The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 21 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پاکستان کی پانچویں پوزیشن – محمد شریف شکیب

پاکستان کی پانچویں پوزیشن – محمد شریف شکیب

پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا ہے۔زندگی کے کسی اور شعبے میں ہم بھلے دوسری اقوام سے پیچھے ہیں مگر بچے پیدا کرنے میں ہمارا پہلا نمبر ہے۔پاکستان میں آبادی کی شرح نمو 2 اعشاریہ 4 فیصد ہے۔ پاپولیشن کونسل کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے۔ پوری دنیا میں بھی افریقہ کے چند پسماندہ ممالک کے سوا کوئی ملک اس شعبے مین ہمارے مقابلے میں نہیں ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 11 ہزار حاملہ خواتین بچے کی پیدائش کے دوران مناسب طبی امداد نہ ملنے سے مر جاتی ہیں، جب کہ ہر ایک ہزار میں سے 62 بچے ایک سال کا ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔پاکستان میں اوسطاً ہر ماں چار بچوں کو جنم دے رہی ہے۔ کم از کم 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔پاپولیشن کونسل کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے 18فی صد بچوں کی نشوونما نہیں ہو رہی۔ پاکستان کو 2040 تک ہر سال 100 ملین سے زیادہ ملازمتوں اور 20 ملین گھروں کی ضرورت ہوگی۔آبادی میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ملک کوآئندہ سترہ سالوں میں مزید 85,000 پرائمری اسکولوں کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان میں ہر تین میں سے ایک بچہ اسکول نہیں جا رہا ہے۔ پورے ملک میں سکول جانے کی عمر میں محنت مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد پچاس لاکھ سے زائد ہے۔

چائلڈ لیبر کی روک تھام کے مشن پر کام کرنے والے ادارے بھی چائلڈ لیبر پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔کونسل کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 100 میں سے صرف 34 میاں بیوی مانع حمل ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔ اوسطاً ہر شادی شدہ جوڑے کا ایک غیر منصوبہ بند بچہ ہوتا ہے۔ 20 سے 24 سال کی عمر کے 12 فیصد لوگوں کو ملک میں ملازمت نہیں ملتی۔بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک بھر میں ہزاروں کارخانے اور گھریلو صنعتیں یونٹیں بند ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کا روزگار چھن چکا ہے۔آبادی میں بے تحاشا اضافے کی نسبت تعلیم، صحت،روزگار، رہائش کی سہولیات میں ہر سال کمی آرہی ہے۔ سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں اورہسپتالوں پر بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ بجلی ، گیس اور توانائی کے دیگر ذرائع آبادی میں اضافے کے تناسب سے نہیں بڑھ رہے۔زرخیز زمینیں، جنگلات، باغات کنکریٹ کے جنگلوں میںتبدیل ہورہے ہیں جس کا ماحولیات پر بھی منفی اثرات پڑرہےہیں۔

سقوط ڈھاکہ کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی پانچ کروڑ اور مشرقی پاکستان کی سات کروڑ تھی۔ پاکستان کو دولخت ہوئے 52سال کاعرصہ گذر گیا۔ اس دوران پاکستان سے الگ ہونے والے بنگلہ دیش کی آبادی سات کروڑ سے سولہ کروڑ ہوگئی اور ہم پانچ کروڑ سے چوبیس کروڑ ہوگئے۔اگر آبادی میں اضافے پرقابو پانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہیں کئے گئے تو اگلے بیس سالوں میں ملک کی آبادی چالیس کروڑ تک پہنچ جائے گی۔اور ترقی کی ساری منصوبہ بندی خاک میں مل سکتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک کے آگے بڑھنے کا راز یہ ہے کہ وہ آبادی کو وسائل کے اندر رکھتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم اور صحت سہولیات کی فراہمی، روزگار مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن کا بیٹا بے روزگار تھا اور بینک کےباہر قطار میں لگ کر بے روزگار الاونس وصول کرتا تھا۔ کاغذوں میں ہمارے ہاں بھی میٹرک تک تعلیم مفت اور سرکار کی ذمہ داری ہے مگر جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی طرح اپنے شہریوں کو تعلیم اور صحت اور روزگار کی سہولیات فراہم کرنے سے بھی ہماری سرکار قاصر ہے۔اور ہم من حیث القوم بھی نہایت تن آسان اور سہل پسند واقع ہوئے ہین ہر کام کی ذمہ داری ریاست اور حکومت پرڈالتے ہیں۔خود ریاست کی اکائی کی حیثیت سے اپنے حصے کاکردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ آبادی کی بڑھتی شرح پرقابو پانا اور کرپشن کو کنٹرول کرنا حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگر تباہی کے ان دونوں ذرائع پر قابو پالیاگیا توپاکستان کے ترقی کے میدان میں دیگر قوموں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
76622