پرانے پاور پلانٹس کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ، بولی کل اسلام آباد میں ہو گی
پرانے پاور پلانٹس کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ، بولی کل اسلام آباد میں ہو گی
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) سرکاری ملکیت میں موجود پرانے اور غیر فعال پاور پلانٹس کی نیلامی کے دوسرے مرحلے کی بولی پیر 19 مئی 2025 کو اسلام آباد میں ہو رہی ہے۔ اس مرحلے میں مجموعی طور پر 2,362 میگاواٹ صلاحیت کے حامل تین بڑے پاور پلانٹس کو فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے منصوبوں میں تھرمل پاور اسٹیشن جامشورو (880 میگاواٹ)، تھرمل پاور اسٹیشن مظفرگڑھ (1,350 میگاواٹ)، اور اسٹیم پاور اسٹیشن فیصل آباد (132 میگاواٹ) شامل ہیں۔
ان منصوبوں کے لیے مشترکہ ریزرو پرائس 26 ارب 62 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔نیلامی کا یہ عمل حکومتِ پاکستان کے توانائی اصلاحاتی ایجنڈے، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے فیصلوں، وزیراعظم کے احکامات اور وزارتِ توانائی (پاور ڈویڑن) کی ہدایات کی روشنی میں مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔ تقریب کا انعقاد جنکو ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے دفتر، واقع اْو پی ایف بلڈنگ، جی-5/2 اسلام آباد میں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل نیلامی کے پہلے مرحلے میں سات مختلف پرانے تھرمل پاور پلانٹس کامیابی سے فروخت کیے جا چکے ہیں، جن کی کل بولی تقریباً 9 ارب روپے سے زائد رہی، جو ریزرو قیمتوں سے زیادہ تھی۔نیلامی کا دوسرا مرحلہ نہ صرف مالی وسائل کے بہتر استعمال کی جانب قدم ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ تقریب میں شریک بولی دہندگان، میڈیا نمائندگان اور متعلقہ اداروں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
کے پی سولر پینل پراجیکٹ کرپشن اور کمیشن سکینڈل میں پھنس گیا: عظمیٰ بخاری
کے پی کو ‘تبدیلی’ اور ‘سونامی’ کے کھوکھلے نعروں سے دھوکہ دیا گیا: عظمیٰ بخاری
گنڈا پور کی واحد کامیابی وفاقی حکومت اور پنجاب پر تین ناکام حملے ہیں: عظمیٰ بخاری
لاہور(سی ایم لنکس)پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کا سولر پینل منصوبہ کرپشن، کمیشن مافیا اور شفافیت کے فقدان کی واضح مثال ہے۔ یہ منصوبہ مبینہ طور پر دو ارب روپے کے کمیشن کا شکار ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور نے آٹھ ماہ قبل اس منصوبے کا اعلان کیا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر پی سی ون کی منظوری سے قبل ہی ٹینڈرز جاری کر دیے گئے۔ ان کے مطابق، کے پی میں عوامی بہبود کے منصوبے یا تو کبھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے، یا اگر ایسا کرتے ہیں تو وہ اسٹیک ہولڈرز کے اندرونی جھگڑوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے زور دے کر کہا کہ کے پی حکومت کی پوری کارکردگی صرف اخباری بیانات اور سیاسی بیان بازی تک محدود ہے، جبکہ صوبے کے عوامی فنڈز کو احتجاجی تحریکوں اور من پسند ٹھیکیداروں کی طرف موڑ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “تبدیلی” اور “سونامی” جیسے نعرے کے پی کے لوگوں کے لیے ایک سنگین مذاق میں تبدیل ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ گنڈا پور کا واحد ریکارڈ وفاقی حکومت اور پنجاب پر تین ناکام حملوں پر مشتمل ہے۔ بخاری نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کے پی حکومت کو دیے گئے تمام فنڈز کا فوری آڈٹ کرے۔انہوں نے اصرار کیا کہ جب تک کے پی حکومت اپنے پچھلے فنڈز کا حساب نہیں دیتی، وفاقی حکومت کو ایک پیسہ بھی مزید جاری نہیں کرنا چاہیے۔