The Voice of Chitral since 2004
Monday, 4 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سال 2025 میں اپر اور لوئر چترال میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک افسوسناک جائزہ – تحریر :نورالھدٰیٰ یفتالی

سال 2025 میں اپر اور لوئر چترال میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک افسوسناک جائزہ – تحریر :نورالھدٰیٰ یفتالی

سال 2025 کے دوران اپر چترال اور لوئر چترال میں خودکشی کے واقعات ایک سنجیدہ سماجی مسئلے کے طور پر سامنے آئے ہیں، جنہوں نے اہلِ علاقہ اور سماجی اداروں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، اپر چترال میں خودکشی کے رجحانات زیادہ نمایاں نظر آئے۔ یہاں خودکشی کرنے والے افراد کی عمر کی حد عموماً 15 سے 35 سال کے درمیان رہی، جو کہ نوجوانوں اور نوجوان بالغوں کی بڑی تعداد کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے برعکس، 40 سے 70 سال کی عمر کے افراد میں خودکشی کا تناسب نسبتاً کم رہا۔ یہ رجحان نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، بے روزگاری، خاندانی مسائل یا نفسیاتی مسائل کی شدت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اپر چترال میں خودکشی کرنے والی خواتین کی تعداد 11 رہی، جو ایک غیرمعمولی طور پر بلند شرح ہے۔ یہ صورت حال خواتین کے سماجی و نفسیاتی مسائل، دباؤ اور ممکنہ طور پر خاندانی تشدد جیسے عوامل کی جانب توجہ مبذول کراتی ہے۔

دوسری جانب، لوئر چترال میں سال 2025 کے دوران 14 سے 30 سال کی عمر کے افراد میں 5 خودکشیاں رپورٹ ہوئیں۔ اگرچہ تعداد اپر چترال سے کم ہے، لیکن یہ بھی ایک تشویش ناک امر ہے۔ مزید برآں، لوئر چترال میں تین خواتین نے خودکشی کی، جو کہ کسی بھی معاشرے کے لیے باعثِ تشویش اور لمحۂ فکریہ ہے۔
یہ اعداد و شمار ہمیں بطور معاشرہ اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ نوجوان نسل خصوصاً خواتین کی ذہنی، جذباتی اور سماجی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے، اور ہم کس حد تک ان کے مسائل سننے اور انہیں سہارا دینے میں ناکام رہے ہیں۔

ان واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چترال جیسے روایتی، مذہبی اور ثقافتی طور پر جڑے ہوئے علاقے میں بھی ذہنی صحت ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سکول اور کالج کی سطح پر ذہنی صحت کی آگاہی مہم چلائی جائیں۔صحت کے مراکز میں خواتین اور نوجوانوں کے لیے ذہنی بیماری اور خودکشی کے حوالے ورکشاپ منعقد کرائے جایئں مقامی علماء، اساتذہ، والدین اور کمیونٹی لیڈرز کو تربیت دی جائے کہ وہ وقت پر نشاندہی کر سکیں اور مدد فراہم کر سکیں۔

نوٹ:- ہم اس ریپورٹ کے لیے قیمتی مواد فراہم کرنے پر ڈی ایس لیگل، محسن الملک صاحب کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

chitraltimes suicide cases during 2025 chitral 2

chitraltimes suicide cases during 2025 chitral 1

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
112478

چترال میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات…تحریر :صباحت رحیم بیگ

آج کل دیکھا جائے تو چترال میں خودکشی عام ہوتا جا رہا ہے لوگ جان بوجھ کر اپنے آپ کو موت کے حوالے کر رہے ہیں انسان کا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے اور دین اسلام میں خودکشی حرام ہے آخر لوگ یہ گناہ کبیرہ کرنے پر کیوں مجبور ہو جاتے ہیں

ا س کی سب سے بڑی وجہ ہم لوگوں کی اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دوری ہے. ہم میں صبر و تحمل کی کمی ہے، ہمارے خواہشات کا بے بہا ہونا اور وسائل کا کم ہونا چترال میں زیادہ تر خودکشی کی وجوہات گھریلو جھگڑے، پسند کی شادی کا نہ ہونا اور امتحان میں ناکامی ہیں اس وجہ سے لوگ خودکشی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں حالانکہ انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کوئی دروازہ بند نہیں کرتا جب تک دوسرا دروازہ کھول نہ دے  اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وقت گزر جائے گا اور زندگی سے لڑنے میں جو مزا ہے وہ بھاگنے میں نہیں اچھے وقت کے لئے برے وقت سے لڑنا پڑتا ہے کیونکہ زندگی آسان نہیں ہوتی اسے آسان بنایا جاتا ہے

 کچھ صبر کرکے، کچھ برداشت کرکے اور بہت کچھ نظر انداز کر کےاگر جان دینے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو ملک کے لئے جان دو مذہب کے لئے جان دو ایسا کام کرو جہاں شہادت نصیب ہو

چترال میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر غور کرنے اور ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے ہر تحصیل میں ماہر نفسیات ہونا چاہیے اور تعلیمی نصاب میں زہنی امراض کے بارے میں آگاہی ہونا چاہیے اسلامی تعلیمات پر عمل اس کا بہترین حل ہے اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کریں.

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
39330