The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 31 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال گول نیشنل پارک کے شغور وائلڈ لائف رینج میں پہلا نان ایکسپورٹ ایبل مارخور کا شکار

Posted on

چترال گول نیشنل پارک کے شغور وائلڈ لائف رینج میں پہلا نان ایکسپورٹ ایبل مارخور کا شکار

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) محکمہ وائلڈ لائف چترال کے زرائع کے مطابق آج ایک غیر ملکی شکاری مسٹر کائل ایڈم ملر ( Mr. Kyle Adam Miller ) نے چترال گول نیشنل پارک وائلڈ لائف ڈویژن کے بفر زون شوغور وائلڈ لائف رینج میں ایک ناقابل برآمد مارخور کا کامیابی سے شکار کیا۔ یہ علاقے میں اپنی نوعیت کی پہلی غیر برآمدی شکار ہے، جس سے تحفظ کی کوششوں اور مقامی کمیونٹی کی بہتری میں مدد ملتی ہے۔

یہ شکار چترال گول نیشنل پارک کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر (ڈی ایف او) رضوان اللہ کی موجودگی میں کیا گیا۔ سلیم الدین، چترال گول کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ کنزرویشن ایسوسی ایشن (CGCDCA) کے چیئرمین؛ شفیق احمد، رینج آفیسر (وائلڈ لائف)؛ اور اعجاز الرحمان، رینج آفیسر بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اس شکار سے حاصل ہونے والی آمدنی سے جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات میں مدد ملے گی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مالی اعانت کے ذریعے مقامی کمیونٹیز کی روزی روٹی میں اضافہ ہوگا۔ بفر زون شکار پروگرام کا مقصد شکار کے پائیدار طریقوں کو فروغ دینا ہے، جس سے چترال کے لوگوں کے لیے تحفظ اور معاشی فوائد کے درمیان توازن کو یقینی بنایا جاسکے۔

یہ کامیاب شکار کمیونٹی پر مبنی کنزرویشن ماڈل کی تاثیر کو اجاگر کرتا ہے، جہاں کنٹرول اور ریگولیٹڈ شکار مارخور جیسی خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ مقامی کمیونٹیز کو جنگلی حیات کی رہائش گاہوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مراعات فراہم کرتا ہے۔
یادرہے کہ نان ایکسپورٹ ایبل مارخور کا ٹرافی شکار چترال میں پہلی دفعہ سرانجام پایا ، جس میں شکاری صرف شکار کھیل سکتا ہے، شکار کی ہوئی جانور کی کھال اور سینگین اپنے ساتھ باہر ملک نہیں لے جاسکتا ۔

Mr. Kyle Adam Miller successfully hunted a non exportable Markhor in the Shoghoor Wildlife Range Chitral lower 1

Mr. Kyle Adam Miller successfully hunted a non exportable Markhor in the Shoghoor Wildlife Range Chitral lower 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
98730

چترال گول نیشنل پارک میں مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز مارخور کی نایاب نسل کے تحفظ اور اس کی آبادی بڑھانے کے لئے اہم اقدام ہے۔ سلیم الدین

چترال گول نیشنل پارک میں مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز مارخور کی نایاب نسل کے تحفظ اور اس کی آبادی بڑھانے کے لئے اہم اقدام ہے۔ سلیم الدین

چترال ( چترال ٹائمزرپورٹ ) چترال گول کمیونٹی ڈیولپمنٹ اینڈ کنزرویشن ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیم الدین و دیگر بورڈ ممبران، نے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور ڈویژنل فارسٹ آفیسر رضوان اللہ یوسفزئی کی انتھک محنت اور عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں چترال گول نیشنل پارک میں مارخور کے تحفظ اور ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کا کامیاب آغاز ممکن ہوا ہے۔

ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ پروگرام نہ صرف مارخور کی نایاب نسل کے تحفظ اور اس کی آبادی بڑھانے کے لیے ایک اہم اقدام ہے، بلکہ اس سے مقامی کمیونٹی کو بھی معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

چترال گول کمیونٹی ڈیولپمنٹ اینڈ کنزرویشن ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یہ اقدامات علاقے کی حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے میں سنگِ میل ثابت ہوں گے اور قدرتی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنائیں گے۔

chitral gol national park2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
96625

چترال گول نیشنل پارک کو نقصان پہنچانے والے DFO کے خلاف کاروائی کی جائے۔ پارک ایسوسی ایشن

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال گول نیشنل پارک سے استفادہ کرنے والے گیارہ دیہات کی تنظیم پارک ایسوسی ایشن کے چیرمین سلیم الدین، سیکرٹری حسین احمد اور کمیونٹی کے دیگر رہنماؤں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی اہمیت کی حامل اس نیشنل پارک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ڈویژنل فارسٹ افیسر کے خلاف فوری طور پر کاروائی کی جائے جس نے گزشتہ دو سالوں میں پارک کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے جبکہ مارخوروں کی آبادی میں زبردست کمی آئی ہے اور حال ہی میں پارک کے کور زون میں آتشزدگی بھی ان کی نااہلی اور غفلت کا شاخسانہ ہے۔

بدھ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نیشنل پارک کے قیام سے پہلے چترال ٹاؤن کے گیارہ دیہات اس جنگل سے براہ راست استفادہ حاصل کرتے تھے جن کی 1984ء میں نیشنل پارک بننے پر انہوں نے قربانی دی لیکن پارک کا موجودہ ڈی ایف او معاہدے کو مکمل طور پر پس پشت ڈال کر کمیونٹی کو پارک منیجمنٹ سے باہر کردیا ہے جس کے نتیجے میں پارک انتہائی انحطاط کا شکار ہے اور مارخوروں کی تعداد تین ہزار سے کم ہوکر صرف 800رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل پارک کے انتظام وانصرام میں مقامی کمیونٹی کو قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن ڈی ایف او اپنی من مانیوں کو جاری رکھنے کے لئے کمیونٹی کے نمائندوں کو یکسر مستر د کردیا ہے اور پارک کے کور زون میں ڈھول بجانے اور محفل سجانے سمیت ایسی منفی سرگرمیاں کروارہے ہیں جن سے کنزرویشن کو نقصان لاحق ہورہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ نیشنل پارک میں موجود 60انچ سے ذیادہ سینگ رکھنے والے دو تاریخی مارخور غائب ہوچکے ہیں اور پارک کے معروف مقام موڑین گول میں اب کوئی مارخور موجود نہیں جوکہ غیر معمولی حالات کا عکاس ہے۔ پارک ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہاکہ گزشتہ ہفتے نیشنل پارک کے زاربت کے مقا م پر آتشزدگی کے بعد سات دن گزر گئے لیکن ڈی ایف او اب تک متاثر ہ مقام کا وزٹ کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کیا ہے اور نہ ہی نامعلوم ملزموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے اور نہ ہی انکوائری شروع کی ہے کیونکہ ڈی ایف او جانتا ہے کہ ان کی غفلت کی وجہ سے آگ لگ جانے کی وجہ سے ذمہ داری خود ان پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ تقریباً ایک ماہ پہلے ہی پارک ایسوسی ایشن کے بورڈ نے ایک قرارداد کے ذریعے نیشنل پارک میں اکتوبر کے ماہ سے پہلے جلغوزے نکالنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھالیکن ڈی ایف او نے اس پر عمل نہیں کیا جس کے نتیجے میں جلغوزے جمع کرنے والوں کی لاپروائی سے آگ لگ گئی۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل پارک کی حالت مخدوش ہونے کی ایک وجہ کمیونٹی واچروں کو تنخواہ کی بندش ہے کیونکہ پارک کے فنڈ کو اسلام آباد میں کلائمیٹ چینج منسٹری نے گزشتہ چھ سالوں سے روکے رکھا ہے جہاں سے کمیونٹی واچروں کو تنخواہ کی ادائیگی کے علاوہ کمیونٹی کی دیہی ترقی کے چھوٹے موٹے کام بھی اس فنڈ سے کیا جانا معاہدے میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے خیبر بنک برانچ میں جمع پارک ایسوسی ایشن کے فکسڈ ڈپازٹ کے تین کروڑ روپے کے منافع کو اس کی میعاد گزشتہ سال پوری ہونے پر ریلیز کئے جائیں تاکہ کمیونٹی واچروں کو تنخواہ دی جاسکے۔کمیونٹی کے رہنماؤں نے ڈی ایف او کے خلاف انکوائری کے ساتھ ساتھ مارخوروں کی آبادی کی سروے کسی تھرڈ پارٹی کرانے کابھی مطالبہ کیا جبکہ چترال میں موجود ہونے کے باوجود مقام آتشزدگی کا دورہ نہ کرنے پر کنزرویٹر وائلڈ لائف نارتھ اور خاموشی برتنے پر چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کے خلاف بھی کاروائی کا مطالبہ کیا۔ نیشنل پارک میں آگ پر قابو پانے میں جانفشانی سے کام کرنے پر مغلاندہ، ڈنگریکاندہ اور ٹھینگشن اور دیگر دیہات کے جوانوں اور ریسکیو 1122کاخصوصی شکریہ ادا کیا۔۔

chitraltimes chitral gol conservancy press confrence 3
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , ,
52695