The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پی ٹی آئی بلے کے نشان سے پھر محروم؛ پشاور ہائیکورٹ نے حکم امتناع ختم کردیا

Posted on

پی ٹی آئی بلے کے نشان سے پھر محروم؛ پشاور ہائیکورٹ نے حکم امتناع ختم کردیا

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست منظور کرکے حکم امتناع واپس لے لیا۔ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس میں الیکشن کمیشن کی ہائیکورٹ آرڈر پر نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی۔پاکستان تحریک انصاف کے وکیل قاضی انور نے دلائل دیے کہ 26 دسمبر کا جو آرڈر آیا ہے اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا۔جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیے کہ اسکا مطلب ہے کہ حکم امتناع سے ان کو کوئی مشکل نہیں ہوئی، آپ کے دو نکات ہیں کہ الیکشن کمیشن حکم امتناع واپس لینے کے لئے یہاں نہیں آسکتا۔ دوسرا کہ اس آرڈر سے الیکشن انعقاد میں کوئی مشکلات نہیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے ہمارے آرڈر پر حکم امتناع لیا ہے ہمیں اسکے خلاف رٹ دائر کرنے کا حق ہے، ان کا کیس یہاں قابل سماعت ہی نہیں انہیں سپریم کورٹ جانا چاہیے تھا۔وکیل قاضی انور نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے 2013 اور 2018 کے انتخابات بھی بیٹ کے نشان پر لڑے ہیں۔پشاور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی درخواست کو منظور کرلیا۔ عدالت نے حکم امتناع واپس لے کر االیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انتخابی نشان بلا واپس لیا تھا جس پر 26 دسمبر کو پشاور ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اپنا مؤقف سنے بغیر عدالت کی جانب سے حکم امتناع جاری کرنے پر اعتراض کیا تھا۔

2600 پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذات مسترد ہوئے، سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع

اسلام آباد(سی ایم لنکس)پی ٹی آئی وکلاء نے لیول پلیئنگ فیلڈ میں اضافی دستاویزات سریم کورٹ میں جمع کروا دی جس میں بتایا گیا کہ دو ہزار سے زائد رہنماؤں کے کاغذات مسترد کیے گئے۔اضافی دستاویزات کے مطابق پی ٹی آئی کے 668 ٹاپ لیڈر شپ کے کاغذات مسترد ہونے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کر دیا گیا، پی ٹی آئی کے 2000 کے قریب حمایت یافتہ اور سیکنڈ فیز کے رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی چھننے کے 56 واقعات پیش آئے، پی ٹی آئی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ گان کی گرفتاریاں کی گئیں، پی ٹی آئی ویڈیو ثبوت بھی سپریم کورٹ میں دوران سماعت پیش کرے گی۔پی ٹی آئی کی انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہمی کے لیے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کچھ دیر بعد ہوگی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا۔

بلے کا نشان واپس لینے کا فیصلہ بحال، چیئرمین پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع ختم کیے جانے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا۔ خیال رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی ا?ئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان پر حکمِ امتناعی واپس لے لیا جبکہ الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کے خلاف کل سپریم کورٹ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے بلا لینے پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا، آپ ہم سے انتخابی نشان ’بلا‘ لیں گے تو دنیا کبھی الیکشن قبول نہیں کرے گی۔انکا کہنا تھا کہ فیصلے کے خلاف ہم سپریم کورٹ جائیں گے، سپریم کورٹ کہہ چکی کہ پارٹی سیانتخابی نشان لینا اسے تحلیل کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ’بلا‘ بحال نہیں کرتی تو ہر امیدوار الگ الگ نشان پر لڑے گا جس سے کنفیوڑن پیدا ہوگی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ آپ کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد رکھیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ٹکٹوں کے معاملے پر ملاقات ہوئی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ غلط فہمی ہے کہ الیکشن کمیشن کو نہیں سنا گیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ڈیڑھ گھنٹے دلائل دیے تھے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بائیکاٹ کی طرف نہیں جائیں گے۔ ہمارے امیدواروں کا ایک مشترکہ ہی انتخابی نشان ہونا چاہیے۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ویسے بھی یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں ہی حل ہونا تھا۔ انتخابی نشان کا مسئلہ سپریم کورٹ میں ہی حل ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ 90 فیصد سے زیادہ یقین ہے کہ سپریم کورٹ انتخابی نشان بلا بحال کرے گی اور اگر بحال نہیں کیا گیا تو یہ ہارس ٹریڈنگ کی شروعات ہوگی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 100 نشان پر لوگ انتخاب لڑیں گے تو ووٹرز اور سپورٹرز کنفیوز ہوگا۔ ہم سے نشان لیا گیا تو پلان بی پر غور کریں گے۔انکا کہنا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے کہا تھا کہ کیس سنگل نہیں ڈویڑن بینچ سنے گا۔بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ڈائیلاگ نہیں چاہتے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83765