The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ چہرے پہ چہرہ (آخری حصہ)۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ چہرے پہ چہرہ (آخری حصہ)۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میرے سامنے بیٹھے شریف معصوم پاکباز میاں بیوی ہا رے ہو ئے کھلاڑیوں کی طرح بیٹھے تھے جیسے وہ اپنی متاع حیات لٹا چکے ہوں ان کی زندگی بھر کی کما ئی ان سے چھین لی گئی ہو کسی نے دونوں کے جسموں سے سارا خون نچوڑ لیا ہو دونوں کا مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں سے ایمان اٹھ چکا تھا دونوں بے یقینی کی حالت میں اجڑے ہو ئے پرندوں کی طرح پھڑ پھڑا رہے تھے کہ عقیدت احترام محبت غلامی کا کو ئی اِس طرح صلہ دیتا ہے دونوں اِسی غم میں گھلے جارہے تھے کہ ان کی سالوں کی ریاضت خد مت احترام کا یہ صلہ دیا گیاہے اپنے مر شد کی یہ ڈیمانڈ کے اپنی نو خیز بیٹی جس کی عمر ابھی صرف چودہ سال ہے جو ابھی گڈی گڈے پر یوں کی کہانیوں میں بس رہی تھی جو کھلونوں کی دنیا میں زندہ تھی۔ وہ معصوم کلی جس پر ابھی جوانی کی شفق بھی نہیں پھو ٹی تھی جو ابھی معصومیت کے رنگوں سے جوانی کی دہلیز پر قدم بھی نہ رکھ پا ئی تھی۔

مرشد صاحب کہہ رہے تھے وہ معصوم کلی نازک پھو ل مجھے دے دو میں نے اس سے اپنا نو ے سالہ دل بہلا نا ہے اپنے بڑھاپے کا تاریک گھنانا سایہ اس پر ڈالنا ہے۔ ماں نے اپنی بات جاری رکھتے ہو ئے کہا سر مجھے پہلے تو بابا جی کی باتوں کا بلکل بھی یقین نہیں آیا کیونکہ اگر کوئی اور مجھے قرآن پاک اوراللہ تعالی کی قسم کھا کر بھی یہ بات کہتا تو میں ماننے سے انکار کر دیتی لیکن جو ڈیمانڈ بابا جی کر رہے تھے یہ تومیرے وہم وخیال میں بھی نہ تھی آخر کار بہت جرات کے بعد میں نے لب کشائی کی اور بولی بابا جی مجھے آپ کی بات کی سمجھ نہیں آئی آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ میں نے زندگی میں پہلی بار عقیدت و احترام کے خو ل سے نکل کر باباجی کو دیکھا تو مجھے ان کی آنکھوں میں اس بھیڑئیے کی چمک نظر آئی جو شکار کو دبو چنے سے پہلے کسی بھی شکا ری کی آنکھوں میں آتی ہے۔ جنسی خواہش جنسی رنگوں کے ہلکو رے پہلی بار مجھے بابا جی کی آنکھوں میں نظر آئے اب بابا جی نے مذہب اور نبی دو جہاں ﷺ کا حوالہ دے کر مجھے بے بس کر نے کی کو شش کی اور بو لے تم جانتی ہو جس وقت حضرت عائشہ کا نکا ح نبی کریم ﷺ سے ہوا تھا تو اس وقت اماں عائشہ کی عمر مبارک کتنی تھی نعوذ باللہ بابا جی خو د کو کہاں ملا رہے تھے میرے چہرے پر خوف اور الجھے تاثرات دیکھ کر بابا جی نے پھر لفظوں کی جگالی شروع کی دیکھو تم نہیں چاہتی کہ میں اسلام کی بھر پور خدمت کر سکوں یہ تو اسی صورت میں ممکن ہے جب میں آرام سکون سے زندگی گزاروں جب میں ذہنی طور پر پر سکون نہ ہو ں گا تو اسلام کی خدمت کیسے کروں گا

پھر بابا جی نے اپنا خطیبانہ جو ہر مجھ پر اتارنا شروع کر دیئے کہ یہ زندگی فانی ہے اصل زندگی تو آخری ہے تمہیں نیکی اور اسلام کی خدمت کا جو مو قع مل رہا ہے اس سے بھر پور فائدہ اٹھا میری بات مان لو میں تمہاری ہر ضرورت پو ری کروں گا مالی فائدے بھی دوں گا جب بابا جی خوب بول چکے اپنا خطیبانہ جو ش مجھ غریب معصوم پر اتار چکے تو میری طرف گہری نظروں سے دیکھا اور سر گو شی کے لہجے میں بو لے آخری اور اصل بات یہ خواہش میری نہیں ہے یہ تو مجھے خواب میں بشارت یا حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہاری بیٹی سے شادی کروں اگر میں خواب کا حکم نہیں مانتا تو میں نافرمان ہو جاں گا اور اِس نا فرمانی کی وجہ تم ہو گی تم نے میرا ساتھ دینا ہے تم نے میرا نکا ح اپنی بیٹی سے کرا نا ہے اب میرا اس کے بغیر گزارا نہیں ہے دن میں وہ آجاتی ہے تو اسے دیکھ کر میرا دل بہل جاتا ہے جب وہ چلی جاتی ہے تو جدائی اداسی کا زہر مجھے ڈسنے لگتا ہے بابا جی دوران ِ گفتگو مختلف تیر چھوڑ رہے تھے کہ کو ئی نہ کو ئی تیر لگ جا ئے لیکن مجھے بار بار اپنی معصوم بیٹی کا ملکوتی چہرہ نظر آرہا تھا جو چند دنوں سے گھبرائی گھبرائی گھر آتی تھی اس کے نو خیز چہرے پر خوف کا رنگ نظر آنا شروع ہو گیا تھا میں جب بھی بابا جی کی طرف کھانادے کر بھیجتی تو وہ خو فزدہ ہو جاتی انکار کر تی لیکن بے حد میرے مجبور کر نے پر لے جا تی بابا جی نے اسے پتہ نہیں کیا کہا تھاکہ معصوم بچی کنفیوژ ہو کر رہ گئی تھی اب میں نے سہمے ہو ئے لہجے میں گزارش کی بابا جی آپ اورمیری بیٹی کی عمر میں پچھتر سال کا فرق ہے کیا

وہ ساری زندگی آپ کی مو ت کے بعد بیوہ بن کر گزارے گی تو بابا جی بو لے نہیں میرے بعد تم اس کی دوسری شادی کسی جوان سے کر دینا بابے کی یہ بات سن کر میری رگوں میں دوڑتا خون جمنے لگا سانس کی نالی تنگ ہو نے لگی جیسے کسی نے جسم کو قیمے والی مشین میں ڈال دیا ہو میں بے جان ہو کر بابا جی کی باتیں سن رہی تھی مجھے اپنے کانوں پر ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ یہ میں خواب دیکھ رہی ہوں ابھی آنکھ کھلے گی تو جان میں جان آئے گی۔ میں بے جان پتھر کے مجسمے کی طرح بے حس و حرکت بیٹھی تھی بابا جی نے جب دیکھا کہ میں ابھی بھی کشمکش کی سولی پر لٹکی ہوں ان کی بات نہیں مان رہی تووہ جلال میں آگئے سانپ کی طرح پھنکارتے ہو ئے بو لے تم کو ذرہ بھی خوف خدا نہیں یہ کام تم نے میرے لیے نہیں اسلام کے لیے خدا کے لیے کر نا ہے جب تم یہ کام نہیں کرو گی تو خدا تم سے ناراض ہو گا خوف خدا پیدا کرو اور اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کرو باباجی کے غصے اور جلال میں لرزنا شروع ہو گئے میری آنکھوں سے فرات کی نہریں بہنا شروع ہو گئیں بابا جی نے مجھے کباب والی سیخ پر پرو کے آگ کے دہکتے انگاروں پر رکھ دیا تھا ایک طرف خوف خدا دوسری طرف معصوم کلی جیسی بیٹی میری آنکھوں سے غم بے بسی کی نکلتی آبشاریں دیکھ کر بابا جی نے میری جان چھو ڑی اور بولا چلو ابھی تم جا گھر جاکر آرام سے دونوں میاں بیوی سوچو پھر آکر مجھے ہاں کا جوا ب دو میں نے نہ نہیں سننی تم ہر حال میں میری خدمت کرو گی یہ کام تمہیں ہر حال میں کر نا ہو گا اگر نہ کیا تو مر شد ناراض تونبی ناراض نبی ناراض تو خدا نارا ض جا خدا کا خوف کرو جلدی فیصلہ کر کے میرے پاس آ پھر سر میں زندہ لاش کی طرح گھر آئی میں ساری رات انگاروں پر جلتی رہی میاں بار بار پو چھ رہا تھا کہ بابا جی سے کیا بات ہو ئی لیکن میں بار بار ٹال رہی تھی میرے دل و دماغ پر بابا جی کے مطالبے کا k2تھا جس کے بوجھ تلے میرا دم گھٹ رہا تھا

آخر کار تنگ آکر میں نے اپنے شوہر کو بابا جی کا مطالبہ بلکہ خواہش کا بتایا تو میاں کی تو جان ہی نکل گئی تین دن ہم میاں بیوی اِسی بحث مباحثے میں پڑے رہے کہ اگر بابا جی کی بات نہ مانی تو خدا ناراض ہو جائے گا پھر میرے میاں نے اپنے بڑے بھائی سے سارا مسئلہ بیان کیا جو پرو فیسر صاحب آپ کو جانتے ہیں انہوں نے ساری بات سننے کے بعد ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے آپ بتائیں اب ہم کیا کریں ہم مر شد کی نا راضگی کے خوف میں مبتلا ہیں کہ ان کی بات نہ مان کر ہم منکر خدا ہو جائیں گے وہ مر شد بار بار خوف خدا کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے میاں بیوی کو حو صلہ دیا اور کہا تم گورنمنٹ ملازم ہو فوری طور پر کسی دوسری جگہ ٹرانسفر کرالو چند دن بعدمجھے میاں کا فون آیا کہ میں نے اپنی ٹرانسفر دور کرا لی بابا جی کوبتادیا ہے کہ میرا بڑا بھائی نہیں مانتا میرے حوصلہ دینے پر یہ میاں بیوی تو بابا جی کے چنگل سے آزاد ہو گئے لیکن پتہ نہیں وطن عزیز میں کتنے ایسے سادہ لوح لوگ ہوں گے جو ایسے عالم دین اور پیروں کی جنسی خوا ہشات کی تکمیل کے لیے جسم جان اوردولت کی قربانی دیتے رہیں گے

بابا جی کا وہ فقرہ کہ خوف خدا کرو جس سے آج کاانسان بلکل بے فکر ہے مجھے تاریخ انسانی کے عظیم انسان مرادِ رسول ﷺ حضرت عمر فاروق یاد آگئے جن کی خوف خدا سے جان سولی پر اٹکی رہتی تھی حضرت سیدنا ضحاک سے روایت ہے حضرت عمر فرمایا کر تے تھے اے کاش میں گھر والوں کا دنبہ ہو تا جسے وہ خوب کھلا پلا کر مو ٹا تا زہ کر تے حتی کہ میں صحت مند مو ٹا ہو جاتا پھر ہما رے گھر مہمان آتے تو وہ مہمان داری کے لیے مجھے ذبح کر تے میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے میرے ٹکڑوں کو بھون ڈالتے مہمان میرے ٹکڑوں کو کھا جاتے اورپھر فضلہ بنا کر مجھے مٹی میں تبدیل کر دیتے اے کاش میں انسان نہ ہو تا۔ آپ اکثر فرمایا کر تے اگر آسمان سے آواز آئے کہ زمین پر ایک شخص کے علا وہ تمام انسانوں کو بخش دیا گیا ہے اب صرف ایک شخص زمین پر دوزخی ہے تو میں سمجھوں گا کہ وہ دوزخی شخص میں ہی ہوں۔ خو ف خدا کا یہ عالم تھا کہ حضرت عبداللہ بن عامر سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق کو دیکھا کہ آپ نے زمین سے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھا یا اور کہا۔ اے کاش عمر یہ مٹی کا ڈھیلا ہو تا اے کاش میں پیدا نہ ہو ا ہو تا میری ماں نے مجھے جنا نہ ہو تا اے کاش میں کچھ نہ ہو تا کو ئی بھولی بسری شے ہو تا یہ الفاظ اس عظیم انسان کے ہیں جنہیں فخرِ دو جہاں ﷺ نے خدا سے دعا مانگ کر لیا اور دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
69934

بزمِ درویش ۔ چہرے پہ چہرہ ۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ چہرے پہ چہرہ ۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں حسبِ معمول آفس سے گھر آرہا تھا لاہور کی سڑکوں پر ہمیشہ کی طرح ٹریفک کا سیلاب رواں دواں تھا اناڑی ڈرائیوروں ڈپریشن ناکامیوں کے مارے شہریوں نے سڑک کو ہی میدانِ جنگ بنا رکھا تھا ہر کو ئی ایک دوسرے کو روندتے کچلتے آگے بڑھنے کی کو ششوں میں لگا ہوا تھا ٹریفک کی اِس بے ترتیبی میں بنیادی کر دار مو ٹر سائیکلوں اور رکشہ ڈرائیوروں کا تھا جو خود کو سڑکوں کا حقیقی مالک سمجھتے ہوئے ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہو ئے ایک دوسرے کو ٹھوکریں ما رتے ذرہ سی جگہ پا کر اس میں گھس کر مہذب لوگوں کے ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنے ہو ئے تھے انڈر پاس آیا تو ٹریفک کا بہا بہت سست ہو گیا اِسی دوران ذرا سی جگہ پا کر ایک نوجوان رکشہ ڈرائیورنے ہمارے سامنے چھلانگ ما ر ی اس کی جہالت اور من مرضی دیکھ کر میں اور میرا دوست حیران تھے کہ اِسی دوران رکشے کے پیچھے علما کانفرنس کے رنگ برنگے فلیکس پر میری نظر پڑی جس پر مذہب تصوف کے نام نہاد ٹھیکیداردولہوں کی طرح رنگ برنگے کلاں پر رنگ برنگے مو تی لگے ہو ئے وطن عزیز کے علما کرام صوفیوں نعت خوانوں نقیبوں کی تصویریں جگ مگا رہی تھیں۔ یتیموں کے آسرے محبوب خدا ﷺ کی غلامی اور اتباع کے دعوے دار مساجد منبروں گدیوں پر قابض اِن چہروں کے درمیان مجھے ایک نو ے سالہ ایسا درندہ صفت پیر عالم دین بھی نظر آیا کہ میرے بدن سے آتش فشاں پھٹنے لگے۔

سانسیں تیز چہرے کا رنگ سرخ خون کی جگہ غصہ میری رگوں میں دوڑنے لگا۔ حقارت میری آنکھوں سے چھلکنے لگی آرام د ہ پر سکون گاڑی مجھے تکلیف دہ ریہڑہ لگنے لگی۔ میرا دوست میری اِس غیر یقینی تبدیلی پر حیران ہو گیا کیونکہ فطری طور پر میں ایک نرم گو میٹھا صلح جو انسان کے طور پر جانا جا تا ہوں۔ وہ بولا سر میں نے آپ کو شاید پہلی اور آخری بار اتنے غصے میں دیکھا ہے جس پر میں بہت حیران ہوں کیا میں اِس غصے کی وجہ جان سکتا ہوں یار گاڑی تو آگے کر لو یا پھر پیچھے تب ہی میں نارمل ہو سکوں گا۔ اِسی دوران ہم انڈر پاس کراس کر کے کشادہ سڑک پر آگئے تھے دوست نے گاڑی سائیڈ پر لگا کر مجھے ٹھنڈا پانی پیش کیا جسے میں نے جلدی جلدی تندور کی طرح دہکتے جسم میں اتارا تاکہ میری طبیعت نارمل ہو سکے میں نے دو چار گہرے لمبے سانس لیے رکشہ نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا، میں نے اشارہ کیا تو گاڑی پھر فاصلوں کو ناپنے لگی۔ میرا دوست حیران پریشان نظروں سے بار بار میری طرف دیکھ رہا تھا اس نے میرا یہ رنگ پہلی بار دیکھا تھا وہ چاہ رہا تھا کہ میں نارمل ہوجاں میں جلدی ہی نارمل ہو گیا اس کی طرف شفیق نظروں سے دیکھا اور بو لا یار میں ہر سانس کے ساتھ خالقِ کائنات کا شکر ادا کر تا ہوں کہ رب کریم نے مجھے اپنے کرمِ خاص سے صلح جو نرم پیار محبت انسانوں سے محبت کر نے والی فطرت عطا کی پھر ظلم جبر لو ٹ مار حسد بغض نفرت کے زہریلے ما دوں سے بھی پا ک رکھا۔ تصوف کا طالبِ علم بننے اور اولیا کرام کی زندگیوں کا مطالعہ اور پھر چند نیک بزرگوں کی جو تیاں اٹھا نے کے صدقے رب کریم نے انسانوں کے درد کو محسوس کر نے پھر اسے مٹا نے کی کو شش کر نے کا حو صلہ مزاج اورفطرت دی اِس لیے جب بھی کوئی ضرورت مند اپنے درد دکھ تکلیف مسئلے کے حل یا مداوے کے لیے مجھ فقیر تک آتا ہے تو وہ معصوم بکرے کی طرح گردن جھکا ئے کھڑا ہو تا کہ جناب میں آپ کی تو جہ کا طالب ہوں

آپ کے پاس آیاہوں آپ میری مدد کریں میری تکلیف درد دکھ غم پریشانی دور کریں اِس کے بدلے میں آپ میرے وسائل روپیہ پیسہ اختیارات جسم و جان جو چاہیں لے لیں لیکن میری پریشانی دور فرمائیں۔ پریشانی تکلیف غم کا علاج تو صر ف اور صرف کائنات کے اکلوتے وارث کے پاس ہی ہے لیکن تصوف کاادنی طالب علم ہو نے کے نا طے لوگ مجھ خاکسارتک بھی آجاتے ہیں کہ یہ خدا کا نیک بندہ ہے (جبکہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے میں بخوبی آگاہ ہوں) یہ دعا کرے گا تو خدا تعالی اِس کی دعاں کے صدقے میں ہما ری پریشانیاں حل کر دے گا غربت مسائل کی چتا پر جھلستے ہرپاکستانی غریب عوام ہما رے جیسے ڈھونگی نام نہاد بزرگوں پیروں اور علما سو کے پاس آتے ہیں اب ہما رے گروپ کے لوگ یہ جانے بغیر کہ جس طرح یہ سائل بن کر ہما ری چوکھٹ پر کھڑے ہیں گردشِ ایام ہمیں بھی اِسی ذلت سے دوچار کر سکتی ہے ہم بھی کسی لا علاج بیما ری یا پریشانی میں ہوا کے دوش پر کٹی پتنگ کی طرح اِدھر ادھر اڑتے پھریں گے لیکن ایسا نہیں ہو تا یہ لوگ خو د کو فرعون حاکم وقت سمجھ کر اِن مجبوروں کی مجبوریاں خریدتے ہیں اِن کے مسائل دولت وسائل سے اپنی تجوریاں سجاتے ہیں اور اگر سائل خوبصورت جوان عورت ہو تو اس کے حسن سے اپنے نامہ اعمال میں اضافہ اور آخرت بھی خراب کرتے ہیں۔ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کل ہما ری اولاد میں سے بھی کسی کے ساتھ یہی حادثہ یا حالات پیش آسکتے ہیں لیکن ہم پانی کے بلبلے اپنی اوقات بھو ل کر اِیسے مجبوروں بے بسوں کی مجبوریاں کیش کرا کر اسے استعمال کر تے ہیں

شدید حیرت مجھے اس وقت ہو تی ہے جب کوئی اپنی حما قتوں گناہوں سیاہ کاروں کے باوجود شہرت کے آسمان پر ستارہ بن کر چمکنے لگا ہے ہزاروں لاکھوں لوگ ہا تھ باندھے غلاموں کی طرح سرجھکا ئے اپنی دولت وسائل پیش کر تے ہیں اور یہ بادشاہوں کی طرح ابروئے چشم پر اِنہیں حکم دیتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کہ شہرت کے اِس عروج پر یہ عاجز ہو جائیں تشکر خدا کے انعام پر آنکھوں پر شکرانے کے آنسو پیشانی سجدے میں شکر گزار دل و دماغ روح نعمت خدا وندی پر اور بھی عبادت گزار ہو جائے لیکن یہ بد قسمت لوگ سیاہ کار غلاظت کے لوتھڑے خدا کے بندے بننے کی بجائے اپنی ذات کے خول میں قید ہو کر انسانوں کو اپنی رعایا غلام کمی کمین سمجھ کر بے دردی سے ان کی دولت وسائل اور عزتیں تار تار کر تے ہیں لوٹ مار عیاشیوں کے نشے میں یہ جنسی حیوانوں کا روپ دھار لیتے ہیں اچھائی برائی مذہبی اقدار اخلاقی اقدار کو مکمل طور پر فراموش کر کے انسانیت کے ماتھے کے سیا ہ نشان بن جاتے ہیں رکشے کے پیچھے بھی فلیکس پر علما دین پیروں کے ہجوم کے درمیان بھی ایسی حیوان فطرت دوچہروں والا جنسی درندہ نظر آرہا تھا۔ جس کو خدا نے دولت شہرت سے خوب نواز رکھا تھا ہزاروں لوگ گردنیں جھکا ئے اس کے ابروئے چشم کے منتظر رہتے اِس کے دو روپ تھے

معاشرے کے لوگوں کے سامنے ملک کا نیک ترین آدمی جس کی زندگی کا مقصد ہی مذہب کی پاسداری کفر کے خلاف اعلان جنگ اسلام کے جھنڈے کو سر بلند کر نے کے لیے جان مال لگا نے کو ہر وقت تیا ر الفاظ کی ایسی جادوگری کر تا کہ لوگ عش عش کر اٹھتے دلیل منطق کا با دشاہ کو ئی اِس کے الفاظ کی جادوگری طاقت ور منا ظرانہ خطیبانہ صلاحیت کے مخالف کو چند فقروں میں ہی زیر کر دیتا۔ رلا نے پر آتاتو سامعین کی آنکھوں سے آنسوں کی مو سلا دھار برسات بر سا دیتا جہنم کے واقعات پر لوگوں کو دھاڑیں مار کر رلا دیتا جب بصیرت آگاہی فہم ادراک شعور فلسفے پر بات کرتا تو لوگ جھوم جھوم جاتے۔ فطرت نے اسے بہت ساری صلاحیتوں سے خوب نواز رکھا تھا اور یہ ان صلاحیتوں کے بھر پور استعمال سے بھی خوب واقف تھا۔ لیکن دنیا کا ہر چالاک عیار انسان یہ بھو ل جاتا ہے کہ قافلہ شب و روز اس سے جوانی کا رنگ چھین کر اسے بڑھاپے کی ناتوانی بڑھا پا بد صورتی زوال بھی عطا کر ے گا۔ لیکن خوش نصیب وہ ہے جن کا بڑھا پا قرب الہی سنت رسول ﷺ کی حقیقی اتباع اور اسلام کے حقیقی رنگ میں گزرے جو لوگ ساری زندگی خوفِ خدا کی حقیقی لذت سے آشنا اور شافع دو جہاں ﷺ کی حقیقی سنت کی پیروی میں گزارتے ہیں ان کا بڑھاپا اور آخری سانسیں بھی حکم الہی آقا کریم ﷺ کے رنگ میں نکلتا ہے لیکن جنہوں نے ساری زندگی دو چہروں کے ساتھ زندگی گزاری لوگوں کے سامنے ایک چہرہ جبکہ خلوت میں بدنماسیا ہ کار چہرہ تو ایسے لوگوں کو بھی اللہ تو بہ کا مو قع نہیں دیتا یہ شخص بھی ایسا ہی تھا جس نے ساری زندگی عیا شیوں میں گزاری تو اب آخرت بھی کیسے سنور سکتی تھی اسے سیاہ چہرے کے ساتھ ہی قبر میں اتر نا تھا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
69792