The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال کی عوامی زمینوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے تاریخی فیصلے پر پاکستان تحریکِ احتساب کا مؤقف ۔ تجزیاتی رپورٹ

چترال کی عوامی زمینوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے تاریخی فیصلے پر پاکستان تحریکِ احتساب کا مؤقف ۔ تجزیاتی رپورٹ

مرکزی چیئرمین ۔ پاکستان تحریکِ احتساب سفیراللہ خان خلیل

یہ رپورٹ چترال کی عوامی، قدیمی اور مشترکہ ملکیتی زمینوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے اُس تاریخی فیصلے پر مبنی ہے جس میں 1975ء کا متنازعہ نوٹیفکیشن غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ چترال کے عوام کے حقِ ملکیت، روایتی حقوق اور اجتماعی ورثے کی بحالی میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان تحریکِ احتساب اس فیصلے کا خیر مقدم بھی کرتی ہے اور ساتھ ساتھ وہ تمام قانونی، انتظامی اور عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے جو مستقبل میں عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

تاریخی پس منظر ریاستِ چترال اور اجتماعی زمینیں

چترال صدیوں تک ایک خودمختار اور روایتی نظام پر قائم ریاست تھی، جو 1948ء میں پاکستان کا حصہ بنی۔
1969 میں Dir–Swat–Chitral Regulation کے تحت ریاستی ڈھانچہ تحلیل ہوا، لیکن مقامی عوامی زمینوں کی مالکیت بدستور کمیونٹی اور قبائلی نظام کے تحت برقرار تھی۔

پہاڑیاں، چراگاہیں، جنگلات، ندی نالے، موسمی چراگاہیں اور مشترکہ جنگلات ہمیشہ اجتماعی ملکیت کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔
یہ روایت نہ صرف معاشی ڈھانچے کا حصہ تھی بلکہ چترالی ثقافت کی بنیاد بھی انہی زمینوں پر قائم تھی۔

1975 کا متنازعہ نوٹیفکیشن — عوامی ملکیت پر سرکاری دعویٰ
1975 میں صوبائی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے چترال کی 95-97٪ غیر زرعی زمینیں سرکاری ملکیت ظاہر کر دیں
جن میں شامل تھیں:
پہاڑیاں
مشترکہ جنگلات
چراگاہیں
ندی نالے
گھاس کے وسیع میدان
غیر آباد مشترکہ علاقے
اس نوٹیفکیشن کی قانونی خامیاں:
اس میں روایتی حقوق (Customary Rights) کو کوئی جگہ نہیں دی گئی۔
بغیر شنوائی اور سروے کے عوامی زمینوں کو سرکاری بنا دیا گیا۔
کمیونیٹی انتظام کے نظام کو بلاوجہ معطل کیا گیا۔

نوٹیفکیشن کی بنیاد جس “لوکل انکوائری کمیشن” پر رکھی گئی تھی، وہ چترال کے مخصوص تاریخی و اجتماعی ڈھانچے کا احاطہ نہیں کرتا تھا۔
اس نوٹیفکیشن نے چترالی عوام میں خوف، بے چینی اور عدم اعتماد پیدا کیا۔
مقدمہ 2019 میں دائر ہوا عوام کی جدوجہد
2019 میں چترال کے تقریباً 100 رہائشیوں اور نمائندوں نے یہ نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کیا۔
دلائل میں مؤقف پیش کیا گیا کہ:
یہ زمینیں صدیوں سے عوامی ملکیت تھیں۔
ان کا اجتماعی اور ثقافتی استعمال تاریخی حقیقت ہے۔
حکومت نے بلا دلیل انہیں سرکاری ظاہر کر کے بنیادی حقوق پامال کیے۔
ریاستی ادارے جنگلات، چراگاہوں اور پہاڑیوں پر زبردستی قبضے کی کوششیں کر رہے تھے۔
ان زمینوں سے عوام کی زندگی، روزگار، معیشت، خوراک، ایندھن، گوادر، مال مویشی اور ماحولیات وابستہ ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ
(میڈیا رپورٹس کے مطابق، فیصلہ 24 نومبر 2025 کو سنایا گیا) پشاور ہائی کورٹ نے:
1975 نوٹیفکیشن کو غیر مؤثر اور کالعدم قرار دیا۔ قرار دیا کہ زمینیں عوامی / مشترکہ ملکیت رہی ہیں۔ تاریخی شواہد، روایات اور ریکارڈ کو تسلیم کیا۔
ریاستی اداروں کو آئندہ ایسے غیر قانونی اقدامات سے روک دیا۔
حکومت کو ہدایت دی کہ عوامی ملکیت کا احترام کرے۔

یہ فیصلہ سیدھا سادہ زمین کی واپسی نہیں
بلکہ قبائلی روایتی نظام، عوامی کنٹرول اور اجتماعی ورثے کی بحالی کا اعلان ہے۔
عوامی ردِعمل — خوشی اور اعتماد کی بحالی
فیصلے کے بعد چترال بھر میں: جشن منایا گیا

عمائدین نے اسے حق کی جیت کہا
سیاسی و سماجی حلقوں نے اسے عوامی حقوق کی بحالی قرار دیا
کئی خاندانوں نے اسے نسلوں کی آواز کی پذیرائی کہا
یہ فیصلہ صرف زمینوں کا نہیں
بلکہ چترال کی شناخت، ثقافت اور خودمختاری سے جڑا ہوا ہے۔

مستقبل کے خطرات
مرکزی چیئرمین پاکستان تحریکِ احتساب کے مطابق یہ فیصلہ تاریخی ضرور ہے، مگر چند واضح خطرات موجود ہیں:
حکومتی اپیل یا نظرثانی
حکومت اس فیصلے کو اپیل، نظرثانی یا تکنیکی بنیادوں پر چیلنج کر سکتی ہے۔

عملی نفاذ میں تاخیر
کالعدم قرار دینا کافی نہیں
اصل مسئلہ ہے زمینوں کی عملی واپسی، سروے، ریکارڈ کی درستگی اور نقشوں کی تبدیلی۔
جنگلات اور قدرتی وسائل پر سرکاری کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش
محکمہ جنگلات اور دیگر ادارے اپنے کنٹرول کو آسانی سے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوں گے۔

داخلی تنازعات کا خطرہ
عوامی مشترکہ ملکیت کی مختلف تشریحات سے مقامی سطح پر تنازعات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل ریکارڈ میں تبدیلی سب سے مشکل مرحلہ ہو گا
لینڈ ریکارڈ، نقشے، کھاتے اور سروے فیلڈ بکس دوبارہ بنانا پڑیں گے۔

مقامی لابیوں کی ممکنہ مداخلت
ریئل اسٹیٹ، لکڑی مافیا، بعض بااثر طبقات اپنی مرضی کی نئی حد بندی کی کوشش کر سکتے ہیں۔
پاکستان تحریکِ احتساب کی سفارشات
چترال عوامی اراضی تحفظ ایکٹ” فوری نافذ کیا جائے۔
جس میں عوامی مشترکہ ملکیت کو قانونی تحفظ ملے۔
ایک خصوصی کمیشن بنایا جائے۔

مقامی نمائندے
قانونی ماہرین
ماحولیات کے ماہرین
قبائلی روایات پر دسترس رکھنے والے افراد شامل ہوں۔
نیا شفاف سروے کیا جائے، مقامی لوگوں کی نگرانی میں۔
ہر گاؤں/وادیاں کی اجتماعی ملکیت کا Community Land Certificate جاری کیا جائے۔
سرکاری اداروں کو پابند کیا جائے کہ عوامی زمینوں میں کوئی مداخلت نہ کریں۔
فیصلہ شائع کر کے ہر متعلقہ دفتر کو باضابطہ ارسال کیا جائے۔
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ چترال کے عوام کی اجتماعی اور تاریخی جدوجہد کی فتح ہے۔
مگر اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے
یعنی اس فیصلے کے عملی نفاذ کو یقینی بنانا۔

ہم حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ زمینیں صرف مٹی نہیں بلکہ نسلوں کی ثقافت، بقا، اور شناخت ہیں۔
پاکستان تحریکِ احتساب اس فیصلے کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔

یہ فیصلہ چترال کی تاریخ کا اہم ترین موڑ ہے۔
یہ ثابت کرتا ہے کہ جب عوام کھڑے ہوں، تو روایتی حقوق بھی عدالت میں ثابت ہو سکتے ہیں۔
لیکن اب ذمہ داری عوام، سول سوسائٹی اور ریاست کی مشترکہ ہے کہ اس فیصلے کو تحفظ، نفاذ اور تسلسل دیا جائے۔
پاکستان تحریکِ احتساب اس جدوجہد میں چترال کے عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
116072