چترال کے مخصوص دیہات کی لوک تاریخ(قسط 15) تحریر: پروفیسر اسرار الدین
چترال کے مخصوص دیہات کی لوک تاریخ(قسط 15) تحریر: پروفیسر اسرار الدین
پچھلی قسط میں چترال خاص کے بعض شخصیات کا تعارف سہواً رہ گیا تھا۔یہاں ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1۔ متارژاو کمانڈر اسفندیار خان: آپ مہتر آمان الملک کے فرزند ارجمند تھے۔پہلے چترال سکاوٹس میں صوبیدار رہے۔وہاں سے ریٹائیرمنٹ کے بعد چترال کے شاہی باڈی گارڈ کے کمانڈر رہے۔ہزہائی نس محمد شجاع الملک ان کی بڑی قدرافزائی کرتے تھے۔بعد میں ناصر الملک اور مظفرالملک کے دوران حکومت میں ان کی ممتاز حیثیت رہی۔باڈی گارڈ کے کمانڈر ہونے کے علاوہ کونسل کے صدر بھی رہے۔ان کی سربراہی میں شاہی باڈی گارڈ نے بے حدترقی کی۔جس کا ثبوت1919ء افغان جنگ میں ان کی اعلیٰ کارکردگی تھی۔اس جنگ کے دوران آپ علاقہ دروش کے منتظم رہے۔آپ انگریزوں کوپسند نہیں کرتے تھے جس کا ذکر چترال گزیٹر(1928ء) میں بھی ہوا ہے اور ان کے بارے لکھا گیا ہے۔آپ مہترکے سوتیلے بھائی ہیں۔1895کی جنگ میں خراب کردار ادا کیا۔“
راقم کے والد محترم نے ایک واقعہ بیان کیا ہے۔جب 1942ء میں انگریزوں کی فوج چترال سکاوٹس کے قیام کے بعد واپس ہورہی تھی۔اس وقت ایک انگریز افیسر نے طنزیہ طورپر مہترژاؤ موصوف سے کہا۔”اب تو آپ بہت خوش ہوں گے“۔
انگریز اگرچہ آپ کو غیر معتبر سمجھتے ہوں گے۔لیکن پوری زندگی انہوں نے ریاست کی بہت زیادہ وفاداری سے خدمت کی۔آپ کے کئی بیٹے تھے جو نہایت قابل اور نیک وہ سب اہم عہدوں پرفائیز رہے۔ان کے بارے عام طورپر یہ بات قابل تعریف تھی۔کہ وہ سب دیندار تھے۔کماندڑ مرحوم کے ایک فرزند لفٹننٹ فضل قادر خان کا اس بناپر خاص تذکرہ مناسب ہے کہ وہ آخری عمر میں دعوت و تبلیغ کی عالمی تحریک سے منسلک رہے۔اس سلسلے میں کئی سفراختیار کئے۔اور اسی محنت کے دوران وفات پاگئے۔
اقسقال میرزہ خان مغلے: نئی تاریخ چترال ( صفحہ 358)کے مطابق میرزا خان چترال خاص سے تھا۔مہتر افضل الملک اور سردار نظام الملک کے عہدوں میں اپنی خدمات سے امتیاز پایا۔مہترافضل الملک مرحوم کے عہدمیں خواص میں شمار ہوتے تھے۔دراسن اور مستوج میں اقسقالی کا منصب رکھتے تھے۔شیرافضل کی پہلی یورش میں جب مہتر افضل الملک قتل ہوئے میرزا خان اور حاکم عبداللہ رضاخیل دونوں گلگت پہنچے۔جہاں سردار نظام الملک رہتے تھے۔ان کو چترال کی صورت حال سے اگاہ کیا۔اس دووران شیر افضل کے حامی مزاحمت کے لیے آٹھ کھڑے ہوے تھے۔ ان کے مقابلے میں مرزا خان نے بہادری کا ثبوت دیا تھا۔ اسکے ان خدمات کے سلسلے میں بعد میں سردار نظام الملک نے ان پر خاص نوازشیں فرمائی۔اعلحضرت شجاع الملک کے زمانے میں جنگلات کے ناظم رہے اور محمد مظفر الملک سے رضاعت کا تعلق بھی بنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چترال ٹاون کے بکرآباد قریہ سے آگے جاتے ہوئے دریاکے بائیں طرف چمرکن،جوٹی لشٹ اور بروز کے دیہات آجاتے ہیں۔جوٹی لشٹ غالباً حال کے زمانوں میں آباد ہوا۔البتہ چمرکن اور بروز دریائے چترال کے ساتھ آبادقدیم دیہات میں سے ہیں۔روایات کے مطابق چمرکن کلاش دور سے پہلے آباد تھا۔بتایا جاتا ہے کہ نغورگی مقام پر مسیمیان ڑائی وتروموکان دوکلاش بھائی تھے اور چمرکن ان کے تصرف میں تھا۔باقی تمام چمرکن کے باشندے ان کے غلام تھے۔نغورگی اور اورغچ کے درمیان ”تیلی سیری“(یعنی بید کے درخت کی نازک شاخوں کو توڑ مروڑ کر کیبل کی شکل دے کر بنائے گئے)پل بناہوا تھا۔ان دوبھائیوں نے چترال کے بادشاہ کی اطاعت قبول نہیں کی تھی۔ان کی ایک بہن تھی بادشاہ نے ان کو پیغام بھیجا کہ تم رات قلعے کا دروازہ کھلا چھوڑ دو تاکہ میں قلعے پرقبضہ کرکے تمہارے بھائیوں کوقتل کروں اورتمہیں اپنے ساتھ لاکے تم سے شادی کرلوں۔چنانچہ اس عورت نے ایسا کیا۔بادشاہ کے آدمی قلعے میں داخل ہوئے۔دونوں بھائیوں کو قتل کیا۔قلعہ پرقبضہ کیا اوور اس بدقسمت عورت کوبھی قتل کرادیا۔
اس وقت کلاش بہریاں (غلاموں) کاگاؤں اوپر پہاڑی پرجسے نغورزوم کہتے ہیں واقع تھا۔اب بھی ان کے مکانات کے نشانات وہاں موجود ہیں۔یہ قصہ بھی مشہور ہے کہ ایک دفعہ کہیں سے ایک لشکر نے حملہ کیا تھا اور یہ قریہ والوں پرحملے کی ہمت نہ کرکے گاؤں کے پیچھے اونچے پہاڑ کے اوپرچلے گئے تھے۔چونکہ اس زمانے میں توپ تفنگ کادستور نہیں تھا،اس لئے ان لوگوں نے ”ڈرابٹ“ جنگ کا طریقہ اختیار کیا۔اوپر سے بڑے بڑے پتھر جوچکی کے پتھر کے برابر ہوتے تھے اور اسکی مانند گول ہوتے تھے۔نیچے لڑھکاتے تھے تاکہ گاؤں کے مکانات تباہ ہوجائیں۔ان میں ایک پتھر(بہت بڑے سائز کا)کسی دوسری طرف کھیتوں (یعنی کورو)میں چلاگیا۔جہاں اب چمرکن آباد ہے۔یہ پتھر اب بھی وہاں پر آہنکر کی دوکان کے پاس موجود ہے۔اس کوسنگ ڈرابٹ کہتے ہیں۔لیکن یہ کوئی بتانہیں سکتا کہ اتنے بڑے پتھر کو اوپر سے کیسے گرایا گیا ہوگا۔(بحوالہ میرزا راحت نظر کے یادداشت مشمولہ تاریخ کے بکھرے اوراق۔ صفحات87-86)۔
آثاریاتی لحاظ سے بھی چمرکن زرخیز رہا ہے۔2009ء سے 2012ء تک برٹش کونسل کے تعاون سے ہزارہ یونیورسٹی اور لیسٹر یونیورسٹی برطانیہ نے چترال کی تاریخ،آثاریاتی اور ثقافتی ورثہ کومحفوظ کرنے کیلئے تین سالہ پراجیکٹ پرکام کیا تھا۔ڈاکٹر احسان علی اس پراجیکٹ کے سربراہ تھے،اس پراجیکٹ کے تحت چترال کے مختلف حصوں میں اہم تحقیقی کام ہوئے اور2012ء میں ایک بڑی کامیابی جوانہوں نے حاصل کی وہ چمرکھون میں 5500فٹ بلندی پرایک قدیم قلعہ کی دریافت تھی۔ابتدائی تحقیق کے مطابق اب تک دریافت شدہ آثار قدیمہ میں سے سب سے اونچا قلعہ ہے۔ٹیم نے سروے کے دوران گندھارا تہذیب کے قبروں کے چند ثبوت بھی دریافت کئے۔پروجیکٹ کے سرپرست کے مطابق یہ قبریں تقریباً تین ہزار سال پرانی ہیں جوکہ ساوتھ ایشین ارکیالوجی کے نئی دریافتوں سے شابہت رکھتی ہیں۔ان تحقیقات کی روشنی میں چترال کے لوگوں کے بارے بالخصوص کلاش کے بارے مروجہ یونانی نسل ہونے کا نظریہ غلط ثابت ہوا ہے۔بلکہ اریاء نسل ہونے کے قوی شواہد حاصل ہوئے۔(چترال کی ارکیالوجی موجودہ دور۔مشمولہ تاریخ چترال کے بکھرے اوراق۔صفحات 61-60)۔
چمرکن اگرچہ راقم کے سروے شدہ دیہات میں شامل نہیں تھا۔پھر بھی یہاں سے گذرتے ہوئے ایک نہایت ہی اہم شخصیت جوچترال کے اہم مجاہد شخصیات میں نمایاں رہے ہیں۔کے ذکر خیر کے بغیر گذرنا ناانصافی ہوگی اسلئے اس شخصیت کا جسے لوگ مولانا نورشاہدین کے نام سے جانتے ہیں۔مختصر ذکر پیش کرنا ضروری ہے۔
• مولانا نورشاہدین (عفرلہ): ایک زمانہ تھا جب تمام چترال کا ہرخورد وکلان اس نام سے واقف تھا اور کئی توان کے ایک اشارے پرقربان ہونے کے لئے تیار رہتے تھے۔یہ مولوی نورشاہدین تھے۔جنہوں نے اپنی تمام زندگی احیائے دین اور ریاستی عمال کے ظلم وستم کے خلاف جد و جہد میں گذاری۔ان کی زندگی بے باک سیاست،بے نظیر عزم وہمت اور برملا اظہار رائے کی بے مثال تصویر تھی۔وہ ایک حق گو اور پرخلوص شخصیت کے طورپر پہچانے جاتے تھے۔ان کی شخصیت کاجمال ان کی عزت اور خودداری میں مضمرتھا۔وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے جومکمل اجرائے شریعت تھا۔ہروقت ہرقسم کی تکلیف جھیلنے کے لئے تیاررہتے تھے۔ہزہائی نس محمد شجاع الملک کا زمانہ ان کے لئے زبردست ابتلا اورآزمایش کا دوررہا۔ان کے مخالفین ان کے خلاف اعلٰحضرت مرحوم کوطرح طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا کرکے ان کو راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔لیکن اس مشکل دور میں ان کے لئے شہزادہ محمد ناصر الملک کا وجود ایک سایہ دار درخت کی طرح تھا۔جن کے زیرسایہ ان کو سستانے کا کچھ نہ کچھ وقت ملتا تھا۔نیز موصوف کی وجہ سے کئی دفعہ اعلٰحضرت کے عتاب سے بچنے میں کامیاب ہوے تھے۔محمد ناصر الملک کی انکی سرپرستی کی وجہ سے ہرگزیہ نہیں تھی کہ وہ اپنے والد کے خلاف کوئی بغاوت کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ چاہتے تھے کہ کچھ ایسے بے باک ونڈر ومخلص علماء ودیگر تعلیم یافتہ لوگ سامنے آجائیں جن کو اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے کا شعور حاصل ہوجائے اور جو مل کے ریاست کے اندر تعمیری سیاسی وسماجی تبدیلیاں لانے کے سلسلے میں ہزہائی نس کو قائل کرنے میں کامیابی حاصل کرسکیں۔اور ریاست نئے تقاضوں کے مطابق ترقی کرسکے۔
تخت نشینی کے بعد ہزہائی نس محمد ناصر الملک کی یہ خواہش رہی کہ کاش میرے ملک میں چندسو ایسے تعلیم یافتہ نوجوان میسر آسکیں جن کو اپنے حقوق کا شعور ہوتاکہ ان کولے کے آگے بڑھنے کے قابل ہوسکوں۔بدقسمتی سے جلدہی ان کی بیماری،نیز جنگ عظیم دوم کے حالات اور ان کی بے وقت موت نے فرصت ہی نہ دی۔کہ وہ اپنے انقلابی خیالات کو عملی جامہ پہناتے۔مولانا نوشاہ دین کواس دوران ان کا مکمل تعاون حاصل رہا۔لیکن ایک اور ایک گیارہ کے بجائے ایک اور ایک دو ہی رہ گئے۔اور وہ کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ان کے بعد ہزہائی نس مظفر الملک کے دور حکومت میں ان کے بعض حکام کی زیادتیوں کی وجہ سے لوگوں کے صبرکاپیمانہ لبریز ہوا اس دوران چترال سے تعلق رکھنے والے کئی علماء جنہوں نے برصغیرکے اہم دینی مدرسوں سے تعلیم حاصل کی تھی اور کئی برصغیر میں برپا آزادی کی تحریک سے بھی وابستہ رہے تھے۔اور بعض کا ان میں سے مولانا نورشاہدین مرحوم سے بھی تعلق تھا۔چترال میں روا ناانصافیوں کے خلاف1946میں زبردست تحریک اٹھائی جس میں چترال کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوئے۔اس تحریک کانام دشمان دہوپڑگیاتھا۔یعنی علماء کی تحریک۔نئی تاریخ چترال کے مطابق اس تحریک میں ریاست مین اسلامی عدل وانصاف کے اجراء کے لئے مطالبات کئے گئے۔حکومت نے اس تحریک کے بانیوں میں مولوی نور شاہدین اور مولوی محمد عقیل کو گرفتار کرکے دور سرحدوں میں نظر بند کیا اور مولوی جمروز کو گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا(صفحہ401تا402)۔اس کے بعد اگرچہ وقتی طورپر یہ سلسلہ دب گیا لیکن پاکستان بننے کے ایک سا ل کے اندر دوبارہ اس تحریک نے سر اُٹھائی اور مولانا نورشاہدین کی زیرسرپرستی چترال مسلم لیگ کی شکل میں وجود میں آئی۔ان کے ساتھ چترال کے چیدہ چیدہ علماء کرام اور کئی اہم شخصیات اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک ایسی ٹیم میسر آئی جنکو لے کے اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانے اور نئے چترال کی بنیاد رکھنے کا موقع ملا، اگر چہ اپنی وفات تک وہ سو فیصد نتائج حاصل کر نے میں کامیاب نہیں ہوے ۔لیکن وہ اس اطمینان کے ساتھ ضرور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کے سرفراز ہوں گے ۔ کہ انہوں نے اپنی جد وجہد میں کسی طرح کوتاہی نہیں برتی تھی۔ 4۔بروز: بروز جوٹی لشٹ سے شیڑھی تک پھیلا ہوا ایک وسیع قصبہ ہے اسکو بروز گول،گمس گول اور کوڑگول سیراب کرتے ہیں۔کونڈوک اور راش خام اسکے اہم چراگاہ ہیں۔اسکے دیہات کے نا م یہ ہیں۔جوٹی لشٹ،کوڑ،سین کوڑوم،بسیرو،منگاڑ،لورتھمیونک،بیربولک،ہندوستان، دوم،گمبد،شیڑی،گولدہ،دومون،گبمس،اپر
تھمونک،گیل اورکراناڑ۔
چترال کے مختلف مقامات کی طرح بروز کاقصبہ بھی کئی آبی ساختہ چبوتروں پرمشتمل ہے۔جو ارضیاتی سائنس کے مطابق کروڑوں سالوں کے درمیان دریا چترال کے گذرگاہ رہے ہیں۔ان چبوتروں کے نام:۔
1۔دومون،گمبس،اپرتھمیونک،چبوترے
2۔گمبد،لور تھمیونک،کوڑ چبوترہ
3۔سین کوڑوم،شیڑھی چبوترے
4۔جوٹی لشٹ،شوتار چبوترے۔
اہم قبیلے
1۔کٹورے: یہ کٹور دور کے مختلف ادوار میں بروز کے دوم،دومون،گمبس اور بیربولک میں آکے آباد ہوتے رہے۔اس خاندان سے شاہ تحمل شاہ اور شہزادہ محمد شہاب الدین اہم شخصیات گذرے ہیں۔شاہ تحمل شاہ ورشگرم کے گورنر رہے تھے اور شہزادہ محمد شہاب الدین چترال کےوزیراعظم اور چترال سب ڈیویژن کے ڈپٹی کمشنر کے عہدوں پر سرفراز رہے تھے۔
2۔علماے کرام: اخونزادگان اور قاضیان نام سےعلماے کرام کے کئی خاندان رئیس دور سے کٹورے دور تک مختلف ملکوں سے آکر بروز اور چترال کے دوسرے علاقوں میں آباد ہوتے رہے ہیں۔ان کے ہاتھوں بے شمار غیرمسلم لوگ دین اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے ہیں۔بروز میں یہ خاندان قابل ذکر ہیں۔
ا۔اخونزادگان دومون: اس خاندان کے جدامجد علامہ میرزا رحیم بیگ باروھویں صدی کے شروع میں وسطی ایشیاء سے چترال آئے تھے۔اور پہلے قاضی القضاۃ مقرر ہوئے تھے۔ ژانگ بازار میں انہوں نے ایک دارالعلوم کی بنیاد بھی رکھی بعد کے زمانوں میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والے حضرات دومون(بروز) میں آکر آباد ہوئے۔ان کے ہاتھوں یہاں کلاش لوگوں نے اسلام قبول کیا۔حال کے زمانے میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والا عالم مفتی عبدالحکیم دیوبند سے فارغ التحصل ہوکے آئے۔اور چترال کے اہم علماء کی صف میں شامل ہوگئے۔آپ سیاسی طورپر بھی فعال علماء میں شمار ہوتےتھے اور چترال مسلم لیگ کی قیادت بھی کی تھی۔ (حوالہ اخونزادہ۔ صفحات۔ 446 تا 450)
ب۔اخونزادگان سین کوڑوم: اس خاندان کا جدامجد پاسدان محمد ابن محمود کا تعلق افغانستان کے کابل صوبہ کنڑ سے تھا۔دین اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں وہاں سے پہلے دروش،جنجرت،خیرآباد اور بعد میں بروز(سین کوڑوم) میں آئے۔ان علاقوں میں کلاش غیرمسلم لوگوں کا غلبہ تھا۔چنانچہ ان کے ہاتھوں کئی کلاش لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔اس نے غیر آباد جگے کونہرکشی کرکے آباد کیا اور یہیں آباد ہوئے۔ان کی اولاد میں کئی علماء گذرے ہیں جن میں سے خاص طور پرملا محمد غنی کانام قابل ذکر ہے۔جوعلم تفسیر حدیث،فقہ،معانی،میراث اور علم نحو میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ان کا بیٹا آل محمدبھی اپنے زمانے میں عالم اور مبلغ اسلام کی حیثیت سے جانی پہچانی شخصیت تھے۔علم تصوف پران کی تصنیف کردہ قلمی نسخے بھی موجود ہیں۔(حوالہ اخونزادہ 481 –484
ج۔خاندان اخونزادگان ملاعباس وملاکمال شاہ:یہ دونوں بھائی کتورثانی کے دور میں جالندھر (ہندوستان) سے یہاں آئے۔ملاعباس نے بروز میں سکونت اختیار کی اور شاہ کٹور نے جنہوں نے ان بھائیوں کی بہت زیادہ قدرافزائی کی تھی۔ان کو بیربولک (بروز) میں جائیداد عطا کی اور ملاکمال شاہ کو کجو میں آباد کیا۔ملاعباس کی اولاد بروز میں آباد ہیں۔ان کی مناسبت سے ان کے گاؤں کانام بھی ہندوستان پڑگیا۔(حوالہ اخونزادہ 482-484۔
3،قاضی عبداللہ اور خان غلام: ان کا تعلق دیر کے پایندہ خیل قبیلے سے تھا۔دونوں نے علم وعمل میں عزت پائی۔اعلٰحضرت کے زمانے میں خان غلام بروز کے قاضی رہے اور عدلیہ کونسل کے ممبر بھی رہے۔قاضی عبداللہ کا لڑکا مولوی فطرت اللہ بھی علمی استعداد سے معتبرتھے۔ ( نئ تاریخ چترال 382
3۔قاضیان بروز: قاضیان بروز کا خاندان زمانہ قدیم سے اصحاب علم ودانش چلا آرہا ہے۔ان کے دادہ بزرگ قاضی ملا موسیٰ عرف قاضی کلان بخارا کے ایک مشہور ومعروف قاضی خاندان سے تعلق رکھتے تھے،عہد کٹور یہ میں وہاں سے ہجرت کرکے چترال آئے۔پہلے ژانگ بازار میں آباد ہوئے بعد میں بروز گولدور وگولدہ میں سکونت اختیار کی۔اس خاندان میں کئی اہم علماء گذرے ہیں جووقتاً فوقتاً بروز کے علاقے کی قضاۃ کے عہدے پر متمکن رہے۔اس خاندان کے مولانا عین القضا میزان شرعیہ (ریاست چترال) کئی دفعہ قاضی رہے۔آپ 1935ء میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصل تھے۔اور دارالعلوم چترال میں مدرس بھی رہے تھے۔اخونزادہ 478-479
4۔میررثیے یا میراثیے: اس خاندان کاتعارف پچھلی قسطوں میں ہوا ہے۔یہ بروز میں تھمیونک،سین کوڑوم،کوڑ اور دومون میں آباد ہیں۔
5۔رضا:یہ سین کوڑوم،جوٹی لشٹ اور دومون میں آباد ہیں۔
6۔سوروم نگاک: یہ کسی زمانے میں بروز کے دیہات سین کوڑوم اور کوڑ میں آکے آباد ہوئے تھے۔ان کا پیشہ دریا سے سونانکالنے کا رہا ہے۔عموماًاس زمانے میں اس قسم کے لوگ ہزارہ کوہستان سے تعلق رکھا کرتے تھے۔ممکن ہے یہ لوگ وہیں سے آئے ہوں۔
7۔بالانگے:اخوانزادہ کے مطابق اس قوم کا جد اعلےٰ بلانگ تھا۔جنکے نام پر اس قبیلے کانام پڑگیا۔یہ بروز کے علاقے کے چارویلو رہے تھے۔ان کے بعض افراد شیشی میں بھی آباد ہیں۔
8۔بڑیہہ:اخوانزادہ کے مطابق یہ قبیلہ کسی زمانے میں بلخ (افغانستان) سے آکر دومون (بروز)میں آباد ہوے میرزارحمت نظر کے مطابق یہ اصل میں بدخشی ہیں۔رئیس دور میں پہلے تورکہوپھریہاں آکے آباد ہوئے۔
9۔حسنے: اخونزادہ کے مطابق یہ قبیلہ بشگال سے تقریباً دوسوسال پہلے دومون (بروز) آکے مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔اس وقت ان کے جد امجد کا اسلامی نام حسن الدین رکھا گیا تھا۔چنانچہ اسی سے اس قبیلے کانام بھی حسنے پڑا۔روایات کے مطابق 18ویں صدی کے اوائل میں شاہ فرامرد جس نے بشگال پرقبضہ کیا تھا۔اپنے ساتھ کئی بشگالی افرادکوچترال لایا تھا۔جواب چترال کے مختلف دیہات میں آباد ہیں۔ممکن ہے یہ لوگ بھی اسی زمانے میں آئے تھے۔میرزا رحمت نظر کے مطابق ان کا اصل مسکن کامدیش (بشگال) تھا۔
10۔بروڑے:یہ بروڑ کی اولاد ہیں۔میرزا رحمت نظر کے مطابق رئیس دور میں ان کا دادا یہاں آکے آباد ہوئے تھے۔یہ لوگ اب بسیرو(بروز) میں آباد ہیں۔
11۔زربینہ: میرزا رحمت نظر کے مطابق ان کے اصلی وطن کا پتہ نہیں چل سکا۔امان الملک کے زمانے میں ان کے جدنے پسنگرمقام پر پسنگرقلعے کو فتح کیا تھا۔اور اس دوران زخمی بھی ہوگیا تھا۔اسکے بعد مہتر کے ساتھ شیڑ موژی(رضاعت)کا تعلق بن گیا۔اس نے بادشاہ کے دوبیٹوں کی رضاعت کی۔اخونزادہ کے مطابق اس خاندان کے جدامجد کانام زربون تھا۔یہ یہاں کے قدیمی لوگ ہیں۔ منگاڑ میں آباد ہیں۔
12۔اتالیقے: اخونزادہ کے اندازے کے مطابق اس قوم کا جداعلی بدخشان سے کٹورےے عہد کے ابتدائی زمانے میں چترال آیا تھا۔ان کے آنے کی وجہ امیربدخشان کے ساتھ ان کی مخالفت تھی جسکی وجہ سے ان کو پنا ہ گیر ہوکے چترال آنا پڑا۔ان کے اہم پس منظر کے پیش منظر اس وقت کے چترال کے حکمران نے ان کی زبردست پذیرائی کی اور دروش،شیشی کوہ اور ارندو کا ان کو حاکم مقررکیا۔ان کی اعلےٰ کارکردگی سے خوش ہوکربروز میں (گولدہ)،گمبد،دومون،اویون،کیسو اور لاوی میں ان کو جاگریں عطاکیں۔اور شیشی کوہ میں کاوش تا مداکلشٹ زمینات اور چالیس خاندانوں پر مشتمل کارندے ان کو عطا کئے۔
13۔جانداریے: اخونزادہ کے مطابق اس خاندان کے جد اعلیٰ کانام جاندار تھا۔یہ قوم بھی اپنے کو بشگالی قبیلے کی شاخ بتاتی ہے۔یہ کوڑ(بروز) میں آباد ہیں۔
• 14۔ماڑجئے: اخونزادہ کے مطابق یہ قدیمی قوم ہے۔غالباً ان کا تعلق کلاش قوم سے ہو۔اس قبیلے کے افراد دومون اور گولدہ (بروز) میں آباد ہیں۔
15۔ خوتمے:اخونزادہ کے مطابق اس قبیلے کا جد اعلیٰ خاتم تھا۔اسی سے خاتمے یا خوتمے نام پڑگیا۔یہ قوم اپنے کوپنین شوئے کی شاخ بتاتی ہے اور کسی زمانے میں تورکھو سے یہاں آکے آباد ہوئے۔
16۔زرکش: اخونزادہ کے مطابق یہ قدیم قوم ہے اور غالباًکلاش قوم سے ان کا تعلق رہا ہے۔یہ زرکشی کاپیشہ کرتے تھے۔اسلئے ان کا یہ نام پڑگیا۔
17۔دانشمندے:اخونزادہ کے مطابق یہ پٹھان قبیلے کی ایک شاخ ہے۔ضلع دیر سے کسی زمانے میں یہاں آکر آبادہوئے۔لگتا ہے کہ ان کے جد اعلےٰ دانشمند(عالم) شخص تھا۔ جس سے یہ نام پڑگیا ہوگا۔
18۔کتوربائے: یہ قبیلہ دومون میں آباد ہے۔اخونزادہ کے مطابق اس کے جد اعلیٰ کا نام کتوربائے ہوگا۔یہ قوم اپنے آپ کو بایکے قوم کی ایک شاخ قراردیتی ہے۔
19۔نرستی:اخونزادہ کے مطابق یہ قبیلہ نرست(افغانستان) سے کسی زمانے میں (غالباًکٹور دور میں) یہاں دومون (بروز) موڑدہ(اویون)اوردروش میں آکر آباد ہوئی۔
20۔قلمدارے: یہ گولدہ(بروز) میں آباد ہیں۔غالباًیہ ب ھی قدیمی لوگوں میں سے ہیں۔
21۔کوڑکے: یہ گولدہ میں آباد ہیں۔غالباً قدیمی لوگوں میں سے ہوں گے۔
22۔قریشی: گولدہ میں قریشی نام کا ایک قبیلہ بھی آباد ہے۔شاید یہ بشگال سے کسی زمانے میں آئے ہوں گے۔
23۔قوم سوتکیہ: میرزا رحمت نظر کے مطابق یہ بشگال سے تعلق رکھتے تھے۔وہاں سے ان کا دادا دشمنی کی وجہ سے اپنے گاؤں لٹ دہ کو چھوڑ کررئیس دور میں بروز میں بیربولک میں آکر آباد ہوا۔یہاں پرجنگل تھا اس کا ایک حصہ کاٹ کر آباد کاری کی تھی شاہ کٹور کے دور میں جب پورے بیربولک کی آبادکاری ہوئی توان کے دادا کوگولدہ(بروز میں آباد کیا گیا۔(حوالہ تاریخ چترال کئے بکھرے اوراق)۔
24۔قومی آہنگران(موچیان): میرزا رحمت نظر کے مطابق شاہ کٹور کی چوکیاتن میں غریب الوطنی کے دوران ان کے پردادا نے وہاں اس کی بہت خدمت کی تھی۔جب شاہ کٹور دوبارہ چترال کا بادشاہ بنا تو ان کو بیربولک میں کچھ زمین دے کرآباد کیا۔
25۔قوم کوغکہ (مولوی بروز وغیرہ)یہ دراصل ڈنگریک ہیں۔زمانہ قدیم میں تانگیرسے آکے بروز میں آباد ہوئے۔ان کے لوگ زیت اور ورشگرم میں بھی آباد ہیں۔(حو الہ تاریخ چترال کے بکھرئے اوارق۔
26۔محنت گران)دومون(: یہ قدیمی کلاش باشندے ہیں۔(حوالہ رحمت نظر)
27۔قوم ڑاسپریکے:میرزا رحمت نظر کے مطابق یہ ملک امان مہتر کے دور میں لاسپور سے بروز آئے اور دومون میں زمین خرید کرآباد ہوئے۔
بروز سے متعلق تاریخ کا ایک خونی واقعہ:
چترال کی تاریخ سنٹرل ایشیاء کی تاریخ کی طرح پدرکشی اور برادر کشی کے خونی واقعات سے بھری پڑی ہے۔لیکن بروز کا جوخونی واقعہ ہے وہ چترال کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تصور کیا جاتا ہے۔یکم جنوری1895ء کی ایک ٹھنڈی صبح تھی۔مہتر نظام الملک بروز کے کوڑ کے مقام پرباز کے ایک شکارگاہ (یورج دینی)پرشکار کھیل کے واپس جانے والاتھا۔اور اپنے گھوڑے پرسوار ہورہاہے اتنے میں بادشاہ پربندوق سے فائر ہوتا ہے۔فائر کرنے والا بادشاہ کے بھائی امیرالملک کاایکخادم تھا۔بادشاہ گھوڑے پرسے گرپڑتے ہیں اور وفات پاتے ہیں۔امیرالملک اعلان کرتا ہے کہ یہ سب کچھ میں نے کرایا۔اب میں چترال کا بادشاہ ہوں (چہ دلاوراست)اس واقعے کا چشم دیدگواہ شجاع الملک جو اس وقت 15سال کا تھا(شجاع الملک کی عمر رابرٹسن وغیرہ12سال بتاتے ہیں۔جو غلط ہے کیونکہ لاکہارٹ کی سرکردگی میں جو مشن 1885ء میں چترال آئی تھی۔اس کی رپورٹ کے صفحہ307پر یہ لکھا ہوا ہے(ترجمہ): برے نس مین ایک مقام پر5سال کا ایک بچہ اپنے ٹٹو پر سوار ایک سالخوردہ شخص کی معیت میں اور چند اور گھوڑ سواروں کے ساتھ ہمیں ملا۔بچے کایوں تعارف ہوا کہ اس کانام شجاع الملک تھا وہ بادشاہ کا بیٹا تھا جو اسمار کے خان کی بیٹی کے بطن سے تھا۔اس کے ساتھ والا آدمی کا رضاعی باپ تھا اور گاؤں کا رئیس تھا(7ستمبر1885) ۔ نے اس واقعے کاذکر ایک محرکے میں یوں کیا تھا۔(راوی ناصر علی شاہ المعروف بجگی اقسقال)1895ء میں جس جگہ نظام الملک قتل ہوا۔اس وقت میں وہاں موجود تھا۔مجھے دیکھ کے کسی نے آواز دی کہ اس(یعنی شجاع کو) ژاو گنیروہ کو بھی قتل کردو۔(نظام الملک نے شجاع کو متبنی بنالیا تھا)۔لیکن خوش قسمتی سے میرے شرتت نے مجھے گھوڑے پرڈالا اور وہاں سے بچاکے لے گیا۔گویا ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالےٰ کا فیصلہ ہوتا ہے۔وہ ایسابھی کرتے ہیں جو کسی کے گمان میں نہیں ہوتا اوریہی شجاع بعد میں چترال کا بادشاہ بنا
۔ اس قتل نے بعد میں دنیا کو ہلاکے رکھدیاتھااس کہانی کا مرکز چترال کا شاہی قلعہ بنا۔جس میں محصور تھوڑی تعداد میں انگریز محدود تعداد میں چترالیوں کے ہمراہ بظاہر چترال کی ریاست کو بچانے اور درحقیقت تاج برطانیہ کی لاج رکھنے اور اس کے اثرورسوخ کوان علاقوں میں مستحکم کرنے کے لئے جان کی بازی لگارہے تھے۔وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حدتک جانے کے لئے تیار نظرآتے ہیں۔چنانچہ نوشہرہ مردان سے گلگت تک جنگ کامیدان سج جاتا ہے۔ہزاروں مجاہدین انگریزوں کے مقابلے میں جہاد کے لئے جان کی آبادی لگانے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔دہلی اور لندن کے ایوانوں میں زبردست ہل چل مچ جاتی ہیں۔آخر کار انگریز اپنے زبردست جنگی سازوسامان کے بل بوتے اس تحریک کو کچل کررکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔اور ان تمام علاقوں پرقبضہ جماکے چترال کو پوری طرح اپنے شکنجے میں لاتے ہیں۔لارڈ کرزن جوبعد میں ہندوستان کے وائسرائے بنے۔اس جنگ کے حوالے سے لکھا”جس طرح ایک چھوٹا پتھر پانی میں پھینکنے کے بعد پہلے چھوتا دائرہ بعد میں بڑے دائرے بنتے ختم ہوجاتے ہیں اس طرح چھوٹے سے چترال نے ایک طرح دنیا کے ایک بڑے حصے کوہلاکررکھ دیا تھا۔اور براعظم ایشیاء کی تاریخ میں اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
اس جنگ کے نتیجے میں چترال کے مستقبل کے یہ فیصلے ہوئے۔ 1۔ چترال مکمل طورپر انگریزوں کے زیرتسلط آیا۔
2۔ چترال کاشمال کے ساتھ صدیوں سالوں کاتعلق ختم ہوا اسکے بعد اس کا رخ جنوب میں برصغیر کے ساتھ ہوا۔
3۔ مہتر چترال کا اس وقت تک تمام انحصاراپنے لوگوں پر ہوتاتھا۔اوران کی مدد سے اپنے آپ کوہم مستحکم رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔اسکے بعد انگریزوں کی پشت پناہی حاصل ہونے کی وجہ سے لوگوں پراُن کا انحصار کم ہوتا رہا۔
4۔ چترال ریاست کے حدود چغان سرائے(موجودہ آسد آباد)سے گلگت تک تھےجوسکڑکے پہلے لوئر چترال بعد میں اپر اور لور چترال کے اندر محدود ہوگئے۔
5۔ حتمی طورپرآخر کار 1947ء میں چترال ریاست پاکستان کا حصہ بنا اور 1969ء میں ضلعے کی شکل میں پاکستان میں ضم ہوا۔
5،اویون:
اویون چترال خاص سے12میل جنوب میں دریائے چترال کے مغربی کنارے پر آباد ایک بڑا قصبہ ہے۔یہ چترال کے قدیم ترین دیہات میں سے ایک ہے۔یہاں پرانے آثار سے پتہ چلتا ہے۔کہ یہ کئی ہزارسالوں سے آباد رہا ہے۔اس کے درمیان اویون گول بہتا ہے۔اورسارا سال اس علاقے کے لئے آب رسانی کا ذریعہ ہے۔جہاں سے بڑی بڑی نہریں نکال کراس تمام قصبے کو آباد کیا گیا ہے۔تمام چترال میں پانی کی بہتات کے لے اویون کی مثال دی جاتی ہے۔یہاں کی زرخیزی بھی اپنی مثال آپ ہے۔اس وجہ سے اس کانام آینی(یعنی زرخیز) پڑگیا تھا۔جووقت کے ساتھ ساتھ بدل کراویون بنا۔
قدرتی طورپریہ سارا قصبہ نہایت سرسبز اور خوبصورت ہے۔اسلئے ہرکسی کواپنی اپنی طرف کھینچتی ہے۔گزشتہ سینکڑوں سالوں کے دوران دوردور سے مختلف لوگ یہاں آکے آبادہوتے رہے یہ قصبہ کئ ابی چبوتروں پرمشتمل ہے جو ماہرین ارضیات کے مطابق مختلف زبانوں میں دریا چترال کی گذرگاہیں رہیں۔سب سے اوپرچبوترے آٹانی،اشپون لشٹ،بڑاوشت اور غوچھار کوہ پرمشتمل ہیں۔اس کے بعد نیچے آتے ہوئے ارکھاڑ،مسکور،سہن،درخناندہ، کورو،شوتار اور دریا کی موجود گذرگاہ۔
یہاں کی آبادی گذشتہ ادوار میں ان حصوں تک محدود رہی۔جہاں پانی کی آسانی سے بہم رسانی ممکن تھی۔سب سے اخیر میں گذشتہ صدی میں بڑاوشت،مسکور اور اٹانی، اشپون لشٹ آباد ہوئے۔اس طرح اس میں ذیل اہم دیہات وجود میں آئے ہیں۔
ارکھاڑ،تھوڑیان دہ،سہن بالا وزیرین،موڑدہ،کورو،دارخناندہ،بڑاوشٹ،اٹانی،اشپون لشٹ،دیراویون اور ڈوک داڑگرام وغیرہ ۔ یہاں کی آباد ی 50 سے زیادہ قبیلوں پرمشتمل ہے۔جو قدیم زمانے سے یہاں آباد ہیں۔اہم قبیلے مندرجہ ذیل ہیں۔
قبیلے:
1۔کٹورے: یہ بڑاوشٹ،موڑدہ،دارخناندہ،کورو،سہن میں آباد ہیں۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والا شہزادہ خوش احمد الملک (مرحوم)اہم شخصیت رہے ہیں۔آپ ہزہائی نس محمد شجاع الملک کے فرزند تھے۔اویون میں بڑاوشت(جسکو 1930ء میں آباد کیا تھا)میں قیام پذیرتھے۔آپ فوج سے بحیثیت میجرریٹائرہوئے تھے۔بعد میں کچھ عرصہ افغان مہاجرین کے کمشنر کے طورپر خدمات انجام دئیے۔لیکن زیادہ عرصہ خانہ نشین رہے۔ لکھنا، پڑھنااورگارڈننگ ان کے خاص مشغلے تھے آپ کا باغ مختلف نوعیت کے پھولوں اور پودوں کی وجہ سے قابل دید نظارہ پیش کرتا ہے۔
آپ کھوار زبان کے ادیب اور شاعر اور انگریزی زبان کے بہترین لکھاری تھے۔ان کے انگریزی کے مضامین پاکستان کے انگریزی اخباروں میں چھپتے تھے۔جنکی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ان کویکجا کرکے اگر”کتابی صورت دی جائے“ایک ضخیم کتاب بن سکیگی۔ان مضامین میں انہوں نے چترال بالخصوص اور پاکستان بالعموم کے سماجی تاریخی اور ثقافتی موضوعات پرعالمانہ بحث کی ہے۔کھوار زبان میں ان کے شعروں کا مجموعہ ”گلائی“کے نام پرچھپ چکا ہے۔جن میں زیادہتر فلسیفیانہ اور صوفیانہ موضوعات ہیں۔آپ اپنے گاؤ ں کے سماجی کاموں میں باقاعدہ حصہ داررہتے تھے۔اسلئے لوگوں میں مقبول تھے۔انہوں نے پہلے پہلے جب حضرت مولانا محمد مستجاب (رح) اویون آئے۔اپنی ذاتی مسجد میں مدرسے کے قیام کے سلسلے میں ان کی بھرپور مدد کی۔بعد میں حضرت(مرحوم) کی تجویز کے مطابق عید گاہ کے لئے ایک بڑی زمین وقف کی۔جو آج تک تمام چترال میں ایک بڑی عید گاہ کے طور پہچانی جاتی ہے۔
2۔علمائے کرام اویون: بروز کی طرح اویون بھی علمائے کر ام کی بستی رہی ہے۔ان میں اخوانزادگان اور قاضیان وغیرہ نام سے مشہور و معروف علماے کرام کا کہکشان موجود رہا ہے۔جن کا ذیل میں تذکرہ کیا جاتا ہے(حوالہ نئی تاریخ چترال)
(ا) قاضیان قدیم اویون: تاریخ چترال کے مطابق یہ صاحب علم خاندان رہا ہے۔اس خاندان کا جدامجد قاضی محمد نظام شاہ کٹور ثانی کے زمانے میں اعتبار کے مالک رہے۔بعد میں مہترخیراللہ کے بھی مشیروں میں رہے۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے علماء کی ایک لمبی فہرست ہے۔جن میں ملا نصرالدین،قاضی عبدالوہاب،قاضی عبیدالرحمان،اخونزادہ اقرارالدین،ملا اسماعیل اور مولانا اجلال الدین اہم فضلا رہے ہیں۔ان میں سے مولانا اجلال الدین(عفرلہ)کاذرا تفصیل سے ذکر کیاجاتا ہے۔
مولانا اجلال الدین قاسمی:آپ اخونزادہ اقرار الدین کے فرزند ارجمندتھے۔جو اعلٰحضرت محمد شجاع الملک کے زمانے سے محمد ناصرالملک کے زمانے تک قاضی القضاۃ کے عہدے پرمامور رہے تھے۔انہو ں نے فقہ کے مسائل ضروریہ کاایک مجموعہ بھی تنصیف کیا تھا۔
مولانا اجلال الدین قاسمی دارالعلوم دیوبند کے مستند عالم تھے۔اور دارالعلوم چترال کے بانی صدر مدرس رہے اور اس دارالعلوم کو مظبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں بڑا کام کیا۔1952سے1969تک اپنی ریٹائرمنٹ تک اس ادارے سے منسلک رہے۔آپ بڑے فصیح و بلیغ مقرر اور بلند پایہ عالم تھے۔آپ علم المیراث اور علم القراء کے ماہر بتائے جاتے ہیں۔بتایا جاتا ہے آپ حافظ قرآن بھی تھے۔وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔جسکی وجہ یہ تھی کہ دارالعلوم کی مصروفیتوں کی وجہ سے حفظ قرآن کے دورکاان کوپورا وقت نہیں ملتا تھا۔اور بعد میں اسی مصروفیت میں ان کا انتقال ہوا۔اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے قاضی صاحب نظام پچھلی صدی کے وسط کے بعد تین چارعشروں تک سیاسی طورپر کافی مشہور ومعروف رہے۔آپ نے پشاور میں دینی تعلیم حاصل کی تھی اور چترال میں جب چترال مسلم لیگ کاقیام عمل میں آیا تو آپ اس کے نائب صدر مقرر ہوئے۔اور چترال کے لوگوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کے سلسلے میں کافی کام کیا۔آپ بہترین مقرر تھے ساتھ ساتھ قدرت نے ان کو ظرافت طبع کی اعلیٰ صفت ودیعت کی تھی۔اس طرح تقریر کرتے ہوئے سامعین کو اپنی گرفت میں رکھنے کا ان کو خاص ملکہ حاصل تھا۔وہ کونسل عدلیہ کے بھی ممبر رہے تھے۔
(ب) ملابحرالدین:یہ اعلیحضرت محمد شجاع الملک کے زمانے کے اہم علماء اور قفہا میں شامل تھے۔ان کا بڑا لڑکا مولوی عبدالعزیز جو اصول شرعیہ اور علم فقہ کے ماہرتھے۔چترال کے مفتی اعظم کے عہدے پرسرفرازہوئے تھے۔اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے غلام عمر پچھلی صدی کے آخری نصف عشروں میں پشاور یونیورسٹی پہلے بی۔ایڈ اور بعد میں ایم اے پاس کیا تھا۔اہم ماہر تعلیم گذرے ہیں۔وہ مختلف گورنمنٹ سکولوں کے پرنسپل اور چترال ریاست کے افسرتعلیم رہے۔چترال کے اہم ادیبوں میں ان کا شمار تھا۔شہزادہ محمد حسام الملک کی وفات کے بعد چترال کے اہم ادارہ انجمن ترقی کھوار کے صدر رہے۔ان کی دوکتابیں ”محمد سیر“ اور چترال کی لوک کہانیاں“ لوک ورثہ (اسلام آباد) کے قومی ادارے نے شائع کئے ہیں۔
(ج)اخونزادہ گان مولدہ اویون:اس خاندان کا تعلق داشمنے (موڑکھو)سے تھا۔اس خاندان کا ملارحیم قلی اخوندمہترسربلند خان کے زمانے میں اویون میں آباد ہوئے۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے حافظ مولانامحمد کرار،شرف الدین،مولانا محمدعاقل،اخونزادہ شیریزدان واخونزادہ محمد فاعل علمائے باعمل اور تقویٰ شعار تھے۔محمدفاعل چترال میں قاضی القضاۃ کے عہدے پربھی فائز رہے تھے۔ان کے بعد یہ منصب اس کے بیٹے غلام العابد ین کو تفویض ہوا۔ان کے دوسرے دوبیٹے غلام العایحن وغلام الذاکرین بھی علم سے اراستہ اور حافظ القرآن تھے۔غلام الذاکرین میزان شرعیہ (چترال)کے بھی رکن رہے تھے۔
(د)اخونزادگان تھوڑیاندہ:یہ خاندان اپنا سلسلہ نسب شیخ رحمکار کاکاصاحب(نوشہرہ) سے متصل کرتا ہے۔ان کا جد اعلےٰ محمد کبیر شاہ کٹورثانی کے عہد میں یہاں آئے اور اویون میں سکونت اختیار کی۔ان کا لڑکا محمد حمید علم میں کمال رکھتا تھا۔اور مہتر شاہ افضل کا استاد رہا تھا۔ان کی اولاد میں علمائے کرام کی ایک لمبی تعداد ہے۔جو اپنے زمانوں میں اپنے علم وعمل کی نسبت سے مشہور ومعروف رہے اور اہم عہدوں پرفائز رہے۔جن میں سے قاضی عبدالرحمن،حاجی عبدالغفار،رحمت غفار،فضل غفار،مولوی غلام احمد اور مولانا نعمت اللہ اور میرز احمد شفیع قابل ذکر ہیں۔مولوی غلام محمد کو محمد ناصر الملک کے زمانے میں حامع العلوم ماناگیا تھا۔وہ بہترین واعظ اور خوش کلام مقرر تھے،ان کو ہزہائی نس موصوف نے تبلیغ وترویج شریعت کے اہم کام پرمقرر کیا تھا۔
میرزا محمد شفیع کے فرزند مولانا صاحب الزمان کاکاخیل گذشتہ صدی آخری نصف حصے میں چترال کے دینی حلقوں میں نمایاں رہے۔آپ دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعدپہلے دارالعلوم حقانیہ میں مدرس رہے۔بعد میں چترال آئے یہاں ہائی سکول چترال سے بحیثیت استاد وابستہ رہے اور پوری زندگی اسی حیثیت سے علم وعمل کی تدریس میں گذاری۔ساتھ ساتھ دارالعلوم اسلامیہ چترال کے (اعزازی) مہتمم،جمعیت اسلام چترال کے جنرل سیکرٹری ار تبلیغی جماعت کے شوریٰ کے رکن،شاہی مسجد چترال کے تاحیات خطیب رہے۔ان کے علاوہ چترال کے پہلے مجلے ہفت روزہ تریچمیر کے بانی بھی تھے۔اور انہی خدادادلیاقت کی بدولت ہرشعبے میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔آپ کو دارالعلوم دیو بند میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے خاص الخاص شاگردوں میں ہونے کا شرف حاصل رہا۔آپ کو مذکورہ دارالعلوم میں کچھ عرصہ درس تدریس کا موقع بھی ملاتھا اور مولانا مدنی کے صاحبزادے مولانا سید اسعد مدنی اور مولانا سید ارشد مدنی آپ کے شاگردوں میں سے رہے تھے۔اور دارالعلوم کے تصنیف وتالیف کے شعبے سے بھی متعلق رہے تھے۔
(ح)اخونزادہ مولانا میر غیاث الدین: آپ ریاستی دور کے مقتدر اور بااثر علماء میں سے تھے۔ان کے خاندان میں جید علماء گذرے ہیں۔آپ خود مولانا مستجابؒ کے اساتذہ کرام میں سے تھے۔آپ کے بھائی میر محی الدین بھی اہم عالم تھے۔ان کے بیٹے مولانا معین الدین جامعہ امنیہ دہلی کے فاضل اور سند یافتہ عالم تھے۔واپسی پر درس وتدریس کے علاوہ میزان شرع میں قضا کے عہدے پرفائز رہے۔مولاناغیاث الدین کے چار بیٹے مولانا سعدالدین،مولانا شہاب الدین،مولانا قمرالدین اور حافظ نجم الدین تمام اہم علماء میں شامل تھے۔آپ کا صاحبزاہ شہاب الدین خاص طورپراپنی عملی بصیرت،استعداد اور قابلیت کی وجہ سے بہت مقبول رہے۔دیوبند کے پڑھے تھے۔اسلئے ان کی بڑی قدر تھی۔وہ میزان شرع اورجوڈیشل کونسل کے رکن بھی رہے۔ان کے ایک ہم عصر شخصیت (جوپشاور یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر تھے)کے مطابق جب آپ مدرسے سے فارغ ہوکر واپس آرہے تھے۔توان کے اساتذہ کرام جوان کی قابلیت اور اچھے اخلاق کے معترف تھے۔خصوصی طورپر ان کو رخصت کرنے کے لئے ریلویے سٹیشن تک گئے جوکسی بھی طالب علم کے لئے بڑااعزاز تھا۔
3۔سمرقندی: یہ قبیلہ میرجلال الدین کی اولاد بتائی جاتی ہے۔جو سمرقند (بخارا) کے روساء میں سے تھے۔خاندانی چبقلش کی وجہ سے ان کو ملک بدر ہونا پڑا تھا۔اور شاہ سنگین علی مہترکے دور میں چترال وارد ہوئے۔بادشاہ نے ان کی خاندانی پس منظر کے پیش نظر انکی خوب پذیرائی کی اور ان کے بعد ان کی اولاد تاحال ریاست کے اہم عہدوں پرفائز رہے۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ لاوی میں بھی آباد ہیں۔اور بعض اویون میں درخنان دہ میں سکونت پذیر ہیں۔پچھلی صدی میں اس خاندان کے فضل اعظم،عبیدالاعظم اورفضل اعظم ریاستی دور کے اہم حکام میں رہے۔۔
4۔سنگالے: یہ شیشیکوہ سے یہاں درخنان دہ آکر آباد ہوئے۔
5۔اتم بیگے: یہ موڑکھو سے آکر کورو(اویون)میں آباد ہیں۔
6۔زوندرے: یہ چترال کے مختلف حصوں سے مختلف وقتوں میں یہاں آئے اور موڑدہ تھوڑیان دہ،دارخنان دہ،کورواورداڑگرام میں آباد ہوئے۔
7۔رضا: یہ بھی دارخنان دہ،کورو،سہن پائین اور ڈارگرام میں آباد ہیں۔
8۔داشمنے: یہ موڑکھو سے آکے اٹانی اورداڑگرام میں (9) خوشے تورکھو سے آکے داڑگرام میں آباد ہوئے ہیں۔
10۔خانئے: اصلیت میں بدخشی ہیں۔وہاں سے کسی زمانے میں چترال کے بعض حصوں اور بعض اویون میں کورو،موڑدہ اور سہن میں آباد ہوئے ہیں۔
11۔شادوئی مڑپ سے(12)کوڑئیے مداک سے (13)بوشے کشم سے آکر حال کے زمانے میں اٹانی میں آباد ہوئے ہیں۔
14زارخانے موڑدہ میں آباد ہیں۔
15تا18۔بہرئیے،گھسمے،یاغ بیگے اورشیر ملنگے تھوڑیاں دہ میں آباد ہیں۔
19۔چھونگے: یہ کابل سے کسی زمانے میں آکے۔تھوڑیاں دہ میں آباد ہیں۔
20۔شاہ غوٹیے: یہ اویر سے شاہ شجاع الملک کے زمانے میں اکے۔دارخنان دہ میں آباد ہیں۔اس قبیلے کی اہم شخصیت (جوکہ تمام چترال میں اہم اہم شخصیت رہے ہیں) مولانا مستجاب کاتعارف اویر والی قسط میں ہوا ہے۔
22۔وخکے:یہ کسی زمانے میں واخان (افغانستان) سے آئے تھے اور دارخنان دہ میں آباد ہیں۔
23۔شیخان: یہ کلاش شیخ ہیں۔موڑدہ میں آباد ہیں۔
24۔یوربہے: یہ اویون کے موڑدہ اور داڑگرا م میں آباد ہیں۔
25۔گجر: یہ ہزارہ کوہستان سے کسی زمانے میں آکر چترال کے مختلف حصوں میں (خاص کرشیشی کوہ میں)آباد ہیں۔اویون میں بڑاوشت اور داڑ گرام میں بستے ہیں۔
26:پٹھان: یہ دیر سے کسی زمانے میں آئے اور درخنان دہ میں آبادہیں۔
27۔تورکھویچی:تورکھو سے آکے اویون کے کورو میں آباد ہیں۔
28تا 30۔گلتک(گلگت سے آکے)،بریرے(بریرسے آکر) ڑاسپرک(ڑاسپور سے آکے) اویون کورو میں آباد ہوئے ہیں۔
31 تا35۔بل سنگھے (کلاش) َشاہ پورے، مدروژے قدیم زمانے سے سہن میں آباد رہے ہیں۔ اور پانے کسی زمانے میں ریشن سے آ کے سہن میں میں آباد ہوے ۔
36۔بائیکے؛ تورکہو سے آکے داڑگرام اور سہن میں اباد ہوئے ہیں۔
37۔پٹھان:اسمار سے کسی زمانے میں آئے(غالباً امان الملک کے دور میں؟)اور سہن میں ؤباد ہوئے ہیں۔
38تا41۔شیرمالکے: بہارے،یابیکے،محتتمے تھوڑی ان دہ میں آباد ہیں۔
39تا43۔کٹہ ببددرے،بڈوکے،گام بیرے،مادو کے اور گل ہرہرے سہن میں آباد ہیں۔ت
44۔مدروژے: سہن میں آباد ہیں۔
45۔مانے ریشن سے آکے سہن میں آباد ہوئے ہیں۔
46۔خسراوے: شیربرار نوراحمد جو ہزہائی نس شجاع الملک کے رضاعی بھائی تھے۔ان کی عہد حکومت میں مسکورکوآباد کیا تھا۔اب کی اولاد یہاں آباد ہے۔
47. بہدورے۔ یہ اویون کے قدیمی لوگ ہیں۔ بڑی تعداد میں سہن اور داڑگرام می آباد ہیں ۔ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والا ولی زرخان ولی کا نام موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں نمایاں ہے۔آپ نے گورنمنٹ کالج پشاور سے گریجویشن کی اور سرکاری ملازمت اختیار کی۔شروع سے گورنر انسپکشن ادارے سے منسلک رہے۔اور دائریکٹر کے عہدے تک پہنچے۔آخری آیام میں چترال میں ایڈشنل ڈی سی کے عہدے پررہے۔ایک موذی مرض میں مبتلا ہوکر ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔کل من علیھافان۔
ولی زار خان ولی نہایت باصلاحیت لوگوں میں سے تھے۔ایک دیانتدار،محنتی،قابل افیسر ہونے کے علاوہ اعلیٰ پایہ کے شاعر اور ادیب بھی تھے۔کھوار ریڈیو پروگرام کے شروع کے آیام میں اسکے روح روان رہے۔آپ نے پہلی دفعہ ریڈیوں کے لئے کھوار میں پاکستان کے لئے ملی نغمہ لکھا۔ ۔پہلی دفعہ کھوار رسالہ جمہور اسلام میں افسانہ لکھا اور کئی ڈرامے لکھے۔اردو میں بھی شاعری کرتے تھے۔جب 1973میں پاکستان ٹیلیویژن پرتمام پاکستان کے شعراپرمبنی مشاہرہ ہوا توآپ نے چترال اور کھوارزبان کی نمائندگی کی آپ چترال کی پہلی اخبار تریچمیرکے مدیر رہے۔ افسوس کہ جوان مرگی کی وجہ سے ہم سے جدا ہوئے۔ورنہ نہ معلوم وہ کیا کیا کارنامے انجام دیتے۔
48. گمبار : یہ بھی سہن گاؤں کے قدیمی لوگوں میں سے ہیں۔ اس قبیلے کےسالار رحمت الدین اویون کے ایک قدآورشخصیت تھے۔اعلےٰ اخلاق کے مالک اوراہم لوگوں میں ان کاشمار ہوتا تھا۔جب چترال مسلم لیگ قائم ہوا۔تو آپ اسکے اولین قایدین میں شامل ہوئے اور مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار بنے،اسکے بعد سالار نام ان کے لئے اس طرح چسپان ہوا کہ لوگ اسی نام سے ان کو یاد کرنے لگے۔
مسلم لیگ کے اس اولین دورمیں چترال کے لوگوں میں سیاسی طورپر بیداری پیدا کرنے میں دوسرے عمائیدن کے ساتھ ان کابھی بڑا حصہ رہا ہے۔جس کے لئے وہ یاد رکھے جائینگے۔
——————————————–
نوٹ:ائندہ قسط میں کلاش قبلے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
