وزیراعلیٰ کا پولیس شہداءکے بچوں کے کوٹے کو 100 فیصد بڑھانے جبکہ ٹریفک چالان کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کا 20 فیصد حصہ شہداءکے لواحقین کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا اعلان
وزیراعلیٰ کا پولیس شہداءکے بچوں کے کوٹے کو 100 فیصد بڑھانے جبکہ ٹریفک چالان کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کا 20 فیصد حصہ شہداءکے لواحقین کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا اعلان
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورنے پولیس شہداءکی قربانیوں اور ان کے لواحقین کے صبر و استقامت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آج ہم اور ہمارے بچے اپنے گھروں میں محفوظ زندگی گزار رہے ہیں تو یہ ان شہداءکی قربانیوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے ہمارے لئے اپنی جا نیں قربان کردیں اور ان کی قربانیوں کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کریں وہ کم ہے۔ بحیثیت وزیراعلیٰ میں پولیس اور فوج کے شہداءسمیت ان تمام لوگوں کو بھی سلا م پیش کرتا ہوں جنہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔
اتوار کے روزپشاور میں یوم شہدائے پولیس کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس شہداءہمارا فخر ہیں، ان کے بچوں کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے کیونکہ ان شہداءنے ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لئے اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ ایک ایسے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں جو فرنٹ لائن پر ملک کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس صوبے کی پولیس نے اس جنگ میں قربانیوں کی وہ داستان رقم کی ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، الفاظ ختم ہوجائیں گے لیکن پولیس کی قربانیوں کی داستان ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تبھی ایک عظیم قوم بنیں گے جب ہم اپنے ان شہداءکی قربانیوں اور ان کے لواحقین کے درد کو دل سے محسوس کریں گے، ہم نے اپنے شہیدوں اور غازیوں کو سب سے اونچا مقام دینا ہے جب ہم اپنے شہیدوں کو ان کا جائز مقام دیں گے تو ملک کے لئے قربانی دینے والے پیدا ہوتے رہیں گے۔ ہم نے اپنے جوانوں اور غازیوں کی ہمت کو بڑھانا ہے اور کسی بھی ذاتی یا انفرادی فعل کی وجہ سے فورسز کے جوانوں اور افسران کو تضحیک کا نشانہ نہیں بناناچاہیئے کیونکہ وہ اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور انہیں ہمارے تعاون اور سپورٹ کی ضرورت ہے، وہ سینہ تان کر دشمن کے سامنے ہمارے لئے کھڑے ہیںاورمجھے فخر ہے اپنی فورسز کے جوانوں پر جو بارڈر سے لیکر چوراہوں تک کھڑے ہو کر ہماری حفاظت کر رہے ہیں۔
صوبے میں امن و امان کے قیام کو اپنی حکومت کی پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خزانے میں پیسے ہوں یا نہ ہوں پولیس کی تمام ضروریات کو پہلی ترجیح پر پورا کریں گے کیونکہ پولیس کو مستحکم کئے بغیر امن کا قیام نا ممکن ہے اور جب تک امن نہیں ہوگا تب تک خوشحالی نہیں آئے گی۔ اس لئے صوبائی حکومت نے پولیس کی گاڑیاں، اسلحہ اور دیگر آلات کی خریداری کے لئے خطیر فنڈز دے دئیے ہیں اور مزید فنڈز بھی دئیے جائیں گے۔ پولیس شہداءکے بچوں کی فلاح و بہبود کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہداءکے بچوں کی فلاح و بہود پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ ہم سب کے بچے ہیں اور ان کو تعلیم کے حصول یا کسی بھی حوالے سے کوئی مشکل کا سامنا نہ ہو۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بطور اے ایس آئی بھرتی کےلئے ضم اضلاع سمیت صوبے کے پولیس شہداءکے بچوں کے کوٹے کو 100 فیصد بڑھانے جبکہ ٹریفک چالان کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کا 20 فیصد حصہ شہداءکے لواحقین کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ شہداءکے لواحقین وزیراعلیٰ ہاو ¿س سمیت جس کسی بھی سرکاری دفتر میں جائیں گے انہیں پہلی ترجیح دی جائے گی اور ان کا مسئلہ سب سے پہلے حل کیا جائے گا۔ سردار علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے پولیس اور فوج سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری محکموں کے دوران ڈیوٹی شہید ہونے والے اہلکاروں کے ورثاءکو سرکاری ہاو ¿سنگ اسکیموں میں مفت پلاٹس دینے کا فیصلہ کیا کہ جس پر عملدرآمد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ میں ایک الگ سے سیل کے قیام پر کام کیا جارہا ہے جو شہداءکے لواحقین کے مسائل کو حل کرنے پر کام کرے گا۔
دہشتگردعناصر کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو فورسز اور لوگوں پر جہاد کے نام پر حملے کر رہے ہیں تو یہ جہاد نہیں بلکہ جہالت ہے اور جن لوگوں کو آپ نشانہ بنا رہے وہ آپ سے بڑے درجے کے لوگ ہیں لہٰذا اپنی اصلاح کریں اور اس جہالت کے اندھیروں سے خود کو نکالیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم مقابلہ نہیں کر سکتے تو ان کی غلط فہمی ہے، ہمارے غازیوں اور شہیدوں کے لواحقین کا جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم دہشتگردی کے خلا ف پر عزم ہےں اور ہم آخری دہشتگرد کے خاتمے تک لڑیں گے اور اپنے ملک میں امن قائم کر کے رہیں گے۔ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے ہےں اگر کسی کو جہاد کا شوق ہے تو وہ وہاں جائیں جہاں جہاد کی ضرورت ہے، اپنے مسلمان بھائیوں کو مارنا کسی صورت جہاد نہیں ہو سکتا۔
یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پیغام
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورنے مقبوضہ کشمیرکے عوام پر بھارت کے ظلم وستم خصوصاً گزشتہ پانچ سالوں سے بھارتی حکومت کی طرف سے یکطرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ بھارت نے اس عرصہ کے دوران کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق” حق خودارادیت ” سے محروم رکھنے کیلئے ظلم و ستم کی انتہاءکررکھی ہے ۔اُنہوںنے کہاکہ جب فاشسٹ بھارت نے دیکھا کہ تمام تر ظالمانہ ہتھکنڈوںکے باوجود کشمیری عوام اپنے حق کیلئے ڈٹ کرکھڑ ے ہیں تو فاشسٹ بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو بھارت کے آئین میں شامل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل۔370 ) کاخاتمہ کرکے مظلوم کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی ایک نئی داستان کا آغاز کیا جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے یہاں سے جاری خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ پانچ سالوں سے جاری بدترین ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارے نہتے کشمیری عوام بھارتی ظلم و جبر کے سامنے سینہ سپر ہیں اور تشویش کی بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کی قرارداد وں کی موجودگی میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ علی امین گنڈا پور نے اس موقع پر بین الاقوامی طاقتوں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ بھارت کی طرف سے کشمیری عوام پر ظلم وستم کا نوٹس لیں اور انہیں ان کی مرضی سے جینے کا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی خواہشات اور استصواب رائے سے مسئلہ کشمیر حل کیا جائے کیونکہ اس پورے خطے کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے۔ اُنہوںنے اس موقع پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف برسرپیکارجرات مند کشمیری مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ہم ہمیشہ کی طرح کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر فورم پر اُن کی جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بین الاقوامی فورمز پر جس انداز میں مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کیا، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ کشمیری شہداءکا خون ضروررنگ لائے گا،ظلم کی طویل داستان اپنے انجام کو پہنچے گی اور کشمیری مسلمان حق خودارادیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔
دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے ضلع کرک میں سیلابی ریلوں میں بہہ کر چار افراد جبکہ ضلع ٹانک میں بارشوں کی وجہ سے مکان کی چھت گرنے سے تین افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے دیگر مختلف اضلاع میں بھی بارشوں کی وجہ سے مختلف حادثات کے نتیجے میں ہونے والی جانی و مالی نقصانات پر افسوس کرتے ہوئے ان حادثات میں مجموعی طور پر 11 افراد کے جاں بحق ہونے پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ یہاں سے جاری اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ان حادثات کے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ان زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
درایں اثناءوزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے لئے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ریلیف کو متاثرین کی مالی امداد کے لئے بروقت کارروائی عمل میں لانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو بارشوں کے ان متاثرین کو فوری ریلیف کی فراہمی کے لئے بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں صوبائی حکومت متاثرین کے ساتھ ہے، انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی اور ان کی بحالی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے.