The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کا کامیاب اجلاس اور بھارت کا جارحانہ رویہ ۔ میر افسر امان

مشرقی اُفق ۔ پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کا کامیاب اجلاس اور بھارت کا جارحانہ رویہ ۔ میر افسر امان

شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے23 ویں سربراہی اجلاس کامیابی سے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوا۔آ ئیدہ کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت روس کے سپرد کر دی گئی۔ بھارت کے پاکستان کے خلاف برسوں سے جاری منفی پروپیگنڈے کے باوجود مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کو علاقائی اور دنیا میں سرخروہی ملی۔ رکن مملک کا نئے اقتصادی مکالمے پر اتفاق ہوا۔ 8 نکاتی مشترکہ اعلامیے پر دستخط ہو گئے۔ اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور طاقت کے استعمال کی دھمکی نہ دینے پر اتفاق ہوا۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف فلسطین پر کوئی متفقہ قرارداد تو نہ پاس کرا سکے، البتہ اسرائیل سفاکیت کا مسئلہ اُٹھاتے ہوئے کہا غزہ میں جارحیت ایک المیہ ہے۔ عالمی براردری کو درندگی روکنے کے لیے اقدامات کرنے ہونگے۔ مشرق وسطی میں پائیدار امن کے لیے آزاد فلسطین ریاست کا قیام ضروری ہے۔شہباز شریف نے امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر پاکستانی عوام کی ترجمانی کر کے بڑا اچھا کیا۔ شہباز شریف مذید کہا پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے۔ افغان سر زمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال روکنا ہوگا۔ بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر نے کہا کہ امن کا مطلب دہشت و انتہاپسندی کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا ہے۔ہمیں ایماندرانہ گفتگو کی ضرورت ہے۔ اعتماد کی کمی، دوستی اور اچھے ہمسائیوں کے اصولوں میں کوئی کمی ہے تو خود احتسابی کرنی ہو گی۔

پہلی بات کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو افغانستان کی بات کرنے کی بجائے بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کی بات کرنا چاہیے تھی۔ بھارت نے بلوچستان کے علیحدگی پسند وں کو اپنے پاس بٹھائے ہوئے ہیں۔ بھارتی جاسوس گل بوشن کی کاروائیوں سے دنیا واقف ہے۔اخباری خبر کے مطابق کچھ دن پہلے اسلحہ سمیت بھارتی جاسوس کراچی میں گرفتار ہوا۔ افغانستان سے تو امریکہ کے بنائے ہوئے تحریک طالبان پاکستان دہشت گردی کر رہے ہیں۔ جن کو افغانستان کو جلد ختم کرنے کے افغانستان سے ڈاریکٹ بات چیت کر کے اس معاملے کو حل کرنا چاہیے۔بھارت نے توبین القوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدے کے تحت ہندوستان کی تقسیم کو تسلیم نہیں کیا۔ بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔پوری دنیا میں پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کی مہم چلائی، جو اب بھی جاری ہے۔ بھارت نے مسلمانوں کی اکثریت والی ریاست کشمیرپر فوجی ایکشن سے پاکستان میں شامل ہونے سے روک دیا۔جب پاک بھارت جنگ شروع ہوئی اور موجودہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان نے آزاد کرایا۔ جنگ جاری رہتی تو پورا کشمیر جموں و کشمیر آزاد کر ا لیا جاتا۔مگرچانکیہ سیاسی چال چلتے ہوئے جنگ کے خاتمے کے لیے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ گئے۔ کہا کہ امن قائم ہونے کے بعد کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے گی۔ کشمیری بھارت یا پاکستان، اپنی آزادرائے سے جس میں چائیں شامل ہو جائیں۔ اقوام متحدہ نے رائے شماری کے لیے درجنوں قراردادیں منظور کیں۔مگر بھارتی حکمران اقوام متحدہ کے سامنے کیے گئے وعدہ سے مکر گئے۔ بلکہ 5/اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی بھارتی آئین میں موجود دفعہ 370/ اور 35/ اے کو ختم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر کے جعلی طور پر بھارت کا حصہ بنا لیا۔ بھارت پاکستان میں کشمیر مسئلہ پر کئی جنگیں ہو چکی ہیں۔

اندرا گاندھی نے بنگالی قوم پرست غدارِ پاکستان شیخ مجیب کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو فوجی حملہ کر پاکستان سے علیحدہ کیا۔ بڑے فخر سے کہا کہ میں نے مسلمانوں سے ہندوستان پر ہزار سالہ حکومت کرنے کا بدلہ لے لیا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒکا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ اللہ کا کرنا کہ بنگلہ دیش کے عوام نے بھارت کو بنگلہ دیش سے نکال کر اندرا سے بدلہ لیتے ہوئے دو قومی نظریہ کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستانی سبز ہلالی جھنڈا لہرا دیا۔اندرا گاندھی، شیخ مجیب اور بھٹو کے درمیان امن معاہدے کے باوجود پاکستان کو بچانے والے اور پاکستانی فوج کاساتھ دینے والے جماعت اسلامی کے مرکزی لیڈروں کو بھارت نے اپنی پٹھو حسینہ واجد کے حکم پر پھانسیوں پر چھڑایا۔ شملہ معاہدے کے باوجود کشمیر میں فوجی کاروائی کر کے سیاہ چن سمیت کئی اُونچی چوٹیوں پر فوج کے ذریعے قبضہ کیا۔ایٹم بم بنایا تو پاکستان کو ختم کرنے کی دھمکیوں پر دھمکیاں دیں۔ اللہ کاکرنا کہ پاکستان بھی ایٹمی قوت بن گیا۔تو بھارت کا دھمکیوں والا بخار اُترا۔ پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کے بعد بھارت کے حکمرانوں نے کہنا شروع کیا کہ پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کئے تھے۔ اب دس ٹکڑے کریں گے۔ بھارت نے دو پڑوسی ملکوں پاکستان چین کے ترقیاتی منصوبے سی پیک کو سبوثاز کرنے کے اعلایہ فنڈ مختص کئے۔ دہشت گرد ہٹلر صفت مودی وزیر اعظم بھارت جو آر ایس ایس بھارتی دہشت گرد تنظیم کا بنیادی ممبر ہے، نے بھارت کے یوم آزادی کی تقریب میں لا ل قلعہ دہلی کی دیوا پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ

مجھے بلوچستان اور گلگت و بلتستان کے علیحدگی پسندوں سے فوجی مدد کرنے کی ٹیلیفون کالیں آرہی ہیں۔ کالین کیا آنی ہے بھارت تو پاکستان میں پہلے سے دہشت کر رہا ہے۔ اس کا ثبوت کل بھوشن بھارتی جاسوس کے حلفیہ بیا نات کوتو پوری دنیا نے سنے ہیں۔اور بھارت اپنے ارد گرد پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش نیپال بھوٹان،برما وغیرہ پر فوجی کاروائی سے حملہ اور قبضہ کر کے اکھنڈ بھارت بنانے کا اعلان کرچکا ہے۔ اس لیے ان سارے ملکوں والے اکھنڈ بھارت کا نقشہ بھارت کی پارلیمنٹ کے ماتھے پر کندہ کر دیا ہے۔ اس طرح تو ہندوستان پر ہزار سال زائد مدت تک حکمرانی کرنے والے پاکستانی حکمرانوں کو بھی جن کے آباؤ اجداد نے پورے برصغیر پر حکومت کی تھی، جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش،افغانستان، نیپال بھوٹان،برما وغیرہ شامل تھے بھی نقشہ بنا کر اپنے پارلیمنٹ کے ماتھے پر کندہ کرنا چاہیے۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی شنگھائی تعاون تنظیم میں امن اور اچھے ہمسایہ والے بیان کو کوئی بھی امن پسند انسان”منہ پر رام رام اور بغل میں چھری“ والی کہاوت کو سامنے رکھ کر کیا سمجھے گا؟ اس کے علاوہ بھارتی حکمرانوں کے اقدامات جو اُوپر بیان کیے گئے ہیں کو سامنے رکھ کر اسے کوئی بھی بندہ سفید چھوٹ اور دھوکا نہیں تو کیا تصور کرے گا؟حقیقت یہ کہ ہندوستان کی تقسیم ایک فطرتی اور تاریخی عمل تھا۔ حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے بڑی سوچ سمجھ اور آل انڈیا کانگریس میں کئی سال شامل رہ کر ہندوؤں کو اچھی طرح سمجھ کر دو قومی نظریہ پیش کیا تھا۔اور تاریخی حقیقت انگریزوں اور دنیا کے سامنے بیان کی تھی۔اسی کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم ہوئی تھی۔ وہ حقیت یہ ہے۔”ہم مسلمان ہندوؤں سے علیحدہ قوم ہیں،ہمارا کلچر، ہماری ثقافت، ہماری تاریخ، اور ہمارا کھانا پینا، ہمارا معاشرہ سب کچھ ان سے مختلف ہے“۔

اس حقیقت کو بھارتی حکمرانوں کو تسلیم کر کے اچھے پڑوسیوں کی طرح امن و امان سے رہنا چاہیے۔ اپنے اپنے ملکوں کے عوام کی ترقی خوشحال کے اقدام کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے کو ختم کرنے کے ڈاکڑائین سے رجوع کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کر کشمیر میں رائے شماری کرانا چاہیے۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ بھارت تسلیم کرے کہ پاکستان ایک حقیقت ہے۔ سیاست اور منافقت کرنے کے بجائے بھارت دل سے پاکستان کو تسلیم کرے۔ پاکستان کے خلاف جاری منفی پروپیگنڈا بند کرے۔پھر پاکستان ا ور بھارت اچھے ہمسائیوں کی طرح رہ سکیں گے۔ ایسا کرنے سے شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے کے فوائد بھارت اور پاکستان سمیٹ سکیں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
94471