داد بیداد۔ پشاور کے چند حکمران ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
داد بیداد ۔ پشاور کے چند حکمران ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
ستر ھویں صدی کے شاعر رحمان با با نے مغلوں کے دور میں ایک شعر کہا تھا جس کا تر جمہ یوں بنتا ہے ”اے رحمان! ظا لم حکمرا نوں کے ہا تھوں ہم ایسے تنگ آگئے ہیں کہ آگ کی گر می، قبر کی تاریکی اور پشاور میں زندگی یکساں ٹھہر تی ہیں“ اُس زما نے میں پشاور مغلوں کی باد شا ہت میں صو بہ کا بل کا حصہ ہوا کر تا تھا اور مغلوں کی طرف سے کا بل کا صوبے دار پشاور کا حکمران ہو تا تھا ویسے صو بے دار بہت گذرے ان میں لشکر خان، مان سنگھ، مہا بت خان اور علی مر دان کے نا م اب تک عوام کو یا د ہیں مہا بت خان نے اندر شہر کی مشہور مسجد بنا ئی جو ان کے نا م سے منسوب ہے علی مر دان کی حویلی آج کل گور نر ہا وس کے نا م سے پہچانی جا تی ہے علی مر دان کا مشہور باغ بعد میں ڈبگری گارڈن کہلا یا آج کل یہ پرائیویٹ ہسپتا لوں کے لئے شہرت رکھتا ہے مغلوں کے دور میں پشاور پر افغا نوں کی حکمرا نی رہی ایک طرف رحمن با با جیسے صوفی شاعر کو ان کا طرزحکمرانی پسند نہیں تھا
دوسری طرف خو شحا ل خان خٹک جیسے فلسفی نے مغلوں کے خلا ف بغا وت کا علم بلند کئے رکھا، ظلم و جبر کا ذکر دونوں کی شاعری میں نما یاں ہے مغلوں کے دور میں کوئی ملزم پکڑا جاتا تو جر م ثا بت کئے بغیر اس کی آنکھوں میں گرم سلا ئی پھیر دی جا تی اور اس کو عمر بھر کے لئے اندھا کر دیا جا تا بعد میں کا بل کے امیر نے اپنے دوبھا ئیوں کو بھی اس طرح کی سزا دے کر اپنے راستے سے ہٹا یا تھا، مغلوں کے بعد رنجیت سنگھ کا دور آیا تو ظلم میں مزید اضا فہ ہوا رنجیت سنگھ کا صوبے دار ابو طبیلہ ہر روز کئی ملزموں کو جیل سے نکا ل کر بھرے بازارمیں پھا نسی دیتا اور ان کی لا ش کسی درخت، ستون یا مینار سے لٹکا دیتا، دوسری لا ش لا نے تک یہ لا ش لٹکی رہتی یوں پشاور میں ہر روز کئی لا شیں لٹکی ہوئی دکھا ئی دیتی تھیں،
ابو طبیلہ اٹلی کا فو جی جرنیل تھا جسے رنجیت سنگھ نے پشاور پر مسلط کیا تھا ریکارڈ میں اس کا نا م اوی ٹیبل (Avitable) لکھا ہے اور اس کا مشہور قول بھی لکھا ہے Gallows and Gibbetsاس کے معنی ہیں ”پھندا بھی میخ بھی“ یعنی قیا م امن کے لئے پھا نسی کا پھندا بھی لٹکا نے والی میخ بھی ضروری ہے تاریخ میں آیا ہے کہ اُن کے دور میں پشاور کے لو گوں نے خو ف بھی دیکھا اور امن بھی دیکھا گویا امن کے لئے قانون کا خوف ضروری تھا رنجیت سنگھ کا قانون بھی نرالا تھا اُس کے دربار میں رعا یا کی عر ضیاں ہر روز دو ڈھیر یوں میں تقسیم کی جا تی تھیں رنجیت سنگھ تخت پر بیٹھ جا تا تو دونوں ڈھیر یاں طشتریوں میں رکھ کر اس کے سامنے رکھی جا تی تھیں وہ تکبر اور رعونت سے ایک ڈھیر پر ہا تھ رکھ کر”منجور“ کہتا، دوسری ڈھیر ی کو ڑے دان میں پھینکی جا تی تھی کس ڈھیری کی کسی عرضی میں کیا لکھا تھا کس کی کیا
فر یا د اس کے سامنے آئی تھی یہ رنجیت سنگھ کی بلا جا نے، رنجیت سنگھ کے بعد انگریزوں کا دور آ یا تو پشوریوں نے اور طرح کے عذاب دیکھے قصہ خوا نی بازار میں 23اپریل 1930کو فرنگی فو ج نے نہتے شہریوں پر گو لی چلا ئی اس واقعے کو قصہ خوا نی کا قتل عام کہا جا تا ہے اور یہ جلیانوا لہ باغ میں فر نگی کے ہا تھوں بڑے پیما نے پر قتل عام کی طرح افسوسنا ک واقعہ ہے آج بھی قصہ خوا نی میں شہدا کی یاد گار مو جود ہے جو اس واقعے کی یا د دلا تی ہے، انگریزوں نے قلعہ با لا حصار کے اندر کئی تہہ خا نوں پر مشتمل قید خا نہ قائم کیا تھا یہ فرنگی سرکار کا عقوبت خا نہ تھا جہاں مختلف جرا ئم کے ملز موں کے ساتھ مسلما نوں کی آزادی کے لئے آواز اٹھا نے والے حریت پسند وں کو بھی قید تنہا ئی میں بھو کا پیا سا رکھ کر ان پر تشدد کیا جاتا تھا تا ج بر طا نیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ جمہو ریت پسند ہے اس کی حکومت میں انصاف ہو تا ہے لیکن پشاور کے عوام نے فرنگی دور میں بھی مغلیہ سلطنت اور مہا را جہ رنجیت سنگھ کے اقتدار کی طرح ظلم اور جبر ہی دیکھا ہر دور میں رحمان با با کا شعر سچ ہی ثا بت ہوا