ و دمن ہوں یا پھر دنیاکے کسی بھی خطے کی سرزمین ہویاسنگلاخ پہاڑوں کے درمیان بے آ ب و گیاہ وادیاں ہوں یاافریقہ کے جنگلات اور سواحل بحرہوں،فرزندان توحید نے دہکتے ہوئے انگارے کی طرح اپنے وجود کو دنیا سے تسلیم کروایاہے۔مشاہیر اسلام کا سلسلہ صحابہ کرام سے شروع ہوا اور تاقیامت جاری و ساری رہے گا کہ یہ امت اللہ تعالی کے آخری پیغام کی امین ہے۔شیخ محمد قطب اس قافلہ سخت جاں کے پہلے مسافر ہیں اور نہ ہی آخری لیکن بہرحال اس ایک ہی گلستان کے ہرہرپھول کا رنگ اور خوشبو جداجداہے۔بدرواحدسے میدان کربلا تک اورپھر صدیوں کی مسافت کے بعد فلسطین و کابل،شیشان،اریٹیریا،کشمیر،برما،بنگلہ دیش اور نہ جانے تاریخ کے کن گم شدہ گوشوں میں کہاں سے کہاں تک شہداکی امین یہ امت اپنے خون سے عالم انسانیت کی آبیاری کرتی آئی ہے اور کرتی رہے گی کہ یہی اسی کے شایان شان ہے۔اللہ تعالی شیخ محمد قطب مرحوم کی مرقد کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنادے اور انہیں اپنے خاص جوار رحمت میں جگہ عطا کرے اور ہم جب ان سے ملیں تو انہیں اس زمین پر غلبہ اسلام کی دستاویزخوش اسلوب پیش کرسکیں،آمین۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
59968

فتح مکہ کا واقعاتی تناظر ………ڈاکٹر ساجد خاکوانی(اسلام آباد،پاکستان)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
(10رمضان المبارک،فتح مکہ کے موقع پر خصوصی تحریر)
گزشتہ آسمانی کتابوں میں آخری نبی ﷺ کی جو نشانیاں وضاحت سے بیان ہوئیں ان میں ایک نشانی آبائی شہر مکہ مکرمہ کی فتح بھی ہے۔بائبل نے دس ہزار قدسیوں کے جس لشکر کا ذکر کیا ہے یہ وہی تعداد ہے جو اس معرکے میں محسن انسانیت ﷺ کے ہمرکاب تھی۔ہندو آج تک جس چوہدویں اوتار کا انتظار کررہے ہیں اسکی نشانیوں میں سے بھی ایک نشانی اپنے آبائی دیس کو فتح کرنا شامل ہے۔یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنے آخری نبی ﷺ کو دیے گئے انعامات میں سے ایک خاص انعام ہے کہ جہاں کی زمین محسن انسانیت ﷺ پر تنگ کر دی گئی اور ہجرت پر مجبور کر دیا گیا ٹھیک آٹھ سال کے بعداللہ رب العزت نے اس شہرکے دروازے آپ کے لیے کھول دیے۔صلح نامہ حدیبیہ دراصل فتح مکہ کا مقدمہ ثابت ہوا۔اس صلح نامہ میں ایک شرط یہ بھی تھی دس سال تک فریقیں کے درمیان جنگ نہ ہو گی اور عرب قبائل جس فریق کے ساتھ چاہیں گے مل سکیں گے۔دو قبائل جو باہم دشمن تھے ان میں سے بنو بکرقریش مکہ کے ساتھ مل گئے اوربنو خزاعہ مسلمانوں کے حلیف بن گئے۔ان دونوں کے درمیان جب جنگ ہوئی تو یہ دس سالہ عدم جنگ کے معاہدے کی خلاف ورزی تھی،قریش کو چاہیے تھا کہ یہ جنگ رکوا دیتے یا کم از کم غیر جانبدار رہتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا اور اپنے دوست قبیلہ بنوبکرکے ساتھ مل کر مسلمانوں کے دوست قبیلے بنوخزاعہ میں خوب قتل و غارت گری اور لوٹ کھسوٹ کی۔بنو خزاعہ نے حرم مکہ مکرمہ میں پناہ لینا چاہی تو ان ظالموں نے حرم کا احترام بھی نہ کیا۔
بنو خزاعہ کا ایک نمائندہ سرداربدیل بن ورقہ مدینہ منورہ میں محسن انسانیت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی مظلومیت کی اشعار کی صورت میں بآوازبلند صدا لگائی،آپ ﷺ نے بہت افسوس کا اظہار کیا اورمدد کا وعدہ فرمایا اوراپنا ایک نمائندہ قریش مکہ کے پاس روانہ کیاجس نے سرداران قریش کے سامنے تین شرائط پیش کیں:
1۔بنو خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا دا کیا جائے اور انکے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔یا
2۔قریش مکہ اپنے دوست قبیلے بنو بکر کاساتھ چھوڑ دیں اور انکی حمایت سے دستکش ہو جائیں۔یا
3۔صلح نامہ حدیبیہ کومنسوخ کر دیا جائے


قریش کے سرداران نے تکبر میں آکر تیسری شرط قبول کر لی اور اس طرح صلح حدیبیہ ڈھائی سال بعد اپنے انجام کو پہنچ گئی۔قاصد کے روانہ ہوتے ہی قریش کو اپنی غلطی کا احساس ہواتو انہوں نے فوراََ ابو سفیان کو مدینہ روانہ کیا۔ابو سفیان آپ ﷺ کے کو ملنے کے لیے اپنی بیٹی ام حبیبہ کے ہاں گیا جو زوجۃ النبی ﷺاورام المومنین تھیں ابو سفیان بیٹھنے لگا تو بیٹی نے بستر کھینچ لیا،باپ نے پوچھا یہ کیا کرتی ہو؟ بیٹی نے کہا کہ یہ بستر نبوی ﷺ ہے اور آپ مشرک ہیں بھلا ایک مشرک نبی کے بستر پر کیسے براجمان ہو سکتا ہے۔ابو سفیان کو مدینہ میں پہنچنے والا یہ پہلا صدمہ تھا۔


صلح حدیبیہ کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے ابوسفیان محسن انسانیت ﷺ ﷺ سے ملا لیکن مایوسی ہوئی،حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت عثمان اور حضرت علی سے بالترتیب الگ الگ ملا۔سب نے آپ ﷺ سے ملنے کا مشورہ دیا جب ابو سفیان نے آپ ﷺ کے بارے میں بتایا کہ وہ ﷺ نہیں مانے تو سب نے اپنی بے بسی کا اظہار کر دیاتاہم حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اسے مشورہ دیا کہ مسجد میں کھڑے ہو کر تو خود سے صلح نامہ حدیبیہ دوبارہ قائم کرنے کا اعلان کر دو،ابوسفیان نے ایسا ہی کیا لیکن ظاہر ہے معاہدے ہمیشہ دو طرفہ ہوا کرتے ہیں یک طرفہ معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ابو سفیان اس ناکام سفارت کے بعداپنے اونٹ پر سوار ہوااور مکہ سدھار گیا۔محسن انسانیت ﷺ نے پوری رازداری کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی تیاری شروع کر دی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو سامان باندھنے کا حکم دے دیا۔10رمضان المبارک 8ھ کو مدینہ سے روانہ ہوئے اور مکہ کی الٹ سمت چل کھڑے ہوئے اور دعا کی کہ اے بار الہ ہمارا ارادہ دشمن سے خفیہ رکھنا اور اس تک ہر اطلاع کے دروازے مسدود کر دینا۔حاطب بن ابی بلتعہ نامی آدمی نے ایک عورت کی چوٹی میں رقعہ باندھ کرقریش کو اطلاع کرنا چاہی لیکن وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو اسکی اطلاع دے دی گئی۔چنانچہ حضرت علی اور انکے ساتھی دوڑائے گئے جنہوں نے اس عورت سے رقعہ برآمد کر لیا۔
محسن انسانیت ﷺ کے ساتھ دس ہزارجاں نثار تھے،جب راستہ میں حضرت عباس بن عبدالمطب اپنے اہل و عیال کے ساتھ آپ سے ملے۔وہ مسلمان ہو کر مدینہ آ رہے تھے۔آپ ﷺ کے چچیرے بھائی اورپھوپھی زاد بھائی بھی راستے میں آپ سے ملے اب وہ بھی مسلمان ہو چکے تھے۔آپ ﷺ کے لشکر نے وادی فاطمہ میں پڑاؤ ڈالا اور ہر ہر مجاہد نبوی ﷺ نے حکم رسول خدا کے مطابق رات کواپنا اپنا علیحدہ چولھا جلایا۔اہل مکہ بہت مضطرب تھے کہ کسی بھی وقت ان پر مسلمانوں کا حملہ ہو سکتا تھا،جبکہ اللہ تعالی نے ان پر اطلاعات کے تمام دروازے بند کررکھے تھے۔حضرت عباس اس رات آپ ﷺ کے خچر پر نکلے اور مکہ کے نواح سے ابو سفیان کو تلاش کر کے اپنے پیچھے خچر پر بٹھاکر لے آئے۔وہ جس جس الاؤ سے گزرتے لوگ گھور کر دیکھتے تو آپ ﷺ کا خچر اورچچاعباس کو دیکھ کر تھم جاتے کیونکہ ابو سفیان نے منہ پر کپڑا کر رکھا تھالیکن حضرت عمر نے پہچان لیا اور آپ ﷺ کی طرف دوڑے تاکہ قتل کی اجازت پاکر ابو سفیان کاسر قلم کر دیں۔حضرت عباس نے بھی خچر کو ایڑھ لگا دی اور حضرت عمر سے پہلے آپ ﷺ کے خیمے میں داخل ہو کر تو ابو سفیان کے لیے امان مانگ لی۔


اگلی صبح محسن انسانیت ﷺ نے ابوسفیان کو ایک اونچے پہاڑی مقام پر کھڑا کر کے اسلامی لشکرکو حکم دیا کہ ابوسفیان کے سامنے سے مارچ پاسٹ کرتے ہوئے گزریں۔جب بھی کوئی دستہ گزرتا وہ پوچھتا یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت عباس بتاتے یہ بنی فلاں ہیں وہ کہتا مجھے کیا۔گویا وہ اپنا خوف چھپانے کی کوشش کرتا۔اس طویل لشکر کے آخر میں لوہے میں ڈوبا ہوا ایک دستہ گزرا ابو سفیان چلا اٹھا خدا کی قسم ان لوگوں سے مقابلہ ممکن نہیں اور پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟فرمایا انصار و مہاجرین کے جلو میں محسن انسانیت ﷺ تشریف فرما ہیں۔اس موقع پرایک انصاری صحابی جن کے ہاتھ میں ”علم“تھا،انہوں نے ابوسفیان کو دیکھ کر نعرہ بلند کیاکہ کہ آج انتقام لینے کا دن ہے،محسن انسانیتﷺنے ان سے ”علم لے کر ان کے بیٹے کے ہاتھ میں تھمادیااور فرمایاآج رحم کرنے کا دن ہے۔اسکے بعد ابو سفیان کے ذہن میں دوردور تک اگر کہیں مقابلے کا خیال بھی تھا تو وہ دم توڑ گیا۔ابو سفیان دوڑتا ہوا مکہ پہنچااوراہل شہر کو مسلمانوں کے لشکر کی آمد کی جانکاہ اطلاع سنائی۔کچھ اوباش مقابلے کے لیے تیار ہوئے۔محسن انسانیت ﷺنے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کیااور مکہ کے چار اطراف سے داخل ہونے کا حکم ارشاد فرمایا تاکہ اہل مکہ مقابلہ کرنا بھی چاہیں تو انکی قوت چار حصوں میں تقسیم ہو جائے۔صرف حضرت خالد ؓ بن ولید کے دستے سے کچھ کفار کا ٹکراؤہوا،باقی ماندہ تینوں دستے امن و آشتی سے کوہ صفا پر محسن انسانیت ﷺسے آن ملے اور فتح تکمیل پزیر ہوئی۔


فاتحین ماضی کے ہوں یا اکیسویں صدی کی دہلیز پر جب مفتوحہ علاقوں میں داخل ہوتے ہیں تو انکی گردنیں تنی ہوئی ہوتی ہیں اور تلواریں خون کی پیاسی ہوتی ہیں۔لیکن محسن انسانیت ﷺجب مکہ میں داخل ہوئے تو پیشانی مبارک اس قدر جھکی ہوئی تھی کہ داڑھی کے مقدس بال کجاوے کو چھوچھو رہے تھے اورمحسن انسانیت ﷺنے قتل عام کی بجائے امن عام کا اعلان کر دیا۔صرف نو افراد کے بارے میں فرمایا کہ اگرغلاف کعبہ بھی تھامے ہوں تو سر قلم کر دیا جائے۔ان میں سے بھی پانچ افراد مختلف حیلوں سے جان بخشی کرانے میں کامیاب ہو گئے۔محسن انسانیت ﷺانصارومہاجرین کے جھرمٹ میں حرم مکہ میں داخل ہوئے آپﷺکے دست مبارک میں کمان تھی،حرم میں موجود کم و بیش 360بت اس کمان کی ٹھوکر سے گرتے چلے گئے،آپ اونٹنی پر سوار تھے اوراسی حالت میں طواف کعبہ کیا، عمرے کی ادائگی اس لیے ممکن نہ تھی کہ احرام باندھا نہ گیا تھا۔عثمان بن طلحہ سے خانہ کعبہ کی چابی منگوا کر کمرے میں داخل ہوئے جہاں حضرات ابراہیم و اسمائیل علیھما السلام کی تصویریں بنی تھیں۔کعبہ وحرم کعبہ کو ان نامعقولات سے پاک کیااندر ہی نماز ادا کی۔اسکے بعد حضرت بلال ؓ نے کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر آذان بھی دی،حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ اعلی و ارفع مقام ان کے تقوی اور حب رسولﷺ کے باعث ملا۔پہلادن اسی طرح تمام ہوا۔دوسرے دن محسن انسانیت ﷺنے خطبہ دیا جس میں حرم مکہ کی حرمت دوبارہ قیامت تک کے لیے قائم کرنے کا اعلان کیا۔انصار کا خیال تھا کہ محسن انسانیت ﷺ شاید اب مکہ میں ہی قیام کریں گے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا اب مرنا جینا انصار کے ساتھ ہی ہے۔ہاتھیوں والوں کی ہلاکت سے یہ بات طے ہو گئی تھی کہ خانہ کعبہ پر کسی شریر کا قبضہ نہیں ہو سکتا۔اب کے عرب قبائل منتظر تھے کہ خانہ کعبہ پر کس فریق کا قبضہ ہوتا ہے۔مسلمانوں کے قبضے سے نبی علیہ السلام کی حقانیت ثابت ہو چکی،چنانچہ قبائل عرب فوج در فوج مکہ میں آئے اور دست نبویﷺ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
35099