The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 4 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات: اسباب اور سدِ باب ۔ تحریر: حیدر زمان

چترال میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات: اسباب اور سدِ باب ۔ تحریر: حیدر زمان، گورنمنٹ کالج چترال

خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات واقعی تشویش ناک ہیں۔ چترال کے اربابِ حل و عقد کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سر جوڑ کر بیٹھیں تاکہ ان وجوہات کی نشاندہی کی جا سکے جن کی وجہ سے یہ المناک رجحان پروان چڑھ رہا ہے، اور ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔

گزشتہ چند سالوں میں چترال میں خودکشی کے واقعات میں کچھ کمی دیکھنے کو ملی تھی، مگر رواں سال ان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

خودکشی کی وجوہات متنوع ہیں۔ یہ کبھی معاشی مسائل کا نتیجہ ہوتی ہے، کبھی جذباتی تعلقات میں شکست، لمحاتی حادثہ یا دین سے دوری اس کا سبب بنتے ہیں۔ تاہم ایک اہم پہلو جس پر ہمارے معاشرے میں کم ہی بات کی جاتی ہے، وہ ہے ذہنی صحت کی خرابی۔

ذہنی صحت کی خرابی بتدریج بڑھتی ہے اور مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈپریشن کی ابتدا انکار (Denial) سے ہوتی ہے، پھر غصہ (Anger)، سودے بازی (Bargaining)، اور بالآخر ڈپریشن (Depression) میں ڈھل جاتی ہے۔ اس مرحلے پر انسان خود آزار بن جاتا ہے اور بعض اوقات خودکشی جیسے انتہائی اقدام تک جا پہنچتا ہے۔

ڈپریشن کی علامات میں تنہائی، زندگی سے بیزاری، بے معنویت کا احساس اور چھوٹی باتوں پر حد سے زیادہ مایوسی شامل ہیں۔ ایسے افراد کو نصیحت یا وعظ کی بجائے محبت، توجہ، اور سماجی روابط کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندان، دوست، اور کمیونٹی ہی ان کے لیے اصل سہارا ثابت ہو سکتے ہیں۔ چترال جیسے علاقوں میں قدرتی حسن اور ثقافتی سرگرمیوں کو بروئے کار لا کر بھی ایسے افراد کی زندگی میں مثبت مصروفیات پیدا کی جا سکتی ہیں۔

کچھ افراد خوش قسمت ہوتے ہیں جو بالآخر اپنی مشکلات کو قبول (Acceptance) کر لیتے ہیں اور اس کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھ لیتے ہیں۔ ایک کینسر کے مریض کی تحریر میں یہ بات سامنے آئی کہ بیماری نے اسے یہ سکھایا کہ زندگی ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی، بلکہ یہ فطرت کے سپرد ہے۔ یہی احساس دراصل آزادی ہے۔

ڈپریشن کے علاج کے لیے جدید سائنس نے کئی مؤثر طریقے تجویز کیے ہیں، جیسے کاؤنسلنگ اور تھراپی (خصوصاً Cognitive Behavioral Therapy)، ورزش، متوازن غذا، اور ضرورت پڑنے پر ادویات۔ تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ خودکشی کی روک تھام کے لیے ابتدائی مداخلت ناگزیر ہے۔ اور یہ مداخلت قریبی رشتہ دار اور اردگرد کے لوگ ہی بروقت کر سکتے ہیں۔

زندگی اللہ کی قیمتی عطا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے سہارا بنیں، ایک دوسرے کی بات سنیں اور مدد کریں، کیونکہ امید کی ایک کرن بھی اندھیروں کو اجالا بنا سکتی ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
113646