چمچہ – تحریر: ظہیر الدین
چمچہ – تحریر: ظہیر الدین
مجھے چمچہ کی اہمیت، افادیت اور اس کی ناگزیر ہونے کا احساس اُس وقت ہوا جب میں فرنی سے بھری ایک پلیٹ ہاتھ میں پکڑے ہر سو چمچہ کی تلاش میں نظرین دوڑا تا رہا مگر بے سود۔ اور میرے پاس یہ پلیٹ دوبارہ میز پر رکھنے اور خالی پیٹ گھر روانہ ہونے کے سوا کوئی چار ہ نہیں تھا کیونکہ وزیر اعلیٰ صاحب کے اعزاز میں دی گئی عشائیہ میں پارٹی کے ورکرز کھانے کی میز پر ٹوٹ کر سب کچھ چاٹ گئے تھے اور میرے ہاتھ صرف یہی فرنی کی پلیٹ آئی تھی مگر شومئی قسمت کہ چمچہ ندارد۔ آدھی رات گھر کے کیچن میں داخل ہونے کے بعد میں نے چولھا جلانے سے پہلے جس چیز کو ہاتھ میں لے کر بار بار اور ٹٹول ٹٹول کر دیکھا اور جی بھر کر دیکھا تووہ چمچہ تھا جسے چومنے کوبھی دل چاہتاتھا۔ کھانا گرم کرتے کرتے میں اس کی ساخت پر غور کرتا رہا کہ دیکھنے میں تو ادنیٰ دھات کا چپٹا ساراڈ جس کا ایک سرا سیدھا اور دسرا مقعر ہے جس میں مائع، سیال یا ٹھوس خوراک بھر کر منہ میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس کی اوقات بس یہی ہے۔ یہ کہہ کر میں چمچہ کی اہمیت سے، خاکم بدہن، انکاری نہیں ہوں بلکہ میں کون ہوسکتا ہوں کہ ایسی جسارت کربیٹھوں جبکہ ایک اردو محاورے میں اس کا استعمال تو سونا یعنی گولڈ کے ساتھ کیا گیا ہے جس میں امیر گھرانے میں پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ‘سونے کا چمچہ ‘منہ میں لے کر پیدا ہوا ہے جسے معاش کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ گرم گرم چاؤل چمچہ کے ذریعے پیٹ میں اتارتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ جب تک انسان اس روئے زمین پر زندہ ہے، وہ چمچہ کا محتاج رہے گااوراپنے مخلوق پر مہربان خالق کائنات اس کی جملہ ضروریات کا خیال کرتے ہوئے اس کا وافر انتظام فرماتارہے گا۔
بسا اوقات یہ سوچ کر میر ا خون کھول اٹھتا ہے کہ چمچہ کی اس عالمگیر افادیت کے باجود کس ظالم النسل نے اس کا نام بدنا م کرنے میں چنگیزیت کا مظاہر ہ کیا ہے اور اُس انسان کو چمچہ کا خطاب دیا ہے جوکہ اکثر طفیلی ساخت کے ہوتے ہیں یعنی یہ اپنی خوراک آپ پیداکرنے کا اہتمام نہیں کرتے بلکہ دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اُلو کو رات کا شہباز بناکر اپنا اُلو سیدھا کرتے ہیں اور چمچہ کا لقب پاجاتے ہیں۔ اگر اللہ آپ کو مال ودولت،حکومت و اقتدار یا حسن وجمال سے نواز دے تو آپ کو کھانے کے لئے دھاتی چمچہ کے علاوہ ‘گوشت پوست کا چمچہ ‘بھی خود بخود میسر آئیں گے جوہر وقت آپ کو اپنے قدموں میں پڑے ہوئے مل جائیں گے۔ آپ کی خدمت میں حاضر ان انسانی چمچوں کی تعدادآپ کے رتبے اور مرتبے اور دولت کے راست متناسب (فزیکل سائنس کی زبان میں) ہوں گے۔ چمچہ گری بھی سپہ گری اور دوسرے پیشوں کی طرح ایک پیشہ ہے لیکن اس میں تنخواہ اور دوسرے مراعات کا کوئی متعین اسکیل نہیں ہے۔ چمچہ گر ی فل ٹائم جاب بھی ہے اور پارٹ ٹائم بھی اور جدید زمانے کی تقاضے کے مطابق اسے ان لائن بھی یعنی گھر بیٹھے بھی انجام دیا جاسکتا ہے۔
یہ دنیا کا واحد پیشہ ہے جس میں کوئی تربیت نہیں ہوتی اور نہ اس کے لئے کوئی اکیڈیمی ہوتی ہے اور نہ کوچنگ سنٹر اور نہ استاذ اور مربی۔ یہ صرف اور صرف اللہ کی دین ہے اور مختلف ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی طرح ایک صلاحیت ہے جوکہ پیدائشی طور پرانسان میں ودیعت ہوتی ہیں۔
انسانی چمچے پرائیویٹ، نیم پبلک اور پبلک سیکٹرسبھی اداروں میں بخوبی پائے جاتے ہیں جہاں یہ لمحہ لمحہ اور پل بھر کی خبریں ‘باس’کو پہنچادیتے ہیں اور دفتر کے شریف اور محنتی اہلکاروں اور ماتحت افسران کا جینا حرام کرتے ہیں جبکہ خود کام نہیں کرتے جبکہ این جی اوز میں یہ مخلوق ترقی کے وہ منازل طے کرتے ہیں کہ دوسرے برق رفتار راکٹ میں بیٹھ کر بھی ان کا پیچھا نہیں کرسکتے۔ گزشتہ ادوار میں تو ان چمچوں نے بادشاہت قائم کرلی جس طرح دہلی سلطنت کے سلطان محمد غوری کے غلام قطب الدین ایبک نے خاندان غلامان کی بادشاہت کی بنیاد رکھ لی جوکہ 1206ء سے 1296ء تک تخت دہلی پر راج کرتے رہے جبکہ مغل بادشاہ بھی ان چمچوں کو اقتدار میں شامل کرکے ہی اپنی حکومت مستحکم کرلی اور محمود کا ایاز بھی بنیادی طور پر چمچہ ہی تھا۔ جمہوری دور میں بھی حکمران اور ممبران پارلیمنٹ تک سب ان چمچوں کے ہاتھوں میں محض کھلونے ہوتے ہیں جو ‘ہمددری’کا لبادہ اوڑھ کر ان سے ایسے کام کراتے ہیں کہ مردود شیطان کو بھی شرم آجائے۔ چمچوں کے ہاتھوں ان مقید حکمرانوں اور اہل اقتدار کو اُ س وقت ان ہمدروں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے جب پل کے نیچے سے پانی بہہ چکا ہوتا ہے کیونکہ اقتدار سے الگ ہونے کے بارہ گھنٹوں کے اندر اندر یہ چمچہ کہیں ندارد۔
جب تک گوشت پوست کے یہ چمچے اس دنیا میں موجود ہیں، بنی نوع انسان کی خیر خیریت اور عزت وآبرو خطرے میں ہے۔ ان کے شر سے شریف آدمی کو ہر وقت عزت کے لالے پڑجاتے ہیں۔اسے ہم جیسے مظلوم ویتیموں کی قسمت کی ستم ظریفی کہئے یااُن کی خوش قسمتی کہ مسجد میں امام نے کبھی بھی اس خطرناک اور موذی مخلوق کی تباہی وبربادی کو بھی اپنے دعا (یا بد دعا) میں شامل ہی نہیں کیا ہے اور انہیں کوئی خطرہ کبھی لاحق نہیں ہوتی۔ اگر حقیقت کی نظروں سے دیکھا جائے تو چمچہ گردی بھی دہشت گردی کی ایک قسم ہے۔
