The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال کے سیلاب سے متاثرہ  نقصانات کے ازالہ  اور ابپاشی و ابنوشی کی اسکیموں کی بحالی کے لئے ہنگامی طور پر 10ارب روپے کا پیکج جاری کیاجائے۔سابق ایم پی اے  سردار حسین 

Posted on

چترال کے سیلاب سے متاثرہ  نقصانات کے ازالہ  اور ابپاشی و ابنوشی کی اسکیموں کی بحالی کے لئے ہنگامی طور پر 10ارب روپے کا پیکج جاری کیاجائے۔سابق ایم پی اے  سردار حسین

چترال (نمائندہ  چترال ٹایمز) سابق ایم پی اے اور پی پی پی کے سینئر رہنما سید سردار حسین شاہ نے اپر چترال کے مستوج اوریارخون میں موسلا دھار بارش کے بعد آنے والی سیلاب سے بڑے پیمانے پر رہائشی مکانات اور زرعی زمینوں اور باغات کی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ متاثریں کی فوری طور پر بحالی اور نقصانات کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر گاؤں میں ابپاشی کے لئے نہروں اور ابنوشی کے لئے پائپ لائنوں کی بحالی کے لئے ہنگامی طور پر 10ارب روپے کا پیکج جاری کیاجائے تاکہ مصیبت زدہ عوام کو مزید مسائل سے چھٹکارا مل سکے۔ ٹیلی فون سے چترال پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مستوج سے لے کر یارخون تک سیلاب نے ہزاروں رہائشی مکانات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں اورسیب کے باغات کو برباد کردیا ہے جوکہ ان کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ تھا اور اس ذریعہ آمدن کی تباہی کے بعد ان کی مالی حالت بھی سخت متاثر ہوگی۔ پی پی پی کے رہنما نے کہاکہ اس وقت ندی نالوں کو گاؤں سے جوڑ نے والی نہروں کے ہیڈ ورکس سیلاب میں بہہ جانے کی وجہ سے ابپاشی کے لئے پانی کی سپلائی بالکل بند ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں سیلاب سے بچ جانے والی پھلدار درختوں، باغات، فصلوں اور سبزیوں کے کھیت سوکھ کر برباد ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ چترال کے عوام پہلے سے غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور انفراسٹرکچرز کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی اور انہیں مزید غریب اور پسماندہ بنانے میں سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے اور اس نازک موڑ پر اگر حکومت وقت نے کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا تو علاقے میں بھوک اورفاقوں کا راج ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ چترال کے لئے ریلیف پیکج کا اجراء تمام قواعدو ضوابط میں نرمی لاتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے ورنہ سر خ فیتہ کی نذر ہونے کے بعد یہ فنڈز ایک سال بعد آجائیں گے جب متاثریں مزید متاثر ہوں گے۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
64961

چترال کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک میڈیکل ٹیمیں اور ادویات پہنچ چکی ہیں.ترجمان محکمہ صحت

Posted on

صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں میں محکمہ صحت کے زیر انتظام میڈیکل کیمپس کا قیام، چترال کے متاثرہ علاقوں تک میڈیکل ٹیمیں اور ادویات پہلے ہی پہنچ چکی ہیں، فوری طبی امدادی ٹیمیں موقع پر موجود، متاثرین کو ضروری ادویات کی فراہمی جاری: ترجمان محکمہ صحت

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) محکمہ صحت سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں میں آلودہ پانی سے جنم لینے والی بیماریوں کے تدارک اور متاثرین کو فوری طبی امداد مہیا کرنے کیلئے محکمہ صحت کے زیر انتظام میڈیکل کیمپس قائم کی گئی ہیں۔ چترال کے متاثرہ علاقوں تک میڈیکل ٹیمیں اور ادویات پہلے ہی پہنچ چکی ہیں، فوری طبی امداد یقینی بنانے کیلئے ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ متاثرین کو ضروری ادویات کی فراہمی جاری ہے جبکہ سیلاب سے جنم لینے والی بیماریوں کے تدارک کے لئے خصوصی کیمپس کا انعقاد کیا جارہاہے۔

محکمہ صحت کے انٹی گریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس یونٹ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے 37 میڈیکل کیمپس لگائے گئے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں متاثرین کا علاج کیا گیا۔ ان میڈیکل کیمپس کے دوران چار ہزار سے زائد اسہال کے مریضوں کو ادویات و معالجے کی سہولیات دی گئیں۔ 15 سو سے زائد جلد کے مریضوں کا معائنہ اور علاج کیا گیا جبکہ آلودہ پانی سے جنم لینے والی بیماریوں کے علاج سمیت، مختلف ویکسین بھی فراہم کی گئیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
64956

چترال کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ بھرپور امداد کی جائے،قاری جمال عبدالناصر

چترال کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ بھرپور امداد کی جائے، تباہ شدہ انفراسٹرکچر بحال کئے جائیں /قاری جمال عبدالناصر

چترال(نمایندہ چترال ٹایمز) جمعیت علماء اسلام ضلع چترال لوئر کے سنیئر نائب امیر قاری جمال عبدالناصر نے حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ضلع چترال کے مختلف علاقوں میں ہونے والے نقصانات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ جمعیت علماء اسلا م ضلع چترال لوئر کے ضلعی مجلس عمومی کے دستوری اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری کئے گئے ایک بیان میں قاری جمال عبدالناصر نے مرکزی و صوبائی حکومتوں، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگوں کے ساتھ مکمل معاؤنت کی جائے، انکی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ چند ٹینٹ اور کچھ اشیا ء فراہم کرنے کے بعد متاثرین کو نظر انداز کرنا قبول نہیں، انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے لوگ بے گھر ہوگئے ہیں، انکی تیار فصلیں، باغات، مکانات اور زمینات سیلاب برد ہو چکے ہیں، ان لوگوں کی مکمل بحالی ناگزیر ہے، اسلئے انہیں معقول مالی معاؤنت فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ قاری جمال عبدالناصر نے کہا تحصیل دروش اور تحصیل چترال کے مختلف وادیوں میں جہا ں جہاں سیلاب آیا ہے ان علاقوں کی طرف ے بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر بھی تباہ ہو چکا ہے، پینے کے پانی، آبپاشی، رابطہ سڑکیں اور پلیں متاثر ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،اسلئے ان امور کی طرف فوری توجہ دیکر عوامی مشکلات میں کمی لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علما ء اسلام کے ضلعی مجلس عمومی کے اجلاس میں سیلاب متاثرین کے ساتھ امداد اور تعاؤن کے حوالے سے قرارداد بھی منظور کی گئی ہے۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
64720