The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد( چترال ٹایمزرپورٹ)چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہو گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی سزا معطلی درخواست پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز میں بیرسٹر علی ظفر نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اْمید ہے کہ آج تو سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ ہو جائے گا۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی مخالفت کر دی۔وکیل امجد پرویز نے مختلف قوانین اور عدالتی فیصلوں کے حوالے پیش کیے۔الیکشن کمیشن وکیل نے کہا کہ پبلک پراسیکیوٹر کو بھی پہلے نوٹس کیا جانا ضروری ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ شکایت تو الیکشن کمیشن نے فائل کی تھی ریاست نے نہیں، ٹرائل کورٹ میں آپ نے یہ بات نہیں کی، آپ پہلی بار یہ کہہ رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے بھارتی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی کو پرائیویٹ کمپلینٹ میں 2 سال کی سزا ہوئی، راہول گاندھی نے سزا معطلی کی درخواست دائر کی جو خارج کر دی گئی، عدالت نے فیصلہ دیا کہ سزا معطل کرنا کوئی ہارڈ اینڈ فاسٹ رول نہیں، استدعا ہے کہ اسٹیٹ کو نوٹس جاری کیا جائے، اسٹیٹ کو سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے، راہول گاندھی کیس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پبلک پراسیکیوٹر کو سننا ہے یا نہیں، بھارتی قانون میں دفعات ہم سے زیادہ لچکدار ہیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے ظہور الہٰی کیس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں ابھی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر ہی نہیں رہا، پہلے پبلک پراسیکیوٹر کو نوٹس کیا جانا لازم ہے، پرائیویٹ کمپلینٹس سے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے 5 فیصلے جمع کرا رہا ہوں۔چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، کچھ فیصلوں کے حوالے دینا چاہتا ہوں۔

وکیل لطیف کھوسہ نے نواز شریف کی سزا معطلی کا حکم بحال رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے ایک گھنٹہ اس دن لیا، 2 گھنٹے آج لے گئے۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں کوئی ایسا سیکشن نہیں پڑھوں گا جو نیا ہو، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بھی دو بار یہاں اور ایک بارسپریم کورٹ میں دلائل دے چکے ہیں، انہوں نے الیکشن کمیشن اور سیشن جج کو ولن بنایا ہوا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ ابھی وہاں مت جائیں، سزا معطلی پر ہی دلائل جاری رکھیں، جسٹس کھوسہ نے کہا تھا ٹیسٹ میچ کا زمانہ چلا گیا اب ٹی ٹوئنٹی کا دور ہے، لطیف کھوسہ صاحب نے بڑے شائستہ انداز میں کہا کہ مختصر کریں۔وکیل امجد پرویز نے کہا کہ لطیف کھوسہ نے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کے لیے 3 دن لیے، انہوں نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو مشقِ ستم بنا رکھا ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں، چھوڑ دیں اْس طرف نہ جائیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ انہوں نے 6 نکات اٹھائے مجھے ان کا جواب دینا ہے، انہوں نے بیانیہ بنا دیا ہے کہ یہ کوئی پہلا کیس ہے جس میں ملزم کو حقِ دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کے لیے اجازت نہ ہونے کا اعتراض اٹھایا گیا، درحقیقت سیکریٹری کمیشن نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ہی شکایت دائر کرنے کی اجازت دی، الیکشن کمیشن کا اجازت نامہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے آفس کو شکایت دائر کرنے کا کہا کسی مخصوص شخص کو نہیں، آپ کی دلیل اپنی جگہ لیکن سیکریٹری کمیشن نے خود کو متعلقہ شخص کیسے سمجھا؟ کمپلینٹ دائرکرنے کے لیے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کیوں کہا؟

توشہ خانہ کیس سپریم کورٹ میں کل سماعت کے لیے مقرر

اسلام آ باد(سی ایم لنکس) توشہ خانہ کیس سپریم کورٹ میں کل سماعت کے لیے مقرر ہو گیا، تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص لوگوں کے لیے توشہ خانہ کی اشیاء کی نیلامی کی حکومتی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا، پی ٹی آئی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔3 رکنی بینچ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل پر سماعت کرے گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں سہولیات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی اٹک جیل میں سہولیات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی۔ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل نے چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں دستیاب سہولیات پر رپورٹ جمع کرائی۔اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں رپورٹ جمع کرائی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ جسٹس مظاہر اور جسٹس مندوخیل کے چیمبرز میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل سے متعلق رپورٹ جمع کرائی گئی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 24 اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل سہولیات پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78357

چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی

Posted on

چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ )چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں بینچ چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر سماعت ہوئی۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویزایڈووکیٹ بیماری کے باعث پیش نہیں ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویزایڈووکیٹ بیماری کے باعث پیش نہیں ہوئے،معاون وکیل نے کہا کہ پچھلے آٹھ ماہ سے ہم نے التوا نہیں مانگا، ڈاکٹرنے بیڈ ریسٹ تجویز کیا، میرا وکالت نامہ اس کیس میں نہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ اب کروشل سٹیج پر ہے یہ سزا معطلی کی درخواست، پندرہ بیس منٹ میں دلائل مکمل ہو جانے تھے، جمعہ کو ڈی بی نہیں تھی، ہم کیس کو پیر تک ملتوی کر سکتے تھے مگر نہیں کیا۔چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ ہم بھی ٹرائل کورٹ والا کام کرسکتے ہیں مگر ایسا نہیں کریں گے۔لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایک شخص بیس روز سے جیل میں ہے۔ ہم اس کو پیر تک ملتوی کرتے ہیں اوراگرکوئی نا بھی آیا تو فیصلہ کر دیں گے، ٹرائل کورٹ نے جو کیا وہ غلط کیا۔لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نیکہا کہ پھر چیئرمین پی ٹی آئی کو مزید تین دن اندررکھیں گے؟پھر ہم عدالت میں پیش نہیں ہوں گے،

آپ نے جو کرنا ہے کریں۔سماعت سے قبل لطیف کھوسہ سمیت 10 سے زائد وکلاء لفٹ میں 20 منٹ تک پھنسے رہے،تاہم سی ڈی اے ریسکیو ٹیم کی جانب سے لفٹ کو کھل کرتمام افراد کو باہرنکال لیا گیا۔سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فیصلے کو بادی النظر میں غلط قرار دے دیااس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے توشہ خانہ فیصلے کو بادی النظر میں غلط قرار دے دیا تھا۔چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں غلطیاں کی ہیں، معاملہ ہائیکورٹ میں ہے اس لئے آج مداخلت نہیں کررہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کل اپیل سنے، ہم ایک بجے دوبارہ کیس سنیں گے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں نقائص سامنے آگئے ہیں، ٹرائل کورٹ کا قابل سماعت قرار دینے کا فیصلہ ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے کچھ نئے نکات پر ٹرائل کورٹ کو فیصلے کا کہا تھا لیکن ٹرائل کورٹ نے اپنا وہی کالعدم فیصلہ بحال کر کے سزا سنا دی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو کون سے انصاف کے مواقع دیے گئے ہیں؟ تین دفعہ کیس کال کر کے ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزا سنا کر جیل بھیج دیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو تو سنا ہی نہیں گیا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا ٹرائل کورٹ نے فیصلے سے قبل تین بار ملزم کو موقع دیا تھا، ملزم کی عدم حاضری پر ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کیا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع کے بغیر توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کیسے کر دیا؟ ملک کی کسی بھی عدالت میں کرمنل کیس میں ملزم کو حق دفاع کے بغیر کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، توشہ خانہ کیس کے فیصلے کی اتنی جلدی کیاتھی؟دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ اسپیکر نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا، قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 120 دنوں میں ہی کاروائی کرسکتا ہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ایک ممبر دوسرے کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ کوئی ممبر ریفرنس نہیں بھیج سکتا،الیکشن کمیش خود مقررہ وقت میں کارروائی کرسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آپ نے تو شکایت کی قانونی حیثیت کو چیلنج ہی نہیں کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آپ کا کیس تو اب ٹرائل کورٹ میں زیر التوا نہیں، آپ کا کیس سن کر اب ہم کہاں بھیجیں گے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے درخواست کے ساتھ حقائق کی سمری لگائی اس میں بتائیں، کیا آپ کہتے ہیں شکایت ایڈیشنل سیشن کے بجائے مجسٹریٹ کو جانی چاہئے تھی؟چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ آہستہ آہستہ ہمیں سمجھائیں، آپ کہتے ہیں پہلے معاملہ مجسٹریٹ اٹھائے گا پھر ہی سیشن کورٹ میں ٹرائل ہوگا۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی مجسٹریٹ پہلے دیکھے گا کہ کیس بنتا بھی ہے یا نہیں۔خیال رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹکے 3 اگست کا فیصلہ چیلنج کررکھا ہے۔ پی ٹی آئی نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل 5 اگست کو دائر کی تھی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہونے کا معاملہ ماتحت عدالت کو واپس بھیجا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ کیس کا ٹرائل معطل کرنے کی بھی استدعا کر رکھا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ: لطیف کھوسہ اور دیگر وکلا لفٹ میں پھنس گئے

اسلام آباد(سی ایم لنکس)اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے بعد عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ اور دیگر افراد لفٹ میں پھنسے رہے جہاں ان کی حالت غیر ہوگئی، انتظامیہ نے 45 منٹ بعد انہیں نکالا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی لفٹ میں وکلاء کے پھنسنے کی فوٹیجز سامنے آگئیں، فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے سردار لطیف کھوسہ موجود ہیں، لفٹ میں بجلی بند ہے اور وکلاء نے موبائل فونز کی لائٹس آن کی ہوئی ہیں۔لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا 45 منٹ سے زائد وقت تک لفٹ میں پھنسے رہے، ان کے ساتھ موجود نعیم حیدر پنجوتھا، علی اعجاز بٹر سمیت پندرہ افراد کو بحفاظت باہر نکالا گیا۔تمام افراد چیف جسٹس کی کورٹ سے نکل کر تھرڈ فلور پر لفٹ میں سوار ہوئے تھے اور لفٹ گراؤنڈ فلور پر آنے کے دوران سیکنڈ فلور پر پھنس گئی تھی۔بارہ بجے لفٹ میں سوار ہونے والے 10 سے زائد وکلا کو 12:45 پر لفٹ سے نکالا گیا۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ تین ماہ قبل نئی عمارت میں منتقل ہوئی ہے، تین ماہ بعد ہی لفٹ خراب ہوگئی تاحال لفٹ کا کوئی عملہ تعینات نہیں ہوا۔ لفٹ میں ایمرجنسی رابطہ کی سہولت اور ایگزاسٹ بھی نہیں ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78291