الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخواہ کے چوبیس اضلاع بشمول چترال نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخواہ کے چوبیس اضلاع بشمول چترال نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں
اسلام آباد(نمائندہ چترال ٹائمز)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخواہ میں نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں نئی حلقہ بندیوں کے لیے شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری علامیہ کے مطابق خیبر پختونخوا کے 24 اضلاع نوشہرہ، چارسدہ، مہمند، مردان، صوابی، کوہاٹ، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ٹانک، ایبٹ آباد، ہری پور، بٹگرام، تورغر، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولئی پالس، سوات، بونیر، لوئر چترال، لوئر دیر اور اپر دیر ویلج اور نیبرہوڈ کونسلوں کی حد بندی کا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔شیڈول کے مطابق 19 جنوری سے 2 فروری 2026 تک تمام انتظامی انتظامات مکمل کیے جائیں گے، 3 فروری سے 4 مارچ تک ڈیلی میٹیشن کمیٹیاں ویلج اور نیبرہوڈ کونسلوں کی ابتدائی فہرستیں تیار کریں گی۔5 مارچ کو ابتدائی فہرستیں شائع کی جائیں گی، شہری 6 مارچ سے 25 مارچ تک ڈیلی میٹیشن اتھارٹیز کے سامنے اپنے اعتراضات جمع کرا سکیں گے، تمام اعتراضات 8 اپریل تک نمٹا دیے جائیں گے۔شیڈول کے آخری مرحلے میں 20 اپریل کو ویلج اور نیبرہوڈ کونسلوں کی حد بندی کی حتمی فہرستیں جاری کی جائیں گی۔
۔
۔
الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کیلئے قانون سازی کی سفارش کردی
اسلام آباد(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے قانون سازی کی سفارش کر دی۔ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق لوکل گورنمنٹس جمہوری نظام کا ایک اہم ستون ہیں،تاہم بدقسمتی سے کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ترجمان کیمطابق الیکشن کمیشن نیالیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 219 میں ترمیم کی سفارش حکومت کوارسال کردی ہے،جس کے تحت بلدیاتی انتخابات مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونییا تحلیل ہونے کی صورت میں لازمی کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔الیکشن کمیشن کاکہنا ہیکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کی مشترکہ ذمہ داری ہے،اوربروقت انتخابات جمہوری تسلسل کے لیے ناگزیر ہیں۔ترجمان الیکشن کمیشن نیمزید کہا کہ بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے بغیر جمہوریت کو نچلی سطح تک مؤثر طور پر منتقل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے قانون سازی میں تاخیر جمہوری عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔