چترال کے گیس پلانٹ توہین عدالت کیس میں چیف سیکریٹری اور مرکزی سیکٹری انرجی اینڈ پاور سے رپورٹ طلب
چترال کے گیس پلانٹ توہین عدالت کیس میں چیف سیکریٹری اور مرکزی سیکٹری انرجی اینڈ پاور سے رپورٹ طلب
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) پشاور ہائی کورٹ نے معروف سماجی شخصیت اور پاکستان تحریک انصاف کے رھنما رضیت باللہ کے کیس بزریعہ شیر حیدر ایڈووکیٹ میں حکم دیا ھے کہ چترال کے عوام کو ایل پی جی گیس میں فوری طور پر ریلیف دینے کیلئے چیف سیکٹری کے پی کے اور مرکزی سیکریٹری انرجی اینڈ پاور سے رپورٹ طلب کیا ھے یاد رھے یہ کیس پشاور ھائی کورٹ کے 2023 کے فیصلے جس میں چترال میں فوری طور گیس پلانٹ لگانے کے حکم کی خلاف ورزی اور توھین عدالت کرنے پر دائر کی گئ تھی
درخواستی رضیت باللہ نے چترال ٹائمزسے گفتگو کرتے ھوئے کہا کہ چترال کے عوام کو ہر صورت گیس پلانٹ کی صورت میں فائدہ پہنچائیں گے جبکہ اس میں ایم این اے عبدالطیف کو اعتماد میں لیا گیا ھے تاکہ وہ اس کیس کو اسمبلی کے فلور پہ بھی اٹھائیں گے۔
یادرہے کہ پی ایم ایل این کے سابق دورحکومت میں چترال کے اُس وقت کے ایم این اے شہزادہ افتخارالدین کی کوششوں سے چترال کے لئے ایل پی جی گیس پلانٹس کی منظوری ہوئی تھی، جن کے لئے چترال کے تین مختلف مقامات پر زمین بھی لی گئی تھی پی ایم ایل این کی حکومت ختم ہوئی تو بدقسمتی وہ منصوبے بھی اگلی حکومت میں ختم کردیے گئے جس پر راضیت بااللہ و دیگر نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، کورٹ سے دوبارہ بحالی کے احکامات کے باوجود اس پر سرکار کی طرف سے عمل درآمد نہیں ہوا تو دوبارہ توہین عدالت کے لئے کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا جس پر آج یہ فیصلہ آیا ہے۔

