The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 3 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

داد بیداد ۔ پرائمیری سکول ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ پرائمیری سکول ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

گرمیوں کی طویل تعطیلات کے بعد مجھے پہاڑی مقام کے ایک پرائمیری سکول میں جا نے کا اتفاق ہوا سکول میں 215بچے اور 4اسا تذہ ہیں، سکول میں 3کمرے ہیں ایک چھوٹا بر آمدہ ہے، بچوں کے لئے ٹاٹ بچھائے گئے ہیں ایک کمرے میں اردو، انگریزی اور اسلا میات بیک وقت پڑ ھا ئی جا رہی ہے، دوسرے کمرے میں تعلیم القرآن، ریا ضی اور معا شرتی علوم بیک وقت پڑھا ئے جا رہے ہیں، تیسرے کمرے میں سائنس، ڈرائینگ اور مطا لعہ سیرت پڑھا نے کا اہتمام ہے بچو ں کے پاس جو بستے ہیں ان کا وزن 4کلو گرام سے 6کلو گرام تک ہے، کسی استاد کے پاس تلفظ درست کرنے اور کا پی چیک کرنے کا وقت نہیں ہے، ہر کلا س روم میں مچھلی منڈی جیسا شور و غل ہے کا ن پڑی آواز سنا ئی نہیں دیتی،

بچوں کو زور زور سے کتا بوں کے صفحے زبا نی یا د کر ائے جا رہے ہیں یہ نظام تعلیم کی بنیا د ہے اور اس بنیاد میں دو بڑی خرا بیاں ہیں ہر کلاس یا ہر مضمون کی تدریس کے لئے الگ کمرہ جما عت دستیاب نہیں، بچوں کو سمجھا نے اور سکھا نے کے بجا ئے زبا نی یا د کرانے کا طریقہ رائج ہے یہ ایسا طریقہ ہے جو تعلیم کا دشمن ہے جیسا کہ ایک کہا نی میں آتا ہے ایک بزرگ نے جنگل میں طوطوں کے جھنڈکو سبق یا د کرایا ”میں شکا ری کے جا ل میں نہیں آونگا“ جب طو طوں نے سبق اچھی طرح یا د کیا تو بزرگ دیکھنے لگا کہ اس سبق کا طوطوں پر کیا اثر ہو تا ہے بزرگ یہ دیکھ کر حیراں رہ گیا کہ طوطے اپنا یا د کیا ہوا سبق زور زور سے دہرا تے ہوئے آتے تھے ”میں شکا ری کے جا ل میں نہیں آونگا“ اور سیدھے شکا ری کے جا ل میں آجا تے تھے، بزرگ نے یہ نتیجہ نکا لا، کہ زبا نی یا د کیا ہوا سبق کسی کام کا نہیں ہو تا کار آمد سبق وہ ہوتا ہے جو طا لب علم کو سمجھا یا جا ئے

انہی دنوں یور پی ملک اٹلی کے دار لحکومت روم (Rome) کے پرائمیری سکول میں پڑھنے والے پا نچویں جما عت کے طا لب علم کے ساتھ تبا دلہ خیال کا سنہرا موقع ملا، تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی روم کے سر کاری سکول میں داخلہ مشکل سے ملتا ہے ان کو پبلک سکول کہا جا تا ہے، جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ آسانی سے مل جا تا ہے ان کو صرف سکول کہتے ہیں ان کے نا موں کے ساتھ پرائیویٹ کا سابقہ نہیں لگا تے، نظا م تعلیم دونوں میں یکسان ہے فرق یہ ہے کہ سرکاری سکول یا پبلک سکول میں ذریعہ تعلیم اطالوی زبان ہے، پرائیویٹ سکولوں میں ذریعہ تعلیم انگریزی ہے ہر جما عت یا مضمون کے لئے الگ کلا س روم ہوتا ہے کے جی اور نر سری کے طلبہ کے لئے بھی خوب صورت کر سیاں اور میزیں ہو تی ہیں، فرش اور ٹاٹ کا کوئی تصور نہیں، بستہ اور کتاب کا بھی کوئی تصور نہیں، استاد کے پاس مو ضوع ہوتا ہے

جو اُس کو تعلیمی نصاب سے مل جا تا ہے مثلاً عنا صر یا ایلیمنٹس (Elements)کا سبق ہے استاد وائٹ بورڈ اور پاور پوائینٹ کے ذریعے عنا صر کا تعارف کرا تا ہے ان کی تعداد بتا تا ہے پھر طلبہ کو اس مو ضو ع پر بولنے کی دعوت دیتا ہے، طلبہ اس مو ضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہیں آخر میں استاد کلا س کو لائبریری سے دو یا تین کتا بوں کے نا م بتا کر ٹاسک دیتا ہے کہ کتاب پڑھو اور تیا ری کر کے ایک ہفتہ بعد اس مو ضوع پر کلا س کو وائٹ بورڈ کی مدد سے لیکچر دیدو پا نچویں جما عت تک آتے آتے ہر طا لب علم اس قابل ہوتا ہے کہ لٹریچر، تاریخ، معا شیا ت، تجارت، فزکس، کمیسٹری، بیا لو جی، ریا ضی اور کمپیوٹر سائنس کے کسی بھی مو ضوع پر لیکچر تیار کر سکے اور کلاس میں لیکچر دے سکے،

وہ کتاب کے کسی صفحے کو زبا نی یا د کر نے کے فن سے نا واقف ہیں، ان کو پڑھا یا جا تا ہے کہ نفس مضمون کو سمجھو ذہن نشین کر لو، پھر اپنے الفاظ میں دوسروں کو سمجھا ؤ، تنقید ی نقطہ نظر سے سوچنے کا ہنر پیدا کرو، اور سوال پو چھنے میں مہا رت حا صل کرو، سکول کے اندر جگہ جگہ لکھا ہوا ہے کہ لیکچر دینے یا تقریر کرنے سے کسی کی قابلیت اور لیا قت کا اندازہ نہیں ہوتا سوال کرنے سے لیا قت اور قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے،با ت سچائی اور حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ لیکچر یا تقریر کے لئے بند ہ تیار ی کر کے آتا ہے، سوال پو چھنے کے لئے تیار ی کا وقت نہیں ملتا، صرف زہا نت اور قابلیت والا بند ہ سوال پوچھ سکتا ہے، ذہنی اور علمی استعداد کے ساتھ بچوں کو جسما نی ورزش اور کھیلوں کا با قاعدہ کیلنڈر اور ٹا ئم ٹیبل دیا جاتا ہے

ہر کھیل سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کو سکول کسی نہ کسی مشہور کلب کے ساتھ رجسٹرڈ کر تا ہے وہ سکول کے اوقات کی طرح کلب کے اوقات کی بھی پا بندی کر تے ہیں اس طرح بچوں کو تاریخی مقا مات کی سیر کرانے کا باقاعدہ شیڈول ہو تا ہے، رومی سکول کے طالب علم کیساتھ گفتگو کر تے ہوئے مجھے افسوس ہوا ہمارے ہاں مینگورہ اور سیدو شریف کے کسی طا لب علم نے گل کدہ کا عجا ئب گھر نہیں دیکھا ڈبگری کے سکول کا کوئی طالب علم پشاور کے عجا ئب گھر میں نہیں گیا ہمارے سسٹم سے نکا ل کر سیدھے راستے پر ڈال دے اور پرائمیری سکول کو درس گاہ بنا یے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
91714

داد بیداد ۔ پرائمیری سکول ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ پرائمیری سکول ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

وطن عزیز کے میدانی اور پہا ڑی اضلا ع کے اندر دور دراز مقا مات پر واقع الگ تھلک دیہات میں پا کستان کی نشا نی اور حکومت کی واحد علا مت کو پرائمیری سکول کہتے ہیں اس کی ٹوٹی پھوٹی عما رت پر پا کستان کا سبز ہلا لی پر چم لہرا تا ہے اور اس کی گری پڑی چار دیواری کے اندر صبح کی اسمبلی میں پا کستان کا قومی ترانہ بلا نا غہ گا یا جاتا ہے پر چم ستارہ و ہلا ل رہبر تر قی و کما ل اس کے سوا حکومت کا کوئی ایسا دفتر نہیں جو ہر گاوں میں نظر آتا ہو اور جس پر وطن عزیز کا پر چم لہرا تا ہو اور جہاں ہر روزوطن کے قورمی ترانے کی آوز گونچتی ہے مو سم بہار کی دستک کے ساتھ میرے دوستوں کے سر پر ایک خبط اور سودا سوار ہوا کہ اپنے اپنے بچپن کے پرائمیری سکول کو ایک بار پھر دیکھیں ہم زاد راہ لیکر روانہ ہوئے اور باری باری ہر ایک کے پرائمیری سکول میں کچھ وقت گذار ا جو ہر لحا ظ سے یا د گار ثا بت ہوا تا ہم مقطع میں سخن گسترانہ بات کی گنجا ئش یو ں نکل آئی کہ 5دوستوں کے پا نچوں سکول 60سال پہلے کی حا لت سے کئی گنا بُرے حال میں تھے حا لانکہ اکیسویں صدی میں ہر سکول کو بیسویں صدی سے بہتر حا لت میں ہو نا چا ہئیے تھا

اور ہماری توقع بھی یہی تھی ہمارے دوستوں کے 3سکول پشاور، نو شہرہ اور مر دان میں تھے 2سکول سوات اور چترال میں تھے ہم نے دیکھا کہ 60سال پہلے بنیا دی ڈھا نچہ بہتر تھا، نصاب تعلیم اچھا تھا، کتا بیں معیا ری تھیں اسا تذہ کی تعداد بھی مضا مین اور طلبہ کے اعتبار سے آج کے مقا بلے میں بہتر تھی 60سال پہلے سابق ریا ست سوات اور چترال میں پرائمیری سکول کی 5جما عتوں کے لئے 6کمرے ہو تے تھے اسلا میا ت، خوش خطی، نا ظرہ قران مجید اور دینیات کے لئے قاری اور معلم استادمقرر تھا، اردو، ریا ضی اور مطا لعہ قدرت کے لئے جے وی استاد ہوا کر تا تھا میدانی اضلا ع میں 4سے لیکر 10کمرے تک ہو ا کر تے تھے جما عتوں کے سیکشن ہو تے تھے ہر سیکشن کا الگ استاد ہو تاتھا جو عبارت خوانی، تر جمہ، خو ش خطی سب کچھ پڑ ھا تا تھا، ہر بچے کو سنتا تھا اور ہر بچے کو انفرا دی تو جہ دیتا تھا داخلہ کے وقت باپ، دادا، چچا یا بھا ئی بچے کو لیکر سکول آ تا تھا بچیوں کے سکول میں مائیں خو د آتی تھیں داخلہ فارم پُر کروا کر دستخط یا انگو ٹھا لگا تی تھیں

تعلیمی سال کے دوران بچوں اور بچیوں کے والدین ہر دوسرے ما ہ سکول آتے تھے اساتذہ کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے تھے اکیسویں صدی کا پرائمیری سکول ایسا نہیں رہا اب 2کمروں کو سکول کہا جا تا ہے ان دو کمروں میں 5جما عتوں کو 10مضا مین پڑھا ئے جا تے ہیں کمرے کے ایک کو نے میں انگریزی کا سبق ہے تو دوسرے کو نے میں اردو اور چوتھے کونے میں اسلا میات کا سبق چل رہا ہو تا ہے کا ن پڑی آواز سنا ئی نہیں دیتی اساتذہ کی تعداد بھی مقرر نہیں ایک سال اگر 3اسا تذہ دیئے گئے تو اگلے سال ایک استاد رہ جا تا ہے داخلہ کے وقت بچے یا بچی کے ساتھ خا ندان کا کوئی فرد بھی سکول نہیں آتا استاد کو دوسرے بچوں اور بچیوں سے پو چھ کر طا لب علم کا نا م اور باپ کا نا م لکھنا پڑ تا ہے تاریخ پیدائش اندازہ یا تخمینہ اور تکا لگا کر لکھی جا تی ہے 2سال یا 3سال بعد بچہ یا بچی کی قابلیت سامنے آئے تو اس کو سر کاری سکول سے اٹھا کر پرائیویٹ سکول کا راستہ دکھا یا جا تا ہے

گو یا قابل طا لب علم پر سر کاری سکول کا کوئی حق نہیں پرائمیری سکول میں اگر 80طلبہ کے لئے دو اسا تذہ ہو تے ہیں تو مڈل سکول اور ہا ئی سکول میں 75طلبہ کے لئے 15سے لیکر 23اسا تذہ دیئے جا تے ہیں بعض سکول ایسے بھی ہو تے ہیں جہاں 52طلبہ کو 27اسا تذہ پڑھا تے ہیں معا ئینہ کر نے والے حکا م، ما نیٹر وغیرہ مقدار کو بھی نہیں دیکھتے معیار کو بھی نہیں دیکھتے، گو شوا روں اور سا لا نہ رپورٹوں میں صرف مقدار کو دکھا یا جا تا ہے معیار کو پر کھنے اور ظا ہر کر نے کا کوئی سسٹم نہیں ترقی یا فتہ مما لک نے پرائمیر تعلیم کو ساتویں جما عت تک تو سیع دی ہے اس طرح پرائمیری تعلیم کو بنیا دی تعلیم یا ایلمنٹری ایجو کیشن کا نا م دیا ہے اگر مستقبل کی کسی حکومت نے وطن عزیز میں پرائمیری تعلیم کو مڈل کے ساتھ ضم کر دیا تو اسا تذہ اور کمروں کا مسئلہ بھی حل ہو جا ئے گا .

ابتدائی تعلیم کے مر حلے میں طلبہ پر انفرادی تو جہ دی جا ئے گی اور 60سال پہلے کا معیار واپس آجا ئے گا جب مضا مین کم تھے مگر معیار بہت اونچا تھا شیخ سعدیؒ کا شعر ہے خشت اول چوں نہد معمار کج تاثریا می روددیوار کج ہمارے استاد کہا کر تے ہیں کہ شاعر کو فن تعمیر کا تجربہ نہیں تھا ورنہ وہ کہتا ”تاثر یا نہ رود دیوار کج“پہلی اینٹ غلط ہو تو دیوار اُٹھ ہی نہیں سکتی ثریا تک کیسے جا ئیگی پرائمیری سکول ہمارے نظا م تعلیم کی پہلی اینٹ ہے آنے والی حکومتیں اس کو بہتر نہیں کر سکتیں تو کم از کم 60سال پہلے والے معیار پر لا کر قوم پر احسان کریں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
72090