The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وفاقی حکومت کا چترال سمیت  خیبرپختونخوا میں پانچ افغان مہاجرین کیمپس بند کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کا چترال سمیت  خیبرپختونخوا میں پانچ افغان مہاجرین کیمپس بند کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(نمائندہ چترال ٹائمز)افغان شہریوں کی واپسی کے معاملے پر وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے پانچ افغان مہاجرین کیمپس بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وزارت سیفران نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔حکومتی فیصلے کیمطابق بند کیے گئے کیمپس میں تین ہری پور،ایک چترال اور ایک دیر اپر میں قائم تھے۔ زمین صوبائی حکومت اورمتعلقہ ڈپٹی کمشنرز کیحوالیکرنے کیاحکامات جاری کییگئے ہیں،ذرائع کیمطابق ہری پور کے پنیان کیمپ میں گزشتہ چالیس برس سے ایک لاکھ سے زائد افغان مہاجرین رہائش پذیر تھے۔یو این ایچ سی آرکاکہنا ہیکہ افغان مہاجرین کی سب سیبڑی تعداد اس وقت خیبرپختونخوا میں موجود ہے،دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور افغان مہاجرین کی زبردستی وطن واپسی کے خلاف بیان دے چکے ہیں۔

……………….

پاور سیکٹر کے گردشی قرض کا حجم وفاقی ترقیاتی بجٹ سے بھی 66 فیصد زیادہ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)پاکستان کے پاور سیکٹر کے گردشی قرض کا موجودہ حجم ملک کے وفاقی ترقیاتی بجٹ سے بھی 66 فیصد زیادہ ہے۔پاور سیکٹر کا گردشی قرض جولائی 2025ء تک 1661 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔پاور سیکٹر کا گردشی قرض تب جنم لیتا ہے جب بجلی چوری، وصولیوں میں ناکامی اور لائن لاسز میں اضافے کے باعث فروخت کی گئی بجلی کی پوری قیمت وصول نہیں ہوتی۔جب بجلی تقسیم کار کمپنیاں خریدی گئی بجلی کی پوری قیمت ادا نہیں کرتیں تو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو مکمل ادائیگیاں نہیں کر پاتی اور پیداواری کمپنیاں فیول کی ادائیگیاں کرنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔بجلی کی پیداوار سے لے کر تقسیم اور فیول سپلائی تک پورا نظام مالی عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔

بجلی پیداواری کمپنیوں کو ادائیگیوں کے لیے حکومت کو بینکوں سے سود پر قرض لینا پڑتا ہے اور یہ بوجھ صارفین کے کندھوں پر لاد دیا جاتا ہے جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں اور بجلی کے ہر یونٹ کے عوض 3 روپے 23 پیسے سرچارج کی شکل میں ادا کر رہے ہیں۔گردشی قرض بڑھنے کی دیگر وجوہات میں ماضی میں آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے مہنگے معاہدے، حکومت کی طرف سے سبسڈی کا بروقت جاری نہ کیا جانا بھی شامل ہے۔موجودہ حکومت نے آئی پی پیز سے مذاکرات کیے تو پاور سیکٹر کے گردشی قرض میں کمی آنا شروع ہوگئی، گردشی قرض 2400 ارب روپے سے کم ہو کر 1661 ارب روپے تک آچکا ہے جسے اب حکومت بینکوں کے ساتھ 1225 ارب روپے کے قرض معاہدوں کے بعد آئندہ 6 سال میں صفر پر لانا چاہتی ہے تاہم اس عرصے میں بجلی صارفین پر 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ کا بوجھ برقرار رہے گا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
114214