پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کا معاملہ جلد حل کرنے کا حکم
پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کا معاملہ جلد حل کرنے کا حکم
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ملک کے ایوان بالا (سینیٹ) کے الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے 16 جنوری تک جواب طلب کرلیا۔خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات انعقاد کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔وکیل درخواست گزار علی زمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ سینٹ الیکشن کرانے کیلئے دائر کیا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سینٹ الیکشن کے حوالے سے 10 دسمبر کو اجلاس ہوا، ابھی تک اس پر مشاورت جاری ہے، مخصوص نشستوں کی رویوں پٹیشن سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے، اس کو بھی دیکھ رہے ہیں۔چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ہم آپ کو دو ہفتے کا وقت دیتے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن کی استدعا نے کہا کہ ٹائم تھوڑا زیادہ کریں، اس پر تھوڑا وقت لگے گا، آپ بتائے کونسا تاریخ دیں۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس کیس کو زیرالتوا رکھیں ہم جواب جمع کرے گے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ایسی کھلی چھوٹ بھی نہیں دے سکتے۔پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ملک کے ایوان بالا (سینیٹ) کے الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے 16 جنوری تک جواب طلب کرلیا۔
پارا چنار میں قیام امن کیلئے خصوصی پولیس فورس کی منظوری
پشاور(سی ایم لنکس)مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ پارا چنار روڈ کیلئے خصوصی پولیس فورس کی منظور دے دی گئی ہے۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پارا چنارروڈ محفوظ بنانے کے لئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں، متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی کی خاطر مزید پولیس چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی، علاقے کو پرامن بنانے اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے بنکرز اور اسلحے سے صاف کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لئے ایف آئی اے کا سیل قائم کیا گیا ہے، حکومتی اقدامات کا مقصد علاقے میں ایک صدی سے زائد تنازع کا پائیدار اور مستقل حل ہے، علاقے میں جانی و مالی نقصانات کا تعین کیا جا رہا ہے۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ مریضوں کو پشاور پہنچانے کے لئے وزیراعلیٰ کا ہیلی کاپٹرروزانہ کی بنیاد پر اڑان بھر رہا ہے، مجموعی طور پر تقریباً 500 افراد کو پشاور اور دیگر مقامات پر پہنچایا گیا ہے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بذات خود تمام معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں، قوی امید ہے فریقین میں بہت جلد امن معاہدہ پر اتفاق ہو جائے گا۔