پشاور میں سیف سٹیز پراجیکٹ کا افتتاح، منصوبے کے تحت پشاور کے 133 اہم اور حساس مقامات پر مجموعی طور پر 711 جدید کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جو شہر کی موثر نگرانی کو یقینی بنائیں گے۔ وزیراعلیٰ
پشاور میں سیف سٹیز پراجیکٹ کا افتتاح، منصوبے کے تحت پشاور کے 133 اہم اور حساس مقامات پر مجموعی طور پر 711 جدید کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جو شہر کی موثر نگرانی کو یقینی بنائیں گے۔ وزیراعلیٰ
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں سیف سٹیز پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ملک سعد شہید پولیس لائنز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2 ارب 23 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا پشاور سیف سٹی منصوبہ ایک جدید، جامع اور مربوط شہری سکیورٹی نظام فراہم کرے گا جو امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیف سٹی منصوبے کے تحت پشاور کے 133 اہم اور حساس مقامات پر مجموعی طور پر 711 جدید کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جو شہر کی موثر نگرانی کو یقینی بنائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں بھی سیف سٹی منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں اور انہیں بہت جلد فعال بنا دیا جائے گا جبکہ صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز اور ضم اضلاع میں سیف سٹی منصوبوں کا آغاز جون کے بعد کیا جائے گا۔سہیل آفریدی نے سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال دن بہ دن بگڑ رہی ہے۔ بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی بڑی دہشتگرد کارروائی کی کوشش پولیس نے بروقت ناکام بنائی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاقی نمائندوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے ایک ہی واضح مطالبہ رکھا کہ اگر قومی ترجیحات تبدیل نہ کی گئیں تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بورڈ آف پیس، ایران، اسرائیل اور امریکہ سے متعلق فیصلوں میں پارلیمان اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اہم قومی فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں اور قوم کو آگاہ نہیں کیا جاتا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ قرآن پاک میں واضح احکامات موجود ہیں کہ یہود و نصارا تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت بارہا مطالبہ کرتی رہی ہے کہ قبائلی مشران ، خیبرپختونخوا حکومت ، سیاسی جماعتوں اور وفاقی نمائندوں پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دے کر افغانستان بھیجا جائے تاکہ مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکے، تاہم افسوس کہ جرگہ اور مذاکرات پر عملدرآمد نہیں ہوا اور حالات بگڑ گئے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ہم ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے، ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔ ملک کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہمارا قومی فریضہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر اور پوری امت مسلمہ کے رہنما کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے، جو باعثِ افسوس ہے۔اس موقع پر دی گئی بریفننگ میں بتایا گیا کہ سیف سٹی منصوبے کے تحت قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ذریعے شہری نگرانی، ایمرجنسی رسپانس اور ٹریفک مینجمنٹ کو ایک مربوط نظام کے تحت چلایا جائے گا۔
بریفننگ میں مزید بتایا گیا کہ بی آر ٹی، ریڈ زون اور دیگر حساس مقامات پر نصب کیمروں کو نئے سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹ کیا جائے گا۔اسمارٹ سرویلنس وہیکلز، ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹم اور 68 پینک بٹن کی تنصیب سے شہریوں کے تحفظ کو مزید موثر اور جدید بنایا جائے گا، جس سے جرائم کی روک تھام اور فوری ردعمل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ، بابر سلیم سواتی ، اراکین صوبائی کابینہ مینا خان آفریدی ، شفیع جان، مزمل اسلم، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ ، انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر سینیئر پولیس افسران بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ قبل ازیں ، وزیر اعلیٰ نے پولیس لائنز آمد پر یادگار شہدائ پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔

