The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبے میں قائم پناہ گاہوں کے انتظام کو مزید موثر بنانےاور وسعت دینے کےحوالے اعلیٰ سطح اجلاس

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبے میں پناہ گاہوں سے متعلق ایک اہم اجلاس گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صوبے میں قائم پناہ گاہوں کے انتظام و انصرام کو مزید موثر انداز میں چلانے، پناہ گاہوں کے دائرہ کارکو مزید وسعت دینے اور پہلے سے قائم پناہ گاہوں میں سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری شہزاد بنگش ، سیکرٹری سماجی بہبود نشیتہ مریم محسن ، وزیراعلیٰ کے اسپیشل سیکرٹری محمد خالق، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر حبیب آفریدی اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شر کت کی۔

اجلاس کے شرکاءکو صوبے میں قائم پناہ گاہوں سے متعلق مختلف امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتا یا گیا کہ صوبے میں پاکستان بیت المال اور صوبائی حکومت کے باہمی اشتراک سے اس وقت آٹھ پناہ گاہیں قائم ہیں جن میں چھ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں ایک جبکہ پشاور میں دو پناہ گاہیں قائم ہیںجہاں پر مسافروں اور دیگر مستحق لوگوں کو قیام و طعام کی معیاری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ ہر ایک پناہ گاہ میں بیک وقت 100 افراد کے قیام کی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے صوبے میں دس پناہ گاہیں قائم ہیں جن میں پجگی روڈ پشاور، ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ، ڈی ایچ کیو ہسپتال مردان، ڈی ایچ کیو ہسپتال بنوں ، باچا خان میڈیکل کمپلیکس صوابی، ڈی ایچ کیو ہسپتال ایبٹ آباد، لاری اڈہ مانسہرہ، درابن قلعہ ڈی آئی خان، سیدو شریف سوات اور جیل روڈ کوہاٹ شامل ہیں، جن میں مجموعی طور پر 470 افراد کے قیام کی گنجائش موجود ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع خیبر میں لنڈی کوتل اور جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ کے مقام پر بھی 26.817 ملین روپے کی لاگت سے پناہ گاہوں کے قیام پر کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ ان پناہ گاہوں کے لئے سامان کی خریداری کا عمل مکمل کیا گیا ہے جبکہ عملے کی بھرتی کا عمل جلد مکمل کیاجائے گا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان پناہ گاہوں کی عوامی افادیت کے پیش نظر مستحق لوگوں کی سہولت کے لئے صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقہ کوہاٹ روڈ پر ایک اور پناہ گاہ کے قیام کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ صوبے میں قائم پناہ گاہوں کو مستحکم بنانے کے منصوبوں پر پیشرفت کو بہتر بنایا جائے اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سردیوں کے اس موسم میں کوئی بھی فرد کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور نہ ہو۔ پناہ گاہوں کے قیام کو وزیراعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت معاشرے کے کمزور اور نادار طبقوں کی فلاح و بہبود کے لئے ان پناہ گاہوں کو کامیاب بنانے اور انہیں مستقل بنیادوں پر چلانے کے لئے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
57512

صوبے میں تمام پناہ گاہوں کو فعال بنایا جائے تاکہ سردیوں میں کوئی بھی شخص سڑک پر نہ سوئے۔ وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) معاشرے کے کمزور اور نادار طبقوں خصوصاً مسافروں کو قیام و طعام کی مفت سہولیات کی فراہمی کے لئے موجودہ حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت صوبے میں پاکستان بیت المال اور محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا کے باہمی اشتراک سے اس وقت مختلف اضلاع میں سات پناہ گاہیں فعال ہیں جن میں پشاور مردان، ایبٹ آباد، ڈی آئی خان، کوہاٹ ، سوات اور بنوں میں قائم پناہ گاہیں شامل ہیں جبکہ پشاور میں دوسرا پناہ گاہ بہت جلد فعال کیا جائے گا۔ ان پناہ گاہوں میں مجموعی طور پر 800 افراد کے لئے رات کے قیام کی گنجائش موجود ہے جبکہ روزانہ 1800 سے زائد مستحق افراد کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔


یہ بات گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پناہ گاہوں سے متعلق منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی گئی۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری سوشل ویلفیئر سید ذوالفقار علی شاہ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر حبیب آفریدی اور دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مذکورہ پناہ گاہوں کے علاوہ صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے بھی صوبے کے مختلف اضلاع میں دس پناہ گاہیں فعال ہیں جن میں پشاور ، چارسدہ ، مردان، ایبٹ آباد، بنوں، صوابی، مانسہرہ، سوات، کوہاٹ اور کرک شامل ہیںجبکہ ڈی آئی خان میں بہت جلد ایک پناہ گاہ کو فعال کیا جائے گا۔

صوبائی حکومت کے تحت چلنے والے ان پناہ گاہوں میں مجموعی طور پر ساڑھے چار سو سے زائد افراد کے لئے رات کے قیام کی گنجائش موجود ہے۔ اجلاس میں ان پناہ گاہوں کے انتظام و انصرام اور وہاں پر سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے اور ان کے دائرے کو توسیع دینے کے سلسلے میں مختلف امور پر تفصیلی غور و حوض کیا گیا اور متعدد فیصلے کئے گئے۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو سردیوں کی آمد سے پہلے پہلے صوبے میں تمام پناہ گاہوں کو مکمل طور پر فعال بنانے اور وہاں پر قیام و طعام کی تمام درکار سہولیات کی فراہمی کے لئے مناسب اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے کہ ان سردیوں میں کوئی شخص سڑک پر نہ سوئے۔ وزیراعلیٰ نے مستحق افراد کو مفت کھانے کی فراہمی کے لئے صوبائی دارالحکومت پشاور میں شروع کردہ میل آن وہیلز پروگرام دیگر اضلاع تک توسیع دینے کے متعلقہ حکام کو ہوم ورک مکمل کرکے تجاویز منظوری کے لئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
54655