ہم نے کے پی پولیس کی تنخواہوں کو بڑھا کر دیگر صوبوں کے برابر کر دیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی ترقی کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ہم نے کے پی پولیس کی تنخواہوں کو بڑھا کر دیگر صوبوں کے برابر کر دیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی ترقی کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کاپولیس لائنز پشاور میں دربار سے خطاب
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبے میں امن امان کی بہتری اور عوام کے جان و مال کا تحفظ موجودہ صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح ہے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ امن کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں۔ ہم نے گذشتہ مالی سال پولیس فورس کا بجٹ بڑھا کر 124 ارب روپے کردیا تھا جسے رواں سال مزید بڑھا کر بڑھا کر 158 ارب کر دیا ہے۔ پولیس کی تنخواہ میں اضافہ انکا اپنا حق تھا ، ہم نے کے پی پولیس کی تنخواہوں کو بڑھا کر دیگر صوبوں کے برابر کر دیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی ترقی کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
شہداءکے بچوں کے لیے بطور اے ایس آئی بھرتی کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا ہے اور نئے کوٹہ کے تحت 280 شہداءکے ورثاءکو بھرتی بھی کر لیا گیا ہے۔شہداءکے ورثاءکے لیے مفت پلاٹوں کی فراہمی کاجو اعلان کیا تھا اس پر خاطر خواہ حد تک کام مکمل کر لیا گیا ہے اور رواں سال سرکاری ہاو سنگ سوسائٹیز میں انہیں پلاٹ دیئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ عوام و پولیس کے جان و مال کے تحفظ کے لیے صوبے کاخزانہ حاضر ہے، گذشتہ ایک سال کے دوران پولیس کی ضروریات پوری کرنے پر کافی کام کیا مزید بھی کریں گے اور ضروریات پوری کرنے کے لئے وسائل کی کمی کو کھبی رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پولیس لائنز پشاور میں منعقدہ پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ کے پولیس لائنز دورہ کے موقع پر انسپکٹر جنرل آف پولیس اور پولیس کے دیگر اعلیٰ حکام نے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا جبکہ پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس لائنز میں واقع یاد گار شہداءپر حاضری دی اور پھول رکھے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے پولیس کو فراہم کی گئی نئی اے پی سیز، بلٹ پروف گاڑیوں، اسلحہ، اور دیگر جدید آلات کا معائنہ بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ نے پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو قومیں اپنے شہداءکو عزت دیتی ہیں وہ دفاعی طور پر ناقابل شکست ہوتی ہیں، جب تک شہداءاور انکے خاندانوں کو عزت نہیں بخشیں گے پولیس کے جوانوں میں قربانی کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ شہداءکے اہل خانہ کسی بھی سرکاری دفتر بشمول وزیر اعلیٰ کے دفتر میں جائیں گےتو کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا جائے گا۔ پولیس شہداءنے ہمارے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پولیس کے پاس وسائل کی کمی کو پہلی ترجیح میں پورا کر رہے ہیں، ” جب پہلے مجھے پولیس دربار میں شرکت کی دعوت دی گئی تو میں نے کہا جب پولیس کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ کرلوں تب شرکت کروں گا”. پولیس فورس کا تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے، پہلی فرصت میں ہم نے جدید آلات و اسلحہ فراہم کر دیئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے پولیس افسران و جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “پولیس افسران و اہلکار کسی کی بھی سفارش نہ مانیں ، میرٹ کی بنیاد پر لوگوں کو انصاف فراہم کریں، میں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ پولیس میں ایک بھی سفارش نہیں کی،جب وزیر اعلیٰ سفارش نہیں کرتا تو کسی کی بھی سفارش کو نہ مانا جائے اور میرٹ پر کام کیا جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی کمزور انصاف سے محروم اور ظالم سزا سے بچ نہ سکے، میں بحیثیت وزیر اعلیٰ پولیس فورس کو اس سلسلے میں بھرپور سپورٹ فراہم کروں گا”۔
وزیر اعلیٰ نے ٹریفک پولیس سے کہا کہ کسی چھوٹی موٹی خلاف ورزی پر غریب محنت کشوں کو چالان کم اور وارننگ زیادہ دی جائے یہ لوگ بڑی مشکل سے اپنے بچوں کے لئے رزق کماتے ہیں، چالان بھرنے کی استطاعت نہیں رکھتے البتہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بڑی گاڑیوں والے امیروں کو زیادہ چالان کریں۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید نے بھی پولیس دربار سے خطاب کیا۔ قبل ازیں ، پولیس دربار میں شہداءکے درجات کی بلندی کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔



